‫خواتین‬

‫اسلم اور مسلم معا شر ہ میں‬
‫ڈاکٹر حسن الترابی‬
‫سوڈان سے تعلق سے رکھنے والے ڈاکٹر حسن الترابی اسلم کے ایک معروف دانشور ہیں۔ سوڈان سے روائتی‬
‫اسلمی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے سوربون سے پی‪-‬ایچ‪-‬ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ وہ‬
‫اسلمی دنیا کےمعدود چند منفرد دانشور اور رہنما میں سے ہیں۔ انھوں نے سوڈان کی پارلیمینٹ کے اسپیکر‪،‬‬
‫اٹارنی جنرل‪ ،‬وزیر انصاف‪ ،‬وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر ترابی نے یہ‬
‫کتابچہ ‪ 1973‬میں عربی میں لکھا۔ ہم یہاں یہ ان کی اجازت سے شائع کر رہے ہیں۔‬

‫پہل با ب‬

‫ايمان کا فیصلہ‬
‫دين اسلم میں ایک عورت اپنی آزادانہ حیثیت اور وجود رکھتی ہے اسلئے وہ مکمل طور پر ذ مہ دار شخصیت‬
‫ہے۔ اسلم اس سے براہ راست مخاطب ہو تا ہے اور اس تک پہنچنے کے لئے کسی مرد کو وسیلہ یا واسطہ نہیں‬
‫بناتا۔ ایک عورت پر بالغ ہونے اور اسلم کا پیغام قبول کرنے کے بعد اس پر پوری استعداد اور ذمہ داری عائد‬
‫ہو جاتی ہے۔ ساتھ ہی کسی عورت کا اسلم کے پیغام کو تسلیم کرنا اسوقت تک درست نہیں سمنجھا جا‬
‫سکتا جب تک وہ خود اسے اپنی آزادانہ مرضی سے قبول نہ کرے۔ ایمان قبول کرنا مکمل طور پر نجی اور‬
‫ذاتی معاملہ ہے اسلئے کوئی اسے کسی اور کے لئے اختیار نہیں کر سکتا۔نہ ہی ایک عورت اپنے باپ‪ ،‬شوہر اور‬
‫دوسرے مرد سے تعلق کی بناء پر مسلم ہو سکتی ہے۔ تمام مسلمان ذاتی اور آزادانہ طور پر نبی صلی اللہ‬
‫علیہ وسلم پر اپنی وفاداری اور فرمانبرداری کا حلف اٹھاتے تھے۔ اسی طرح عورتیں بھی نبی صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم کے پاس اسلم اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری اور اطاعت کا عہد کرنے اور بیعت لینے کے‬
‫لئے خود ہی آتی تھیں۔‬
‫اللہ تعا لی نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ان الفاظ میں کی '' اے نبی جب تمہارے پاس مومن‬
‫عورتیں بیعت کے لئے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرینگی‪ ،‬چوری‬
‫نہ کرینگی‪ ،‬زنا کاری نہ کرینگی‪ ،‬اپنی اولد کوقتل نہ کرینگی‪ ،‬اپنے ہاتھ پاوں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ ل ئیں‬
‫گی اور کسی نیک کام میں تمھاری نافر مانی نہ کرینگی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے حق میں اللہ سے‬
‫]دعا ئے مغفرت کرو‪ ،‬یقینااللہ درگزر فرمانے وال اور رحم کرنے وال ہے‪ ] -‬الممتحّنہ ‪12‬‬
‫دین کے معا ملے میں مرد اور خواتین رشتے دار ایک دوسرے سے مختلف نقطہ نظر رکھ سکتے ہیں۔ مثل َ‬
‫خطاب کی بیٹی فاطمہ کی طرح کوئی خاتون اسلم قبول کر لیتی ہے جبکہ ان کے بھائی عمر اسوقت تک‬
‫کافر ہی تھے۔ ابن عباس سے مروی ہےکہ انھوں نے حضرت عمر سے اسلم قبول کرنے کے واقعہ کے متعلق پو‬

‫چھا۔ حضرت عمر نے فرمایا '' حمزہ کے اسلم قبول کرنے کے واقعے کے تین دن بعد میں اپنے گھر سے نکل تو‬
‫اچا نک میرے ملقات مخزومی قبلے کے ایک شخص سے ہو گئی ۔ میں نے اس سے پو چھا ' کیا تم اپنے آبائو‬
‫اجداد کے مقابلے میں محمد کے عقیدے کو ترجیح دیتے ہو؟ اس نے جواب دیا ' ایک مجھ سے زیادہ جو تمھارے‬
‫قریب ہے اس نے بھی یہی کیا ہے۔ میں نے پوچھا ' وہ کون ہے؟ ' 'تمھارے بہن اور بہنوئی۔' مخزومی نے جواب‬
‫دیا۔ میں جلدی سے واپس پلٹا۔میں نے دیکھا کہ میری بہن کے گھر کا دروازہ اندر سے بند ہے اور اندر سے ہلکی‬
‫ہلکی آواز آ رہی ہے۔تھو ڑی دیر بعد جب دروازہ کھل تو میں گھر میں داخل ہوا اور پوچھا ' میں کیا سن رہا‬
‫تھا؟' 'تم کچھ بھی نہی سن رہے تھے۔' میری بہن نے جواب دیا۔ میں نے تو تکار کرتے ہوئے اسکے سر پرمارا۔‬
‫اس پر اس نے بے خوف ہو کر مجھ سے کہا ' ہم نے وہ کر لیا ہے جو تم کو پسند ہو یا نا پسند ہو۔' جب میں نے‬
‫اسکے سر سے خون بہتے دیکھا تو مجھے پشیمانی اور شرمندگی ہوئی ۔ میں نے اس سے کہا ' مجھے صحیفہ‬
‫دکھائو۔' اسکے بعد حضرت عمر نے پورا واقعہ بیان کیا۔] الصابہ‪ ،‬ابن حجرالعسقلنی[۔‬
‫اسی طرح ایک اور خاتون ام حبیبہ' ابو سفیان کی بیٹی تھیں۔ انھون نے اپنے والد کی بت پرستی کے باوجود‬
‫اسلم قبول کر لیا تھا۔ایک دفعہ ابو سفیان مدینہ پہنچے تو اپنی صاحبزادی ام حبیبہ کے گھر ملنے گئے جو‬
‫اسوقت پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں۔ ابو سفیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم‬
‫کے بستر پر بیٹھنا چاہ رہے تھے لیکن انکی صا حبزادی نے منع کر دیا اور بستر لپیٹ دیا۔ ابو سفیان ان کے اس‬
‫رویے سے بہت دکھی ہوئ َے۔ انھوں نے ام حبیبہ سے پوچھا ' کیا میں اس بستر پر بیٹھنے کے قابل نہیں ہوں یا‬
‫بستر میرے قابل نہی ہے؟ ام حبیبہ نے اپنے والد کو جواب دیا ' یہ پیغمبر کا بستر ہے جبکہ آپ بت پرست اور‬
‫نجس ہیں اور میں نہیں چا ہتی کہ آپ اس پر بیٹھیں۔' یہ سن کر ابو سفیان بہت ناراض ہوئے اور ان کو ڈانٹ‬
‫]کر کہا' میری غیر موجودگی میں لگتا ہے تمہارے ساتھ کچھ غلط ہوگیا ہے ۔ ]طبقات ابن سعد‬
‫ایک مسلمان عورت اپنے مشرک شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر زینب‪ ،‬جو پیغمبر صلی اللہ‬
‫علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں‪ ،‬ان کی شادی ان کے خالہ زاد بھائی ابوللعاص بن ربیع سے ہوئی۔ وہ اسلم‬
‫قبول کر چکی تھیں لیکن انکے شوہر اپنے پرانے مذہب پر قا ئم رہے۔ غزوہ بدر میں وہ جنگی قیدی بنائے گئے۔‬
‫زینب نے ان کی آزادی کے لئے تاوان کی پیشکش کی۔ ان کو اس وعدہ پر آزاد کر دیا گیا کہ وہ واپس جا کر‬
‫انھیں آزاد کر دینگے۔اسی دوران جب وہ مکہ پہنچے تو حضرت زینب مدینہ ہجرت کر چکی تھیں۔ حضرت زینب‬
‫کے شوہر ابوللعاص ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کے قیدی بن کر آ گئے۔ اس موقع پر حضرت زینب نے انہیں پناہ‬
‫دے دی اور اپنی حفاظت میں لے لیا۔آخر کار وہ اپنا کاروبار سمیٹنے دوبارہ مکہ گئے اسکے بعد واپس آ کر‬
‫اسلم قبول کر لیا۔‬
‫ام سلیم بنت ماہن ایک اور ایسی ہی خاتون تھیں۔ اسلم کی آمد سے پہلے انکی شادی مالک بن ال نادر سے‬
‫ہوئی۔ وہ اسلم قبول کرنے والی ابتدائی خاتون تھیں۔ انکے شوہر مالک نے اسکو قبول نہیں کیا اور بہت برہم‬
‫ہوئے۔ وہ شام چلے گئے جہاں ان کا انتقال ہو گیا ] الصابہ[۔‬

‫ام ہانی بنت ابو طالب کی شادی ہبیرہ بن امر سے ہوئی ۔ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب‬
‫کی صاحبزادی تھیں۔وہ فتح مکہ کے موقع پر اسلم لئیں۔ مذہب کی یہ تبدیلی انکے اور انکے شوہر ہبیرہ کے‬
‫درمیان علحدگی کا سبب بن گئی۔ اسکے بعد ہبیرہ نجران چلے گئے۔‬
‫حوا بنت یزید ایک اور خاتون تھیں جنھوں نے اسلم کو قبول کیا اور اپنے شوہر‪ ،‬قیس بن ال حتیم جو کہ ایک‬
‫معروف شاعر تھے‪ ،‬کے ہاتھوں ظلم و تشدد صبر سے برداشت کیا۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی قیس‬
‫سے اچانک ایک بازار میں ملقات ہو گئی۔ انھوں نے ان سے ایمان لنے کا کہا۔انھوں نے کہا ' چونکہ وہ جنگوں‬
‫میں بہت مصروف تھا اسلئے اس معاملے پر سوچنے کا وقت نہیں مل۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے‬
‫کہا ' مجھے بتا یا گیا ہے کہ تم اپنی بیوی حوا کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے جب سے اس نے تمھارا مذہب‬
‫چھوڑا ہے۔اللہ سے ڈرو اور اسکے معاملے میں میرا بھی لحاظ کرو۔ اسے تنگ مت کرو۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ‬
‫خیال کرے گا۔اسکے بعد وہ اپنی بیوی حوا کے پاس آیا اور اس سے کہا '' اے حوا میں تمہارے ساتھی محمد سے‬
‫مل۔ انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ تمہارے معاملے میں وہ مجھے بھی ذہن میں رکھیں ۔ میں نے اللہ سے وعدہ کیا‬
‫ہےکہ میں ایسا کروں گا۔میں تمھیں اکیل چھوڑ دونگا اور تم کو کوئی تکلیف نہی دونگا۔اسکے بعد حوا نے اپنا‬
‫عقیدہ ظاہر کر دیا جو اس نے چھپایا ہوا تھا۔ لوگوں نے قیس سے اسکے متعلق بات کی لیکن اس نے اپنی‬
‫بیوی کے ساتھ کوئی غلط کام کرنے سے انکار کر دیا ] طبقات[۔‬
‫ایک اور خاتون ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی میت نے اس اسلم قبول کیا جبکہ ان کے خاندان کے سارے افراد‬
‫اپنے پرانے مذہب شرک پر قائم تھے۔وہ مدینہ ہجرت کر گئیں۔ مشہور تاریخ دان ابن اسحاق کے مطابق ام‬
‫کلثوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس وقت مدینہ ہجرت کر کے گئیں جب صلح حدیبیہ ہو چکی‬
‫تھی۔حقیقتا َ وہ پہلی خاتون تھیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مدینہ گئیں۔ وہ تنہا مکہ سے نکلیں۔‬
‫مارہ اور ولید ان کو واپس مک ّہ لے جانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ‬
‫کوئی ان کے ساتھ نہ تھا۔ ان کے بھائی ع ّ‬
‫علیہ وسلم کے پاس آئے جو کہ صلح حدیبیہ کی ایک شرط تھی۔ لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے معا ہدے‬
‫]کی شرائط کو خواتین کے دائرے تک بڑھانے سے انکار کر دیا۔]طبقات‬
‫ایک خاتون تنہا اسلم قبول کر کے اسکی خاطر تشدد برداشت کر سکتی ہے۔ ام ِ عبیس جو کہ زنیرہ ال رومیہ‬
‫کے نام سے جانی جاتی تھیں‪ ،‬کی بہن حارثہ بنت المعمل ایک باندی تھیں۔ وہ ابتدا میں اسلم قبول کرنے‬
‫دد کا نشانہ‬
‫والیوں میں سے تھیں۔ وہ ان خواتین میں سے تھیں جنھیں ایمان قبول کرنے کیوجہ سے بے پناہ تش ّ‬
‫بنایا گیا۔ ابو جہل ان کو بری طرح مارتا تھا اور اسلم قبول کرنے سے پہلے حضرت عمر بھی۔اسلم قبول‬
‫کرنے کے بعد اس غریب خاتون کو اس قدر مارا گیا کہ ان کی بینائی جاتی رہی۔ مک ّہ کے مشرکین اس افتاد‬
‫کو عذاب کہتے تھے جو کہ ان پر ان کے اسلم قبول کرنے کی وجہ نازل ہوا۔ وہ کہتے تھے '' لت اور عّز ٰی ] دو‬
‫بت جنکی مشرکین عبادت کرتے تھے[ نے تم کو اندھا کر دیا۔ لیکن وہ ہمیشہ کہتیں ' تم جھوٹ کہتے ہو‪ ،‬اللہ کی‬
‫مرضی سے یہ بت نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان'۔‬
‫سمیہ بنت خباط جو کہ شہید ہوئیں‪ ،‬عمار بن یاسر کی والدہ اور اسلم قبول کرنے والی ساتوں خاتون تھیں۔‬
‫دد کرتا تھا۔لوگ ان کے قریب سے گزرتے ہوئے دیکھتے تھے کہ مک ّہ کی تپتی ریت پر ان‬
‫المغیرہ قبیلہ ان پر تش ّ‬

