‫ؒ‬

‫ح‬
‫ل‬
‫ل‬
‫سواد اعظم اہ ِل سنّت ق یقی کی اپیل پر‬
‫اور‬
‫می)‬
‫ا‬
‫ع‬
‫(ا‬
‫ادمی‬
‫ک‬
‫ا‬
‫اڑوی‬
‫موالنا اوک‬
‫ِ‬
‫ہر سال م ِاہ رجب کے تیسرے جمعۃ المیارک کو‬

‫ع‬
‫ظ‬
‫عالمی یومِ خطیب ِ ا م پاکس تان‬
‫ات جمعہ میں مج ِدد مسلک ِ‬
‫میانا جانا ہے ‪ -‬ملک و بیرون ملک اہ ِل سنّت و جماعت کی تمام مساجد میں اتمہ و حطیاء کرام‪ ،‬حطی ِ‬
‫اہل سنّت‪ ،‬محسن ملک و ملت‪ ،‬عاسق رسول (ﷺ)‪ُ ،‬مح ّ‬
‫وب اولیاء‪ ،‬حطنب ِ اعظم ناکسیان حضرت الجاج‬
‫و‬
‫ہ‬
‫اب‬
‫ج‬
‫ِ‬
‫ب‬
‫آل پ تول‪ ،‬مح ت ِ‬
‫ص‬
‫ِ‬
‫ِ‬
‫ِ‬
‫ِ‬
‫ّٗ‬
‫اج عقیدت و محنت تیش کرتے ہیں اور ایص ِال وواب‬
‫عالمہ قیلہ موالنا محمد شق یع اوکاڑوی ُق ّدس‬
‫سرہ الیاری ورفع ا ہّٰلل درجتہ کو خر ِ‬
‫کے لئے قاتحہ خوانی کرتے ہیں ‪ -‬ان کا بہ عمل اہ ِل سنّت و جماعت کے محسن و ممدوح سے اظہ ِار محنت و عقیدت بھی‬
‫ہے اور مسلک ِ خق کی ناپید بھی‪-‬‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫ان ساء اّٰللہ یعالی حسب ِساوق اِ س سال بھی م ِاہ رجب کی تیسری جمعرات و جمعہ کو جامع مسجد ل ِزار حب نب (ﷺ)‪ ،‬گلسی ِان‬
‫اوکاڑوی (سولجر نازار) کراچی‪ ،‬میں ساالبہ دو روزہ مرکزی عرس میارک کی یقرپیات ہوں گی ‪ -‬آپ سے گزارش ہے کہ اہ ِل‬
‫ع‬
‫والرضوان کو ایص ِال وواب کے لئے‬
‫سنّت کے مراکز اور مساجد و مدارس میں حضرت حطنب ِ ا ظم ناکسیان علتہ الرجمۃ ِ‬
‫جمعہ ‪ 08‬مئی ‪2015‬ء کو و ِوم حطنب ِ اعظم‬

‫ٰ‬
‫میاتے کا اہتمام کرکے عیداّٰللہ ماخور ہوں ‪( -‬خزاکم ا ہّٰلل یعالی)‬
‫ب‬
‫]اخیارات و خراند کو اس سلسلے میں م یعقدہ یقرپیات کی یفصیالت پراتے اساعت ضرور ھجواتیں[‬

‫‪ 0092 21 3225 6532‬رایطہ ‪:‬‬
‫‪Mobile 0306-2208613‬‬

‫ووجہ فرماتیں‬
‫مج ِدد مسلک ِاہ ِل سنّت‪،‬عاس ِق رسول (ﷺ)‪ ،‬حطنب ِاعظم ناکسیان حضرت عالمہ مو النا محمد شق یع اوکاڑوی رجمۃ اّٰللہ علتہ تے ‪۲۱‬‬
‫رجب ‪۱۴۰۴‬ھ تمطاوق ‪ ۴۲‬اپرنل‪۱۹ ۸۴‬ء کو اس ِدار قانی سے ُج ِلد پریں کی طرف رجلت فرمانی ‪ -‬ان کے دوسرے ساالبہ عرس‬
‫سرانا قدس کے موفع پر انک میسوط اور صحتم کیاب ”حطنب ِناکسیان (ا پئے معاضرین کی یظر میں)“سا یع کی گئی ‪ -‬حس میں‬
‫عماندی ِن جکومت‪ ،‬علما و مساتخ‪ ،‬ساعروں‪ ،‬اد پ توں اور عقیدت میدوں کے مساہدات و نأپرات سامل ب ھے ‪-‬‬

‫حضرت قیلہ عالم حطنب ِ اعظم علتہ الرجمہ کے خوالے سے اب نک جمع ہوتے والی تجرپروں پر مستمل انک صحتم محموعہ‬
‫اساعت کے لئے پیار ہے ‪ -‬آپ سے گزارش ہے کہ حضرت حطنب ِ اعظم ناکسیان علتہ الرجمۃ والرضوان کی ِدپئی و ملی‬
‫ُ‬
‫جدمات‪ ،‬ان کی تے میال حطاپت‪ ،‬مسلک ِ خق کے لئے تجدندی و ایقالنی کار گزاری‪ ،‬ملک و قوم کی یعمیر و پرقی و دنگر‬

‫ات جاربہ‪ ،‬سیاسی و سماچی مساعی‪ ،‬تحق تق و یصب یف اور ذات و صقات کے نارے میں ا پئے مساہدات و نأپرات (بیر و‬
‫صدق ِ‬
‫ب‬
‫یظم) میں نالناجیر ہمیں ھجوادیں ‪ -‬آپ کے ناس ان کی کونی یقرپر و تجرپر نا یصوپر محفوظ ہو وو ہمیں اس کی یقل ضرور فراہم‬
‫کریں ‪ -‬ہم اس کے لئے آپ کے سکر گزار ہوں گے ‪-‬‬
‫موالنا اوکاڑوی ؒ اکادمی (العالمی)‬
‫‪-۵۳‬نی‪ ،‬سیدھی مسلم سوساپئی‪ ،‬کراچی ‪74400 -‬‬
‫‪53-B, S.M.C.H.Society, Karachi - 74400‬‬

‫‪+92[021]3452 1323,3452 5343‬قون‬
‫‪Email: maulanaokarviacademy@yahoo.com‬‬

‫انک گزارش‬
‫َ‬
‫ی‬
‫اہ ِل اتمان‪ ،‬اہ ِل محنت سے گزارش ہے کہ وہ ساالبہ عرس سریف کی محقل میں اختماعی طورپر ا ص ِال وواب (ہدبہ کرتے‬
‫میں)سمولنت جاہیں وو فر ِآن کریم‪ُ ،‬دردو سریف‪ ،‬کلمہ طنتہ اور دنگر اوراد و وظایف پڑھ کر اس کی صحیح یفصیل تجرپری طور پر‬
‫ب‬
‫ہمیں ھجواتیں ناکہ ِدین و ملت کے عطتم محسن کو زنادہ سے زنادہ پیک توں کا ایص ِال وواب کیا جاتے ‪-‬‬
‫ً‬
‫ِدپئی مدارس میں اگر عرس کے انام میں فرآن خوانی کا حصوصی اہتمام کیا جاتے وو یقبیا بہ نہاپت میارک و مسیحسن ہوگا –‬
‫ٰ‬
‫خزاکم ا ہّٰلل یعالی‬

‫درس فر ِآن کریم‬
‫ِ‬
‫مجاہد ِاہ ِل سنت‪ ،‬عالمی میل ِغ اسالم‪ ،‬حطنب ِملت حضرت عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی مدظلہ العالی ہر جمعہ کو تماز سے قیل‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫م‬
‫ی‬
‫گ‬
‫ہ‬
‫م‬
‫درس فر ِآن کر م پیان فرماتے یں اور ہر اووار‬
‫دونہر انک تجے جا ع مسجد ل ِزار حب نب (ﷺ)‪ ،‬لسیان اوکاڑوی‪ ،‬کراچی یں ِ‬
‫ً‬
‫درس یصوف پیان کرتے ہیں اور خ ِتم غوپتہ کا ِورد ہونا ہے‪ ،‬عالوہ ازیں ہر ماہ گیارہویں شب کو‬
‫کو تم ِاز عساء کے قورا یعد ِ‬
‫گیارہویں سریف کا ُروجانی اختماع ہونا ہے ‪(-‬خواتین کے لئے ناپردہ نشست کا اہتمام ہونا ہے)‬

‫اظالع‬
‫درس فرآن کی ریکارڈنگ کی جارہی ہے‪ ،‬وہ تمام سی‬
‫گزشتہ کحھ پرس سے عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی کے پیان ہوتے والے ِ‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫ڈپز مکنتہ ل ِزار حب نب (ﷺ)‪ ،‬گلسی ِان اوکاڑوی (سولجر نازار) کراچی میں دشت ناب ہیں ‪-‬‬

‫ٰ ٰ‬
‫الصلوۃ والسالم علیک نارسول اّٰللہ وعلی اکک واصجانک ناحب نب ا ہّٰلل‬

‫”دشت نستہ“‬
‫اّٰللہ رب العزت جل مجدہ رجمن و رختم ہے۔ اس کی ذات و صقات اور اس کے اسماء و افعال میں کونی اس کا‬

‫سرنک نہیں۔ الزوال اور تے م یل و تے میال اسی کی سان ہے۔ اس کی رجمت و پرکت کا کونی سمار نہیں۔ اس حیسا‬
‫ح‬
‫کونی مہرنان نہیں۔ وہی مع ت ِود ق یقی اور ساری کاپیات کا جالق و ماکک ہے۔ ہر یعریف اسی کے لئے ہے۔ ہر سے اس کی‬
‫ناکی اس کی جمد کے سابھ کرنی ہے۔ وہ ہر جاجت و ضرورت اور ہر عنب و یفص سے ہر طرح ناک ہے۔ ہر سے اس کی‬

‫معرقت کا پیا د پئی ہے۔ اس کا نام لبیا بھی نسکین و راجت د پیا ہے۔ اس کی کمال مہرنانی ہے کہ اس تے حس ہسئی کی‬
‫ُ‬
‫ب‬
‫ک‬
‫ہ‬
‫پ‬
‫ل‬
‫م‬
‫ح‬
‫جاطر ل کاپیات پیانی‪ ،‬ا ئی رووپ نت ظاہر فرمانی‪ ،‬اپیا وہ ب نب ھی یں عطا فرمانا۔ او ین و آخرین کے سردار‪ ،‬امام االتبیاء‪،‬‬

‫سید االتبیاء‪ ،‬جایم االتبیاء‪ ،‬رجمۃ کلعالمین‪ ،‬شق یع المذپبین حصور سیدنا محمد رسول اّٰللہ صلی ا ہّٰلل یعالی علتہ وعلی آلہ واصجابہ ونارک‬
‫وسلم نالشتہ اّٰللہ یعالی عزوجل کی شب سے افصل اور شب سے نہیرین مجلوق ہیں‪ ،‬وہ مجلوق میں تے م یل و تے میال ہیں‪،‬‬

‫ان کی فصیلت و عظمت‪ ،‬ان کی رجمت و پرکت کی کتہ کا مجلوق کونی ا ندازہ ہی نہیں کرسکئی۔ ا ہّٰلل یعالی جل سابہ کا احس ِان‬
‫ُّ‬
‫عطتم ہے کہ اس تے ہمیں ا پئے اس آخری اور شب سے پیارے‪ ،‬شب سے افصل و اعلی رسول کا امئی اور عالم پیانا‪ ،‬ان‬
‫ُ‬
‫ب‬
‫کی محنت ہمیں عطا کی۔ ان پر ُدرود و سالم ھیحئے رہئے کی شعادت عطا کی۔ ان پر اتمان ہمارے لئے شب سے پڑی یعمت و‬
‫رجمت ہے۔ وہ جالق و مجلوق کے درمیان وسیلہ و واشطہ ہیں۔ اّٰللہ یعالی کی نہجان‪ ،‬اّٰللہ یعالی کی ہر یعمت ہمیں رسول اّٰللہ ﷺ‬
‫ی‬
‫ہی کی ندولت ملی ہے۔ ان کی محنت و عطتم ہمارے اتمان کی جان ہے‪ ،‬ان کی حق یقت کو ہمارے رب یعالی کے سِ وا کونی‬
‫ی‬
‫جاپیا اور نہجاپیا ہی نہیں۔ ان کی عطتم کا خق‪ ،‬ان کی پیا کا خق ہم سے ادا ہو ہی نہیں سکیا۔ ان کی ہر نسنت اور فراپت‬

‫بھی ہمیں نہت پیاری ہے۔ ان سے وانسیگی ہمارے لئے شب سے پڑا اعزاز و اکرام ہے۔ ان کی ازواج و اوالد‪ ،‬ان کے‬

‫اصجاب و اخیاب‪ ،‬ان کی سیرت و یعلتمات‪ ،‬ان کے اقوال و ارسادات‪ ،‬ان کے ق توصات و بیرکات‪ ،‬ان کی ناتیں‪ ،‬ان کی نادیں‬
‫ہمیں نہت عزپز اور پیاری ہیں۔ بہ شب ہم پر ہمارے رب کریم جل مجدہ کی عطا و مہرنانی ہے‪ ،‬اس کے لئے ہم اس کا‬
‫حبیا بھی سکر ادا کریں وہ کم ہے‪ ،‬ہم سے سکر کا خق بھی ہرگز ادا نہیں ہوسکیا۔‬

‫ہمیں عزت و کرامت کی قدر اور نہجان ہمارے مرسد و مرنی‪ ،‬ہمارے قیلہئ عالم‪ ،‬حضرت حطنب ِ اعظم‪ ،‬مجدد‬
‫ہ ّ‬
‫حسن ملک و ملت‪ ،‬عاس ِق رسول‪ ،‬محب صجابہ و آل پ تول‪ ،‬مح توب اولیاء عالمہ موالنا الجاج محمد شق یع اوکاڑوی‬
‫مسلک ِ ا ِل سنت‪ ،‬م ِ‬
‫رجمۃ اّٰللہ علتہ کی نسنت و ارادت سے ملی ہے۔ مسلک ِ خق اہ ِل سنّت و جماعت پر تحیگی اور ِراہ خق پر اسیقامت کا جذبہ اور‬
‫ی‬
‫َول ولہ بھی انہی کی علتم و پرپ نت اور ق یصان سے مال ہے۔ وہ ہمارے لئے ا ہّٰلل یعالی کی تیش نہا یعمت اور پرکت بھے۔ وہ‬
‫اپئی ذات و صقات اور ا جالق و کردار میں عس ِق رسول کا میالی اور نہیرین تموبہ ب ھے۔ کثیر الجہات ان کی جدمات اور کثیر‬
‫الصقات ان کی ذات ہمارے لئے پڑی یعمت بھی۔ ا ہّٰلل یعالی دپیا و آخرت میں اس نسنت کو ہمارے لئے مقید و نافع فرماے‬
‫اور ہمیں اتمان کی سالمئی کے سابھ دین و ملت کی جدمت کرتے کی ووق تق عطا فرماے۔‬

‫کیانی سلسلہ ”الحطنب“ کا ‪ 32‬واں ساالبہ نادگاری مجلہ آپ کے تی ِش یظر ہے۔ یقین ما پئے بہ ہمارے قیلہئ عالم‬
‫حضرت حطنب ِ اعظم علتہ الرجمہ کی کرامت ہی ہے کہ ہم اسے پیار کرسکے۔ ہمارے قیلہئ عالم حضرت حط نب ِ اعظم کے‬

‫فرزند و جانسین حضرت حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی کی پرکات ہیں کہ بہ سلسلہ جاری ہے۔ ہم وورے وووق‬
‫سے کہئے ہیں کہ بہ عطا ہی ہے وربہ ہم میں کونی اہلنت و صالخنت انسی نہیں کہ ہم انسا کحھ بھی کرسکیں۔ ہمیں حسرت‬
‫ہی رہے گی کہ ا پئے قیلہئ عالم کے سان ِان سان کحھ کارکردگی کا مطاہرہ کرتے۔ کراچی اور ملک بھر کے جاالت کسی سے‬
‫ووسیدہ نہیں‪ ،‬سہمے اور دہست زدہ ماخول میں کسی کارکردگی کا ہوش کہاں اور کسے ہوگا؟ گھر سے یکلئے والے کو نہیں معلوم‬

‫کہ اسے کہاں کب کیا تیش آے گا؟ گھر وانسی ہوجاے وو نسالمت وانسی پر سکر ہی کے کلمات زنان و دل سے ادا ہوتے‬
‫ج‬
‫ہیں۔ دل سہما ہوا ہو وو ت ل یقی صالحببیں بھی کہیں َدب جانی ہیں‪ ،‬زندگی وو امیگ اور پرنگ سے ہونی ہے۔ بہ وو اتمان کی‬
‫قوت ہے کہ رب یعالی کی رجمت سے ماووسی نہیں ہونی وربہ اس ماخول سے وو گ ھین ہونی ہے۔ ا ہّٰلل یعالی جل سابہ ہمیں‬
‫معاف فرماے اور ہم پر رجم فرماے۔‬

‫ہم عذر پرا سئے اور ناتیں کرتے رہئے ہیں۔ ہمارے حضرت قیلہئ عالم علتہ الرجمہ کام کرتے بھے۔ ‪ 55‬پرس کی‬

‫مح یضر سی عمر میں وہ صدووں کے کام کرگئے‪ ،‬انہیں دپیا ان کے کام ہی سے نہجاپئی ہے۔ ہمہ دم‪ ،‬ہمہ جاں وہ محنت کے‬
‫خوگر اور محنت کے پیکر بھے۔ ان کے کام بھی ہم سمار بہ کرسکے۔ ان کی ذات اور وقت میں قدرت کی طرف سے پرکت بھی‪،‬‬
‫وہ صدق و اجالص اور عزم و پیات والے ب ھے‪ ،‬راسخ العقیدہ‪ ،‬ان کے ظاہر و ناطن اور قلب و لسان میں کمال ہم آہیگی بھی۔‬
‫ان کے عس ِق رسول تے انہیں سم توں میں مح توب و محیرم پیادنا بھا۔ وہ عہد آفرین ایقالنی سحصنت‪ ،‬روسئی‪ ،‬خوش وو اور محنت‬
‫ہی سے عیارت بھے۔ ان کے نام اور کام کی آج بھی دھوم ہے۔‬
‫٭‬

‫اس مجلے کی اساعت ہر سال ہم اہ ِل محنت و عقیدت سے را یطے اور ساالبہ عالمی و ِوم حطنب ِ اعظم میاتے کی‬

‫پرع نب کے لئے کرتے ہیں‪ ،‬زنادہ سے زنادہ ایصال وواب ہی ہماری کوشش ہے۔ الحمد ّٰللہ ہمیں اس میں کام نانی ہونی‬

‫ہے۔ ناکسیان بھر اور جالیس سے زنادہ مماکک میں اہ ِل سنّت کی مساجد‪ ،‬مدارس‪ ،‬اداروں‪ ،‬جایقاہوں اور گھروں میں اخیاب‬
‫فرآن خوانی اور اختماعی قاتحہ خوانی کرکے ایصال وواب کرتے ہیں۔ پیلے قون‪ ،‬ای م یل‪ ،‬انس ایم انس‪ ،‬فیس نک‪َ ،‬وھیس‬
‫نہ‬
‫اپپ وعیرہ کے ذر یعے ہم نک م یعدد افراد کی طرف سے یفصیل بھی یحئی ہے۔ خ تونی افریقا میں حضرت الجاج بیر محمد قاسم‬
‫اسرقی‪ ،‬الجاج اپراہتم اسمال قادری اور حضرت موالنا مقئی محمد اکیر ہزاروی‪ ،‬موالنا جافظ محمد اسمعیل ہزاروی اور امریکا میں الجاج‬
‫محمد پروپز اسرف‬

‫اور سید سمتم تے اخیارات میں ساالبہ و ِوم حطنب ِ اعظم کے استہارات بھی سا یع کئے۔ انڈنا میں حضرت موالنا مح توب عالم اور‬
‫می‬
‫حضرت موالنا لیاقت رصا م یعدد سہروں میں عرس سریف کی یقرپیات م یعقد کرواتے ہیں۔ پر گھم پرظاپیا سے حضرت الجاج بیر‬
‫می‬
‫سید م تور حسین ساہ جماعئی تے قون پر پیانا کہ ہر سال وہ جایقاہ میں فرآن خوانی کا اہتمام فرماتے ہیں۔ پر گھم میں حضرت‬
‫موالنا محمد ووسیان القادری بھی ہر سال اپئی عقیدت و محنت کا بھروور اظہار کرتے ہیں۔ م یعقدہ یقرپیات کی جیروں پر مستمل‬
‫ب‬
‫اخیاری پراسے بھی ہمیں ھجواتے ہیں۔ پ یگال دنش سے حضرت موالنا سید اووالبیان ہاسمی بھی قون کرکے یفصیالت پیاتے‬

‫ہیں۔ امریکا سے صاجب زادہ سید م تور حسین ساہ تجاری‪ ،‬صاجب زادہ ڈاکیر عتمان علی صدیقی‪ ،‬صاجب زادہ معین اکدین‪ ،‬موالنا‬
‫مفصود اجمد قادری‪ ،‬ڈاکیر ضیاء الجق ضیاء‪ ،‬الجاج عالم قاروق رجمانی اور شق تق مہر کی کاوسیں بھی اس خوالے سے قانل قدر‬
‫ب‬
‫ہیں۔ آس پرے لیا سے محمد نستم بھی ای میل میں یفصیل ھیحئے ہیں۔‬

‫گزشتہ پرس مرکزی عرس سریف کی یقرپب میں اہ ِل محنت و عقیدت کی طرف سے تیش کئے جاتے والے ایصال‬
‫٭‬
‫وواب میں خیاب سیخ عمر علی (الہور)‪ ،‬الجاج ضوقی سردار محمد (اوکاڑا)‪ ،‬الجاج سیخ محمد اسرف و رفقاء (بیرمجل)‪ ،‬مرکز ق یص ِان‬
‫دغوت اسالمی (کراچی)‪ ،‬الجاج محمد اوور عرف اوکاڑوی (کراچی)‪ ،‬موالنا قاری گل جہاں صدیقی (کراچی)‪ ،‬موالنا قاری‬
‫مدپتہ‪ِ ،‬‬

‫عیدالق توم محمود (کراچی)‪ ،‬موالنا قاری عالم عیاس یقش پیدی مع فرزندان(ووسہرہ ورکاں)‪ ،‬جافظ محمد ناضر (کراچی)‪ ،‬سیخ پیک محمد‬

‫(سرق وور سریف)‪ ،‬پرکانی قاؤنڈنسن کے جاچی محمد عارف پرکانی (کراچی)‪ ،‬بیر محمد راسد اووب فرنسی (کراچی)‪ ،‬موالنا قاری عالم‬
‫علی (کراچی)‪ ،‬موالنا قاری ناج نہادر جان (کراچی)‪ ،‬جافظ محمد شق تق وورانی (ملیان)‪ ،‬محیرمہ سیدہ آفرین اہلتہ الجاج الماس عطاری‪،‬‬
‫ُ‬
‫ج‬
‫لس‬
‫م یعدد خواتین اور م یعدد اخیاب تے جاصی یعداد میں ختمات فرآن کا ہدبہ تیش کیا اور درود سریف کا شب سے زنادہ ہدبہ م ِ‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫خواتین ل ِزار حب نب کی طرف سے بھا۔‪ 30‬ویں ساالبہ عرس میارک کی وہ روداد خو ناک و ہید کے م یعدد تماناں اخیارات و‬
‫خراند اور رسانل میں سا یع ہونی‪ ،‬وہ ہم نہاں بھر درج کررہے ہیں‪ ،‬مالحطہ ہو‪:‬‬
‫”جماعت ِ اہ ِل سنّت کے نانی حطنب ِ اعظم حضرت موالنا محمد شق یع اوکاڑوی رجمۃ اّٰللہ علتہ کا ‪ 31‬واں ساالبہ دو‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫روزہ مرکزی عرس میارک جامع مسجد ل ِزار حب نب‪ ،‬گلسی ِان اوکاڑوی (سولجر نازار) کراچی میں حسب ِ ساوق م ِاہ رجب کی تیسری‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫جمعرات و جمعہ تمطاوق ‪ 22‬اور ‪ 23‬مئی ‪2014‬ء کو موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) اور ل ِزار حب نب پرشٹ کے زپر اہتمام‬
‫ُ‬
‫رون‬
‫والہابہ عقیدت و اجیرام سے میانا گیا۔ اس موفع پر کیانی سلسلہ ”الحطنب“ کا ساالبہ نادگاری مجلہ سا یع ہوا۔ ملک اور بی ِ‬
‫ملک سے علماء و مساتخ اور عقیدت مید حضرات و خواتین کی پڑی یعداد تے عرس میارک کی یقرپیات میں سرکت کی۔ م یعدد‬
‫ّ‬
‫جایقاہوں‪ ،‬درس گاہوں‪ ،‬سئی پ یطتموں اور جلفوں کی طرف سے حضرت حطنب ِ اعظم علتہ الرجمہ کے مرق ِد اقدس پر جادر ووسی‬
‫ُ‬
‫ب‬
‫ع‬
‫ھ‬
‫ت‬
‫گ‬
‫ل‬
‫گ‬
‫ّ‬
‫گ‬
‫گ‬
‫ہ‬
‫ح‬
‫ح‬
‫و ل ناسی کی ئی۔ ضرت سیدنا دانا یج تحش اور ضرت سیِر رنانی سرق ووری رجمۃ ا ہّٰلل م کے مزارات سے یجی ئی‬
‫حصوصی جادروں کو عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی تے علما و مساتخ اور عقیدت میدوں کے ہمراہ ا پئے واکدین کرتمین علتہما‬
‫الرجمہ کے مرقد میارک پر خڑھاکر عرس میارک کی یقرپیات کا آعاز کیا۔ جادر ووسی کے وقت‬

‫ذکر ا ِسم الہی اور صلوۃ و سالم کا ِورد کیا گیا۔ (عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی کے اعالن کے مطاوق تمام اہ ِل‬
‫یعت سریف‪ِ ،‬‬
‫عقیدت تے مزار سریف پر کیڑوں کی زنادہ جادریں خڑھاتے کی تجاتے حضرت حطنب ِ اعظم کے ایص ِال وواب کے لئے‬
‫ی‬
‫م یعدد مسیجق افراد کو ووساکیں قستم کیں)۔ عرس کے اختماع سے مقئی اعظم افریقا موالنا محمد اکیر ہزاروی‪ ،‬موالنا خواجہ وقار اجمد‬

‫حسئی‪ ،‬موالنا سید عظمت علی ساہ ہمدانی‪ ،‬جاچی محمد حب یف طنب‪ ،‬مجدوم ڈاکیر سید محمد اسرف خیالنی‪ ،‬موالنا محمد ساہدین اسرقی‪،‬‬
‫موالنا کوکب وورانی ملیانی‪ ،‬ضوقی محمد حسین ال کھانی اور دنگر کے عالوہ عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی تے حطاب کیا۔ ا پئے‬
‫حطیات میں مقررین تے کہا کہ حضرت موالنا محمد شق یع اوکاڑوی رجمۃ ا ہّٰلل علتہ ا ہّٰلل یعالی کی تیش نہا یعمت بھے۔ حطاپت کے‬
‫بیر اعظم اور اقلتم حطاپت کے ناج دار ہی نہیں نلکہ ا پئے عہد میں وہ اہ ِل سنّت کی شب سے مح توب و محیرم سحصنت بھے‬

‫اور اکاپر و اصاعر ان پر فجر کرتے بھے‪ ،‬انہوں تے نالشتہ وہ میالی جدمات اتجام دیں خو انہی کا حصہ بھیں‪ ،‬انہیں اّٰللہ یعالی‬
‫کی عطا سے وہ نابیر جاصل بھی خو قلوب کو مسجر کرنی ہے اور بہ شب ان کے عس ِق رسول (ﷺ) کا ق یصان بھا‪ ،‬ان کے‬
‫ظاہر و ناطن میں جب پئی ہی رجا نسا ہوا بھا‪ ،‬عس ِق رسول کے خوالے سے ان کی میال دی جانی بھی‪ ،‬وہ ملک و قوم کے بھی‬
‫َ‬
‫سجے اور مجلص رہتما اور محسن ب ھے‪ ،‬وہ ان بھک مجاہد بھے‪ ،‬انہیں نارگ ِاہ مصطقی (ﷺ) سے مح توپ نت اور مق تولنت کی سید ملی‪،‬‬
‫علماو مساتخ میں ممیاز اور تماناں ب ھے‪ِ ،‬راہ خق میں انہوں تے نہت صعوپبیں پرداشت کیں‪ ،‬وہ خق و صداقت کے تے ناک‬
‫اور نڈر پرجمان بھے‪ ،‬اسیقامت اور خرأت و عزتمت کے پیکر ب ھے‪ ،‬سم توں میں ان کے نام اور کام کی دھوم بھی‪ ،‬انہیں می ڈنا‬
‫سے نہیں ان کی میالی جدوجہد اور محنت سے سہرت و عزت ملی‪ ،‬وہ ا نسے کام کرگئے خو آج بھی الکھوں کے کام آرہے ہیں‪،‬‬