‫دد کا نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو‬
‫کو‪ ،‬ان کے شوہر اور بیٹے کے سامنے تش ّ‬
‫تسّلی دیتے ہوئے کہتے تھے ' اے یا سر کے خاندان‪ ،‬اس تکلیف کو صبر سے برداشت کرو۔اللہ نے تم سے جّنت کا‬
‫دد کا نشانہ بنانے والوں میں ابو جہل بھی شامل تھا۔ وہ‬
‫وعدہ کیا ہے۔' وہ بوڑھی اور کمزور بھی تھیں۔ ان کو تش ّ‬
‫دد کو برداشت نہ کر سکیں اور انتقال کرگئیں۔ اس طرح وہ اسلم کی پہلی شہید کہلئیں۔] ال صابہ‬
‫]بے پناہ تش ّ‬
‫ام حبیبہ‪ ،‬ابو سفیان کی بیٹی‪ ،‬ایک ایسی خاتون تھین جو جل وطنی میں بھی اسلم پر مضبو طی سے قائم‬
‫عسائیت قبول کر لی۔ ان کے شوہر عبید اللہ بن جہیش اسلم لنے کی وجہ سے‬
‫رہیں جبکہ ان کے شوہر نے ِ‬
‫دد سے بچنے کے لئے اپنی اہلیہ کے ساتھ حبشہ ہجرت کر گئے تھے۔ لیکن وہاں انھوں نے اسلم کو چھوڑ کر‬
‫تش ّ‬
‫عسائیت قبول کرنے کے لئے آمادہ‬
‫عسائیت کو قبول کر لیا۔انھوں نے ام حبیبہ کو بھی ِ‬
‫حبشہ والوں کے مذہب ِ‬
‫کرنے کی کوشش کی لیکن وہ جل وطنی کی تمام مشکلت اور مصائب کے باوجود اسلم پر سختی سے قائم‬
‫]رہیں۔ ] تاریخ طبری‬
‫مسلم خواتین نے اپنے غیرمتزلزل ایمان سے اسلم کی تبلیغ اوراس میں اضافہ کے لئے کام کیا۔کئی ایک اپنے‬
‫خاندان اور قریبی لوگوں میں بات چیت اور بحث و مباحثہ کے ذریعے اسلم میں اضافہ میں مددگار بنیں۔عروہ‬
‫بنت عبدالمطلب بھی ایسی ہی ایک خاتون تھیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتی تھیں اور‬
‫ان کے حق میں بولتی تھیں۔ وہ ہمیشہ اپنے بیٹے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے اور ان کی‬
‫بات ماننے کو کہتی تھیں۔ ایک اور خاتون ام شریق تھیں جو خفیہ طور پر قریش کی خواتین کے پاس جاتی‬
‫تھیں اور انھیں اسلم قبول کرنے پر آمادہ کرتیں۔ انھوں نے بے نقاب ہونے سے پہلے کئی ایک کو مسلمان کر‬
‫لیا۔ مک ّہ کے لوگوں نے انھیں دھمکی دی کہ وہ اپنے خاندان کی وجہ سے بچ رہی ہیں ورنہ انھیں بھی مشکلت کا‬
‫سامنا کرنا پڑتا۔]الصا بہ[۔‬
‫مسلم خواتین میں سے کچھ ایسی بھی تھیں جنھوں نے شادی کا پیغام بھجنے والوں کو اسلم کی طرف‬
‫دعوت دی اور اسلم کی قبولیت کو شادی کی شرط کے طور رکھا۔ ام سلیم بھی اسی طرح کی ایک خاتون‬
‫تھیں۔ انھوں نے ابو طلحہ‪ ،‬جو ان سے شادی کرنا چاہتے تھے‪ ،‬سے کہا 'خدا کی قسم تم جیسے کو انکار نہیں کیا‬
‫جا سکتا۔ لیکن تم مشرک ہو اور میں مسلمان۔ میرے لئے یہ ناجائز ہو گا کہ میں تم سے شادی کروں۔ اگر تم‬
‫اسلم قبول کر لو تو یہ تمہاری طرف سے میرے لئے مہر ہو گا۔' انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ نے‬
‫ام سلیم کو اسلم قبول کرنے سے پہلے شادی کا پیغام بھیجا۔ انھوں نے کہا '' ابو ظلحہ تم جانتے نہیں ہو کہ‬
‫جس خدا کی تم عبادت کرتے ہو وہ مٹی سے بنائے گئے ہیں؟ ابو طلحہ نے جواب دیا '' ہاں یقینا ّ۔'' اسکے بعد‬
‫انھوں نے کہا '' کیا تم ان کی عبادت کرتے ہوئے خفت محسوس نہیں کرتے؟ خیر‪ ،‬اگر تم اسلم قبول کر لو تو‬
‫میں تم سے مہر میں کچھ نہی مانگوں گی۔ ابو طلحہ نے ان سے معا ملے کو سمجھنے کے لئے انتظار کرنے کا‬
‫کہا اور چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد وہ آئے اوراعلن کیا '' اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اسکے رسول‬
‫ہیں''۔ ام سلیم نے چیخ کر کہا ' اے انس‪ ،‬ابو طلحہ کی شادی کا انتظام کرو'۔ اور ابو طلحہ کی شادی ابو‬
‫سلیم سے ہو گئی۔ ]الصابہ[ ۔‬

‫اسلمی روایت میں خواتین کا اسلم قبول کرنا مکمل طور پر انکا ذاتی معاملہ ہے اور اسکو کسی درمیانے‬
‫مہ داریاں اور فرائض بھی جس کی اسلم تاکید کرتا‬
‫واسطے سے انجام نہں دیا جا سکتا۔ اسی طرح تمام ذ ّ‬
‫ہے۔ان کو کوئی بھی ان خواتین کی جگہ ادا نہیں کر سکتا۔ وہ عبادت مکمل طور پر اپنی خواہش اور مرضی‬
‫سے ادا کرتی ہیں اور اسلم میں یہ انکی ذاتی کامرانی سمجھی جاتی ہے۔ اللہ تع ٰلی نے اعلن کیا ' میں تم‬
‫میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو ‪ ،‬خواہ مرد ہوں یا عورت‪ ،‬ضا ئع نہیں کرونگا۔ تم آپس میں ایک ہی‬
‫ہو ]آل عمران ‪ [۱۹۵‬۔ 'جو شخص نیک عمل کرے‪ ،‬خواہ مرد ہو یا عورت لیکن ہو با ایمان‪ ،‬ہم اسے یقینا ّ نہایت‬
‫بہتر زندگی عطا کرینگے اور انکے نیک اعمال کا اچھا بدلہ انھیں دینگے۔'] النحل ‪[۹۷‬۔‬
‫ایک عورت اپنے عمل کی بنیاد پر خود ہی جزا و سزا کی مستحق ہوتی ہے۔ کسی مرد کو اجازت نہیں ہے کہ وہ‬
‫کسی خاتون کی طرف سے وکالت کرے یا سفارش پیش کرے نہ ہی وہ کسی خاتون کی حرکتوں اور اسکی‬
‫ور‪ ،‬خاندان کو ایک اکائی کے طور پر اجتما‬
‫وجہ سے ہونے والےمسائل کا ذم ّہ دار ہے۔ بنیادی جواب دہی کا تص ّ‬
‫مہ داری کے لئے نہیں لیتا۔ اسکے برعکس ہر فرد‪ ،‬مرد ہو یا عورت‪ ،‬اللہ کے نزدیک خود مختار ہے اسلئے ہر‬
‫ئی ذ ّ‬
‫مہ دار ہے چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی۔ '' فیصلے کے دن ہر شخص خود اکیل آئے‬
‫عمل کا براہ راست وہ خود ذ ّ‬
‫]گا۔'' ] مریم ‪۹۶‬‬
‫آخرت میں فیصلےکے دن یہضروری ن ِہیں ہے کہ شوہر اور بیوی کے ساتھ ایک ہی جیسا معاملہ کیا جائےاور نہ ہی‬
‫ایک کے اعمال کی وجہ سے دوسرے کو سزا یا جزا دی جا سکتی ہے ۔ نہ ہی ایمان والوں کے ساتھ جنس کی‬
‫بنیاد پر ناانصافی کی جائیگی۔ اللہ تع ٰلی تمام انسانوں سے مساوی بنیادوں پر سلوک کرینگے۔ ''اس روز آدمی‬
‫اپنے بھائی‪ ،‬اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولد سے بھا گے گا۔ ان میں سے ہر شخص پر اس‬
‫]دن ایسا وقت آ پڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہو گا۔'' ]عبس ‪38-35‬‬
‫عورت کی جداگانہ شخصیت دین کی جڑ ہے‪ '' ،‬اللہ کا فروں کے معاملہ میں نوح اور لوط کی بیویوں کی مثال‬
‫جیت میں تھیں مگر انھوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی اور‬
‫پیش کرتا ہے۔ وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زو ّ‬
‫وہ اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی نہ کام آ سکے۔ دونوں سے کہہ دیا گیا جائو آگ میں جانے والوں کے ساتھ‬
‫تم بھی چلی جائو۔ اور اہل ایمان کے معاملہ میں اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جبکہ اس نے دعا‬
‫کی ؛اے میرے رب‪ ،‬میرے لئے اپنے یہاں جّنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اسکے عمل سے بچا لے‬
‫اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے۔' اور عمران کی بیٹی مریم کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی‬
‫حفاظت کی تھی۔ پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کے ارشادات‬
‫‪]-‬اور اسکی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں تھی ]التحریم ‪12-10‬‬

‫دوسرا باب‬

‫ف ّ‬
‫ق ہ کی رائ ے‬
‫فقہ کی رائے دراصل عقیدے کاعملی اظہار ہے۔ شریعت کے مطابق عورت مرد کی طرح ہیں۔ اسلئے اسلمی‬
‫قانون میں ان کے لئے کوئی علحدہ سے قوائد و ضوا بط نہیں ہیں لیکن جنس میں فرق کی وجہ سے کچھ‬
‫محدود نوعیت کے ثانوی قوانین ہیں۔ یہ خالصّتا صرف اسلئے ہیں کہ دونوں اپنی صنفی حیثیت کے لحاظ‬
‫سےفطرت کے مطابق اپنے ایمان کا حقیقی طور پر اظہار کر سکیں۔ شریعت بنیادی طور پر ایک ہی ہے اور‬
‫اسکے عام ضوابط دونوں صنفوں کے لئے ایک ہی ہیں۔ یہ دونوں کو بغیر کسی فرق کے مخاطب کرتا ہے۔‬
‫شریعت کا معروف مفروضہ یہ ہے کہ صنف غیراہم ہے سوائے اسکے کہ جہاں الفاظ فرق کو ظاہر کریں یا کوئی‬
‫نظیر ثبوت کے ساتھ پیش کی جائے۔ اسئلے اسلم میں دینی فرائض کی ادا ئیگی عورتوں کے ل ِے بھی اسی‬
‫طرح ہیں جیسے مردوں کے ل ِے۔ اسکو بھی نماز پڑہنا ہے‪ ،‬روزہ رکھنا ہے‪ ،‬خانہ کعبہ کا حج کرنا ہے اور اللہ کا ذکر‬
‫کرنا ہے۔‬
‫مردوں کی طرح عورتوں کو بھی شخصی طرز عمل‪ ،‬سماجی برتائو اور اخلقی رویے میں دین کے عمومی‬
‫معیا رات پر عمل کرنا پڑے گا جیسے راست باز ہونا‪ ،‬فیاضی‪ ،‬رحمدلی‪ ،‬پرسائی اور شائستگی۔ اسلم عورت‬
‫اور مرد کے لئے علحدہ علحدہ اخلقی قوانین نہیں بناتا۔ یہاں تک کہ وہ توقع کرتا ہے کے عام زندگی میں بھی‬
‫صے کا کردار ادا کرینگے اور خواتین اسی طرح زندگی کی مشکلت کو صبر و تحمل سے‬
‫دونوں اپنے ح ّ‬
‫برداشت کرینگی جیسے مرد۔ وہ یہ بھی توقع کرتا ہے کہ دونوں اہل ایمان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں‪،‬‬
‫چوں کو چھوڑ دیں‪ ،‬ان کے ساتھ جہاد کریں اور‬
‫مسلم ریاست کی طرف ہجرت کے لئے اپنے گھر بار اور بیوی ب ّ‬
‫اپنے معاشرے میں بھلیوں کو پروان چڑھائیں۔ ان تمام معاملت میں مسلمان مردوں اور عورتوں میں کوئی‬
‫تفریق نہیں ہے۔ اللہ تع ٰلی کا ارشادہے '' مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں‪ ،‬بھلئی کا‬
‫حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃٰدیتے ہیں‪ ،‬اور اللہ اور اسکے رسول کی‬
‫اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گئی‪ ،‬یقیینا ّ اللہ سب پر غالب اور حکیم‬
‫]و دانا ہے۔'' ]التوبہ ‪۳۵‬‬
‫صہ لینے میں خواتین کو بھی مساوی مواقع اور ترغیبات حاصل ہیں۔ '' با لیقین جو‬
‫دین کی ہر بھلئی میں ح ّ‬
‫مرد اور عورتین مسلم ہیں‪ ،‬مومن ہیں‪ ،‬مطیع فرمان ہیں‪ ،‬راست باز ہیں‪ ،‬صابر ہیں‪ ،‬اللہ کے آگے جھکنے والے‬
‫ہیں‪ ،‬صدقہ دینے والے ہیں‪ ،‬روزہ رکھنے والے ہیں‪ ،‬اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اللہ کو کثرت‬
‫سے یاد کرنے والے ہیں‪ ،‬اللہ نے انکے لئے مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔''] احزاب ‪[35‬۔‬
‫اس آیت کے متعلق روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ' اے اللہ کے‬
‫پیغمبر‪ ،‬قرآن صرف مردوں سے مخاطب ہوتا ہے عورتوں سے نہیں۔'' تو اس پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی۔‬
‫مہ داریوں میں مسلمان عورت بھی اپنا کردار ادا کرے تاکہ عمومی طور پر دینی‬
‫اسلم چا ہتا ہے کہ اجتماعی ذ ّ‬
‫صہ ادا کرے۔ اگر تمام‬
‫معا شرہ کی روح قائم رہ سکے۔ اسلئے وہ لزمی طور پر دلجمعی کے ساتھ اپنا ح ّ‬
‫مہ داری کی ادائیگی کو نظر انداز کریں توا سے بھی مرد کی طرح جوابدہی کرنی ہو‬
‫مسلمان اس اجتماعی ذ ّ‬

‫گی۔ چند خاص فرائض مثل ّ خاندان کی پرورش‪ ،‬جماعت سے نماز کی ادائیگی اور فوجی بھرتی یا جبری‬
‫مہ‬
‫فوجی خدمت عام خواتین کے لئے بہت مشکل کام ہے۔ اسلم ان معا ملت سے خواتین کو اصل ّ اور ذاتی ذ ّ‬
‫ل لحاظ تعداد میں ہوں۔ اسکا مطلب‬
‫داریوں سے مبّرا قرار دیتا ہے اگر مسلمان مرد انکی ادائیگی کے لئے قاب ِ‬
‫یہ نہیں ہے کہ عورتوں کو ان میں سے کسی بھی معا ملے سے روک دیا گیا ہے۔ خواتین ان تمام سرگرمیوں‬
‫میں بھر پور شرکت کر سکتی ہیں اگرچہ ان کو کرنے میں مردوں کی کوئی کمی نہ ہو۔ لیکن اگر مرد اپنی‬
‫مہ داریوں کو ادا نہیں کر رہے ہیں تو یہ ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے طور پر اسکی تلفی کریں یا‬
‫واجب الدا ذ ّ‬
‫اپنی کوشش کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔‬
‫اسلم میں کوئی بھی چیز کسی خا تون کو مذہبی کامیابی حاصل کرنےکی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی ہے۔‬
‫مۃ داری دین اسلم میں بالکل واضع طور پرآشکار ہے۔ اجتماعی فرائض مرد و خواتین کو‬
‫خواتین کی ذاتی ز ّ‬
‫مشترکہ طور پر تفویض کئے گئے ہیں جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی ثابت ہیں۔انھوں‬
‫نے خواتین کو نیک کام کرنے اور اللہ کے کے لئے دینے کی ترغیب دی اور جس کا خواتین نے مثبت جواب دیا۔‬
‫اپنے معتبر احادیث کے مجموعے میں امام بخاری نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ '' میں‪ ،‬نبی کریم صلی‬
‫اللہ علیہ وسلم‪ ،‬ابو بکر اور عثمان کے ہمراہ نماز عید میں شریک تھا۔انھوں نے خطبہ سے پہلے نماز ادا کی۔‬
‫اسکے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا اور پھر لوگوں کے درمیان سے ہوتے ہوئے آگے‬
‫بڑھے یہاں تک حضرت بلل کے ساتھ خواتین تک پہنچ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ممتحن ّہ کی یہ‬
‫آیت تلوت کی '' ' اے نبی جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کے لئے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ‬
‫اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرینگی‪ ،‬چوری نہ کرینگی‪ ،‬زنا کاری نہ کرینگی‪ ،‬اپنی اولد کوقتل نہ‬
‫کرینگی‪ ،‬اپنے ہاتھ پاوں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ ل ئیں گی اور کسی نیک کام میں تمھاری نافر مانی نہ‬
‫کرینگی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے حق میں اللہ سے دعا ئے مغفرت کرو‪ ،‬یقینااللہ درگزر فرمانے وال‬
‫اور رحم کرنے وال ہے‪ ] -‬الممتحّنہ ‪ '' [12‬آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو مکمل کرنے بعد ان سے فرمایا‬
‫'کیا تم سب اس بات کا اقرار کرتی ہو؟ ان میں سے ایک خاتون نے کہا 'ہاں' ]جبکہ دوسری سب خاموش‬
‫رہیں[ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نہیں جانتے تھے کہ یہ کس نے کہا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم انکے پاس‬
‫عطیات لینے گئے۔ بلل رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیض پھیل دی اور کہا ' عطیات دیجئے ۔ میرے ماں باپ آپ پر‬
‫قربان اے خواتین۔' پھر سب خواتین نے اپنی انگوٹھیاں‪ ،‬کانوں کی بالیاں جن میں قیمتی اور معمولی پتھر لگے‬
‫ہوئے تھے‪ ،‬دے دیے۔‬
‫آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دور میں خواتین فجر سے عشاء تک تمام نمازیں عام طور پر با‬
‫جماعت ادا کیا کرتی تھیں۔ امام بخاری اپنے تحقیق شدہ مجموعہ میں روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم نے فرمایا ''میں نماز لمبی پڑھنا چاھتا ہوں لیکن جب میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو‬
‫نماز مختصر کر دیتا ہوں تا کہ اس بچے اور اسکی ماں کوکوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اسی طرح مسلم جو دوسرا‬
‫معتبر مجمو ع ِہ احاویث ہے میں بیان ہےکہ اگر تمھاری خواتین تم سے مسجد جانے کی اجازت مانگیں توان کو‬
‫اجازت وے دو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم‬