‫نالشتہ وہ عہدآفرین اور دین و ملت کے لئے ناعث اقیجار بھے‪،‬تجرنک قیام ناکسیان‪ ،‬تجرنک تحفظ خ ِتم پ توت‪ ،‬تجرنک دقاع ناکسیان‬
‫اور تجرنک یقاذ یطام مصطقی (ﷺ) میں ان کی فرناپیاں ناقانل فراموش ہیں۔‬
‫اختماع میں ایص ِال وواب کرتے ہوتے پیدرہ الکھ انہیر ہزار ناتچ سو تح ھیر (‪ )1,578,575‬فر ِآن کریم٭ ناتچ الکھ ووے ہزار‬
‫جارسو تچین (‪ )590,455‬فرآنی سورتیں ٭ دس الکھ خودہ ہزار ناتچ سو پیالیس (‪ )1,014,542‬فرآنی آنات ٭ ناتچ سو‬
‫َ ّ‬
‫(‪ )500‬فرآنی نارے ٭وو کروڑ تجاسی الکھ اکیس ہزار تین سو اسی (‪ُ )9,85,21,380‬درود سریف ٭ انک کروڑ تح ھیر الکھ‬
‫َ‬
‫اڑستھ ہزار سات سو جھبیس(‪ )1,75,68,726‬کلمہ طنتہ اور محیلف م یعدد اوراد و اذکار کے ِورد کا ہدبہ تیش کیا گیا۔‬
‫عقیدت میدوں تے ایصال وواب کے لئے مکہ مکرمہ میں عمرہ و طواف کئے اور روضہ رسول (ﷺ) پر بھی قاتحہ خوانی کی‪،‬‬
‫ج‬
‫لس خواتین گل ِزار حب نب کاحصہ تماناں بھا۔احبیامی دعا عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی تے کی۔ جمعہ‬
‫ایص ِال وواب میں م ِ‬

‫‪23‬مئی ‪2014‬ء کو دپیا بھر کے ‪ 45‬مماکک میں عقیدت و اجیرام سے مساجد و مر ِاکز اہل سنت میں ساالبہ عالمی ووم‬
‫حطنب اعظم میانا گیا اور اختماعی طورپر ایصال وواب کے لئے قاتحہ خوانی ہونی۔ جموں اور کشمیر میں بھی ‪ 100‬سے زنادہ‬

‫مقامات پر ادارہ تحق یقات امام اجمد رصا کشمیر کے سید خورسید ساہ کے زپر اہتمام ساالبہ عالمی و ِوم حطنب ِ اعظم میانا گیا۔‬
‫پرظاپیا میں بھی ‪ 200‬مساجد و مراکز میں و ِوم حطنب ِ اعظم میانا گیا۔‬
‫مرکزی عرس سریف کی یقرپیات میں حضرت الجاج بیر سوکت حسن جاں ووری‪ ،‬صاجب زادہ ڈاکیر محمد سیجانی‬
‫اوکاڑوی‪ ،‬موالنا قمراکدین سیالوی‪ ،‬بیر جکتم سید اسرف خیالنی‪ ،‬سید رق تق ساہ‪ ،‬قاری عیدالق توم محمود‪ ،‬موالنا محمد اپراہتم سامی‪ ،‬جل یفہ‬
‫ضوقی علی حسن یقش پیدی‪ ،‬موالنا محمد عرقان ضیانی‪ ،‬موالنا سہزاد پرانی‪ ،‬موالنا قاری گل جہاں صدیقی‪ ،‬سید ایعام الجق‪ ،‬بیر سید‬
‫اعجاز اکدین ووساہی‪ ،‬ساہ کقیل اجمد‪ ،‬موالنا اجیر علی ووری‪ ،‬موالنا محمد سریف یقش پیدی‪ ،‬الجاج شعید ہاسمی‪ ،‬الجاج ووق تق قایم‬
‫جانی‪ ،‬مقئی محمد یعتم مدنی‪ ،‬جافظ محمد حب یف اسرقی‪ ،‬موالنا محمد شق تق وورانی‪ ،‬صاجب زادہ فرجت حسن ووری‪ ،‬موالنا ناج نہادر جان‪،‬‬
‫سید جماد حسین‪ ،‬الجاج رق تق سلتمان‪ ،‬موالنا سیر محمد حسئی‪ ،‬الجاج جاوند اقیال‪ ،‬الجاج محمد یعتم یقش پیدی‪ ،‬جاچی جاوند معرقانی‪،‬‬
‫صاجب زادہ سید ازھر ہمدانی‪ ،‬جاچی عالم خیدر‪ ،‬سیخ محمد آقیاب‪ ،‬موالنا اووب الرجمن اوکاڑوی‪ ،‬الہور سے مرزا محمد ارساد معل‪،‬‬
‫محمد اوصاف اور محمد ناضر‪ ،‬ضوقی ضوبہ جان‪ ،‬گوخراں واال سے محمد جلیل معل‪ ،‬پ ِزم ق یص ِان وارپتہ کے سید عیدالماجد وارنی مع‬
‫اخیاب‪ ،‬اتحمن مجاہدین مصطقی کے محمد اکیر یقش پیدی‪ ،‬سید حسبین ساہ کاظمی اور م یعددمعززین تے حصوصی سرکت کی۔‬

‫اتحمن ووخوانان اہل سنت‪ ،‬اتحمن ظلیاء اسالم اور پزم ق یصان وارپتہ تے ا پئے مراکز میں عرس سریف کی یقرپیات م یعقد‬
‫کیں۔ اخیارات و خراند تے ساالبہ عالمی ووم حطنب اعظم کے موفع پر حصوصی مصامین سا یع کئے اور پیلے وژن چے نلز تے‬
‫حصوصی پروگرام تیش کئے۔ ان ساء اّٰللہ یعالی حضرت حطنب اعظم کا ‪ 32‬واں ساالبہ عرس میارک م ِاہ رجب کی تیسری‬
‫(روورٹ‪ :‬جمید اّٰللہ قادری‪ ،‬خیدر علی قادری)‬
‫جمعرات و جمعہ ‪ 07-08‬مئی ‪2015‬ء کومیانا جاتے گا۔‬
‫“‬
‫عرس سریف کی یقرپیات میں ملک و بیرون ملک سے عقیدت میدوں تے بھروور سرکت کی اور دپیا کے ‪ 45‬ملکوں‬
‫٭‬
‫میں اور ملک کے ہر پڑے جھوتے سہر میں ایصال وواب کے لئے ساالبہ عالمی و ِوم حطنب ِ اعظم میانا گیا۔ ممیاز اشکالر خیاب‬
‫َ‬
‫ڈاکیر عامر لیاقت حسین تے ا پئے مشہور پروگرام ”عالم اور عالم“ کا انک حصوصی پروگرام حضرت حطنب ِ اعظم رجمۃ اّٰللہ علتہ‬
‫اج عقیدت تیش کیا۔ اس پروگرام میں حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب وورانی‬
‫کی ناد میں پرپ نب دنا اور والہابہ انداز میں خر ِ‬
‫اوکاڑوی تے بھی سرکت کی۔ اس پروگرام کو نہت نسید کیا گیا۔ دھوم نی وی تے بھی اپئی نسرنات میں عرس سریف کا‬

‫ع‬
‫ب‬
‫اج عقیدت تیش کیا۔ روزنامہ‬
‫نذکرہ کیا۔ ک تو نی وی تے ھی پروگرام تیش کئے اور حضرت حطنب ِ ا ظم رجمۃ ا ہّٰلل علتہ کو خر ِ‬

‫خیگ کراچی‪ ،‬الہور‪ ،‬لیدن‪ ،‬روزنامہ وواے وقت کراچی‪ ،‬الہور‪ ،‬ماہ نامہ عقیدت (خیدر آناد)‪ ،‬ماہ نامہ جہ ِان رصا (الہور) ماہ نامہ‬
‫م صط‬
‫اروان وطن (خیدر آناد)‬
‫ارض ناک (خیدر آناد)اور ہقت روزہ ک ِ‬
‫رصاے قی (گوخراں واال)‪ ،‬ماہ نامہ تحفظ (کراچی)‪ ،‬ہقت روزہ ِ‬
‫تے حصوصی مصامین اور ساالبہ و ِوم حطنب ِ اعظم کے استہار سا یع کئے۔‬
‫دپیا بھر کے م یعدد مماکک کی مساجد اہ ِل سنّت اور مراکز میں علما و مساتخ‪ ،‬اسانذہ و ظلیا‪ ،‬محیلف پ یطتموں کے‬
‫٭‬
‫سرپراہان و کارکیان اور عقیدت میدوں تے ‪ 23‬مئی ‪2014‬ء کو ‪ 31‬واں ساالبہ عالمی و ِوم حطنب ِ اعظم میاتے کا اہتمام‬
‫کیا۔ اوکاڑا میں حضرت موالنا محمد اقیال حسئی‪ ،‬جافظ محمد اکرم‪ ،‬ضوقی الجاج سردار محمد‪ ،‬ساہی وال میں جکتم سیخ محمد شعید‪ ،‬الجاج‬
‫سیخ م یظور اجمد اور ان کے اخیاب و رفقاء‪ ،‬پ توکی میں سیخ محمد جلیل‪ ،‬ملیان میں جافظ محمد شق تق وورانی‪ ،‬نہاول وور میں حبید رصا‬
‫قادری‪ ،‬سیال کوٹ میں الجاج خواجہ محمد یعتم اور الہور میں بیر زادہ عالمہ آصف اقیال قاروقی تے ا پئے جلقہئ اخیاب میں اور‬
‫اجھرہ الہور کے موالنا قاری محمد حق یظ‪ ،‬قاری محمد یعتم‪،‬‬

‫ووخوان رہ تما خیاب محمد وواز کھرل‪ ،‬مجاقل یعت کے خوالے سے ممیاز سحصنت خیاب ملک محمد جل یل‪ ،‬سیخ ق یصل ظہیر‪ ،‬سیخ‬
‫عمر علی‪ ،‬خیاب میاں اجمد‪ ،‬سیخ عقیل اجمد‪ ،‬قاری محمد وونس قادری‪ ،‬راول پیڈی اور اس کے فرب و خوار میں خیاب موالنا‬
‫قاری مظہر عیاس اور ان کے رفقاء تے م یعدد مقامات پر ساالبہ و ِوم حطنب ِ اعظم میاکر ایصال وواب کا اہتمام کیا۔ کراچی‬
‫سہر میں اتحمن ووخوان ِان اسالم کے سرپراہ خیاب الجاج ظارق مح توب تے اپئی پ یطتم کے ہر ووپٹ میں ساالبہ و ِوم حطنب ِ اعظم‬

‫میاتے کا حسب ساوق اہتمام رکھا۔ پزم ق یصان وارپتہ کے خیاب سید عیدالماجد وارنی تے اپئی عقیدت کا تماناں اظہار کیا۔سجر‬
‫قاؤنڈنسن کے زپر اہتمام بھی ساالبہ و ِوم حطنب ِ اعظم میانا گیا اور حصوصی پروگرام م یعقد ہوا حس میں وانس جثیرمین خیاب سید‬
‫رق تق ساہ اور دنگر تے حطاب کیا‪ ،‬اس پروگرام کی اخیارات میں تماناں جیریں سا یع ہوتیں۔ پرظاپیا کے ناناے اہ ِل سنّت موالنا‬
‫اوویعتم محمد ووسیان القادری‪ ،‬بیرزادہ مصیاح الماکک لقماووی‪ ،‬الجاج مقئی مح توب الرجمن‪ ،‬موالنا قاری حق یظ الرجمن حسئی‪ ،‬الجاج‬
‫محمد عرقان یقش پیدی‪ ،‬بھارت میں تجرنک ق ِکر رصا کے خیاب محمد زبیر قادری‪ ،‬موالنا عالم مصطقی رضوی‪ ،‬سیخ فرند پیار اور ان‬

‫کے وانسیگان‪ ،‬حضرت بیر زادہ محمد عیدالیاقی اسرقی اور ان کے وانسیگان‪ ،‬حضرت موالنا لیاقت رصا اور موالنا مح توب عالم اور ان‬
‫کے مرندین‪ ،‬پ یگال دنش میں رصا اسالمک اکاڈمی کے موالنا محمد ند یع العالم رضوی‪ ،‬موالنا محمد عیداّٰللہ‪ ،‬احسن العلوم جامعہ غوپتہ‬

‫جاٹ گام کے موالنا سید اووالبیان ہاسمی‪ ،‬موالنا محمد عیدالمیان‪ ،‬آس پرے لیا میں موالنا اقیجار ہزاروی‪ ،‬راجا عیدالحمید‪ ،‬محمد نستم‬
‫ّ‬
‫جاں‪ ،‬موالنا محمد وواز اسرقی‪ ،‬ماری شس میں سئی رضوی سوساپئی کے ارکان‪ ،‬موالنا مق تول اجمد اسرقی‪ ،‬زم ناب وے میں الجاج‬
‫ش‬
‫م یصور رصا قادری‪ ،‬ڈرین خ تونی افریکا میں موالنا محمد نانا ق یعی قادری‪ ،‬الجاج اجمد رسید‪ ،‬الجاج اپراہتم اسمال قادری‪ ،‬پ توپر ہاسم‬

‫م یصور‪ ،‬رصا اکادمی کے ارکان‪ ،‬موالنا آقیاب قاسم‪ ،‬کنپ ناؤن میں حضرت الجاج بیر محمد قاسم ذالگا ؤنکر اسرقی‪ ،‬الجاج محمد اسجق‬
‫اسرقی اور موالنا محمد محسن اسرقی‪ ،‬پری وورنا میں دارالعلوم پری وورنا کے سرپراہ حضرت موالنا مقئی محمد اکیر ہزاروی‪ ،‬موالناجافظ‬
‫محمد اسمعیل ہزاروی اور ان کے رفقاء‪ ،‬الجاج زاہد اپراہتم کریم‪ ،‬الجاج اوونکر کریم‪ ،‬خوہانس پرگ میں موالنا اسلم سلتمان‪ ،‬الجاج‬
‫ڈاکیر عیداّٰللہ م یصور‪ ،‬امریکا میں الجاج اے لب تق پیگ‪ ،‬خیاب عالم قاروق رجمانی‪ ،‬صاجب زادہ ڈاکیر عتمان علی صدیقی‪ ،‬خیاب‬
‫محمد پروپز اسرف‪ ،‬محمد شق تق مہر‪ ،‬سید م تور علی ساہ تجاری‪ ،‬محمد الیاس‪ ،‬موالنا مفصود اجمد قادری عالوہ ازیں مالوی‪ ،‬اِ س تین‪،‬‬

‫ری ووتین‪ ،‬میجدہ عرب امارات‪ ،‬کو پت وعیرہ سے اخیاب تے پیلے قون‪ ،‬ای میل اور حظوط کے ذر یعے ہمیں ساالبہ و ِوم حطنب ِ‬
‫اعظم (علتہ الرجمہ) میاتے جاتے کی یفصیالت سے آ گاہ کیا۔ اّٰللہ کریم اخیاب کی ان کاوسوں کو سرف ق تولنت سے ووازے‬
‫اور ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم علتہ الرجمہ کے درجات نلید فرماے‪ ،‬آمین‬
‫گزشتہ پرس کیانی سلسلہ ’الحطنب‘ ساالبہ نادگاری مجلے کی طیاعت میں کحھ ناجیر ہونی۔ کم پ توپر سے کم ووز کئے گئے‬
‫٭‬
‫ی‬
‫مین کی صحیح ووری طرح بہ ہوسکی‪ ،‬مسودہ تبئی بھی عجلت میں ہونی اور خو لفظ صحیح کم ووز نہیں ہوے بھے وہ درشت نہیں‬
‫کئے جاسکے‪ ،‬ہمیں اندازہ ہے کہ قارتین پر انسی علطیاں ناگوار گزرنی ہیں‪ ،‬طب یعت مکدر ہونی ہے۔ اپئی اس کوناہی پر ہم نہت‬
‫معذرت خواہ اور سرمیدہ ہیں۔‬

‫گزشتہ مجلہ طیاعت کے مرجلوں میں بھا کہ قومی اسمیلی سے تحفظ ناکسیان نل کی م یظوری ہونی حس پر‬
‫نہت سے تحفطات کا اظہار کیا گیا اور ملک بھر میں کرے کرز کے دھماکے ہوے‪ ،‬سئی کے رنل وے اِ س تے شن پر رنل‬
‫میں اور اسالم آناد کی سیزی فروٹ میڈی میں یم دھماکوں تے کبئی انسانی جاتیں لے لیں۔ ادھر وو ماہ کے تجے پر مقدمہ‬
‫پیاتے کی اووکھی داسیان رقم ہونی او رنارتخ کا حصہ پئی۔ ہر پئے دن سیسئی جیز جیریں ووں آنی رہیں حیسے وورا ملک تجرپب‬

‫کاروں کے زپر اپر ہو‪ ،‬ہر طرف موت رفصاں رہی۔ انسانی جان اپئی تے وفعت ہوگئی اور جکمران اس ندجالی میں بھی مست‬
‫رہے۔ کیا یم بھی کونی کھلونا ہے کہ اپئی آسانی سے پیانا جارہا ہے‪ ،‬کون ہیں بہ لوگ خو تجوں کے کھلوووں میں بھی یم رکھئے‬

‫کگ گئے؟ دھماکوں کی وارداتیں اپئی پڑھ گبیں؟ امن کی قاجتہ ک توں حقا ہوگئی؟ مسلماووں کی آنادی میں مساجد اور مزارات‬
‫میں تموں کے دھماکے ناقانل یقین بھے لیکن اب معمول ہیں۔ ہر دھماکے کے یعد مذمئی پیان حس سد و مد سے دتے جاتے‬
‫ہیں اس کا کحھ زور اس کے سدناب پر لگانا جانا وو ساند اپئی ہالکبیں بہ ہوتیں۔ ابھی انک دھماکے کا زجم میدمل بھی نہیں‬
‫ہونا کہ کونی دوسرا ساتحہ روتما ہوجانا ہے۔ کیا بہ کونی سازش ہے نا مسیقل سلسلہ خو ختم ہوتے میں نہیں آرہا؟ اسالمی‬

‫جمہوربہ ناکسیان اس پیاہ جالی کو ک توں نہیجا؟ اس ملک کو انسی قیادت ک توں میسر نہیں خو امن و امان رکھ سکے۔ خوہری ووانانی‬

‫رکھئے واال بہ ملک اپیا کم زور ک توں ہے؟ کہیں اس کی خوہری ووانانی ہی وو اس کے لئے شب سے پڑا مسیلہ نہیں ہوگئی؟ اس‬
‫خوہری ووانانی کے ندخواہ کہیں اس ملک کے وہ پڑے وو نہیں جن کے لئے ”دوسروں“ کی آسیرناد ہی ستھی کحھ ہے؟‬
‫دوسروں کے آلہ کار نہاں اس قدر مؤپر ک توں ہیں؟ کیا بہ ملک ان کے لئے قایم ہوا بھا؟ جب الوطئی کے یقاضے کیا ضرف‬
‫غوام کو وورے کرتے ہوتے ہیں؟ سیاشت اپئی آلودہ ک توں ہوگئی ہے؟ می ڈنا کیا وافعی کونی ماقیا ہوگیا ہے؟ کرپ شن ہی‬
‫کیا سکہ راتج الوقت ہے؟ اسالم کے جالف قول و فعل پر نہاں کونی قدغن ک توں نہیں؟‬

‫واج ناکسیان کے جالف‬
‫٭‬
‫خ تو نی وی چے نل کے مشہور اپیکر پرشن اور صجاقی جامد میر پر قا نالبہ جملے کا ساتحہ ہوا وو اق ِ‬
‫نامیاشب کھ یل کھیال گیا۔ آنی انس آنی کو ہدف پیاکر اس چے نل سے خو نلعار ہونی اس تے ہر محب وطن ناکسیانی کو پرنسان‬
‫کردنا۔ خ تو نی وی چے نل کی اس روش کو وطن کے جالف سازش فرار دنا گیا۔ نس م یظر اور تیش م یظر کیا بھا؟ مجرکات اور‬
‫مقادات کیا ب ھے؟ انک عرضے نک بہ ہر انک کا موضوع رہے۔ اس سے قیل خ تو نی وی سے دانستہ اور نا دانستہ سرزد‬

‫ہوتے والی لعزسوں کو سمار کیا جاتے لگا اور نہاں نک کہا گیا کہ ”بہ جملہ رجانا گیا بھا“۔ غوام ناکسیان تے پیداری کا مطاہرہ‬
‫واج ناکسیان سے نک جہئی کا اظہار کیا اور ان کے جالف کسی سورش اور سازش کو ق تول نہیں کیا۔ خ تو چے‬
‫کرتے ہوے اق ِ‬
‫نل کو ناپیدی اور خرماتے کے ب ھگیان کا سامیا کرنا پڑا اور اس کی مق تولنت کا گراف نسئی کی طرف جال گیا۔ خ تو چے نل کے‬
‫ذمہ داروں تے نسنت ًہ ناجیر سے تمشکل معاقی بھی جاہی‪ ،‬اس سے وانستہ کئی افراد تے اس ادارے سے علیجدگی احبیار کرلی۔‬
‫نہ‬
‫واج‬
‫جامد میر ندستور خ تو سے وانستہ ہیں ان کے خوالے سے لگاے گئے الزامات کی تحق یقات غوام نک نہیں یچیں۔ اق ِ‬
‫ناکسیان میں خ تو نی وی اس وا فعے کے یعد نہیں دنکھا جانا اور ملک بھر کے م یعدد عالقوں میں خ تو نی وی ناجال نانسیدندہ‬
‫ہے۔‬

‫خ تو نی وی کے مارپیگ سو کی میزنان ڈاکیر سانستہ واجدی بھیں ختہوں تے سوپز سے وانسیگی کو اہم جان کر اپئی‬

‫خوش جال ازوداچی زندگی کو ختم کرلیا بھا۔ مارپیگ سو کے نام سے ہر نی وی چے نل خراقات اور واہیات‬

‫کے مجرکات کا حصہ بھا‪ ،‬د پئی‪ ،‬اجالقی اور معاسرنی اقدار کو پری طرح نامال کیا گیا‪ ،‬و پیا ملک نامی اداکارہ تے خ تو نی وی ہی‬
‫سے خود کو ”نام َور“ کیا لیکن اس کی ”نام َوری“ م یقی خوالوں سے ہر پئے دن شب سے زنادہ خ تو نی وی ہی کو مرغوب‬
‫رہی اور ہے۔ اس جاوون تے سادی رجانی وو خ تو نی وی ہی کے مارپیگ سو میں سانستہ واجدی تے (خو سانستہ لودھی ہوجکی‬

‫بھیں) بھر انک سدند اور سیگین علطی کی‪ ،‬انک قوالی کی رکارڈنگ خو کاپیات کی انک مقدس پرین جاوون کے خوالے سے بھی‪،‬‬
‫اسے سانستہ لودھی تے و پیا ملک اور اس کے سوہر کو ا پئے سو میں دولہا دلہن پیاکر جالدی۔ ناکسیان کے غوام اس قوالی کے‬
‫سابھ بہ ساتحہ سما نی وی اور انکس پرنس نی وی پر بھی مارپیگ سوز میں دنکھ جکے بھے مگر و پیا ملک کے لئے اس قوالی کو‬
‫پرداشت بہ کرسکے۔ تے ووجہی میں اس قوالی کا اسیعمال م یعدد سادی ہالز میں بھی ہورہا بھا مگر خ تو نی وی پر و پیا ملک حیسی‬

‫ندنام اداکارہ کے لئے اس رکارڈنگ پر ناکسیان کی غوام سرانا اخیجاج ہوگئی‪ ،‬خ تو نی وی کی طرف سے اس علطی پر معاقی جا ہئے‬

‫میں ناجیر نہیں کی گئی لیکن ملک بھر میں خ تو نی وی کے جالف عم و عصہ سدند بھا۔ سانستہ لودھی کو پرفعہ اور حجاب و‬
‫یقاب پر نہت اعیراض بھا مگر اسی کا سہارا لے کر اسے ملک سے فرار ہونا پڑا۔ اپئی ازدواچی زندگی وہ نہلے ہی یگاڑ جکی بھی اب‬
‫اس تے اپئی ”سہرت“ بھی داغ دار کرلی۔ ملک بھر میں اس کے جالف جاتے کبئے مقدمے قایم ہو گئے۔ وہ تمام چے نلز خو‬
‫خ تو نی وی سے مجالقت رکھئے ب ھے ان شب تے اس موفع کو غبتمت جانا اور خ تو نی وی کو آڑے ہابھوں لیا۔ ان شب تے‬

‫واج ناکسیان کے جالف نات کی وو‬
‫سریعت سے زنادہ اپئی کدورت کا اظہار کرتے میں تے ناکی دکھانی۔ خ تو نی وی تے جب اق ِ‬
‫َ‬
‫بہ لعزش اور دنگر حطاتیں بھی اس کے ونال میں اصافہ کرگبیں۔ الیک پرانک می ڈنا کے لئے جکومت کے قایم ادارے ”پتم‬
‫را“ کی کوناہیاں یظر انداز نہیں کی جاسکبیں۔ ڈاکیر اسرار اجمد‪ ،‬ذاکر نانک‪ ،‬فرجت ہاسمی‪ ،‬جاوند عامدی‪ ،‬متموبہ مریضی ملک‪ ،‬ناپر‬
‫خودھری حیسے مبیازع اور معیرضہ افراد می ڈنا کو اب بھی نہت بھاتے ہیں۔ اسالمی جمہوربہ ناکسیان کو اسالم کا عیر ناپید‬
‫َ‬
‫پیاتے اور دکھاتے میں می ڈنا کونی کسر نہیں ابھا رکھیا‪ ،‬می ڈنا کی اہمنت اور اقاد پت سے ایکار نہیں لیکن جاتے ک توں نہی‬
‫گمان عالب ہے کہ اسے پر پئے والے عقلت نا ڈھیانی کا مطاہرہ کررہے ہیں نا بھر وہ ووری طرح اہل ہی نہیں۔ ناک سوز‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫ک‬
‫ہ‬
‫ہ‬
‫ک‬
‫کرتے والے گونا ”عق ِل ل“ یں۔ استہارات ہی سے اندازہ ہوجانا ہے کہ ”رحجان“ یسے اور کیا یں؟ ڈرامے کیا ل‬

‫کھالرہے ہیں؟ پ توز میں بھی تے خیانی کے مطاہر کحھ کم نہیں دکھاے جاتے۔ بہ شب کحھ دین سے دوری ہے نا دین سے‬
‫تے زاری؟ کونی جادبہ ہمیں نہیں جھن جھوڑنا‪ ،‬کونی ساتحہ ہمیں نہیں لرزانا۔ تے حسی ہے بہ نا تے خیانی و تے عیرنی کی‬

‫کونی مسق؟ ہمیں کن اندھیروں اور نسب توں میں دھکیال جارہا ہے؟ سچ ہے کہ حس کے موبھ کو خرام کگ جاے بھر عیرت اور‬
‫خیا اس سے رحصت ہوجانی ہے۔‬
‫واج ناکسیان میں قوم ہی کے خوان ہیں۔ حقا کسی اور اپیار کے پیکر۔ ہر مشکل میں جاتیں فرنان کرتے کے لئے‬
‫٭‬
‫اق ِ‬
‫پیار اور ملک و قوم کی جدمت کے جذتے سے سرسار! اس قوج کے خید افراد کی علطیاں وورے ملک تے پرسوں بھگئی ہیں‬
‫واج ناکسیان کو مطعون نہیں کیا جاسکیا۔ سیاشت کاری بھی جدمت بھی مگر اب پ تونار ہوکر‬
‫مگر ان خید افراد کی وجہ سے تمام اق ِ‬
‫رہ گئی ہے۔ خرص و ہوس کا ہر تموبہ سیاشت کار ان میں تماناں یظر آنا ہے۔ ذانی و گروہی مقادات سے اہم ان کے پزدنک‬
‫کحھ بھی نہیں۔ معاسرے میں خق نلقی کا پیاشب‬
‫ً‬
‫انہی حعا درووں تے پڑھانا ہے اور خق نلقی ہی ناآلخر وہ فساد پرنا کرنی ہے خو دپیا بھر سے امن و امان کو یقرپیا ابھاجکی ہے۔‬
‫اب انسانی جان سے ارزاں ساند کونی جیز نہیں۔ ہمارے وطن پر ستھی کی یظریں ہیں‪ ،‬بہ ان ستھی کو کھیکیا ہے خو دین‪،‬‬
‫امن اور انساپ نت کے دسمن ہیں۔ نہاں دین و مذہب کے نام پر خون رپزی کروانی جانی ہے‪ ،‬جمعۃ المیارک حیسے دن کو‬

‫اخیجاچی مطاہروں کے لئے محصوص کرلیا جانا ہے۔ دھرووں‪ ،‬رنل توں اور مطاہروں سے ا پئے ہی ان لوگوں کے لئے اذ پت و آزار‬