‫صبح کی نماز ابتدائی وقت میں پڑھاتے تھے تا آنکہ خواتین کے منتشر ہونے تک وہ اپنے مکمل لباس اور اندھرے‬
‫کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔‬
‫صہ لیا کرتی تھیں۔ کبھی پیاسے مجاہدوں کو پانی پلتیں‪ ،‬زخمی‬
‫مسلمان خواتین جنگی معرکوں میں بھی ح ّ‬
‫صہ لیا کرتیں۔‬
‫صحابہ کی مرہم پٹی کرتیں اور ان کی حفاظت کیا کرتیں۔ کبھی کبھی عملی جنگ میں بھی ح ّ‬
‫میں انکے رب نے فرمایا‬
‫قرآن اس سے اور مرد اور عورت کے دوسرے کام سے متعلق بیان کرتا ہے ''جواب ِ‬
‫'میں تم میں سے کسی کے عمل ضائع کرنے وال نہیں ہوں خواہ مرد ہو یا عورت‪ ،‬تم ایک دوسرے کے ہم جنس‬
‫ہو۔ لہ ٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنےگھروں سے نکالے گئے اور‬
‫ستائے گئے اور میرے لئے لڑے اور مارے گئے ان سب کے قصور میں معاف کر دوں گا اور انھیں ایسی جّنت‬
‫میں داخل کرونگا جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی ۔ یہ ان کی جزا ہے اللہ کے یہاں اور بہترین جزا اللہ ہی کے‬
‫''پاس ہے۔‬
‫یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بھی جنگی معرکوں میں عملی طور پر‬
‫صہ لیا کرتی تھیں۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر میں نے دیکھا کہ حضرت عائشہ‬
‫ح ّ‬
‫رضی اللہ عنہ بنت ابو بکر اور ام سلیم بہت تندہی سے پانی کے مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لد کر ل رہی ہیں اور‬
‫]انہیں مسلمانوں کو پلنے میں مصروف ہیں۔]بخاری‬
‫چند اور نمایاں خواتین جو جنگوں میں برابر کی شریک رہیں۔ ان میں ام سنان ال اسلمیہ‪ ،‬اور امیہ بنت قیس‬
‫بھی ہیں ]طبقات کے مطابق[۔ حمنہ بنت جیش وہ خاتون ہیں جو جنگ احد میں پیش پیش رہیں۔ یہ زخمیوں کو‬
‫پانی پلتیں‪ ،‬انھیں محفوظ مقا مات کی طرف منتقل کرتیں اور ضروری طّبی امداد پہنچاتی تھیں۔]الصابہ[۔‬
‫وذ جو کہ لی ٰلی الغفاریہ کے نام سے جانی جاتی تھیں‪ ،‬حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگی‬
‫الربیع بنت مع ّ‬
‫قافلوں میں شامل رہیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور بیماروں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔]الصابہ[۔ بخاری‬
‫ان سے روایت کرتے ہیں کہ ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے‪ ،‬پیاسوں کو پانی پلتے‪ ،‬زخمیوں‬
‫کو طّبی امداد دیتے اور مسلمانوں کی لشوں کو مدینہ پہنجاتے۔ ام ِ زہق بنت مسعود بھی آپ صلی اللہ علیہ‬
‫ل غنیمت میں سے‬
‫وسلم کے ساتھ غزوہ خبیر میں شریک تھیں۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی ما ِ‬
‫صہ دیا جتنا مردوں کو دیا تھا۔]الصابہ[۔‬
‫اتنا ہی ح ّ‬
‫صہ لیا۔جب لوگ‬
‫صفیہ بنت عبدالمطلب بھی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے عملی طور پر جنگوں میں ح ّ‬
‫جنگ خندق میں شمولیت کے لئے نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو ایک چھو ٹے سے قلعے‬
‫سان بنت ثابت کو ان کا نگراں مقرر کیا۔ کچھ دیر بعد ایک یہودی‬
‫میں بھیج دیا جو کہ 'فاری' کہلتا تھا اور ح ّ‬
‫وہاں آ نکل اور قلعہ پر ایسی جگہ پر چڑھ گیا کہ وہ سب کو دیکھ سکتا تھا۔ حضرت صفیہ نے اپنے آپ کو کمر‬
‫سے باندھا اور ایک پول لیا اور اسکے ذریعے سے اس پر حملہ کر دیا یہاں تک کہ اس کو ہلک کر دیا۔]الصابہ[۔‬
‫نصیبہ بنت کعب بھی ایسی ہی ایک اور خاتون تھیں جو غزوہ احد میں شریک ہوئیں۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ‬
‫صہ لیا ۔ اس دن‬
‫مجاہدین کو پانی پلنے کا کام کرینگی لیکن در حقیقت انھوں نے معرکے میں براہ راست ح ّ‬
‫انھوں نے دشمنوں میں بڑی تباہی پھیلئی اور بارہ کو شدید زخمی کیا۔ جب مسلمانوں کو پیچھے دھکیل دیا‬

‫گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہو گئے تو بھی وہ دفاع کے لئے اپنی جگہ پر مضبوطی سے کھڑی‬
‫رہیں۔]طبقات[ حضور نے ان کی حو صلہ مندی کو بہت سراہا اور ان کی بہت تعریف کی۔ جب انھوں نے خبر‬
‫سنی کہ ان کے بیٹے حبیب لڑائی میں مارے گئے ہیں توانھوں نے قسم کھائی کہ یا تومیں مسلمہ کے سامنے خود‬
‫مر جاوں گی یا اسے مار ڈالونگی۔ وہ خالد بن ولید کے ساتھ جنگ یمامہ میں شریک ہوئیں۔ ان کا بیٹا عبداللہ‬
‫بھی ان کے ساتھ تھا۔ وہ اس جنگ میں شہید ہوا جبکہ وہ خود ایک بازو سے محروم ہو گئیں۔]الصابہ[۔‬
‫ت ملہان کی ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ملہان کی بیٹی کے پاس گئے اور اسکے‬
‫ایک اور مثال ام ِ ہران بن ِ‬
‫ساتھ کھڑے ہو گئے اور اسکے بعد ہنسے۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ' اے اللہ کے رسول آپ‬
‫کیوں ہنس رہے ہیں؟'' نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا 'ہم میں سے کچھ لوگ اللہ کی خاطر‬
‫دریائ ِے سبز]بحرِ روم[ پر سفر کرینگے۔' انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا '' اللہ سے دعا کیجئے کہ‬
‫وہ مجھے بھی اس میں شامل کرے۔' پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے لئے دعا کی۔ ام سلیم کے متعلق‬
‫صحیح مسلم میں ہے کہ غزوہ جنین میں انکے پاس ایک خنجر تھا جس کو وہ لئے ہوئے تھیں۔‬
‫اوپر بیان کی گئی مثالوں سے واضع ہوتا ہے کہ مسلم خواتین دفاع اور عوامی زندگی کے دیگر اجتماعی‬
‫صہ لیتی تھیں۔ لیکن یہ انکے لزمی فرائض میں سے نہیں تھا سوائے‬
‫فرائض اور ذ ّ‬
‫مہ داریوں کی ادائیگی میں ح ّ‬
‫اسکے کہ کوئی ہنگامی صورتحال ہو اور انکی شرکت لزمی ہو۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے‬
‫بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی درخواست کی‬
‫''توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' حج تم لوگوں کا جہاد ہے۔‬
‫ابن بتل‪ ،‬جو ایک تبصرہ نگار تھے‪ ،‬کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ خواتین‬
‫کے لئے لڑائی میں شرکت لزمی نہیں تھی لیکن یہ فرمانا کہ حج ہی انکا جہاد ہے انھیں رضاکانہ جہاد میں‬
‫شرکت سے نہیں روکتا ہے۔ یہی رائے امام بخاری کی ہے۔‬
‫اسلم کے دیئے گئے مساوات کے اصولوں کی بنیاد پر خواتین بھی مردوں کی طرح اپنی تمام لیاقت اور‬
‫آزادیوں سے لطف اندوز ہو سکتی ہیں وہ بھی کسی مرد کو زبانی یا تحریری طور پر شادی کی پیش کش کر‬
‫سکتی ہیں۔ وہ بھی اپنی زندگی کے ساتھی کے انتخاب میں پوری طرح آزاد ہیں‪ ،‬کسی مرد کو پسند نہ کریں‬
‫تو اسکو رد کر سکتی ہیں اور کسی بھی ایسے شوہر سے طلق لے سکتی ہیں جس کو وہ پسند نہ کرتی ہوں۔‬
‫کوئی مرد رشتہ دار خواتین کی طرف سے ان کے نکاح‪ ،‬علحدگی یا طلق جیسے معاملت میں صرف جج کی‬
‫اجازت سے مداخلت کر سکتا ہے۔‬
‫عمیمہ بنت اِبل ایک صحا بیہ تھیں جنھوں نے تحریری طور پر شادی کا پیغام بھیجا۔ انھوں نے مغیرہ بن نوفل‬
‫کو لکھا 'کہ آپ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ کو ہماری ضرورت ہے تو آپ آگے آئیے۔'' انھوں نے اپنے کزن سے انکی‬
‫شادی کر دی۔‬
‫سہل بن سعد السعیدی نے اپنی ایک معتبر کتاب میں ایک مسلمان خاتون کے واقعہ کا ذکر کیا ہے جس میں‬
‫ان خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کا اظہار کیا اور کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ صلی اللہ‬
‫علیہ وسلم کے لئے پیش کرتی ہوں۔ اسکے بعد وہ خاموش ہو گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف‬

‫دیکھا اور خا موش رہے۔ توا یک شخص نے عرض کی 'یا رسول اللہ اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو‬
‫میری شادی ان سے کروا دیجئے۔' آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھا مہر میں دینے کے لئے تمہارے پاس کیا‬
‫ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ بس ایک شیر کی کھال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' کچھ اور لئو۔' انھوں‬
‫نے کہا میرے پاس اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' تلش کرو چا ہے وہ لوہے کی انگو ٹھی‬
‫ہی ہو۔' انھوں نے عرض کیا ' یا رسول اللہ اور کچھ نہیں ہےمیرے پاس۔' پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان‬
‫سے پو چھا ' قرآن میں سے کچھ یاد ہے؟' انھوں نے کہا ' جی ہا ں یا رسول اللہ۔ مجھے قرآن کی فلں اور‬
‫فلں سورہ یاد ہے۔ اور انھوں نے سورتوں کے نام بتائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلن کیا کہ ' ان آیات‬
‫]کے مہر کے عوض تمھاری شادی ان خاتون سے کرا دی جاتی ہے۔' ]متفق علیہ‬
‫خواتین کو شادی کا پیغام بھجنے سے پہلے قرآن کی ان ہدایات کو سامنے رکھنا چاہئے جو ایک بیوہ کے لئے جو‬
‫وئی گناہ نہیں ہے کہتم اشار ّۃیا کنایا ّۃ ان عورتوں سے نکاح کی بابت‬
‫ع ّ‬
‫دت میں ہے ‪ ،‬اس نے دی ہے '' تم پر ک ِ‬
‫کہو یا اپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کرو۔ اللہ تع ٰلی کو علم ہے کہ تم ضرور انھیں یاد کرو گے لیکن تم ان سے‬
‫دت ختم نہ ہو‬
‫پوشیدہ وعدے نہ کر لو۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ تم بھلی بات بول کرو ۔ عقد ِ نکاح کو جب تک ع ّ‬
‫جائے پختہ نہ کر لیا کرو۔ جان لو کہ اللہ تع ٰلی کو تمہاری دلوں کی باتوں کا بھی علم ہے۔ تم اس سے خوف‬
‫]کھاتے رہا کرو اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ تع ٰلی بخشش اور حلم وال ہے'۔ ]البقرہ ‪235‬‬
‫عورت کو زوجین کے انتخاب کے سلسلے میں پوری آزادی ہے۔ ہمیں قرآن پاک کی یہ آیت پیش نگاہ رکھنی چا‬
‫ہئے جس میں خواتین کو شادی کے بعد زبردستی روکنے کی مما نعت کی گئی ہے۔ ' اور جب تم اپنی عورتوں‬
‫دت پوری ہونے کو آجائے تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے‬
‫کو طلق دے دو اور ان کی ع ّ‬
‫رخصت کر دو۔ محض ستانے کی خا طر انہیں نہ روکے رکھنا کہ یہ زیادتی ہو گی اور جو ایسا کرے گا وہ‬
‫درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا۔' ]البقرہ ‪ [231‬۔‬
‫رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خواتین کا نکاح ان کی مرضی کے بغیر نہ کرو۔ نبی کریم صلی اللہ‬
‫علیہ وسلم نے حکم دیا '' کسی بیوہ یا مطلقہ عورت کا نکاح اسکی مرضی کے بغیر نہ کرو اور نہ ہی کسی‬
‫کنواری کا۔ اسکی خاموشی ہی اسکی رضامندی ہے۔' ] بخاری[ عورت کنواری ہو یا بیوہ‪ ،‬دونوں صورتوں میں‬
‫آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی رضامندی ضروری قراردی ہے۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک کنواری‬
‫لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور ان سے عرض کیا کہ ' میرا باپ میری شادی میری‬
‫مرضی کے بغیر کر رہا ہے' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو انتخاب کا پورا حق دیتے ہوئے کہا کہ‬
‫تمہاری شادی تمہاری مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتی اور وہ خوش ہو گئی۔] ابو داود‪ ،‬احمد‪ ،‬ابن ماجہ[۔ ایک اور‬
‫لڑکی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا ' اے اللہ کے رسول میرے والد میری شادی میری‬
‫مرضی کے بغیر اپنے بھتیجے سے کرنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کو رد کرنے کا‬
‫انتخاب دیا‪ ،‬لیکن اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ' میرے والد نے جو کیا میں اسکو قبول کرتی ہوں‬
‫ن ماجہ‬
‫]لیکن میں عورتوں کو دکھانا چاہتی ہوں کہ والدین کو اس معاملے میں کچھ کرنے کا حق نہیں ہے۔' ] اب ِ‬