‫کا اہتمام کیا جانا ہے خو نہلے ہی تے نسی اور خوف زدگی میں نسر کررہے ہیں۔ کیا ”مسیجانی“ کے نہی طور ہوتے ہیں؟ ان‬
‫شب تے مقلوک الجال غوام کے لئے کیا آساپیاں کی ہیں؟ ان کی زندگی کی کون سی مشکلیں ُدور کی ہیں؟ نلوحسیان اور‬
‫درون سیدھ کے عرپ توں کے کون سے مسانل جل ہو گئے ہیں؟ کیا ووکر ساہی ختم ہوگئی ہے؟ کرپ شن کے ناگ تے ڈسیا‬
‫ان ِ‬
‫پید کردنا؟ لوٹ کھسوٹ کے کسی انک مجرم کو نس ِان عیرت پیانا گیا؟ بھیا بہ د پئے پر ڈھانی سو سے زنادہ افراد نلدبہ کے‬

‫عالقے میں وافع قیکیری میں جالد پئے گئے۔ واصح رہے کہ بھیا بہ د پئے پر سیگین سلوک کا بہ نہال اور انک ہی وافعہ نہیں‪ ،‬بہ‬
‫وو آے دن کا معمول ہے لیکن مجال ہے کہ عدل و ایصاف کا بھی کونی وافعہ نہاں ”نادگار“ پیا ہو۔ مجرموں کی افزانش ہی‬
‫ہونی ہے وو خرایم کو قاوونی تحفظ ک توں نہیں دے دنا جانا؟‬

‫جکومت کو ”پیکس“ جا ہئے‪ ،‬جکومبیں پیکسوں ہی پر نلئی ہیں‪ ،‬قوم و ملک کے بہ ”جادم“ اپئی عیاستوں کے لئے‬

‫٭‬

‫پیکس وضول کرتے میں نہت دلیر ر ہئے ہیں۔ انہوں تے ملک و قوم کو کیا فراہم کیا ہے؟ کون سی ذمہ داری انہوں تے‬

‫پتھانی ہے؟ کس نات پر بہ تحسین و آفرین کے خواہاں ہیں؟ ہسبیالوں سے تجے خوری ہوں‪ ،‬ڈاکیروں کو موت کے گھاٹ انارا‬
‫جاے‪ ،‬دواتیں موخود بہ ہوں‪ ،‬اسالمی جمہوربہ ناکسیان کے دارالجکومت میں لیڈی ڈاکیر ہم حیس پرسئی کا فجاسی و ندکاری کا‬
‫کارونار کرے‪ ،‬کلقین اور ڈ یقیس کی سڑکوں پر کھلم کھال حشم فروسی اور فجاسی ہونی رہے‪ ،‬مزار قاند کو خرام کاری کا ”اڈا“‬
‫ی‬
‫پیالیا جاے‪ ،‬الکھوں تجے علتم سے مجروم ر کھے جاتیں‪ُ ،‬مردہ خواتین کے سابھ قیروں میں خرام کاری کی جاے‪ُ ،‬مردہ تجے قیروں‬
‫سے یکال لئے جاتیں‪ُ ،‬مردہ خوری ہونی رہے‪ ،‬خرام اور تحس جان َوروں کا گوشت کھلے عام فروجت ہونا رہے‪ ،‬زہر نلے گیر کے‬
‫نانی میں کگی سیزناں‪ ،‬سدند مالوٹ والی ا سیاء‪ ،‬پتمارناں بھیالتے والی عام گیدگی‪ ،‬حعلی ڈاکیر اور حعلی دواتیں‪ ،‬ہوش رنا مہ یگانی‪،‬‬
‫وونی سڑکیں‪ ،‬سڑکوں پر پئے ناالب‪ ،‬اغوا پراے ناوان‪ ،‬ڈکببیاں‪ ،‬ندپرین لوڈ سیڈنگ ہو اور نانی‪ ،‬گیس مہیا بہ ہونا‪ ،‬اِ س پرپٹ‬
‫کراتمز کی بھرمار‪ ،‬دھماکے‪ ،‬نارگٹ کلیگ‪ ،‬دہست گردی ………… خراپ توں کی اس طونل فہرشت کے ناوخود ضرف ووکری تیشہ‬
‫ط یقے سے ظالمابہ پیکس وضول کرنا جکومت کا اولین فریصہ ہے۔‬
‫ِصقر کارکردگی کے ناوخود جکومت کبئے اور کیسے پیکس وضول کرنی ہے اور اس میں کرپ شن کس قدر ہونی ہے؟‬

‫اس کی کہاپیاں زنان زد عام ہیں۔ کبئے نی وی چے نلز روز ہی معاسرے کی کبئی خراپ توں کا ذکر ہی نہیں کرتے نلکہ ان‬
‫کے یاطر بھی دکھاتے ہیں مگر ناجال کتھی سبئے میں نہیں آنا کہ خرایم کے ّ‬
‫سدناب کے لئے کونی قانل ذکر کارروانی ہونی‬
‫م‬
‫ہو۔ نس نالواشطہ اور نالواشطہ پیکس وضول کرتے والی جکومت کی ”نادساہت“ قایم رہے‪ ،‬رہے غوام وو ان کی کیا خبب نت‬
‫اور کیا وفعت!‬

‫٭‬

‫”بیر“ قارسی زنان کا لفظ ہے۔ قارسی میں بیر کا لفظ پڑی عمر والے (ووڑھے) کے لئے ہے‪ ،‬خوں کہ‬

‫اّٰللہ والوں کو پڑوں کی سی عزت دی جانی ہے اس لئے اردو وو لئے والے بہ لفظ ”ولی اّٰللہ اور روجانی مرسد“ کے لئے نالعموم‬
‫وو لئے ہیں۔ بیر کے لفظ کا بہ اسیعمال انک خوان کے لئے اس شعر میں تجونی پیان کیا گیا ہے ؎‬
‫جدا کا فصل‪ ،‬زماتے کی مہرنانی ہے‬

‫خوان بھی بہ ہوے بھے کہ بیر کہالے‬

‫اوالد رسول‪ ،‬سادات کرام کے لئے ووال جانا عام ہوگیا ہے جب کہ ”ساہ“ عیر سید نلکہ عیر‬
‫پیجاب میں ”ساہ“ کا لفظ ِ‬
‫مسلم کے لئے بھی انڈنا میں اب نک راتج ہے۔ ناکسیان میں عیر سید اور نااہل لوگوں کے لئے ”ساہ اور بیر“ کے لفظوں کے‬
‫تے جا اسیعمال تے خو خراپیاں بھیالنی ہیں اس کی اصل وجہ جہالت ہی ہے‪ ،‬حعلی بیر اور حعلی سید لوگ ”عامل“ کہالکر خو‬

‫کحھ کررہے ہیں وہ نہت بھیانک ہے۔ حعلی بیروں کے ہابھوں تجوں کا قیل اور پتمار خواتین کے سابھ ندسلوکی کے وافعات‬
‫سرم ناک ہیں۔ ان حعلی بیروں اور عاملوں کے استہارات اخیاروں میں سا یع ہوتے ہیں اور نی وی کے کبیل چے نلز پر‬
‫دکھاے جاتے ہیں۔ نی ڈی ڈراموں اور قلموں میں بھی ان کے رول (کردار) سامل کئے جاتے ہیں۔ وال جاکیگ (دوواروں پر‬

‫ککھا جانا) بھی ان کے لئے عام ہے‪ ،‬ساند ہی کونی جگہ انسی ہو خوکہ ان حعلی بیروں عاملوں سے تچ رہی ہو۔ ان کی خراقات‬
‫بھی می ڈنا پیانا ہے جب کہ ضرف خید سکوں کی جاطر ان کی نشہیر بھی نہت کرنا ہے۔ می ڈنا ان کی خراقات پیاتے ہوے‬
‫سجے بیروں اور عاملوں کو بھی ندنام کرتے کی حسارت کر تبتھیا ہے‪ ،‬ووں می ڈنا‪ ،‬اولیاء ا ہّٰلل اور پ یک صالح عاملین سے عقیدت و‬
‫ارادت کو بھی صع یف االع یقادی سمار کرنا اور غوام کو نہکانا ہے اور ندعقیدہ افراد کو اس خوالے سے درندہ دہئی کا وورا موفع‬
‫فراہم کرنا ہے۔ جادو‪ ،‬وونا‪ ،‬وویکا وعیرہ کی پرانی کرتے ہوے صحیح یعونذ اور َدم ُدرود کے جالف بھی ندزنانی کردی جانی ہے۔‬
‫حعلی بیر اور عامل کے ہابھوں تجوں کے قیل پر می ڈنا کا واونال درشت بھا لیکن می ڈنا ہی سے حعلی بیروں عاملوں کی نشہیر‬

‫ک تو ں پید نہیں کی جانی؟ مسیقل ان کے استہارات ک توں سا یع اور نسر ہوتے ہیں؟ ہمارے وطن میں قاوون کی عمل داری‬
‫نہیں اور کرپ شن زنادہ جکمران ط یقے میں ہے۔ اسمیلی کے ارکان کے الخز ہی ”غیش کدے“ ہوں وو امیروں کی کوبھیاں‬
‫اور قارم ہاؤس کیا ہوں گے؟ ملک کے قاوون وو ہر کونی ضرف ا پئے مقادات کے لئے پیانا اور ندلیا ہے اور ا نسے ماخول میں‬
‫گیاہ اورخرم پ نپ تے ہیں‪ ،‬مبئے نہیں۔ واصح رہے کہ علماے خق اہ ِل سنّت اپئی تجرپروں اور یقرپروں میں پرمال دو ووک انداز‬
‫میں ککھئے کہئے ہیں کہ سریعت و سنّت کی کمال ناپیدی کے یعیر طریقت و وال پت کا کونی یصور نہیں اور ان حعلی بیروں‬
‫عاملوں کا مسلک ِ خق اہ ِل سنّت و جماعت سے ہر گز کونی یعلق نہیں۔‬

‫ملک میں ”جمہور پت“ کا نہت سور و غوعا ہے۔ جمہور پت ’’ڈی رنل“ بہ ہوتے ناے(بیری سے اپرتے بہ ناے)‪،‬‬
‫٭‬
‫ُ‬
‫آمرپت سے نہیر ہے‪ ،‬نہت مشکل سے جمہور پت آنی ہے‪ ،‬اس کے لئے ہر فرنانی دیں گے …… روز ہی بہ ناتیں کہی سئی‬

‫جانی ہیں۔ گزشتہ دور انک نارنی تے اپئی ہر خرانی و کوناہی کے سابھ وورا کیا‪ ،‬موخودہ سرپراہ نارنی تے ”فرپیڈ لی اووزی شن“ کا‬

‫کردار پتھانا‪ ،‬ہر خرم اور مجرم نلیا پ نپ نا رہا‪ ،‬اب گزشتہ دور کی نارنی فرپیڈ لی اووزی شن ہے اور ناہمی معاہدے پتھاے جارہے‬
‫ہیں۔ خرم اور مجرم ندستور نل اور پ نپ رہے ہیں۔ وزپر اعظم سال بھر ”سبب نٹ“ کے اجالس میں بہ آ تیں‪ ،‬ساہی انداز میں‬
‫ُ‬
‫رون ملک نار نار ناپرا کریں‪ ،‬حسے الیا ل یکاتے کی ناتیں کرتے بھے اس کی پریکلف دغوتیں کریں‪ ،‬لونی‬
‫ساہ خرچی کرتے ہوے بی ِ‬
‫ہونی دولت وانس التے کی ناتیں بھول کر لوٹ مار جاری رکھئے کی کھلی جھوٹ دیں‪ ،‬سیاشت کار لیڈروں کی اللچ ختم ہوتے‬
‫ن‬
‫کا نام بہ لے اور غوام خوف ہی سے یکل بہ ناتیں وو اس جمہور پت کو کون سراہے؟ اسمیلی کے اجالس ووری قوم د کھئی ہے‪،‬‬
‫مشکل سے مطلوبہ یعداد (کورم) وورا ہونا ہے۔ خودھری پیار اور خودھری اعیزاز کی ”خوش کالمی اور خوش مزاچی“ دنکھ کے‬
‫اندازہ ہوا کہ اسمیلی میں کبئے مہذب اور عمدہ لوگ پراجمان ہیں اور کیا کرتے ہیں۔ ضونانی اسم یلیاں بھی قومی اسمیلی سے‬
‫پیحھے نہیں۔ اندازہ کیا جاسکیا ہے کہ قوم کے ”لیڈر“ کیسے ہیں؟ فرب قیامت ہے‪ ،‬نساپیاں ظاہر ہورہی ہیں۔ ”آگ“ سے‬

‫انسی محنت ہی پیانی ہے کہ جدا کسی کو ناد نہیں۔ ساوق قوچی صدر تے عدالت میں تیش بہ ہوتے کے کبئے عذر پراسے‪ ،‬ملزم‬
‫اور مجرم فرار دتے جاتے کے ناوخود انہیں ہر سہولت اور اعزاز دنا گیا۔ الزامات کی فہرشت میں حبئے نام آے کسی کے لئے‬
‫کونی قاوونی جارہ خونی بہ ہونی۔ معمولی مجرم سحت عیاب کا نسابہ تبئے رہے۔ پڑے ہر مجرم پر ووازسات رہیں‪ ،‬ساند اسی کا نام‬
‫جمہور پت ہے۔ عام آدمی کے لئے کون سی جمہور پت اور کیسی جمہور پت!‬

‫ہزاروں الزامات اور نلخ حقاوق کے ناوخود اس ملک میں وہ سحص ”صدر مملکت“ رہا حسے ذوالفقار مرزا بھی تے یقاب‬
‫٭‬
‫کئے یعیر نہیں رہے۔ پڑوسی ملک میں بھی پرپیدر مودی ”پر دھان مثیری“ ین گئے‪ ،‬ان کے نامہئ اعمال کی یفصیل بھی‬
‫ڈھکی جھئی نہیں۔ ناکسیان کے وزپر اعظم خوسی خوسی ان کی نذپرانی کو نسریف لے گئے‪ ،‬لوگ ووجھئے ہیں کہ ”قاندہ کیا ہوا؟“‬
‫ناکسیان اور مسلماووں کے لئے کیا ان کا روب ّہ ندال؟ وزپر اعظم کی اس ناپرا میں پرخیجات کیا بھیں؟ اس خوالے سے می ڈنا‬
‫ُ‬
‫ع‬
‫س‬
‫ت‬
‫ب‬
‫گ‬
‫نہت ل افسانی کرنا رہا۔ وزپر ا ظم کی نذپرانی کہا ں کہاں کس انداز سے ہونی؟ اس کی ھی داس یان ھی کی زنان پر رہئی‬
‫ہے۔ قومی خزاتے کا تے در یغ اسیعمال ساند ہر جکمران کا وہ خق ہے حس کے لئے وہ جکومت جاصل کرنا ہے۔ جکمران پر‬
‫کونی قاوون الگو نہیں ہونا‪ ،‬بہ ہی وہ ہوتے د پیا ہے۔ ملک میں ”نامی گرامی“ لوگوں کو ملئے والے میاصب اور عہدے نہی‬
‫پیاتے ہیں کہ ناکی‪ ،‬ناکیزگی اور نارسانی پراتے خیاالت ہیں‪ ،‬اب ان کا جلن نہیں رہا‪ ،‬کیا وافعی بہ اسالمی ملک ہے؟‬