‫بیوی کی جانب سے جج کو طلق یا شادی کی تحلیل کی درخواست بھیجناذاتی قانون پر عام عمل ہے۔ ایک‬
‫عورت کو مسلمان شوہر کے ساتھ کسی بھی مسلک اور عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی ہے اور اس سلسلے‬
‫میں اس پر کو ئی زبردستی نہیں ہے۔ خواتین ہر قسم کی تعلیم بغیر کسی رکاوٹ کے حاصل کر سکتی ہیں‬
‫اور انہیں چاہئے کہ وہ ہر قسم کی تعلیم حاصل کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکیوں کی اچھی تعلیم‬
‫پرزور دیا۔ ابو بردہ ابن ابی موس ٰی سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے والد سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا‬
‫فرمان ہے کہ تین لوگ اپنے رب کی طرف سے دوگنا انعا م پائیں گے۔ ایک وہ جو اپمے نبیوں پر بھی ایمان‬
‫رکھتے ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان رکھتے ہوں‪ ،‬دوسرا وہ غلم جو اللہ کی راہ میں دوڑ‬
‫دھوپ کرتا ہے اور ساتھ ہی اپنے مالک کی خدمت بھی کرتا ہے اور تیسرا وہ شخص جو اپنی باندی کو کھلتا‬
‫]پلتا ہے اسے تعلیم دیتا ہے پھر اسے آزادی دیتا ہے اور پھر اس سے شا دی کرتا ہے۔] سحا ستہ‬
‫یہ بات بھی قابل غور ہے کہ خواتین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں تعلیم کے لئے حاضری دیا‬
‫کرتی تھیں'۔‬
‫خواتین کو اپنی درست رائے دینے کی پوری آزادی تھی‪ -‬حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ لوگوں میں اپنے بے لگ‬
‫مشورے اور رائے دینے میں مشہور تھیں۔ مسلمان خواتین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اور‬
‫اسکے بعد خلفائے راشدین کے سامنے مسائل کے حل کے لئے اپنی رائے پیش کیا کرتی تھیں۔ ابن جوزی‬
‫حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خوبی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو مہر‬
‫کی رقم زیادہ مقرر کرنے سے روکتے تھے۔ انھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا " اگر کسی نے عورتوں کو حق مہر‬
‫کی رقم ‪ 40‬درہم سے زیادہ دی تو زیادہ رقم بیت المال میں جمع کرا دی جائے گی۔ یہ کہہ کر آپ منبر سے‬
‫نیجے اتر آئے۔ اس پر ایک چپٹی ناک والی حبشی عورت نے کھڑے ہو کر کہا کہ آپ کو اس کا حق نہیں ہے۔‬
‫حضرت عمر نے پوچھا ' یہ کیوں میرا حق نہیں ہے؟' اس نے جواب دیا ' کیونکہ اللہ تع ٰلی کا ارشاد ہے 'اور اگر‬
‫تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لنے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو ‪،‬‬
‫اس میں سے کچھ واپس نہ لینا‪ ،‬کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے۔' یہ آیت سن کر‬
‫حضرت عمر نے کہا 'اس خاتون نے صحیح کہا جبکہ میں غلط تھا۔ پھر آپ دوبارہ منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ '‬
‫ق مہر‬
‫ق مہر کے سلسلے میں تھا میں واپس لیتا ہوں۔ اب تم میں سے جو جتنا چاہے ح ِ‬
‫اے لوگو یہ حکم جو ح ِ‬
‫'مقرر کر سکتا ہے۔‬
‫اسلمی قانون کے مطابق ایک عورت کو اختیار ہے کہ وہ اپنی جائداد رکھ سکتی ہے اور اسے جیسے چاہے‬
‫فروخت کر سکتی ہے۔ شریعت ایک مسلم معاشرے میں خواتین کو اقتصادی زندگی میں یکساں اور منصفانہ‬
‫کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے بالکل اسی طرح جیسے کہ خاندانی معا ملت اور گھریلو زندگی میں‬
‫مہ دار نہیں ہیں۔ عورت اپنی معا شی حالت‬
‫اہم کردار ادا کرتی یے۔ لیکن وہ گھریلو وسائل کی فرحامی کی ذ ّ‬
‫سدھارنے اور خوشحالی کے لئے اپنے شوہر کے ساتھ باہر کے کام بھی کر سکتی ہے۔ اسماء بنت ابو بکر بیان‬
‫کرتی ہیں کہ جب حضرت زبیر سے انکی شادی ہوئی تو انکے پاس ذاتی جائداد نہیں تھی۔ نہ کوئی غلم اور نہ‬
‫ہی کچھ اور ما سوائے ایک اونٹ اور ایک گھوڑے کے۔ میں ان کا بہت خیال رکھتی تھی۔ انکو چارہ اور پانی‬

‫دیتی اور ان کی صفائی ستھرائی کرتی‪ ،‬آٹا پیستی ‪ ،‬مجھے روٹیاں بنانی نہیں آتی تھیں۔ میرے پڑوس میں کچھ‬
‫اچھی انصاری خواتین تھیں جو روٹیاں بنانے میں میری مدد کرتی تھیں۔ میں سر پر پھلوں کا ٹوکرا رکھ کر‬
‫باغ سے لتی تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو دیا تھا۔ وہ باغ تین کوس یعنی تقریبا ّ‬
‫دس میل‪ ،‬دور تھا۔ ایک دن میں اپنے گھر جا رہی تھی اور میرے سر پر وزنی ٹوکرا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم راستے میں ملے جن کے ساتھ انصاریوں کی جماعت تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے‬
‫پیچھے اونٹ پر بیٹھنے کو کہا لیکن لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے مجھے شرم آئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم میرے شرمانے کو سمجھ کر میرے بغیر آگے بڑھ گئے۔ اسکے بعد میں نے زبیر کو بتا یا کہ کیسے نبی کریم‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم سے میں ملی جو انصاریوں کی جماعت کے ساتھ تھے اور میں نے کیسے ان کی پیشکش‬
‫سے انکار کیا جب انھوں نے مجھے پیچھے بٹھانے کے لئے اونٹ کو بٹھایا۔ میں نے زبیر سے کہا کہ میں شرم‬
‫محسوس کر رہی تھی۔ زبیر یہ سن کر کہا ' خدا کی قسم تمھارا اتنی وزنی ٹوکرا اٹھا نا میرے لئے زیادہ‬
‫تکلیف کا با عث ہے اسکے مقابلے میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے اونٹ پر سوار ہو‬
‫]جاتی۔ اسکے بعد زبیر نے مجھے ایک نوکر دیا جو میری مدد کرتا تھا۔ ] بخاری‬
‫مسلمان میاں بیوی کوگھریلو معاملت میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے یہاں تک کہ طلق کے بعد بھی۔‬
‫دت رضاعت تک دودھ پیئے تو مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال‬
‫'' جو باپ چا ہتے ہوں کہ انکی اولد پوری م ّ‬
‫دودھ پلئیں۔ اس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا دینا ہو گا۔ مگر کسی پر اسکی‬
‫چہ اسکا ہے اور نہ باپ‬
‫وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالنا چا ہئے۔ نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف دینی چاہئے کہ ب ّ‬
‫چے کے باپ پر ہے‪ ،‬ویسا ہی‬
‫چہ اسکا ہے۔ دودھ پلنے والی کا یہ حق جیسا ب ّ‬
‫کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ ب ّ‬
‫اسکے وارث ہر بھی ہے۔ لیکن اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں توا یسا کرنے‬
‫میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور اگر تمھارا خیال اپنی اولد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہے تواس میں‬
‫بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو‪ ،‬معروف طریقے سے ادا کر دو۔ اللہ سے ڈرو‬
‫اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو سب اللہ کی نظر میں ہے۔' ]البقرہ ‪[233‬۔‬
‫ایک مسلم معاشرے میں خواتین کونسلنگ آفیسر‪ ،‬جو معا شرے کے عمومی معاملت کی نگرانی کرتا ہے‪ ،‬کی‬
‫صہ لے سکتی ہیں۔ یہ انتخابات کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اور مشاورت کے ذریعے بھی۔ مجلس‬
‫تقّرر میں ح ّ‬
‫شور ٰی کا یہ سلسلہ حضرت عمر کی وفات کے بعد بھی عمدگی سے چلتا رہا۔ مسلمان خواتین دراصل ان‬
‫مشاورتوں میں شریک رہتی تھیں۔ تاریخ دان ابن کثیر کے مطابق ' حضرت عبد الرح ٰمن بن عوف نے حضرت‬
‫عثمان اور حضرت علی کی امیدواری سے متعلق لو گوں سے رائے لی۔ انھوں نے عام مسلمانوں کی آراء‬
‫انکے سرداروں کے ذریعے جمع کی۔ وہ ان سے الگ الگ بھی ملتے اور اجتماعی طور پر بھی۔ وہ تنہا بھی ملتے‬
‫اور عوامی سطح پر بھی۔ یہان تک کہ وہ‬
‫]مسلمان خواتین کی رائے معلوم کرنے انکے گھروں تک گئے۔'' ]البدیعہ و نہاویہ‬
‫ابتدائی مسلم معا شرے میں خواتین تمام عوامی اجتماعات اور تہواروں میں شریک ہو تی تھیں۔ معتبر ذرائع‬
‫کے مطابق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں خواتین عید کی نماز کے اجتماعات میں ہو تیں تھیں‬

‫ح ٰتی کہ وہ خواتین بھی جو نمازسے مثتث ٰنی ہو تی تھیں‪ ،‬نماز میں شریک ہوتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم‬
‫کی زوجہ حفصہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ہم نوجوان لڑکیوں کو عید کی نماز کے لئے جانے سے منع کرتے‬
‫تھے۔ لیکن ایک عورت آئی اور قصر بنی خلف میں قیام کیا اور اپنی بہن کے بارے میں پو چھا جسکے شوہر‬
‫بارہ جنگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہو چکے تھے اور ان کی بہن نے چھ جنگوں میں حصہ‬
‫لیا تھا۔ انھوں نے کہا '' ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے تھے اور بیماروں کی دیکھ بھال۔ میں نے نبی کریم صلی‬
‫اللہ علیہ وسلم سے پو چھا کہ کیا اس میں کوئی حرج ہے اگر ہم جلباب کے بغیر باہر نکل جایا کریں۔ نبی کریم‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' تم اپنی کسی سہیلی سے عارضی طور پر جلباب لے لواور تمام اجتماعات‬
‫میں شرکت کرو اور اسلم پھلئو۔' حفصہ چلی گئیں جب ام سلمہ آئیں اور ان سے پو چھا کہ کیا آپ نے‬
‫حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی۔ انھوں نے جواب دیا ' ہاں‪ ،‬میں نے ان کو فرماتے سنا کہ تمام‬
‫لڑکیوں کو ماہانہ اّیام کے دنوں میں عید کے اجتماعا ت میں شرکت کرنا چاہئے جبکہ نماز کے دوران حیض‬
‫والی خواتین کوپردے کے پیچھے کھڑے ہو نا چاہئے۔'حضرت حفصہ نے پوچھا کیا حیض والی خواتین بھی؟ توام‬
‫]سلمہ نے جواب دیا ' کیا آپ نے انھیں حج میں عرفات میں نہیں دیکھا۔' ]بخاری‬
‫ہدایت یافتہ معا شرے میں خواتین کا ایک اور منظر نامہ حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں‬
‫نے کس طرح سے حبشیوں کا تماشہ دیکھا۔ وہ فرماتی ہیں کہ ' خدا کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے‬
‫حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور حبشی حرم میں اپنا تماشا دیکھا رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے‬
‫مجھے اپنی شال میں چھپا لیا تاکہ میں بھی انکا تماشہ دیکھ سکوں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ‬
‫]مبارک کے پیچھے سے تماشہ دیکھتی رہی یہاں تک کہ تھک کر خود ہی ہٹ گئی۔‬

‫] بخاری‬

‫مہ داری جو مردوں‬
‫اسلمی معا شرے میں مردوں کو کوئی فوقیت حاصل نہیں سوائے اس کے کہ کچھ خاص ذ ّ‬
‫پر لزم ہے اور خواتین رضاکانہ طور پر وہ کام کر سکتی ہیں۔‬
‫ت خود خاتون کو‬
‫انھیں خواتین پر کوئی اختیار یا بال دستی حاصل نہی سوائے ازدواجی تعلق کے۔ یہ تعلق بذا ِ‬
‫یہ اختیار دیتا ہے کہ اسے برقرار رکھیں یا توڑ دیں اور لزم ہے کہ ایک دوسرے کا احترام کریں‪ ،‬مشورہ کریں اور‬
‫مہ داری ہے کہ وہ گھر کے معاشی معاملت چلئے اور‬
‫میل ملپ پیدا کریں۔ مرد خاندان کا نگہبان ہے۔ مردکی ذ ّ‬
‫عورت گھر کی ۔ میاں بیوی دونوں کو باہمی مشورے اور افہام اور تفہیم سے کام کرنا چاہئے اور اولد کے‬
‫سلسلے میں دونوں کو مساوی حق ہے۔‬
‫زندگی کوئی ایسا اسٹیج نہیں ہے جس پر صرف مرد اکیل ہی تمام کردار ادا کرے ۔ وہ تمام معاملت جن میں‬
‫دونوں کی مشترکہ کوششوں کی عملداری ہے وہاں صنف کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اسی لئے مرد اور عورت‬
‫دونوں دینی اجتماعات میں شریک ہو سکتے ہیں۔ آنحضرت نے صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ' کہ خواتین کو رات‬
‫کے وقت مسجد میں جانے سے نہ روکو۔' عبداللہ بن عمر کے ایک صاحبزادے نے یہ فرمان سن کر اپنے والد‬
‫سے کہا ' ہم خواتین کو رات کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہ دیں تاکہ کسی قسم کی خرابی کا اندیشہ نہ‬
‫ہو۔' انکے والد عبداللہ بن عمر نے کہا ' میں بھی وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اور تم‬
‫'اب بھی یہی کہہ رہے ہو کہ تم اجازت نہی دو گے۔‬

‫ابتدائی مسلم معاشرے میں خواتین کے لئے آنحضور نے صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہدایت تھی کہ وہ‬
‫عیدین کی نماز میں شامل ہوں۔ انھیں مسجدوں میں جانے کی اجازت تھی یہاں تک کہ وہ رات کے وقت بھی‬
‫مسجد جا سکتی تھیں۔ خواتین حج میں شریک ہوتیں جہاں اسک بہت بڑا مجمع ہوا کرتا تھا۔ اپنے آپ کو دیندار‬
‫سمجھنے والے کچھ مسلم حکمرانوں نے طواف میں عورتوں اور مردوں کو علحدہ کرنے کے لئے تبدیلی کرنی‬
‫چاہی لیکن علماء میں سے کسی نے بھی اس سنت کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ وہ اس بات کی‬
‫سختی سے مخالفت کرتے تھے کہ کسی بھی سنت میں ذرا سی تبدیلی کی جائے۔ اسی لئے آج بھی حج کے‬
‫موقع پر طواف بالکل اسی طرح سے کیا جاتا ہے جس طرح سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کیا‬
‫جاتا تھا۔ گورنر مک ّہ محمد بن ہشام نے جب عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے روکا تو‪ ،‬عطا‪ ،‬ایک‬
‫مشہور عالم‪ ،‬نےاس پر اعتراض کیا اور کہا ' تم ان کو کیسے روک سکتے ہو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی‬
‫ازواج نے خود مردوں کے ساتھ طواف کیا؟'' یہ عمل بغیر کسی تبدیلی کے جاری رہا یہاں تک کے ان حکمرانوں‬
‫کے دور میں بھی جنھوں نے نبی کی ازواج پر پابندی لگائی وہ بھی ان کے پاس سے مردوں کو ہٹا دیتے تھے‬
‫]جبکہ دیگر خواتین اور مرد اسی طرح باہم مل کر حجرِ اسود کو بوسہ دیتے تھے۔]بخاری‬
‫دینی اجتماعات میں بھی مرد اور خواتین عام طور پر ایک ساتھ شریک ہوتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم مسلمانوں کو تعلیم و تربیت کے لئے مردوں اور عورتوں سے اکٹھے خطاب کرتے تھے اگرچہ ازدواجی‬
‫معاملت سے متعلق ہی ہدایات دینی ہوتی تھی۔ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد اس بات پر‬
‫خطاب کیا جو مسلمان آپس میں ازدواجی تعلقات کے بارے میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ ابو ہریرہ سے‬
‫روایت ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ختم کرنے کے فورا ّ بعد ہماری طرف مڑے اور کہا تم‬
‫سب بیٹھ جائو۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' کیا تم لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی‬
‫بیوی کے پاس جائے‪ ،‬دروازہ بند کر دے‪ ،‬پردے گرا دے اور پھر بعد میں باہر نکل کر لوگوں سے کہتا پھرے کہ میں‬
‫نے یہ اور یہ کیا ہے۔' تمام مرد حضرات خاموش رہے۔ پھر خواتین کی طرف مڑے اور پو چھا ' کیا تم میں سے‬
‫کوئی ایسا ہے جو دوسری خاتون سے ازدواجی معاملت میں کھل کر بات کرتی ہو؟' اس پر مجمع میں سے‬
‫ایک جوان لڑکی گٹھنوں کے بل پر کھڑی ہوئی' کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ اور سن سکیں‪،‬‬
‫اور بولی ' جی ہاں یا رسول اللہ‪ ،‬تمام مرد اس معاملہ میں آپس میں بات کرتے ہیں‪ -‬اسی طرح ہم بھی کرتے‬
‫ہیں۔' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ دو شیطانی جوڑا شاہراہ پر لوگوں کے‬
‫]سامنے اپنی جنسی خواہش کو پورا کرے۔' ] احمد‪ ،‬ابو دائود‪ ،‬اور البزار‬
‫ایک اور مشترکہ اجتماع میں‪ ،‬ایک خاتون نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطاب کے دوران اس وقت مداخلت‬
‫کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے پوچھ رہے تھے کہ '' جہنم میں خواتین کیوں زیا دہ تعداد میں‬
‫ن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' اے‬
‫ہونکی۔؟ حضرت اب ِ‬
‫عورتو‪ ،‬صدقہ دو اور اللہ سے عاجزی سے مغفرت طلب کرو کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ جہّنم میں زیادہ تعداد‬
‫تم خواتین کی ہے۔' چند خواتین جو اس مجمع میں تھیں‪ ،‬سوال کیا ' جہنم میں خواتین کی تعداد مردوں سے‬
‫زیادہ کیوں ہو گی۔؟' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ' تم اپنے شوہروں کی نا فرمانی اور ناشکری‬

‫کرتی ہو۔ میں دین اور دانائی میں کوئی کمی نہیں دیکھتا'۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ دو‬
‫عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔ مزید فرمایا ' کچھ دنوں کے لئے اسے نماز سے بھی اجناب کرنا پڑتا‬
‫ہے ] یعنی کہ اسکے محدود تجربہ اور جسمانی کمزوری جو اّیام کے دنوں میں ہوتی ہے کہ باعث وہ عمو ما ّ بہتر‬
‫]فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔[ ]مسلم‬
‫آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی خواتین کے لئے الگ نشست کا بھی اہتمام کرتے تھے کیونکہ خواتین اس‬
‫بات پر معترض ہوتی تھیں کہ مردوں کے ساتھ مجالس میں انھیں پیچھے بیٹھنا پڑتا ہے جس کے باعث وہ آپ‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم کی بات صحیح طور پرسن نہیں پاتی تھیں۔ اسکے علوہ مردوں کی موجودگی میں‬
‫خواتین اپنے مسائل کا کھل کر اظہار نہیں کر پاتیں۔ بخاری میں بیان ہے کہ خواتین نے حضور صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم سے عرض کیا کہ 'یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خواتین کی تعلیم کے لئے بھی مخصوص‬
‫ہونا چا ہئے کیونکہ عام اجتماع میں مرد زیادہ غالب رہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین سے وعدہ‬
‫فرمایا کہ ایک دن آپ لوگوں کے لئے بھی ہو گا۔ ایسی ہی ایک نشست میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین‬
‫چےمر جائیں تو وہ جہنم کی راہ میں رکاوٹ بن جائینگے ]یعنی جہنم میں‬
‫کو بتایا کہ اگر کسی عورت کے تین ب ّ‬
‫چے مریں تو؟' آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ' اسکے لئے‬
‫جانے سے بچائینگے[ ایک عورت نے پوچھا ' اگر دو ب ّ‬
‫]بھی ایسا ہی ہو گا۔' ]بخاری‬
‫ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بخاری بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم عید کے خطاب کے بعد حضرت بلل کے ساتھ واپس جا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے‬
‫محسوس کیا کہ شاید خواتین نے صحیح طرح سے نہیں سنا لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس خواتین میں‬
‫گئے اور ان سے خطاب کیا۔‬
‫ایک عورت کی لئے اپنی ضروریات کے لئے باہر نکلنے میں کوئے ممانعت نہیں ہے۔ وہ بازار جا سکتی ہے‪ ،‬تجارت‬
‫کر سکتی ہے۔ تاہم ان کاموں کے لئے اس پر کوئی بار نہیں ہے۔‬
‫نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کا حکم آنے کے بعد بھی ازواج مطہرات کو انکی ضرورت کے لئے باہر‬
‫جانے کی اجازت دی‪ -‬حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سودہ اپنی کسی ضرورت سے‬
‫گھر سے باہر نکلیں تو حضرت عمر نے آپ کو دیکھ کر پہچان لیا کیونکہ وہ بھاری جسم کی تھیں۔ انھوں نے کہا‬
‫' سودہ میں نے تمھیں پہچان لیا تم کیسے باہر آئیں؟ ' اس پر حضرت سودہ کو غصہ آیا اور وہ آپ صلی اللہ‬
‫علیہ وسلم کے پاس تشریف لئیں اور انہیں بتایا کہ 'میں اپنی ضرورت کے لئے گھر سے بایر نکلی تو حضرت‬
‫عمر نے مجھے فلں فلں بات کہی ہے‪ ،‬اسی وقت وحی نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے‬
‫]فرمایا ' اللہ نے تمہیں اپنی ضرورت کے لئے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے۔' ] بخاری‬
‫قرآن پاک کی یہ آیات بالکل واضع طور پر بتاتی ہیں کہ خواتین اپنی ضروریات کے لئے باہر نکل سکتی ہیں۔‬
‫''اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر چادر کے پّلو لٹکا لیا کریں۔‬
‫یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تا کہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں۔'' ] الحزاب ‪[59‬۔ قرآن نے اس حقیقت‬
‫کو بیان کیا ہے کہ خواتین جب باہر نکلیں تو اپنے آپ کو ڈھانپ کر نکلیں کیونکہ مدینہ کی گلیوں میں چند‬

‫اوباش نوجوان بغیر پردے کی خواتین پر آوازیں کستے اور ان کے زیورات پر نظر رکھتے تھے۔ مجاہد ] جو‬
‫قرآن کی تفسیر میں شہرت رکھتے تھے[ فرماتے ہیں کہ وہ خواتین جو خود کو چادر سے ڈھانپ لیتی وہ آزاد اور‬
‫اچھے خاندانوں سے تعلق رکھنے والی سمجھی جاتی تھیں اور کوئی اوباش ان پر جملے نہیں کستا تھا۔‬
‫نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو تعلیم دی ہے کہ اگر وہ سڑکوں کے کناروں پر بیٹھے ہوں اور‬
‫خواتین گزررہی ہوں تو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم نے فرمایا ' راستوں پر بیٹھنے سے حت ّ ٰی المکان اجتناب برتو۔' انھوں نے کہا ' یا رسول اللہ یہ ہم سے‬
‫ممکن نہیں ہے۔' نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' اگر تم راستوں پر بیٹھنے پر اصرار کرتے ہو تو پھر‬
‫اسکا حق ادا کرو۔' انھوں نے پوچھا ' وہ کیا ہے؟' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' اپنی نگاہیں نیچی رکھو‪،‬‬
‫کسی کو تکلیف نہ پہنچاو‪ ،‬آپس میں خیر کی باتیں کیا کرو اور دوسرے کوئی برا کریں تو انکو تنبیہ کرو۔'‬
‫]]مسلم‬
‫خواتین صنت و تجارت سے بھی منسلک ہو سکتی ہیں۔ قائلہ ام بنی اتمار ایک تجارت پیشہ خاتون تھیں ۔ وہ‬
‫کہتی ہیں کہہ ' میں ایک عورت ہوں اور خرید و فروخت کرتی ہوں۔' ]الصابہ[ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے‬
‫مارکیٹ کے انتظامی معاملت کے سلسلے میں ایک خاتون شفاء بنت عبداللہ بن عبد شمس کو نگران مقرر‬
‫کیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ ان سےمشورہ کرتے‪ ،‬انکا احترام کرتے۔ ]الصابہ[ ۔اس سلسلے میں ایک خاتون اور‬
‫ابو الیا سر کی گفتکو جو ان سے کھجور خریدنے آئیں تھیں‪ ،‬بھی اہم ہے جس سے واضع ہوتا ہےکہ خواتین کس‬
‫]طرح خریداری کے لئے جاتی تھیں۔]ترمذی‬
‫اسلم میں مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ایک عورت بھی گھر آئے مہمانوں کی خاطر مدارات کر‬
‫صے میں بیان کیا جاتا ہےکہ جب‬
‫سکتی ہے اور ان کی ہم نشین ہو سکتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ ا لسلم کے ق ّ‬
‫فرشتے ان کے یہاں انسانی بھیس میں مہمان بن کر آئے اور انھوں نے آپ کو بیٹے کی خوشخبری دی تو‬
‫حضرت ابراہیم علیہ ا لسلم کی اہلیہ ہنس پڑیں جو ان مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے ان کے ساتھ ہی‬
‫]کھڑی تھیں اور کہا کہ میں اور میرے شوہر بوڑھے ہو چکے ہیں۔یہ کیسے ممکن ہو گا۔] ہود ‪72-70‬‬
‫کچھ بوڑھی خواتین ایسی بھی تھیں جن کے گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جایا کرتے۔ ان کے ساتھ کھانا‬
‫کھاتے اور جب وہ بیمار ہو جا تیں تو ان کی عیادت کےلئے جایا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر ام ایمن‪ ،‬جو سخت‬
‫گرمی میں مک ّہ سے مدینہ اکیلے پیدل تن تنہا ہجرت کر کے آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انکے گھر جا کر ان‬
‫]کی عّزت افزائی کیا کرتے تھی۔ ]سیرت ابن ہشام‬
‫خولہ بن قیس بھی ایسی خاتون تھیں۔ الطبرانی کے مطابق ابن حارث نےخولہ سے سنا کہ وہ اور نبی کریم‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں کھانا کھایا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکے گھر جایا‬
‫]کرتے اور دوپہر کو آرام بھی کیا کرتے تھے۔ ]الصابہ‬
‫شسخین ]بخاری اور مسلم[ میں حضرت انس سے ملیکہ انصاریہ کے متعلق روایت ہے کہ ' انکی دادی حضرت‬
‫ملیکہ اپنے ہاتھ سے کھانا بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلتی تھیں۔ اسی روایت میں کہ نبی‬

‫کریم صلی اللہ علیہ وسلم انکے گھر کس طرح نماز ادا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ' ایک یتیم‬
‫]اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے اور وہ بوڑھی خاتون ہمارے پیچھے۔ ]الصابہ‬
‫بیان کیا جاتا ہے کہ لبابہ بنت حارث وہ دوسری خاتون ہیں جنھوں نے حضرت خدیجہ کے بعد اسلم قبول کیا۔ آپ‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم انکے گھر جایا کرتے تھے اور دوپہر کا قیلولہ بھی کرلیا کرتے تھے۔ ام ِ وارغا بھی ایسی‬
‫خاتون تھیں جن کے گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جا یا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اجازت‬
‫دی تھی کہ وہ اپنے گھر پر نماز پڑھیں اور جھر میں موجود افراد ‪ ،‬مرد و عورت‪ ،‬کی امامت کریں۔]ابو داود[ یہ‬
‫خاتون وہ تھیں جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ بدر میں شرکت کی اجازت مانگی تھی تاکہ‬
‫مریضوں کی خدمت کر سکیں اور شاید اللہ تع ٰلی انھیں شہادت عطا کر دیں۔]الصابہ[ فاطمہ بنت اسد بن‬
‫ہاشم ایک بہت متقی خاتون تھیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انکے گھر دوپہر کا قیلولہ کرنے جاتے تھے۔‬
‫]طبقات[ یہ تمام خواتین سماجی حیثیت کی مالک تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اہمیت‬
‫رکھتی تھیں۔‬
‫ایک دلہن بھی ذاتی طور پر مہمانوں کو خاطر تواضع کر سکتی ہے۔ سہیل بن سعد سے روایت ہے کہ ابو سعید‬
‫نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی کی دعوت پر بلیا توانکی دلہن نے خود مہمانوں کا کھانا تیار‬
‫کیا اور ان کو پیش بھی کیا۔ انھوں نے کچھ کھجوروں کو پیس کر پانی میں ڈال دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم کھانا کھا چکے تو انھوں نے اپنے ہاتھوں سے کھجوروں کی گٹھلیاں الگ کیں اور اسکو نبی کریم صلی‬
‫]اللہ علیہ وسلم کو پینے کے لئے دیا۔] شخین‬
‫خاندان کے لوگوں سے میل جول کا بھی اسلم کے ابتدئی دور میں عام چلن تھا۔ مثال کے طور پر حضرت‬
‫وذ اور انکے شوہر حضرت الیاس بن کبیر کے گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جایا کرتے تھے۔‬
‫ربیع بنت مع ّ‬
‫وذ نے پیغمبر‬
‫ابو داود‪ ،‬ترمذی اور ابن ماجہ کی کئی روایات ابن عقیل کی بیان کردہ ہیں جس میں ربیع بن مع ّ‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے طریقے کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ' نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے‬
‫]گھر آیا کرتے اور کہتے مہربانی کر کے پانی ڈالو تاکہ میں وضو کر لوں'۔ ]الصابہ‬
‫جہاں تک مشہور و معروف حجاب کا تعلق ہے‪ ،‬اسمیں ازواِج مطہرات کے لئے خصوصی اہتمام ہے کونکہ وہ‬
‫مہ داریاں بھی زیادہ تھیں۔ اللہ‬
‫اپنی حثییت اور مرتبہ میں عام خواتین سے بلند مقام رکھتی تھیں اسلئے انکی ذ ّ‬
‫کا ارشاد ہے کہ ان کو عام خواتین کے مقابلے میں جزا بھی دوگنی ملے گی اور سزا بھی۔'' نبی کی ببییو تم‬
‫میں سے جو کوئی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گا اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا‪ ،‬اللہ کے لئے یہ بہت‬
‫آسان کام ہے اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرے گا اور نیک عمل کرے گا اس‬
‫]کو ہم دوہرا اجر دینگے اور ہم نے اسکے لئے رزق کریم مہیا کر رکھا ہے۔]الحزاب ‪31-30‬‬
‫اس سورۃ کی دوسری آیت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو پردہ لٹکانے کا حکم دیا گیا ہے‬
‫]تاکہ انکے کمرے کا اخفا برقرار رہے جو بہت سے آنے والوں کے لئے قدرتی طور پر کشش رکھتا تھا[ اور اپنے‬
‫مکمل لباس پہنیں یہاں تک کہ انکا ہاتھ اور چہرہ بھی کسی آدمی کو نظر نہ آئے اگرچہ دوسری تمام خواتین کو‬
‫اس پابندی سے مثتثن ٰی کیا گیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے ' اے لوگو جو ایمان لئے ہو نبی کے گھروں میں بل‬