‫القدس کے خوالے سے دپیا بھر کے مسلماووں کی اکیرپت ساند اپئی ذمہ داری کا احساس نہیں کررہی‪ ،‬دپیا کے ”ناتچ‬

‫٭‬

‫پڑے“ و پ تو ناور رکھئے ہیں اور ان میں کونی مسلمان نہیں۔ مسلمان دپیا کی آنادی کا پڑا حصہ ہیں لیکن ا پئے مقام اور حفوق‬
‫سے عاقل ہیں۔ ان کو انسان ہوکر بھی ان کے حفوق جاصل نہیں جب کہ انساپ نت کی ناتیں کرتے والے ان ناتچ پڑوں‬
‫کے ہاں مسلماووں سے جان َوروں کے حفوق زنادہ ہیں۔ ُدہرے معیار رکھئے والے بہ لوگ مسلماووں کو انسانی حفوق نہیں‬

‫د پیا جا ہئے‪ ،‬مسلماووں کے سرماے اور اناتے بھی ان کے ق یضے میں ہیں۔ مسلماووں کے ملکوں میں انہی ”عیروں“ کی عمل‬
‫ی‬
‫داری اور دجل اندازی ہے۔ مسلماووں کو م قشم رکھئے کے لئے بہ ہر خربہ اور خیلہ کرتے رہئے ہیں۔ مسلماووں پر ان کا رعب‬
‫کحھ انسا ہے کہ مسلمان ان کے جالف میجد نہیں ہورہے۔ کبئے مسلم مماکک انہوں تے ناراج کرد پئے ہیں اور ان کا بہ‬
‫شعل جاری ہے۔ مسلمان جاتے ک توں کم زوری کا مطاہرہ کررہے ہیں؟ وسانل اور قوت سے ماال مال بہ مسلمان میجد‬
‫ہوجاتیں وو ان کے سا مئے کونی ظاغونی ظاقت نہیں بھہر سکئی۔ اسالم عالب رہئے کے لئے ہے مگر مسلمان ساند اپئی اتمانی‬
‫سیاجت اور خبب نت پر نازاں نہیں‪ ،‬دپیا کی رنگبب توں پر فریقتہ ہوگیا ہے‪ ،‬عارصی راخ توں کا اسیر ہوگیا‬

‫ہے۔ عزہ پر ضتھونی نہودووں کی نلعار درندگی کی ندپرین میال بھی۔ مسلمان غورووں اور تجوں پر ڈھاے جاتے والے وحسیابہ‬
‫ن‬
‫مطالم کی لرزاد پئے والی کحھ جھلکیاں ماہ ضیام میں دپیا بھر تے د کھیں‪ ،‬کحھ مسلماووں تے ا پئے عم و عضے کا اظہار بھی کیا‬
‫لیکن ظلم کی نلعار کو کلکارا نہیں گیا۔ ‪ 56‬سے زنادہ اسالمی مماکک میں سے کحھ تے صداے اخیجاج ہی پر اک یقا کیا۔ پئی‬

‫اسراپیل کے اس شقاکابہ عمل پر حس خرأت و ہمت اور عیرت و جمنت کا مطاہرہ ہونا جا ہئے بھا وہ نہیں ہوا۔ مق توضہ پ نت‬
‫المقدس پر بھیانک ظلم کی سیاہی کیا اسی طرح جھانی رہے گی؟ مسلم دپیا میں مسلمان صالح اکدین اوونی حیسا مجاہد کیا اب‬
‫نہیں ہوگا؟ قیلہئ اول کو آزاد کرواتے کے لئے مسلم دپیا کونی کردار ادا نہیں کرے گی؟ کیا ہم خواب عقلت ہی کا شکار‬
‫رہیں گے؟‬

‫٭‬

‫ع‬
‫القاعدہ‪ ،‬ظالیان ا ور وو کو خرام کے یعد داعش کا نام سیا گیا۔ اتبیاے کرام لتہم السالم اور صجابہ و اہ ِل پ نت رصی‬

‫اّٰللہ عتہم کے مقدس مزارات پر جملے اور دھماکے کئے گئے‪ ،‬اسالمی مماکک میں ان کی بہ سیاہ کارناں واصح کرنی ہیں کہ ’خون‬
‫مسلم‘ کو جالل جا پئے اور اسالمی مقدس مقامات کی ووہین کرتے والے بہ لوگ نالشتہ عیروں کے خود ساجتہ ہیں اور اسالم‬
‫اور مسلماووں کے جالف انہی کے سرماے اور انہی کے اسارے پر مشعول ہیں۔ دپیا بھر میں یفض امن کی سدند لہر نہودووں‬

‫ُ‬
‫کی تبیاد پرسئی‪ ،‬اپتہا نسیدی اور دہست گردی کی وجہ سے آنی۔ القدس اور قلشطین پر ق یصہ کرتے والے نہودووں تے پرامن دپیا‬
‫کے امن کو بہ و ناال کیا۔ طیاروں کی ہانی خیکیگ‪ ،‬خود کش جملے‪ ،‬یم دھماکے اس سے نہلے کہا ں بھے؟ امریکا میں دو عمارتیں‬
‫ڈھاکر دپیا کو مسلماووں کے جالف مید ِان خیگ پیادنا گیا۔ حقاوق سے حشم ووسی آسان نہیں رہی‪ ،‬دپیا کو گلونل ولیج پیاکر پیک‬
‫نا لوچی کی نہیات کے سابھ اب ہر انک کی آنکھ میں دھول نہیں جھونکی جاسکئی۔ کبئی مط توعات اور تجرپریں کیسے کیسے‬
‫انکساف کرجکی ہیں اور ابیرپ نٹ وو اب ستھی کی دشت رس میں ہے۔ فرآن نہلے ہی واصح کرحکا ہے کہ نہود و یصاری ہر گز‬
‫مسلماووں کے دوشت نا جیر خواہ نہیں ہوسکئے۔ ہ تود و مجوس نا عیر مسلموں سے کسی بھالنی کی ووفع کیسی؟ ستم ناالے ستم وو‬
‫بہ نام نہاد ”مسلمان تجرنکیں“ ہیں خو پیام اسالم اپئی سیطنت میں مشعول ہیں اور اسالم اور مسلماووں کو ندنام کرتے کی‬

‫وطن عزپز ناکسیان میں جکمراووں اور سیاسی شعیدہ ناز لوگوں تے دین اور وطن کو اہمنت دی ہونی وو نہاں‬
‫کوشش کررہی ہیں۔ ِ‬
‫تجرپب کار اور دہست گرد ط یقے کتھی سر بہ ابھاسکئے۔ عدل و ایصاف کے یعیر معاسرے صحیح پروان نہیں خڑھئے۔ پرنسر‬
‫گرونس سے د پئے والے جکمران اسی وقت کم زور پڑتے ہیں جب ان کا اپیا دامن یگاڑ اور ندع توانی سے آلودہ ہو۔ وزپر داجلہ اگر‬
‫مالں عیدالعزپز (پرفع قتم) کو گرقیار کرتے سے اس لئے ڈریں کہ ”سدند ّردعمل ہوگا“ وو انسی جکومت کی ِرٹ (عمل داری)‬
‫کا خواب بھی نہیں دنکھیا جا ہئے نلکہ کہیا وو بہ جا ہئے کہ انہیں خوڑناں نہن لبئی جاہبیں۔ جکومت اور جکمران ملک و قوم کے‬

‫س‬
‫تحفظ کو ا پئے اقیدار کے تحفظ سے مقدم اور اہم ک توں نہیں رکھئے اور محھئے؟ بھارپ توں کی طرح اس وطن کے قیام کے مجالف‬
‫ط یقے تے بھی دل سے اس وطن کو ق تول نہیں کیا اور ان کی سیاجت کے ناوخود ان کی جارخنت کو جکومت اور جکمران ک توں‬

‫گوارا کرتے ہیں؟ مذہئی اپتہا نسیدی نا عسکرپت کے خوالے سے بھی نہی ط یفہ تماناں ہے۔ لیکن جکومت تے ان کی پ یطتموں‬
‫ب‬
‫واج‬
‫تجرنکوں کے ضرف نام ہی کالعدم فرار د پئے مگر اس ط یقے کو ہر طرح کی سرگرمیاں جاری رکھئے کی آزادی ھی دی۔ اق ِ‬
‫ناکسیان کے اہم مقامات پر جملے‪ ،‬حضرت عیداّٰللہ ساہ عازی‪ ،‬درنار حضرت دانا گیج تحش‪ ،‬درنار حضرت نانا فرند اور دنگر مزارات پر‬
‫واج ناکسیان میں انہی کی کنب‬
‫دھماکوں کے مجرم کون یکلے؟ پ توی کے اہم جہاز پر کی گئی کارروانی کے مجرم کون بھے؟ اق ِ‬
‫اور امام ہی ک توں م یظور کئے جاتے ہیں؟ نہیں معلوم جکمراووں کی پرخیجات کیا ہیں؟ امن کیسے قایم ہوگا؟ واصح حقاوق کے‬
‫ناوخود ہوش کے ناجن ک توں نہیں لئے جاتے؟ اس ط یقے کے معا ملے میں مقاہمت و مصالحت سے جکمران وقئی طور پر اپیا‬
‫اقیدار ساند تجالیں گے مگر دہست گردی ختم نہیں کرسکیں گے۔‬

‫٭‬

‫کراچی سہر کو عروس الیالد کہا جانا ب ھا‪ ،‬بہ سہر سونا نہیں بھا‪ ،‬ہر دم نہاں زندگی رہئی بھی اور بھر دنکھئے ہی دنکھئے اس‬

‫سہر میں زندگی شسکئے نلکئے کگی۔ مچببیں نک دم یقرووں میں ندل گبیں‪ ،‬مجافظ نہاں لثیرے ین گئے‪ ،‬ماخول اس بیزی سے ندال‬
‫کہ ہیسئے جہرے افسردہ رہئے کگے‪ ،‬تجے نک سہم گئے۔ اس سہر میں قاوون ختم ہوگیا۔ عید میالدالبئی ﷺکے میارک موفع پر نشیر‬
‫نارک میں یم دھماکا عیر معمولی وافعہ بھا۔ ‪ 12‬مئی کی نارتخ بھی کونی زنادہ پرانی نات نہیں‪ ،‬اس سہر کے ناسی ساند ہی اسے‬

‫بھول سکیں۔ نہاں کحھ عالقے اور مجلے وو خون کی آماج گاہ ین گئے مگر ستھی تماسانی رہے۔ آے دن ہڑنالیں (ہٹ نالیں)‪،‬‬
‫اخیجاچی رنلیاں اور مطاہرے اور خون رپزی وو روز کا معمول ہوگئی۔ م ِاہ ضیام ہو نا کونی مقدس پ توہار‪ ،‬خوف ہی کا ڈپرا رہا۔ بھ ّیا‬
‫ّ‬
‫شب سے زنادہ زوردار راتج الوقت سکہ رہا۔ نہی کحھ اب بھی ہے۔ صقانی ستھرانی سے اس سہر کے ناسی اب کونی ا پئے ماووس‬
‫نہیں رہے۔ لیاری کا عالفہ فساد کی عالمت ین گیا۔ کھارادر اور اس سے ملحفہ تجارنی مراکز کی ساکھ بیزی سے ندل گئی اور‬
‫ی‬
‫لوگ ہجرت کرتے گئے۔ پرے قک کی ند ظمی تے لوگوں کو طرح طرح کی پتمارووں میں مبیال کردنا۔ پرقیانی کاموں کے نام پر‬
‫خو کحھ ہوا‪ ،‬اس کا تبیحہ نہت سی خراپ توں کا تحفہ ناپت ہوا۔ اسی سہر میں انسانی جدمت کے خوالے سے سہرت رکھئے والے‬
‫ُ‬
‫عیدالسیار اندھی کے مرکز پر بھی ڈکبئی کا ساتحہ ہوا۔ کراچی الیک پرک شپ النی کارپرے شن (کے ای انس سی) کے الیک‬
‫پرک کے نام سے موسوم ہوگئی ہے‪ ،‬اس کے پڑوں میں نہودی ڈاپرنکیر بھی پیاے جاتے ہیں۔ انک عالقے میں حبئی تجلی‬

‫فراہم کی جانی ہے اس کی قتمت ہر جال میں ووری کرنی ہونی ہے‪ ،‬خو لوگ نل ادا نہیں کرتے ان کی رقم دوسرے صارفین‬
‫پر لگادی جانی ہے‪ ،‬کحھ عالقے مدووں سے ”کیڈا شستم“ پر جل رہے ہیں وہاں اس مجکمے کی رسانی نہیں ہوسکی۔ قاعدے‪،‬‬

‫صا یطے ہر روز ندلے جارہے ہیں۔ نانی کی فراہمی اس سہر میں کتھی صحیح نہیں رہی۔ تبیکر ماقیا کی روز ہی ”جاندی“ ہونی ہے‬
‫یعئی خوب لونا جانا ہے‪ ،‬کہا جانا ہے کہ ہر وزپر اور پڑا آفیسر ”اس جاندی میں“ اپیا اپیا حصہ کمانا ہے بھر غوام کے مسانل‬
‫کا مداوا کیسے ہو؟ نہاں شب کحھ نکیا ہے اور شب جلیا ہے۔ نہاں اسلحہ کراے پر بھی ملیا ہے‪ ،‬ہر نشہ نہاں کیا جانا ہے اور‬
‫میسیات نہت دشت ناب ہیں‪ ،‬کھلے عام سڑکوں پر خرام کاری کے سودے ہوتے ہیں‪ ،‬پتمار کرد پئے والی اسیاء کی فروجت‬
‫عام ہے‪ ،‬خوا جاتے‪ ،‬سراب جاتے اور ”غیش کدے“ (زنا جاتے) وولیس کی سرپرسئی میں جلئے ہیں۔ بھیک ما نگئے کے لئے‬
‫تجے بھی کراے پر ملئے ہیں۔ پرانی تمانش خورنگی کا یقشہ یعمت ا ہّٰلل جان ندل گئے مگر اسے سراسر زجمت پیا گئے بہ خوراہا ہست‬
‫راہا ہوگیا ہے اور اسے اب ”دھرنا خوک“ کہا جاتے لگا ہے‪،‬۔ آے دن نہاں گبئی کے خید افراد بھی دھرتے کے نام پر تمام‬

‫پریقک پید کرواد پئے ہیں اور وورے سہر کو پرنسان ہونا پڑنا ہے۔ پرسوں سے سڑکیں وونی ہونی ہیں‪ ،‬جگہ جگہ گیدا نانی کھڑا رہیا‬