‫اجازت نہ چلے آیا کرو۔ نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلیا جائے تو ضرور آئو۔ مگر جب‬
‫کھانا کھالو تو منتشر ہو جائو‪ ،‬باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔تمہاری یہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں۔ مگر وہ‬
‫شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا ۔ نبی کی ببیوں سے تمہیں کچھ مانگنا‬
‫ہے تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ تمہارے اور انکے دلوں کی پاکیزگی کے لئے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ تمہارے‬
‫لئے یہ ہرگز جائز نہی کہ اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کی ببیوں سے نکاح کرو۔ یہ اللہ کے‬
‫]نزدیک بہت بڑا گناہ ہے‪ ،‬تم خواہ کوئی بات ظاہر کرو یا چھپائو اللہ کو ہر بات کا علم ہے۔' ]الحزاب ‪53‬‬
‫یہ آیات خاص طور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے لئے اتریں اور اسمیں آپ صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم کی بیبیوں کو مخاطب کیا گیا ہے جسمیں ان سے بات چیت کرنے کے آداب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم‬
‫کی وفات کے بعد ان سے شادی کی مما نعت ہے۔ متعبر روایت میں ان آیات کی بیان کردہ وجہ نزول واضع‬
‫کرتی ہے کہ وہ کیا حالت تھے جسمیں یہ پابندی لگائی گئی۔ یہ آیات اس تجویز کے حوالے سے نازل ہوئیں‬
‫جسمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسکا خاص مشورہ دیا تھا۔ سید ّہ‬
‫عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی بیان کہ ' حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ اپنی ازواج‬
‫کو گھروں میں روک کر رکھیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل نہیں کیا۔ تو پھر اللہ تع ٰلی نے‬
‫پابندی سے متعلق آیات نازل کیں۔]بخاری[ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے‬
‫کہا کہ ' میرے رب نے میری تین باتیں پوری کیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ' کیا ہی اچھا‬
‫ہو کہ مقام ِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیا جائے۔ ' تو یہ آیت نازل ہوئی ' مقام ِ ابراہیم کو اپنی سجدہ گاہ بنا لو'۔‬
‫میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپکے گھر آپکی ازواج سے ملنے ہر طرح کے‪ ،‬اچھے برے‪ ،‬لوگ‬
‫جاتے ہیں انکو اس چیز سے منع کیا جائے۔ تو پابندی والی آیات نازل ہو ئیں۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ‬
‫علیہ وسلم کی ازواج ایک دوسرے سے حسد کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مسائل پیدا کر رہی‬
‫تھیں تو جومیں نے تجویز کیا وہی نازل ہوا یعنی ' اگر نبی تم کو طلق دے دیں تو تم سے بہتر ببیاں اللہ ان کو‬
‫] دے گا۔' ]تحریم ‪ ] [5‬مسند امام احمد بن حنبل‬
‫ان آیات کا تعلق براہ راست مہمانوں کے طویل قیام سے ہے جو حضرت زینب بنت جیحش کی شادی میں‬
‫شرکت کے لئے آئے تھے۔ ابن شہاب انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا'جب پیغمبر صلی‬
‫اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو میں دس سال کا تھا۔ اور میں نے دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی‬
‫خدمت کی اور کوئی بھی مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر پابندی سے متعلق آیات کے‬
‫نزول کے بارےمیں نہیں جانتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب نے مجھ سے زینب بنت جیحش کی نبی کریم‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو‬
‫صبح میں شادی کی دعوت دی۔ زیادہ تر لوگوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے لیکن ایک گروہ بیٹھا رہا۔ آپ صلی‬
‫اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور باہر نکل گئے میں بھی باہر نکل گیا کہ شاید وہ لوگ چلے جا ئیں۔ آپ صلی اللہ‬
‫علیہ وسلم حضرت عائشہ کے کمرےمیں چلے گئے اور یہ سوچ کر باہر آئے کے وہ چلے گئے ہونگے مگر وہ موجود‬
‫تھے۔ وہ دوبارہ اندر چلے گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ چل گیاکہ شاید وہ لوگ چلے جائیں۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ‬

‫وسلم جب دوبارہ باہر آئے تو تب بھی وہ لوگ بیٹھے ہوئے ۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر عائشہ رضی‬
‫اللہ عنہ کے کمرے میں چلے گئے میں بھی انکے پیچھے گیا۔ ہم پھر اس وقت واپس آئے جب وہ لوگ جا چکے‬
‫تھے۔اسی وقت یہ آیات نازل ہوئیں۔ اس وقت میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے درمیان‬
‫]پردہ ڈال دیا گیا۔ ] بخاری‬
‫اس پابندی کی حد کیا ہو ؟ اسکی تصدیق مزید اس سے ہوتی ہے کہ وہ خواتین جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم‬
‫سے شادی کی تکمیل سے پہلےعلحدہ ہو گئیں انھیں امہات المومنون کا لقب نہیں دیا گیا۔ اور ان میں سے‬
‫کچھ نے دوبارہ نکاح کرلیا۔ اسماء بنت نعمان کے بارے میں اس بات پر اتفاق ہے کہ ان کی شادی آنحضرت‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی لیکن علحد گی کے بارے میں اختلف ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے کہا تھا‬
‫' میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں' تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' تم پناہ‬
‫چاہتی ہو تو اللہ نے تم کو مجھ سے پناہ دی' اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم انکو طلق دے دی۔ ]الصابہ[۔‬
‫ایک اور مثال قیلہ بنت قیس ہیں جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ‪ ۱۰‬ہجری میں اپنی وفات سے‬
‫کچھ عرصہ پہلے شادی کی اور اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے‬
‫انھیں قبول کیا لیکن شادی کی تکمیل نہیں ہوئی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی شادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم‬
‫کی وفات سے طرف دو ماہ پہلے ہوئی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےان کو کہا‬
‫تھا کہ وہ چاہیں تو اپنے آپ کو روکے رکھیں اور شادی نہ کریں یا چاہیں تو اپنی مرضی سے جہاں چا ہیں شادی‬
‫کر لیں۔ تو انھوں نے عکرمہ سے حضرموت میں شادی کر لی۔ جب انکی شادی کی خبر حضرت ابو بکر کو‬
‫پہنچی تو انھوں نے انکا گھر جلنے کی دھمکی دی لیکن حضرت عمر نے کہا کہ وہ امہات المومنین میں سے‬
‫نہیں ہیں‪ ،‬نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انکی شادی مکمل ہوئی تھی اور نہ ہی ان پر پابندی تھی۔‬
‫] الصابہ[ ۔ پابندی سے متعلق احکامات ذی قعد ‪ ۵‬ھجری میں نازل ہوئے ۔ اسکی وجہ سے عام مسلمان‬
‫خواتین کے معاملے پر کوئی فرق نہیں پڑا۔‬
‫اسلم کے مطابق زندگی اللہ کا عطیہ ہے۔ اگر وہ مردوں کو عورتوں سے تعلق رکھنے کی اجازت دیتا ہے تو یہ‬
‫اسکی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ ایک مسلمان اس رابطے کو اللہ کی عبادت اور اسکی شکرگزاری حاصل‬
‫کرنے کا موقع سمجھتا ہے۔اس باہمی میل جول میں جائز حدود میں رہنا چاہئے۔ جائز ازدواجی تعلقات‬
‫کےبغیراسلم خواتین سے محض جنسی تسکین اور لطف اندوزی کے لئے میل ملپ کو سخت نا پسند کرتا ہے‬
‫اور کوئی ایسا کرے تو اللہ کی حدود کی خلف ورزی کرے گا۔ اسلم میں جنسی عیاشی کی کوئی گنجائش‬
‫نہیں ہے جو مردوں کو اللہ کے بجائے نفس کا غلم بنا دے۔ نکاح کی پابندی کے بغیر بے لگام اور آزاد تعلق کی‬
‫کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسی لئے زنا کی شدید ممانعت ہے ۔ قرآن میں حکم ہے کہ کسی مرد کو اجازت نہیں‬
‫ہے کہ عورت کے پاس اس مقصد کے لئے جائے۔ ' زنا کے قریب نہ پھٹکو وہ بہت ہی برا فعل ہے اور بہت ہی برا‬
‫راستہ۔' ]السرا ‪[32‬۔‬
‫ہر ایک کو اس سے احتراض کرنا چاہئے کہ دوسرے کو ایسی نظروں سے دیکھے یا چھو ئے جو کہ جنس کو‬
‫اکسائے۔ ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' کوئی مرد کسی مرد کے‬

‫صوں کو دیکھے اور نہ ہی مرد اور‬
‫صوں کو نہ دیکھے اور نہ ہی کوئی عورت کسی عورت کے خاص ح ّ‬
‫خاص ح ّ‬
‫]عورت ایک دوسرے کے جسم سے مس ہوں۔ ] ابودائود‪ ،‬ترمذی‪ ،‬مسلم‬
‫مرد اور عورت کو شادی کے بغیر تنہائی میں دوسروں کی نظروں سے چھپ کر رہنے کی اجازت نہیں ہے۔‬
‫حقیقتا ّ اس صورتحال میں جنسی ترغیب بڑھ جائے گی اور سوچ پر غالب رہے گی۔ جبکہ زیادہ لوگوں میں‬
‫جنس سے ل تعلقی رہے گی اور پہلے سےاجتماعی معاملت ذہن پر غالب رہینگے۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ‬
‫رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' یاد رکھو محرم ] یعنی حقیقی باپ‪ ،‬بھائی‪ ،‬چچا وغیرہ جن سے‬
‫قانونی طور پر شادی نہیں ہو سکتی[ کے علوہ کسی بھی مرد کے ساتھ عورت تنہا نہ ہو۔]بخاری و مسلم[‬
‫عبداللہ بن عاص سے مروی ہے کہ بنو ہاشم کے کئی مرد اسماء بنت عمیص کو دیکھنے آئے ۔ اسی وقت ابو‬
‫بکر بھی آ گئے۔ وہ اس وقت ابو بکر کی بیوی تھیں۔ جب حضرت ابو بکر نے ان لوگوں کو دیکھا تو ان کو ِان‬
‫مردوں کا اپنے گھر میں ہونا پسند نہ آیا۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے‬
‫کچھ برائی نہیں دیکھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 'اللہ اسکو معاف کر دیا ہے' اسکے بعد آپ صلی‬
‫اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا ' کوئی عورت محرم کی غیر موجودگی میں تنہا کسی مرد سے نہیں‬
‫]مل سکتی بشرطیکہ مزید ایک یا زیادہ ہوں'۔]مسلم‬
‫عوام میں عورت اور مرد ایک دوسروں سے فاصلے پر رہ کر تنہا مل سکتے اور گفتکو کر سکتے ہیں۔ حضرت‬
‫انس سے روایت ہے کہ ' ایک عورت جسکی ذہنی حالت مکمل طور پر ٹھیک نہی تھی اس نے رسول اللہ صلی‬
‫اللہ علیہ وسلم سے کہا اے اللہ کے رسول مجھے آپ سے کام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' اے فلں‬
‫فلں کی ماں‪ ،‬تم کس راستے سے جانا چاہتی ہو تاکہ میں تمہاری ضرورت پوری کر سکوں۔ پھر آپ صلی اللہ‬
‫]علیہ وسلم اس عورت کے ساتھ گئے اور اسکی ضرورت پوری کی۔]بخاری‪ ،‬مسلم‪ ،‬ابو دائود‬
‫صہ بہت‬
‫قرآن میں حضرت مو ٰسی علیہ السلم اور حضرت شعیب علیہ السلم کی دو بیٹیوں کا بیان کردہ ق ّ‬
‫سبق آموز ہے۔ 'اور جب وہ مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پل رہی ہے۔‬
‫اور دو عورتوں کو الگ کھڑی اپنے جانوروں کو روکتے دیکھا‪ ،‬پو چھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ وہ بولیں جب تک یہ‬
‫چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلتیں اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں‪ -‬آپ نے ان کو پانی پلیا اور‬
‫سائے کی طرف ہٹ گئے۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد ان دونوں میں سے ایک ان کی طرف شرم و حیا سے چلتی ہوئی‬
‫آئی اور بولی ' میرے والد آپ کو بل رہے ہیں تا کہ آپ نے جانوروں کو جو پانی پلیا ہے اسکی اجرت دیں۔۔۔۔۔۔‬
‫ان میں سے ایک نے کہا ' ابا جی آپ انہیں مزدوری پر رکھ لیجئے کیونکہ جس کو آپ اجرت پر رکھیں ان میں‬
‫صص ‪[28-22‬۔‬
‫سے سب سے بہتر وہ ہے جو مضبوط اور ایماندار ہے'۔ ] الق ّ‬
‫نہ مرد عورت کو اور نہ عور ت مرد کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھے تاکہ جذبات نہ بھٹرکیں۔ بلکہ جب بھی ایسا خیال‬
‫دل میں آئے تو اپنی نظر ہٹا لیں۔ '' مسلمان مردوں سے کہو کہ اپپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں‬
‫کی حفاظت کریں یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے۔ لوگ جو کچھ کریں اللہ سب سے باخبر ہے۔ مسلمان عورتوں‬
‫]سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔۔۔۔۔۔]النور ‪31-30‬‬

‫جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی عورت پر نگاہ اتفاقّ پڑنے‬
‫کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا اپنی نگاہیں ہٹا لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے‬
‫حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ' اے علی عورتوں کی طرف نگاہ نہ ڈالو۔ کیونکہ پہلی‬
‫نظر معاف ہوتی ہے لیکن اسکے بعد کی نہیں۔ لیکن حضرت علی کے بیان کا مطلب یہ نہیں کہ صنف مخالف‬
‫کو دیکھنا بالکل ممنوع ہے۔ بلکہ یہ احکام اس حالت کے لئے ہے جب کوئی دوسرے کو صرف جنسی تسکین یا‬
‫لطف اٹھانے کے لئے دیکھے۔ اسلم کے مثالی معاشرہ میں مسلمان آزادی کے ساتھ ملتے اور جمع ہوتے تھے۔‬
‫مرد اور خواتین آپس میں ملتے اور بات چیت کرتے تھے۔ لیکن یہ تمام سرگرمیاں پاکدامنی کے رجحانات کے‬
‫ساتھ پاکیزہ معاشرہ کے حوالے سے تھیں۔‬
‫کسی عورت کی طرف دیکھنے کی ممانعت کی وجہ یہی ہے کہ جب مرد کسی عورت کی طرف دیکھتا ہے تو‬
‫اسکے دل میں شہوت کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ یہ دل کا چور ہے جس کو دل کا کوتوال ہی پکڑ سکتا ہے۔ یہ‬
‫حدیث نبوی اسکی مخبری اس طرح کرتی ہے '' آنکھوں کا زنا اسکا دیکھنا ہے‪ ،‬زبان کا زنا بولنا ہے اور دل کا‬
‫]زنا اسکی خواہش اور تمنا ہے ‪،‬آخر میں صنفی اعضاء اسکی تصدیق یا تردید کرتے ہیں۔']بخاری اور ابو دائود‬
‫اسی طرح عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر سفر کر رہے تھے‪،‬‬
‫انکے بھائی فضل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے اونٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک خوبصورت عورت آپ‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے باپ کیلئے حج کے متعلق پوچھنے آئی۔ فضل اسکی خوبصورتی سے متاثر ہو‬
‫کر اسکو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو محسوس کیا اور انکا چہرہ اپنے ہاتھ‬
‫سے گھما کر اپنی طرف کر لیا۔ ابن عباس نے کہا ' آپ نے اپنے بھتیجے کا چہرہ گھما دیا۔' آپ صلی اللہ علیہ‬
‫]وسلم نے فرمایا ' دونوں جوان تھے اور مجھے ڈر ہوا کہ شیطان انکو ورغل نہ دے۔' ] ترمذی اور بخاری‬
‫اسی طرح کسی بھی اجتماع میں مرد اور عورت کو اس قدر قریب نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کی‬
‫س کرے۔لیکن اگر کہیں عملی طور پر شدید ضرورت‬
‫سانسوں کو محسوس کریں یا ان کا جسم آپس میں م َ‬
‫ہو تو ساتھ مل جا سکتا ہے جیسے حج کے مواقع پر۔ لیکن اگر مرد اور عورت گھروں میں ہوں‪ ،‬راستے پر ہوں‬
‫یا کسی عوامی تقریب میں‪ ،‬وہ آپس میں فاصلہ ضرور رکھیں۔ اسی اصول کی بنیاد پر مرد و خواتین کی‬
‫نمازمیں عل حدہ صف بنائی جاتی ہے۔ نماز میں لوگ بہت ہی مل کر بیٹھتے اور کھڑے ہوتے ہیں اور ان سب‬
‫چیزوں سے ناتاتوڑ دیتے ہیں جو اللہ سے دور کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک دروازہ‬
‫صرف عورتوں کے آنے اور جانے کے لئے مقرر کر رکھا تھا۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے‬
‫]فرمایا ' ہم یہ دروازہ صرف خواتین کےلئے مخصوص کر لیں۔]ابو دائود‬
‫اسی ظرح راستوں پر چلتے ہوئے مرد و خواتین فاصلہ رکھیں۔ حمزہ بن سّید انصاری اپنے والد سے روایت‬
‫کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عورتوں سے کہتے سنا '' تم راستوں کے‬
‫کنارے چل کرو وسط میں نہ چلکرو'۔ انھوں نے مذید کہا کہ خواتین کو بالکل دیوار کے ساتھ لگ کر چلنا چاہئے‬
‫یہاں تک کہ ان کپڑے دیواروں کو چھو ئیں۔' ] ابو داود[ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے‬
‫نکلنے میں تاخیر کیا کرتے تھے تاکہ خواتین پہلے مسجد سے نکل جائیں۔ ] بخاری[ ۔ ام سلمہ فرماتی ہیں‬