‫ہے۔ ‪ CNG‬گیس پر جلئے والے آوو رکسا ان لوگوں کو دے د پئے گئے ہیں ختہوں تے ساند کتھی ساپ یکل بھی بہ جالنی‬

‫ہو۔ ڈراؤنگ اور پریقک قواتین سے ناوافف ان لوگوں تے پریقک کا ”سبیاناس“ کرکے رکھ دنا ہے۔ رے ڈوو کنب کے ڈراؤر‬
‫نہاں ‪ 24‬گھبئے کی مسلسل ڈوونی پر ر ک ھے جاتے ہیں۔ گونا اس سہر میں موت ارزاں ہے اور فراواں بھی‪ ،‬نہاں قاوون اور زندگی‬
‫نہیں اور کونی نہیں خو وو جھے کہ مدعا کیا ہے؟‬

‫٭‬

‫دھرتے اس ملک کی سیاشت کا حصہ ہو گئے ہیں۔کے تے ڈا سے آے ”مہمان“ تے اجانک اس ملک کی‬

‫سیاشت میں بھر جھالنگ لگانی اور انک دھرنا دنا‪ ،‬اس وقت کی جکومت تے اس تماسے کو ختم کروانا وو ”لیدن نالن“ کے‬

‫تحت انک نار بھر عمران جان اور اور کببیڈی مہمان تے اسالم آناد میں دھرتے دتے۔ نلید نانگ دغوے‪ ،‬وعدے‪ ،‬فشمیں اور‬
‫جاتے کیا کیا ہوا۔ حسبب نت اور پزندپت کی ناتیں بھی ہوتیں۔ ناچ گاتے اور ”نہت کحھ“ ہوا۔ کببیڈی مہمان کے نہلے اور‬
‫دوسرے دھرتے سے دپیا کو ان کی سحصنت کا ”وہ یعارف“ بھی ہوگیا خو ساند ”ضروری“ ب ھا۔ اجھا ہوا کہ اس ”یعارف“ کا‬
‫اہتمام بھی دوووں مرپتہ خود انہوں تے ہی کیا۔ ملک و قوم کو می ڈنا تے ا پئے دن ند جالی میں مبیال رکھا۔ معیست اور معاسرت‬
‫کے یفصان کون سمار کرے؟ ان دھرووں کے اخراجات اور اپرات کا تحمنتہ کون لگاے اور ک توں لگاے؟ ملک بھر میں‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫دھڑا دھڑ ہوتے والے سیاسی جلسوں کی بھرمار تے کیا ل کھالے؟ اخیارات تے سیکڑوں کالم جھاتے اور نی وی چے نلز‬
‫تے وو گونا ”جد کردی“۔ قیادت اور سیاشت کے بہ طور کیا وافعی ہمارے ملک و قوم کے لئے ُسود مید ہیں؟ کیا نہی ہماری‬
‫ن جان ہیں؟ یا بہ مارے سانل کا جل ہیں؟ یا کرپ شن اور دھاندلی کا ّ‬
‫سدناب ہوگیا؟ کببیڈی مہمان کو وو اپئی محنت‬
‫ک ہ‬
‫ک‬
‫م‬
‫ہ‬

‫کے ناوخود انک ضمئی الیکسن میں کام نانی نک بہ ملی‪ ،‬النتہ عمران جان کی زندگی میں ”پیدنلی“ ضرور آگئی۔ الیکسن کا جؤا دپیا‬
‫بھر میں کھیال جانا ہے اور کرپ شن بھی ہر ملک میں نہت ہونی ہے۔ اس کا انسداد ہونا جا ہئے لیکن کیسے؟ اور کون کرسکیا‬
‫ی‬
‫ہے؟ اس ملک میں علتم اور صحت کا اخوال کیا ہے؟ قومی زنان‪ ،‬کلجر (یقاقت) سے کیا ہورہا ہے؟ خواتین سے ا پئے نہت‬

‫سے قواتین کے ناوخود کیا سلوک ہورہا ہے؟ تجوں کا کیا اخوال ہے؟ موخودہ جکمران نا سایفہ جکمران کسی سے ڈ ھکے جھئے‬
‫نہیں‪ ،‬انہیں الیکسن میں حصہ لبئے کی اجازت ک توں مل گئی؟ خ یف حسیس کے عہدے پر رہئے والے اقیجار خودھری بھی‬
‫سدند الزمات کی زد میں ہیں۔ کیا ہوگا؟ کیسے ہوگا؟ کون وہ یطام الے گا خو سیدنا قاروق اعظم رصی اّٰللہ عتہ کے َدور کی ناد نازہ‬
‫کرے؟ انسی قیادت اس ملک و قوم کو کب میسر ہوگی؟ سایفہ نا موخودہ جکمران کیا‪ ،‬کببیڈی مہمان اور عمران جان سے بھی‬

‫انسی کونی ووفع نہیں۔ دھرتے کے خوالے سے نہاں ہم حضرت حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی کا وہ اہم‬
‫پیان بھی ووخوہ درج کررہے ہیں خو ان دووں اخیارات میں سا یع ہوا‪:‬‬
‫ش‬
‫ہ ّ‬
‫سواد‬
‫”کراچی (خیگ پ توز) مجدد مسلک ِ ا ِل سنت عالمہ محمد ق یع اوکاڑوی کے صاجب زادے‪ ،‬خید عالم دین اور ِ‬
‫ح‬
‫اعظم اہ ِل سنّت ق یقی کے سرپراہ عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی تے کہا ہے کہ نارتخ پیانی ہے کہ نہال دھرنا مدپتہ م تورہ‬
‫میں امیر المومبین سیدنا عتمان ذی ال تورین رصی ا ہّٰلل عتہ کے جالف نلواپ توں تے دنا بھا اور انہی نلواپ توں تے حضرت عتمان‬
‫رصی اّٰللہ عتہ کو قیل کیا بھا جب کہ حضرت عتمان تے س ِہر رسول (ﷺ) کے اجیرام میں ان نلواپ توں کے جالف ظاقت کا‬
‫اسیعمال نہیں کیا بھا‪ ،‬ووں دھرنا ان نلواپ توں کی نادگار ہوا۔‬

‫ان کا کہیا بھا کہ ظاہر القادری کے دھرتے کو صحیح العقیدہ اہ ِل سنّت و جماعت پرنلوی کا فرار د پیا کسی طور صحیح نہیں اور بہ‬
‫ُّ‬
‫جدث اعظم ناکسیان کے فرزند و جانسین عالمہ قاصی‬
‫ہی کسی مقیدر عالم اور سئی پرنلوی جماعت تے اس کی ناپید کی ہے نلکہ م ِ‬
‫فصل رسول خیدر رضوی اور م یعدد تماپیدہ علماے اہ ِل سنّت تے واصح طور پر اس دھرتے اور ظاہر القادری سے اپئی الیعلقی کا‬
‫اظہار یا ہے۔ عالمہ ڈاکیر کو ب وورانی اوکاڑوی تے مزند کہا کہ ملک میں کرپ شن اور م یعدد خراپ توں کا ّ‬
‫سدناب ضرور ہونا‬
‫ک‬
‫ک‬
‫جا ہئے اور نالشتہ گزشتہ اور موخودہ جکمراووں تے ملک و ملت کو ماووس کیا ہے لیکن مب نت ایقالب ضرف وہی لوگ السکئے ہیں‬
‫خو تے داغ کردار رکھئے ہوں اور جن کے قول و فعل میں یصاد بہ ہو اور خو ہوس اقیدار کے اسیر بہ ہوں۔ انہوں تے کہا مجلوط‬
‫اختماع میں رفص و موسیقی‪ ،‬ند زنانی کے مطاہروں اور خواتین کو ڈھال پیاتے اور اع یکاف نا شب قدر کے وواب‪ ،‬خود کو حسبئی‬

‫اور دوسروں کو پزندی‪ ،‬سیاسی کعئے اور قیح مبین وعیرہ کی ناتیں ا نسے دھرووں کے لئے کہیا نہت سیگین اور نہاپت ناروا ہیں۔“‬
‫٭‬

‫انک سوال بہ بھا؟ ”انک قوالی خو سادی پیاہ کی اکیر یقرپیات میں تجانی جانی ہے اور اے آر وانی کے عالوہ سماء‪،‬‬

‫انکس پرنس نی وی چے نلز پر کئی مرپتہ نالے گئے مہمان دولہا دلہن پر حسیاں کی گئی لیکن کسی ناطر اور ادارے تے ووجہ‬
‫نہیں کی‪ ،‬کیا ان شب کا بہ فعل قانل گرقت نہیں بھا؟ کیا اسے گسیاچی نہیں گردانا جاے گا؟ اس گسیاچی سے حشم‬
‫ووسی خرم نہیں ہوگی؟ اس گسیاچی کا ذمہ دار پروگرام کی ہوشٹ نا پروگرام کے پروڈووسر کو فرار دنا جاے گا ختہوں تے اپئی‬
‫جہالت نا عقلت میں اس کا اریکاب کیا‪ ،‬نی وی کے مالکان وو پب مجرم ہوں گے کہ انہوں تے اسے درشت فرار دنا ہو نا‬
‫اسے درشت جانا ہو‪ ،‬جب کہ ہم دنکھئے ہیں کہ خ تو نی وی کی ا پ یطامتہ قوری اور ضروری کارروانی کرنی ہے‪ ،‬معاقی میں دپر‬

‫نہیں کرنی‪ ،‬پروگرام کی پتم کو معطل کرنی ہے‪ ،‬ادھر دوسرے چے نلز انسا کحھ نہیں کرتے وو نہی کہا جاے گا کہ وہ ا پئے‬
‫س‬
‫حبیل سے کی جاتے والی اس گسیاچی پر سرمیدہ بھی نہیں نا اسے گسیاچی ہی نہیں محھئے۔ واصح رہے کہ ستھی علما تے‬
‫اس فعل کو گسیاچی کہا ہے۔ اب انہی علما سے سوال ہے کہ وہ پیاتیں کہ گسیاچی کر مرنکب پروگرام کی ہوشٹ اور‬

‫پروڈووسر ہوں گے نا اپ یطامتہ؟ مرنکب افراد کو مجرم فرار دنا جاے نا حبیل کو؟ اور خو افراد اور حبیل معاقی نا ووبہ بھی نہیں‬
‫کرتے کیا انہیں مجرم بہ سمحھا جاے؟ خ تو کی طرف داری کسی طرح بھی مطلوب و مفصود نہیں‪ ،‬گسیاچی کو ہلکا نا معمولی بھی‬
‫ہر گز نہیں سمحھ رہے ہیں‪ ،‬مگر صحیح اور واصح سرعی جکم جاپیا جا ہئے ہیں۔“‬
‫علما تے اس نارے میں خو خواب دتے وہ اخیارات میں سا یع ہوے اور نی وی چے نلز تے نسر کئے۔ نی وی چے‬

‫نلز سے اور جاتے کبئی علطیاں ہونی رہی ہیں۔ انک جماعت کے امیر خود کو ”سید“ کہال کر بہ نک نہیں جا پئے بھے کہ‬
‫”صجانی“ کسے کہئے ہیں اور وہ رسواے زمابہ پزند کو معاذ اّٰللہ صجانی کہہ گئے۔ انک جماعت کے سرپراہ کو جاتے کیا سوجھی کہ‬
‫وہ ” ّکئے“ کے لئے ”سہید“ کا لفظ کہہ گئے۔ بہ دوووں ا پئے کئے پر سرمیدہ بھی نہیں ہوے اور ان کے بہ القاظ بھی نی‬
‫وی چے نلز ہی تے پیلے کاشٹ کئے۔ انک جاوون (متموبہ مریضی ملک) تے پئی کے لئے (معاذ اّٰللہ) بھاتے دار کا لفظ کہا‬

‫اور معاقی نہیں جاہی‪ ،‬اسے بھی پیلے کاشٹ کیا جارہا ہے۔ انک جاوون (فرجت ہاسمی) تے ا ہّٰلل یعالی کے سابھ پئی (ﷺ) کا‬
‫ج‬
‫نام ککھئے کو معاذ ا ہّٰلل سرک ککھا اور کہا‪ ،‬انہیں بھی پیلے کاشٹ ک یا جارہا ہے۔ ل یقہئ را یع حضرت موالے کاپیات سیدنا علی‬
‫کرم اّٰللہ وجہہ کو معاذ ا ہّٰلل سرانی کہئے والے ڈاکیر اسرار اور م یعدد نامیاشب معیرضہ ناتیں کہئے والے جاوند عامدی کو بھی پیلے‬
‫ُ‬
‫کاشٹ کیا جارہا ہے۔ گسیاچی و تے ادنی کے بہ خرم‪ ،‬جکومت اور پتم َرا کے لئے ساند تے معئی ہی ہیں۔‬

‫درس جدپث پیان کرتے کے لئے وہ کھالڑی اور گلوکار نی وی چے نلز پر ”فجربہ“ نالے اور دکھاے‬
‫درس فرآن اور ِ‬
‫ِ‬
‫جاتے ہیں ختہیں ہر گز اس کا اہل سمار نہیں کیا جاسکیا۔ مذہئی پروگراموں کے اپیکر اور ہوشٹ (میزنان) بھی وہ حضرات و‬

‫خواتین زنادہ مبیحب کئے جاتے ہیں خو تماناں علطیاں کرجاتے ہیں۔ سوسیل می ڈنا کا وو کحھ بہ ووجھئے! حبید جمسید کو ساند بہ‬
‫ی‬
‫معلوم نہیں کہ اتمہ جدپث انک انک جدپث سریف کو ضرف ککھئے ہی کے لئے ادب و عطتم کا کبیا اہتمام کرتے ب ھے اور‬
‫پیان کے لئے بھی ان کے آداب و اطوار کیا بھے۔ سارحین جدپث کے ہاں بھی جدپث سریف کی سرح کرتے ہوے کبئی‬
‫احبیاط ملجوظ رہئی بھی‪ ،‬اس کا اخوال بھی اہ ِل علم سے معلوم کیا جاسکیا ہے۔ عالوہ ازیں مقدس و مظہر ہسب توں کے نذکرے‬

‫ّ‬
‫کے بھی کحھ آداب ہیں‪ ،‬زل ِۃ لسان وقلم (زنان و قلم کے بھسل جاتے) کی بھی اس ناب میں سحت گرقت ہونی ہے۔ نہت‬
‫یقرتح لبئے ہوے تمسجرابہ اور عامیابہ بھونڈے انداز میں رسول کریم ﷺ اور ان کی نہت پیاری زوجہ مظہرہ کا نذکرہ نالشتہ سدند‬
‫اور سیگین گسیاچی ہے۔ ناکسیانی مسلماووں کی بہ کبئی اجھی نات ہے کہ وہ کسی گسیاچی و تے ادنی کو گوارا نہیں کرتے۔‬
‫ن‬
‫سل‬
‫رسول کریم‬
‫حبید جمسید پر اعیراض کو محض م کی مجالقت فرار د پئے والے اپ یا یعارف ہی کروارہے ہیں کہ ان کے پزدنک ِ‬
‫ﷺ اور ام المومبین حضرت سیدہ عانشہ صدیفہ رصی اّٰللہ عتہا کی گسیاچی و تے ادنی کونی خرم ہی نہیں۔‬