‫'رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہی نماز ختم کرتے خواتین فورا ْ اپنی جگہ سے اٹھ جاتی تھیں تا کہ جلد‬
‫از جلد مسجد سے نکل جائیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر کچھ دیر بیٹھے رہتے اور اسکے بعد‬
‫'جانے کےلئے اٹھتے۔‬
‫مردوں اور عورتوں کا لباس ساتر ہونا چاہئے۔ ان کے لباس اور اشارے دوسروں کو ترغیب دینے والے نہ ہوں۔‬
‫ارشاد ِ باری تع ٰلی ہے ' وہ ]عورتیں[ اپنا بنائو سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہو جائے۔ اور اپنے‬
‫سینوں پر اپنی آنچل کی اوڑھنیوں کو ڈالے رکھیں۔ وہ اپنا بنائو سنگھار نہ ظاہرکریں مگر ان لوگوں کے سامنے‪،‬‬
‫شوہر‪ ،‬باپ‪ ،‬شوہروں کے باپ‪ ،‬اپنے بیٹے‪ ،‬شوہروں کے بیٹے‪ ،‬بھائی‪ ،‬بھائیوں کے بیٹے‪ ،‬بہنوں کے بیٹے‪ ،‬اپنے میل‬
‫جول کی عورتیں‪ ،‬اپنے مملوک‪ ،‬وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں‪ ،‬اور وہ بچے جو‬
‫عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوں۔ وہ اپنے پائو زمیں پر مارتی ہوئی نہ چلکریں کہ اپنی زینیت‬
‫جو چھپا رکھی ہے اس کا لوگوں کو علم ہو جائے۔'' ]النور ‪ ' [31‬اے نبی اپنی بیبیوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان‬
‫کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنے چادروں سے پّلو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیاوہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان‬
‫]نہ لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔ اللہ غفور و رحیم ہے۔' ]الحزاب ‪59‬‬
‫صہ کی‬
‫حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتیں اپنے چہرے اور ہاتھ کے سوا جسم کے کسی ح ّ‬
‫نما ئش نہ کیا کریں۔ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہک بار حضرت اسماء بنت ابو بکر حضور صلی اللہ‬
‫علیہ وسلم کے سامنے بریک لباس پہنے حاضر ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا‬
‫اور ان سے کہا ' جب لڑکی بالغ ہو جائے تو اسکے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی نمائش کرے ]ہاتھ اور چہرے‬
‫کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا[ سوائے اسکے۔ ابو دائود نے اسکو روایت کیا ہے اور اکثر مسلمانوں نے اسکو‬
‫قبول کیا ہے۔‬
‫ساری برائی کی جڑ ترغیب دینا ہے۔ سورہ نور کی آیت ‪60‬میں اللہ تع ٰلی نے فرمایا ہے کہ ' اور جو عورتیں‬
‫جوانی سے گزری بیٹھی ہوں نکاح کی امیدوار نہ ہوں وہ اگر اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں توان پر کوئی گناہ‬
‫نہیں بشرطیکہ زینیت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ تاہم وہ بھی حیا داری برتیں توان کے حق میں اچھا ہے اور‬
‫اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو خوشبو لگا کر نکلنے سے منع‬
‫فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو ان الفاظ میں تنبیہ کی ' کوئی عورت خوشبو لگا کر ہمارے‬
‫ساتھ عشاء کی نماز پڑھنے نہ آئے۔ ] مسلم[ ابو موس ٰی الشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ‬
‫وسلم نے فرمایا 'اگر کوئی عورت خو شبو لگا کر نکلتی ہے اورا سکی خوشبو محسوس کریں تو وہ آوارہ‬
‫عورت ہے۔' ] مسند امام احمد[ ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' جو عورتیں‬
‫کپڑے پہن کر بھی ننگی ہی رہیں اور دوسروں کو رجھائیں اور خود دوسروں پر ریجھیں اور بختی اونٹ کی‬
‫طرح ناز سے گردن ٹیڑھی کر کے چلیں وہ جنت میں ہرگز داخل نہ ہونگی اور نہ ہی اسکی بو پائینگی حالنکہ‬
‫]اسکی بو فاصلے سے محسوس ہورہی ہوگی۔] مسلم‬
‫ب زنا کا باعث ہوں اسلم ان کو قطا َ ناجائز اور حرام قرار دیتا ہے۔‬
‫وہ تمام حالت اور تعلقات جو زنا اور ترغی ِ‬
‫ارشاد ِ باری تع ٰلی ہے ' اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو یہ بہت برا عمل ہے ۔' ]بنی اسرائیل ‪ [32‬کسی برے جذبہ‬

‫کے بغیر سلم کرنے اور شائستہ زبان میں بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی‬
‫خواتین کو سلم کرلیا کرتے تھے۔ اسماء بنت یزید سے مروی ہے کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر‬
‫مسجد کے قریب سے ہوا وہاں کچھ خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہاتھ ہل کر‬
‫سلم کیا۔] ترمذی[ ابو دائود نے نے اپنی جامع میں ایک باب کتاب الداب کے نام سے شامل کیا ہے جسمیں‬
‫حضرت اسماء سے روایت ہے کہ ' نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرتے تھے اور ہمیں سلم‬
‫کرتے تھے'۔ امام بخاری نے اپنے مجموعہ میں ایک باب ' مردوں کا عورتوں کو سلم کرنا' بھی شامل کیا ہے۔‬
‫ل اجازت ہے خاص کر جب وہ کسی‬
‫کسی خاتون کو سلم کرنا اور بے ساختہ ہاتھ ملنا کسی حد تک قاب ِ‬
‫صہ ہو لیکن شہوت کے جذبہ سے مس کرنے کی سخت فہمائش ہے۔‬
‫معاشرے کی روایت کا ح ّ‬
‫جب خواتین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کے لئے آتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ہاتھ‬
‫نہیں ملیا کرتے تھے۔ بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' میں خواتین سے ہاتھ نہیں‬
‫ملتا ہوں۔' دوسرے کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین سے ہاتھ درمیان میں کپڑا رکھ کر مل یا‬
‫کرتے تھے۔' اسکو دائود نے الشابی اور عبدالرزاق کے واسطے سے بیان کیا ہے۔ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ‬
‫]وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کام کرواتے تھے۔ ]طبرانی‬
‫جیسا کہ پہلے بتایا جا چکاہے خاندانی اجتماعات اور مشترکہ کھانے‪ ،‬گھریا کسی اور جگہ کرنے کہ اجازت ہے۔‬
‫حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا '‬
‫میں بھوک سے بالکل بے حال ہو چکاہوں۔' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک زوجہ کو پیغام بھیجا کہ کچھ‬
‫کھانے کو ہے تو دے دیں۔ انھوں نے خدا کی قسم کھا کر کہا پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے باری باری‬
‫تمام ازواج کو پیغام بھیجا توسب نے یہی جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں موجود لوگوں سے‬
‫پوچھا کہ کو ن اسے اپنا مہمان بنائے گا؟ جواب میں ایک انصاری نے کہا ' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‬
‫میں اسے اپنا مہمان بناتا ہوں ' پھر وہ اس شخص کو اپنے ساتھ گھر لے آئے اور بیوی سے پوچھا کہ کھانے کو‬
‫چوں کو‬
‫چے کھا لیں۔ انھوں نے اپنی بیوی سے کہا ' تم ب ّ‬
‫کچھ ہے ؟ بیوی نے جواب دیا ' بس اتنا کھانا ہے کہ ب ّ‬
‫کسی طرح سے بہل دو اور جب مہمان آئیں تو چراغ بجھا دینا اور ایسے ظاہر کرنا کہ ہم بھی کھا رہے ہیں۔'‬
‫اسکے بعد بیان کیا کہ وہ سب کیسے بیٹھے اور مہمان نے کھانا کھایا۔ اگلے دن جب وہ انصاری نبی کریم صلی‬
‫]اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا تمہاری کل رات کی مہمانداری اللہ کو بہت پسند آئی۔]مسلم‬
‫جب کوئی شادی کرنے کا ارادہ کرے یاطلق دے تو بہتر ہے کہ ایک دوسرے کو دیکھ لے یا بات کر لے۔ مغیرہ بن‬
‫شعبہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک خاتون کو شادی کا پیغام بھیجا۔ نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم‬
‫نے ان سے کہا ' تم اسکو دیکھ لو تاکہ تم دونوں میں چاہت پیدا ہو جائے۔' مغیرہ لڑکی کے والدین کے گھر گئے‬
‫اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بیان فرمائی تو اسکے والدین ہچکچا ئے۔ لیکن لڑکی اپنے کمرے‬
‫میں یہ باتیں سن رہی تھی‪ ،‬اس نے کہا ' اگر یہ نبی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے تو آپ مجھے‬
‫دیکھ لیجئے۔' مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا اور اس سے شادی کر لی۔ ] احمد‪ ،‬ابن ماجہ‪ ،‬ترمذی‪،‬‬
‫دارمی[۔‬
‫ابن حّبان‪ ،‬ال ّ‬

‫مغیث کے معاملے میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی سابقہ بیوی بریرہ کو منانے کیلئے مدینہ کی گلیوں میں انکے‬
‫پیچھے گھومتے تھے اس حال میں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے تھے لیکن وہ انکے ساتھ جانے پر آمادہ نہ‬
‫تھیں ۔جب بریرہ نےمغیرہ‪،‬جو ایک حبشی تھے‪ ،‬کو چھوڑا تواس وقت وہ بنی ال مغیرہ کے غلم تھے۔ ابن عباس‬
‫رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ' خدا کی قسم میں اب بھی یاد کرتا ہوں کہ کیسے وہ انھیں منانے کےلئے اسکے‬
‫ووں سے تر ہوتی تھی۔' رسول اللہ صلی اللہ‬
‫پیچھے مدینے کی گلیوں میں گھوما کرتے تھے کہ انکی داڑھی آنس ّ‬
‫علیہ وسلم نے بھی بریرہ سے مغیث کی سفارش کی لیکن وہ نہ مانیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی زور‬
‫]نہیں دیا'۔ ] ترمذی‬
‫اشتعال کا انحصار ایک شخص کے نفس پر ہے کہ کسی خاص معا ملے میں وہ کیا محسوس کرتا ہے۔ یہ ایسا‬
‫عمل ہے جو قدرتی طور پر اسکی دینی تعلیم اور راست بازی پر ہے۔ معروضی طور پر اسکا انحصار مرد اور‬
‫عورت کے تعلقات کی سنجیدگی پر ہے۔ ان کی توجہ کو جنس کی طرف سوچنے سے ہٹا دیا جائے۔‬
‫فقہ کی رو سے برائی کیطرف جانے والے ہر راستے کو روک دینا چایئے اور پاک دامن اور نیک طنیت لوگوں‬
‫کی پیروی کرنی چاہئے ۔ اسلم اس بات کا حامی ہے کہ خواتین جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے معاشرے میں‬
‫ق رائے سے نیکی کا حکم‬
‫علم کی ترقی اور بھلئی کے کاموں میں اپنا کردار ادا کریں اور دونوں باہمی اتفا ِ‬
‫دیں اور برائی سے روکیں اور معاشرے کے استحکام اور ترقی کے ؛ئے کام کریں۔ سورہ توبہ میں ارشاد ِ رّبانی‬
‫ہے ' مومن مرد اور مومن عورتیں سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں برائی سے روکتے اور بھلئی کا حکم دیتے‬
‫ہیں نماز قائم کرتے اور زکات دیتے ہیں۔ اور اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔' ]التوبہ ‪[71‬‬
‫مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی‬
‫کامیابی کی بڑی وجہ انکا صنف کے درمیان تفریق نہی تھا جو شریعت کے ظاہری الفاظ میں تھے ۔‬

‫تیسرا باب‬

‫عورت مسلم معاشر ہ میں‬

‫مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کی جب بھی مسلمانوں نے اسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے‬
‫نصب العین کا تعین کیا تو وہ کامیاب ہوئے ہیں اور اس میں بھی کوئی ابہام نہیں کہ معا شرے میں جب بھی‬
‫خواتین کو دین کی جانب سے دیئے گئے حقوق کی خلف ورزی کی گئی‪ ،‬نقصان اٹھانا پڑا۔ جب بھی مسلمان‬
‫دد اور انکا استحصال کیا۔ قرآن نے جو‬
‫مردوں کے عقیدہ میں کمزوری آئی انھوں نے عورتوں پر جبر و تش ّ‬
‫ضابطہ حیات ہمیں دیا ہے اور خواتین سے متعلق جتنی آیات نازل ہوئی ہیں ان میں سے اکثر میں مردوں کو‬
‫خواتین پر پابندیاں لگانے اور انکے فطری منصب سے ہٹانے سے روکا گیا ہے جو اکثر معاملے میں معمول ہے۔‬
‫چند ہی قرآنی احکام ایسے ہیں جن میں خواتین پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔‬
‫یہاں ہم چند اقتباسات بیان کرتے ہیں جو خواتین کے حقوق کے لئے واضع ضمانت ہیں۔ ' اور جب تم‬
‫دت پوری ہونے کو آجائے تویا بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے‬
‫عورتوں کو طلق دے دو اور ان کی ع ّ‬
‫سے رخصت کر دو۔ محض ستانے کی خاطر انھیں روکے نہ رکھنا کہ یہ زیادتی ہو گی۔ اور جو ایسا کرے گا وہ‬
‫درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا۔ اللہ کی آیات کا کھیل نہ بنائو۔ بھول نہ جائو کہ اللہ نے کس نعمت‬
‫عظ ٰمی سے تمہیں سرفراز کیا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے‬
‫اسکا احترام ملحوظ رکھو۔ اللہ سے ڈرو اور خوب جان لوکہ اللہ ہر بات سے باخبر ہے۔ جب تم اپنی بیوی کو‬
‫دت پوری کر لیں تو پھر اسمیں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیرِ تجویز شوہروں سے نکاح‬
‫طلق دے چکو اور وہ اپنی ع ّ‬
‫کرلیں جبکہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں۔ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت‬
‫ہرگزنہ کرنا اگر تم اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لنے والے ہو۔یہ تمہارے لئے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ ہے۔ اللہ جانتا‬
‫ہے تم نہیں جانتے۔ ] البقرہ ‪ ' [232-231‬اے لوگو جو ایمان لئے ہو تمہارے لئے یہ حلل نہیں ہے کہ زبردستی‬
‫عورتوں کے وارث بن بیٹھو] بد نیتی سے نمائشی شادی کے ذریعے انہیں مرنے تک اپنی قید میں رکھو[ اور نہ‬
‫صہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انھیں دے چکے ہو۔ ہاں اگر‬
‫یہ حلل ہے کہ انہیں تنگ کر کے اس مہر کا کچھ ح ّ‬
‫وہ صریح بدچلنی کی مرتکب ہوئیں ہوں۔ انکے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسرکرو۔ اگروہ تمہیں ناپسند ہوں‬
‫تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناپسند ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلئی رکھ دی ہو'۔] النساء ‪ [19‬۔ '‬
‫دت پوری ہو جائےتو انھیں اختیار ہے اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے جو چاہیں‬
‫پھر جب انکی ع ّ‬
‫مہ داری نہیں۔ اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے ۔] البقرہ ‪234‬‬
‫]کریں۔ تم پر اسکی کوئی ذ ّ‬
‫دت سے متعلق نازل کی‬
‫اگر تمام نہیں تو قرآن کی زیادہ تر آیات جو َقسم ]جنس سےممانعت[‪ ،‬طلق اور ع ّ‬
‫گئی ہیں ان میں وہ تمام‬

‫روایات اور رسومات ‪ ،‬جنکے مطابق خواتین کوطلق اور بیوگی کے بعد ہر قسم‬

‫کی جبری پابندیوں کا شکار ہونا پڑتا تھا اور اسکی قسمت کا کوئی پتہ نہیں ہوتا تھا‪ ،‬کوختم کیا گیا ہے۔ اسی‬
‫صہ مقرر کر کے‬
‫طرح وارثت کے سلسلے میں نازل کردہ آیات ہیں جسمیں خواتین کے حقوق کو ایک متعین ح ّ‬
‫بحال رکھا گیا۔ دوسری طرف قرآن ان تمام مکروہ رسومات اور رِدعمل کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتا ہے‬
‫چی کی پیدائش کے سلسلے میں لوگوں میں عام تھیں۔ ارشاد ِ باری تع ٰلی ہے '' جب ان میں سے کسی‬
‫جو ب ّ‬

‫کو بیٹی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اسکا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے۔اور گ ُھٹا گ ُھٹا رہتا ہے۔ وہ اس منحوس‬
‫خبرپر لوگوں سے چ ُھپا چ ُھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ اسکو ذّلت کے ساتھ رکھ چھوڑے یا اسکو مّٹی میں دفن کر‬
‫دے۔ افسوس کیسا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں۔''] النحل ‪ '' [59-58‬اور زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا‬
‫]جائے گا‪ :‬تجھے کس جرم میں قتل کیا گیا؟'' ] التکویر ‪9-8‬‬
‫دد احادیث ایسی ہیں جسمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے‬
‫نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متع ّ‬
‫اچھا سلوک کرنے کی تلقین کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو انھیں مارنے‪ ،‬قید کرنے اور برا‬
‫سلوک کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ' اپنی بیبیوں کو گدھوں کی طرح ڈنڈے‬
‫سے نہ مارو اور پھر رات کو ان سے اپنی خواہش پوری کرو۔' ]بخاری[ ۔ ایک مرتبہ بہت سی خواتین محمد‬
‫صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے شوہروں کی شکایت لے کر آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' یہ‬
‫لوگ اچ ّھے نہیں ہیں۔ ] ریاض الصلحین[ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مسلمانوں کو عورتوں‬
‫سے اچ ّھا سلوک کرنے اور اچ ّھی تعلیم دینے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '‬
‫بت اچ ّھا ہوں۔‬
‫تم میں سے اچ ّھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے اچ ّھا ہے اور میں اپنے گھر والوں کے لئے ہ‬
‫]] ترمذی[ '' "عورت کی عّزت ایک عّزت دار شخص ہی کرتا ہے اور توہین ایک کمینہ شخص'' ]ترمذی‬
‫دین سے کمزور تعلق ہی خواتین کے ساتھ برے اور غیر منصفانہ سلوک کی وجہ ہوتی ہے۔ خواتین کو مردوں کے‬
‫مقابلے میں زیادہ لچکدار اور نرم مزاج بنایا گیا ہے۔ وہ اپنی فطری ساخت کے باعث زندگی کے سخت کاموں‬
‫کا بار اٹھانے سے دور ہیں۔ غیرمہذب اور مذہب سے دور معاشرے میں خواتین پر ظلم و جبر بہت عام ہے۔ مرد‬
‫صہ دکھا کر‬
‫خواتین کو کمزور اسلئے دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ وہ ان کے حقوق غصب کر سکیں۔ وہ اکثر اپنا غ ّ‬
‫خواتین کو دبائو میں لے آتے ہیں تا کہ ان پر غالب آجائیں۔ اور ان کی زندگی اور جائدادوں پر قابض ہو جائیں۔‬
‫مردوں کے ذہن میں ایک اور وہم ہوتا ہے جس سےصرف نیک اور صالح مرد ہی بچے ہوتے ہیں کہ خواتین قدرتی‬
‫طور پر نااہلیوں اور نالئقیوں سے بھرپور ہوتی ہیں ۔ مرد اس بے بنیاد بات کو خواتین پر پابندیاں لگانے اور ان‬
‫کو زندگی میں فعال کردار ادا کرنے سے روکنے کی بنیاد بناتے ہیں اور زندگی کے وسیع تناظر میں اسکو‬
‫تجربات سے گزرنے اور تربیت کا حق چھین لینا چاہتے ہیں۔وہ اس کو عضوِ معطل بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ انکے‬
‫ساتھ مزید برے سلوک اور بدظنی کے عذر ڈھونڈتے ہیں۔ یہ مردانہ رجحان ‪ ،‬رواج اور طریقہ آج بھی کئی‬
‫معاشروں میں ظاہر ہے جہاں مردوں کی آمریت بغیر کسی انسانی یا مذہبی پابندی کے جاری ہے۔‬

‫چو تھا با ب‬

‫عورت کا احیاء‬
‫تاریخی مسلم معا شرہ روائتی رسوم و رواج اور عمل پزیری کی بنا پر زیادہ عرصہ تک ان چیلینجز کا مقابلہ‬
‫نہیں کر سکا ۔ مسلمان معاشروں میں بیرونی تسلط نے پوری مسلم دنیا اور اسکی تہذیب کو بکھیر کر رکھ‬
‫دیا جسکی وجہ سے مسلمانوں کا اعتماد بھی ختم ہو کر رہ گیا۔ مسلمانوں نے مغرب ثقافت کو اور انکے اس‬
‫رویے کو جو وہ خواتین کے بارے میں رکھتے ہیں اسکو بھی جذب کیا جو کہ بہت آزاد خیال ہیں۔ خواتین کی‬
‫آزادی کا یہ رجحان مسلمان خواتین کے لئے ایک سنگین فتنے کا باعث بنا۔‬
‫مغریبی خواتین کی آزادی کا یہ رجحان دراصل اس بیمار مذہبی روایتی طریقے کے خلف انقلب کے طور پر‬
‫آیا جو ابتدا میں وہاں رائج تھا۔ ابتداء میں مغربی معاشرہ گمراہ مسلمان معاشروں سے کسی حد تک‬
‫مشابہت رکھتے تھے۔ مغریبی خواتین مذہب اور انسانیت کے لحاظ سے مردوں کے برابر نہ تھیں۔ نہ ہی ان کو‬
‫قانونی اور سماجی طور پر حقوق حاصل تھے۔ مذہب کے خلف جو انقلب مغرب میں آیا اسکے اثرات پوری‬
‫دنیا پرظاہر ہوئے۔ یہ وحدانیت سے مکمل انکار اور بغاوت تھی ۔ مغربی معاشرے کا انقلب مذہب اور طرز‬
‫معاشرت کے خلف بین القوامی تھا۔ یہ خاص طور پر وحدانیت اور یکسانیت جو کہ چرچ کے زیرِ اقتدار تھی‪،‬‬
‫سے مکمل آزادی تھی۔ معاشرہ لدین ہو گیا اور انسان دوست بن گیا اور انسان سب کچھ کرنے کے لئے آزاد‬
‫ہو گیا۔ سائنس‪ ،‬سیاست اور آرٹ کی طرح انسان مذہب کے معاملے میں بھی خود مختار ہو گیا۔ اور دوسرے‬
‫سماجی اور ثقافتی تعلقات کی طرح جنسی تعلقات کے سلسلے میں بھی آزاد ہو گیا جس نے نفس پرستی‬
‫کو ہوا دی اور ناجائز جنسی تعلقات کو جائز قرار دیا ۔‬
‫نتیجتا ْ عورت ایک بار پھر انا اور عّزت‪ ،‬جو ایک انسان ہو نے کے ناتے اسکو حاصل تھی‪ ،‬کھو بیٹھی۔ اور‬
‫جسمانی لطف اندوزی اور اشتہار بازی کے لئے ایک جنس بن گئی۔ ایک انسان کے بجائے اسکو صرف عورت‬
‫سمجھا جانے لگا۔ عورت نے بھی اپنی قدرتی طور پر عطا کی گئی خوبصورتی کو مصنوعی طریقے سے‬
‫بڑھانے کے لئے اپنی دولت‪ ،‬وقت اور اپنی ساری توانائی خرچ کر دی۔ اسکی زندگی کا مقصد صرف مردوں‬
‫کی نظر میں خوبصورت نظر آنا ہوگیا۔ اسکا کپڑے پہننا‪ ،‬سجنا سنورنا اور باہر نکلنے کا مقصد صرف مردوں‬
‫کو رجھانا‪ ،‬انکو اپنی جانب متوجہ کرنا اور اپنی ادائوں سے انکی نفسانی خواہش کو ابھارنا اور انکی تنہائی‬
‫میں داخل ہونا رہ گیا۔ جب مردوں کو اپنا مطمع نظر ایک بکائو عورت کی صورت میں مل گیا تو پھر اسکو‬
‫اپنا روپیہ اور وقت گھر پر خرچ کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی کہ وہ خاندانی نظام چلئے اور بچوں کی‬
‫دیکھ بھال اورتعلیم پر خرچ کرے ۔ اس طرح خاندانی نظام مسمار ہوگیا۔ یہ طریقہ زندگی مغرب میں آفاقی‬
‫ہو گیا لیکن اسکے کچھ پہلوئوں نے مسلمان معاشرے کے جدید طبقے پر اپنا اثر ڈال مثل ْ معا شی مادیت‬
‫پرستی اور سیاسی آزاد خیالی ۔ ان اثرات کے باعث مسلمانوں نے اپنے ٹھوس مذہبی نظریات کھو دیئے اس‬
‫وجہ سے مسلمانوں کی معاشرتی زندگی جو مکمل طور پر منضبط تھی‪ ،‬کمزور ہو گئی ۔ مسلمانوں نے یہاں‬
‫اندھی تقلید کی اور مغربی اثرات کو غالب آنے دیا اور مسلمانوں کی معاشی اور معاشرتی ترقی جس بام ِ‬
‫عروج پر تھی منہ کے بل گر گئی۔ اس طرح ہمارے وہ تمام رسم و رواج اور روایات جن کی جڑیں ماضی میں‬

‫گھری تھیں اور بد تریں حالت میں بھی نہیں بدلیں تھیں‪ ،‬تیزی سے تبدیل ہو گئیں۔نہ مرد نہ ہی عورت نے‬
‫شعوری طور پراسکو سنبھال دینے کی کوشش کی۔ اب مذہب بمشکل لوگوں کے ذہنوں میں موجودتھا۔بہر‬
‫حال مذہبی اقدار بھی مذہبی اداروں کی طرح تنّزلی کا شکار ہو گئیں جو کہ خوشی اور غمی کے موقعوں پر‬
‫اسکو استعمال کرتے تھے۔‬
‫غریب مسلم معاشرے میں معاشی ضروریات بڑھ جانےکا احساس بہت زیادہ ہوگیا ۔ وہ معا شی ترغیبات کے‬
‫خلف بہت کم مزاحمت کر سکے اور سماجی رشتوں اور معاشی آزادی سے محروم ہو گئے ۔ بہتر زندگی‬
‫حاصل کرنے کے لئے زبردست دبائو نے ماضی کی تمام احتیاط بالئے طاق رکھ دی گئیں ۔ شوہر اور باپ‪ ،‬بیوی‬
‫اور بیٹی کے باہر نکلنے کی حوصلہ افزائی کرنے لگے مگر یہ باہر نکلنا علم حاصل کرنے یا معاشرتی بھلئی کے‬
‫ن زندگی جمع کرنے کے لئے تھا۔ خواتین نے بھی اس نئے تجربے اور‬
‫کاموں کے لئے نہیں بلکہ کمانے اور ساما ِ‬
‫طاقت سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا اور مردوں کے اختیارات سے آزادی حاصل کرنی شروع کر دی۔ یہ نیا‬
‫نظام مکمل طور پر پسندیدہ تو نہ تھا مگر پرانے نظام سے آزادی ضرور تھی ۔ یہ بغاوت تھی قید و بند کے‬
‫خلف اور مغربی معا شرے کا نمونہ بننے کی خواہش تھی۔ اسکے علوہ شہری علقوں کی طرف تیزی سے‬
‫نقل مکانی کے رجحان نے بہت سے مختلف لوگو ں کو آپس میں سماجی طور پر باندھ دیا ۔ انھوں نے اپنے‬
‫خاندان اور برادری کی عّزت بڑھانے کے لئے اپنے اپنے طور طریقوں کو بڑھایا اور یہ روایات اور طور طریقے‬
‫دراہ بن گئے۔ شہری علقوں کا ہجوم اپنے ساتھ براہ راست رابطے کے مواقعے‬
‫بے حیائی اور بدنامی کے لئے س ّ‬
‫لے کر آئے جس کے نتیجے میں مردوں اور عورتوں کے درمیان فتنہ انگیزی کے بہت مواقعےپیدا ہوئے۔ پرانے‬
‫وقتوں کے حرم جیسے ادارے جو کہ خواتین کی پردہ داری کا بھرم رکھتے تھے ان کو غور و فکر کے بعد ختم کر‬
‫دیا گیا اور اسکی جگہ کوئی ایسا ادارہ قائم نہ ہوسکا جو لوگوں کی اخلقی گراوٹ میں رکاوٹ کا سبب بنتا۔‬
‫نیا شہری رویہ بے اعتنائی اور ایک دوسرے سے چھٹکارا حاصل کرنے وال تھا جسکے باعث لوگ ایک دوسرے کے‬
‫ساتھ محتاط رویہ رکھتے۔ اس ثقافتی تبدیلی اور غیروں کے تسلط کی وجہ سے مسلمانوں کی جداگانہ ثقافت‬
‫منہدم ہو گئی۔ اور نگرانوں کی جانب سے کوئی اس پر ماتم فغاں نہ ہوا یا اسے بچانے اور ماضی سے جڑے‬
‫رہنے کی کوئی کوشش نہ ہوئی۔ مسلمانوں کے ثقافتی طریقوں کی قسمت یورپ کے پرانے طریقوں سے‬
‫مختلف نہ ہو گی جبکہ اسکی نظریاتی اور مادی بنیادیں ڈھے گئی تھیں اور ایک انقلب کے نتیجے میں ایک نئی‬
‫سماجی اقدار اسکی نقیب بنی۔ اگر اسلم کے محافظوں نے اس پرانےاور فرسودہ طریقے کو نہ چھوڑا اور‬
‫اس تبدیلی کو اسلم کی دی گئی رہنمائی کے مطابق تبدیل نہ کر سکے تو ان کو بھی ایسے ہی انجام سے‬
‫دوچار ہونا پڑے گا بلکہ مسلمان ان سے زیادہ تیزی سے اور زیادہ المناک انجام سے دوچار ہونگے۔‬
‫مسلمان معاشرے میں خواتین کی حالت کے خلف ایک انقلب ناگزیر ہے‪ ،‬اسلم پسندوں سے انکا مطمِع نظر‬
‫اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلح کریں اور مسلمانوں کی گرتی ہوئی تاریخی حقیقت‬
‫ش‬
‫اور اسلم کی خواہش کردہ مثالی معاشرے کے درمیان خل کو پر کریں۔ خواتین کی موجودہ حالت کے پی ِ‬
‫نظر یہ اور بھی زیادہ جلدی ہونا چاہئے۔ معروضی بنیادوں پو معاشرتی تبدیلیوں کو تیزی سے اپنے ہاتھ میں لینا‬

‫ہوگاکہیں ایسا نہ ہو کہ اغیار کے یہ رسم و رواج ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ لیں اورہمیں صحیح اسلمی‬
‫رہنمائی کے مطابق اصلح کرنے میں بہت دیرہو جائے۔‬
‫اسلم پسندوں کو اس طرزِ سوچ سے محتاط رہنا چاہیے کہ وہ مغربی ثقافت سے آزادی حاصل کرنے کے لئے‬
‫ماضی کے کم برے مقامی معاشرے میں پناہ تلش کریں۔ اسلم پسندوں میں ایسے شایان شان رہنما ہیں جو‬
‫خواتین کی آزادی کی تحریک کی مقامی دلدل سے نکل آئے ہیں اور اسلم کی بلندی کی جانب رواں دواں‬
‫ہیں۔ انھیں اپنے معاشرے کو مغربیت پسندوں کےرحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہئے جو اصلح کی اہمیت کو‬
‫ختم کر نے کی کوشش کر کے راہ سے بھٹکا دیتے ہیں۔‬

Sign up to vote on this title
UsefulNot useful