‫”آزادی اظہار‪ ،‬آزادی گقیار“ (فری ڈم آف اِ س پیچ‪ ،‬فری ڈم آف انکس پرے شن) کی جماپت و ناپید میں ‪11‬‬
‫٭‬
‫َ‬
‫خ توری کو تے ِرس‪ ،‬فرانس میں ِملین مارچ ہوا‪ ،‬پیانا گیا کہ اس مار چ میں جالیس ملکوں کے سرپراہ سامل ہوے‪ ،‬افسوس کہ‬
‫ان میں کحھ ”مسلم“ کہالتے والے بھی بھے۔ مارچ کے کحھ سرکاء وہ مذموم ووس پر ابھاے ہوے بھے جن پر گسیاجابہ‬
‫َ‬
‫ب‬
‫ج‬
‫ی‬
‫ہ‬
‫ہ‬
‫ب‬
‫ی‬
‫جاکے ھئے ہوے ھے اور مارچ کے سرکاء کی جاصی عداد بہ عرہ لگارہی ھی کہ ” م شب جارلی یں“۔ جارلی اپب ڈو اس‬

‫ملعون کا نام ہے حس تے گسیاجابہ جاکے پیاے۔ ووں واصح ہوا کہ بہ مارچ آزادی اظہار نہیں نلکہ گسیاخ اور اس کی گسیاچی‬
‫کی جماپت میں بھا۔‬

‫ج‬
‫رسول مکرم ﷺ کی یصوپر (قووو) ہی نہیں ہے اور سیطان خو ہر انک کا‬
‫دپیا جاپئی ہے کہ اّٰللہ یعالی ل سابہ کے ِ‬
‫ُروپ دھار لبیا ہے اسے بھی بہ خرأت و احبیار نہیں کہ وہ ہمارے پیارے پئی ﷺ کا روپ پیاسکے۔ جاکے پیاتے والوں تے‬

‫اپئی ہی بھونڈی نگڑی شکل پیاکر اپئی خیاپت اور گیدگی ظاہر کی ہے اور دپیا کے سا مئے اپئی اجالقی نسئی اور رذالت کا اظہار کیا‬
‫ہے۔ اگر گیدگی‪ ،‬کمبیگی اور پرانی کے اظہار کی آزادی کی نات ہے وو عیر مسلم اس خوالے سے اپ یا نانی نہیں رکھئے ہیں۔‬

‫رسول ناک ﷺ سے میسوب کرکے کسی گسیاچی کا اریکاب کرتے والے ساند کسی بھول میں ہیں مگر‬
‫ہمارے مقدس و مظہر ِ‬
‫وہ بہ ناد رکھیں کہ عیرت مسلم کو کلکارتے کا تبیحہ انہیں دپیا و آخرت میں بھگبیا ہوگا اور اس طرح کے ملین مارچ انہیں کونی‬
‫قاندہ ہر گز نہیں نہیجاسکئے۔‬
‫٭‬

‫نساور سہر میں آرمی پیلک اسکول کے کم شن ظلیا تجوں کو کحھ وحسی درندوں تے نہت تے دردی سے موت کی‬

‫آغوش میں نہیجادنا‪ ،‬وہ تجے خو گھر سے ہیسئے کھیلئے اسکول آے بھے انہیں کس خرم کی ناداش میں قیل کیا گیا؟‬

‫واج ناکسیان کی جاپب سے دہست گردی کے جا تمے کے لئے جاری ”ضرب ِ عصب“ کے خواب میں‬
‫کہا جانا ہے کہ اق ِ‬

‫دہست گردوں تے بہ مذموم کارروانی کی اور قوخ توں کے تجوں کو نسابہ پیانا۔ ممیاز اشکالر اور ہر دل عزپز اپیکر پرشن ڈاکیر عامر‬
‫لیاقت حسین تے ”ضیح ناکسیان“ کے ع توان سے خ تو نی وی کے مارپیگ سو میں اس خوالے سے م یعدد پروگرام کئے۔ نہلے‬

‫پروگرام میں حضرت حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی تے سرکت کی اور تحشم یم ان تجوں کے قیل پر ا پئے رتج و‬
‫عم کا اظہار کیا۔ اس سا تجے پر ہر ناکسیانی رتحیدہ ہوا‪ ،‬دپیا بھر میں اس سا تجے پر اظہ ِار افسوس کیا گیا۔ اپئی ووعنت کا بہ‬
‫سیگین جادبہ بھا۔ جکمراووں تے بھی اس کا وونس لیا اور تمام سیاشت کار بھی جکومت کے سابھ ہم ووا ہوے۔ عمران جان‬

‫تے اس سا تجے کے وقوع نذپر ہوتے ہی ا پئے ”دھرتے“ کو ختم کیا۔ ناکسیانی قوج کے سرپراہ تے قوری ضروری کارروانی کی‬
‫اور ”ضرب عصب“ کے داپرہ کار کو ملک کے اندر بھی وشعت د پئے کا اعالن کیا۔ اس اعالن سے محب وطن ہر ناکسیانی‬
‫ُ‬
‫تے سکھ کاسانس لیا‪ ،‬امن و محنت کے اس ملک کے وخود کو اندرونی سرنسیدوں ہی تے دتمک لگانی اور اسے کھوکھال کرتے‬
‫کی ہر حسارت کی۔ گزشتہ جھ سے زاند َدہاپ توں میں بیرونی نلعار سے زنادہ اندرونی جلقسار ہی کا نسلسل رہا۔ سیاشت‪ ،‬مذہب‪،‬‬
‫پ توہار‪ ،‬یقاقت‪ ،‬زنان‪ ،‬ذات نات ہر اک ع توان سے نہاں کست و خون کے نازار گرم ہوے‪ ،‬معیست اور معاسرت کی ندجالی‬

‫میں ستھی تے ”حصہ“ لیا۔ قوج کا اسیعمال بھی ”خوب“ ہوا۔ دین میں مداجلت اور دین کے سابھ تمسجر کی سرم ناک‬
‫َ‬
‫”نادگاریں“ اس ملک کی نارتخ کا حصہ پبیں۔ زر اور زور سے نہت کھیل کھیلے گئے۔ جھوٹ‪ ،‬میافقت‪ ،‬یقرت اور یگاڑ (کرپ‬
‫شن) ہی کو رواج دنا گیا۔ من ماپ توں کا راج رہا۔ مسرقی ناکسیان کو کھود پیا کونی معمولی ساتحہ نہیں بھا۔ کبئے اہم اور میافع‬
‫تحش ادارے ”دووالتہ“ ہو گئے‪ ،‬ہر شعتہ گونا کونی ”ماقیا“ ہوگیا۔ دوسروں کے آلہئ کار ین کر اپئی سالمئی اور خود داری کو داؤ پر‬
‫لگانا جانا رہا۔ نلحیاں اس قدر ہوگبیں کہ مچب توں کو لوگ پرسئے کگے۔ حس کسی سے آس لگانی وہی ڈسیا گیا۔ عیروں کی خیگ‬

‫لڑتے لڑتے اب بہ ملک خود مید ِان خیگ ین گیا ہے۔ نہاں جکمراووں اوررعانا میں اعتماد مففود ہے۔ سیاشت کار ا پئے قول‬
‫و فعل میں م یصاد ہیں۔ مساجد‪ ،‬مدارس اور عیادت گاہیں مسکوک ہوگبیں۔ وقاقی وزپر داجلہ کا اعیراف نلخ حق یقت ہے کہ‬
‫دس قی صد مدارس کا اخوال ”م یقی“ ہے۔ ”دہست“ کا لفظ خوف کی اس جالت کے لئے پیان ہونا ہے حس میں خواس کی‬
‫کارکردگی صقر ہوجانی ہے۔ دہست گردی تے گزشتہ کئی پرسوں سے اس ملک کو اپئی لب نٹ میں لیا ہوا ہے۔ دوسروں کے‬
‫آلہئ کار نہاں ”بیرونی ہابھ“ سمار ہوتے رہے بھر انہیں ”نامعلوم“ کہا جاتے لگا۔ ان ”نامعلوم“ کو نہجانا جاتے لگا وو‬

‫جکمراووں اور سیاشت کاران کے ”مقادات“ آڑے آتے رہے اور ”زنانی جمع خرچ“ پڑھیا گیا۔ فصہ کوناہ! ضرب عصب تے‬

‫آس پیدھانی۔ بیرونی دسم توں کو نسابہ پیانا گیا وو ان کے آلہ کار اندرون ملک ظلم و ستم میں سدت لے آے۔ انک وقت میں‬
‫َ‬
‫مجاذ انک سے زنادہ بہ کھولیا ہی صحیح نالیسی ہونا ہے لیکن ضرب عصب کی ملک کے اندر ضرورت کہیں زنادہ ہے۔ سکر ُتما زہر‬
‫فروش نہاں َدن دناتے بھر رہے ہیں۔ ہر ”کھالڑی“ اپئی ”صالخنت“ دکھارہا ہے‪ ،‬انسانی جاتیں ان کا نسابہ اور جکومت و‬
‫ظاقت ان کی ہوس ہیں۔ آرمی خ یف تے اس مہنب نارنکی میں ضرب عصب کا یعرہ لگاکر اجالے کی اک کرن دکھانی ہے۔‬

‫روز روشن کا آقیاب ین سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بہ سیف عصب ووری خرأت سے ”ہر‬
‫اّٰللہ کرے بہ کرن امن کے ِ‬
‫سر“ پر اپئی کاری ضرب لگاے۔ بہ ضرب عصب اگر کسی مصلحت و مقاہمت کی بھنٹ خڑھ گیا وو خو ہوگا اس کا یصور ہی‬
‫ہول ناک ہے۔ االمان الحق یظ‬

‫مذہئی فرفہ وار پت اور مذہئی اپتہا نسیدی کی نہت نات کی جانی ہے‪ ،‬کہا جانا ہے کہ بہ ”ناسور“ ین گئی ہے اور یقاذ‬
‫٭‬
‫امن کے لئے اس ناسور کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اس کے لئے خو اقدام ابھاے جارہے ہیں‪ ،‬وہ بھی مالحطہ ہوں‪” :‬پیک نا‬

‫لوچی کی فراوانی کے اس َدور میں الؤڈ اسبیکر کے اسیعمال کی ق تود اور کحھ کیاووں کی فروجت پر ناپیدی سے جکومئی کارروانی‬
‫کا آعاز کیا گیا ہے۔ د پئی مدارس کی رحس پرے شن اور یصاب میں پرمتم و پیدل کا بھی سلسلہ ہورہا ہے۔ دھواں دار اور شعلہ‬
‫نار اعالن کئے جارہے ہیں لیکن ”کہیں نہت کحھ اور کہیں کحھ بھی نہیں“ واال اخوال ہے۔ عدل و ایصاف اس خوالے سے‬
‫بھی نہیں ہورہا اور ساند ہوگا بھی نہیں۔ ک توں کہ کحھ لوگ جکومت کا حصہ ہیں اور بھر فرفہ وار پت سے قوج اور وولیس حیسے‬
‫ادارے بھی جالی نہیں‪ ،‬جاپب داری نا جماپت و سرپرسئی کا ع یضر نہاں ”عالب“ رہیا ہے اور اپیا کام دکھانا ہے۔ فرفہ وارابہ‬

‫کسیدگی کی اس قدر سدت‪ ،‬سیاشت کاران اور جکمراووں ہی کے عمل دجل سے ہونی ہے۔ بہ کونی مقروضہ نہیں‪ ،‬نلخ حق یقت‬
‫ہے۔ کہیں جکمراووں کی ”کم زوری“ اور کہیں ”مح توری“ بھی وربہ بہ ناسور بہ نلیا۔ خق نلقی کی نات کی جاے وو اس ملک کی‬
‫ُّ‬
‫ُّ‬
‫آنادی کا ‪ 72‬قی صد اہ ِل سنّت و جماعت (سئی پرنلوی) ہیں‪ ،‬ان سے کیا سلوک ہورہا ہے؟ سئی پرنلوی تحمدہ یعالی نسدد نسید‬
‫ُّ‬
‫بھی نہیں‪ ،‬تجرپب کار بھی نہیں۔ سئی پرنلوووں کے ‪ 98‬قی صد لوگ قیام ناکسیان کے جامی اور تجرنک ناکسیان کے کارکن‬
‫ب ھے۔ انہیں آج بھی کونی قانل ذکر تماپیدگی نا ان کے حفوق جاصل نہیں۔ جب کہ وہ گروہ حس کے ‪ 98‬قی صد لوگ قیام‬
‫ناکسیان کے مجالف اور کانگرنس کے معاون بھے اور آج بھی حس طرز و طروق کو اپیاے ہوے ہے‪ ،‬اس کے ناوخود جکمراووں‬
‫پر ”جاوی“ ہے۔ جکمران اپیا ہی پیادیں کہ کیا انہیں نہیں معلوم کہ اہ ِل سنّت و جماعت کون ہیں؟ انک کالعدم پ یطتم‬

‫کے جاتے نہجاتے لوگوں کی ”اہ ِل سنّت والحماعت“ کے نام سے پ یطتم ک توں ”رحشیر“ کی گئی؟ کیا کسیدگی پڑھاتے کی اس‬
‫سازش میں ”جکومت“ سامل سمار نہیں ہوگی؟ کبئے نارک اور نلے گراؤنڈ (کھ یل کے میدان) خو غوام کے لئے بھے انک گروہ‬
‫تے ق یصہ کرکے ان پر مسجد و مدرسہ کی عمارت کیسے پیالی؟ جکومت اور م یعلفہ ادارے کیا کرتے رہے؟ مسجد و مدرسہ سے‬
‫گولی اور گالی کا اسیعمال کس تے سروع کیا؟ عید میالدالبئی ﷺ ملک میں قومی پ توہار بھی ہے اس کے جالف نہاپت‬

‫ی‬
‫نامیاشب وال جاکیگ‪ ،‬تمقلیس اور ووسیرز کی قستم پر جکمران ک توں جاموش رہئے رہے؟ گسیاچی سے بھرے مواد کی کیاووں پر‬
‫وزارت مذہئی امور ایعام اور اووارڈ ک توں د پئی رہی؟ اولیا ء ا ہّٰلل کے مزارات اور ان سے ملحفہ مساجد میں ان لوگوں کا عمل دجل‬
‫ک توں ہے‪ ،‬خوان کے مجالف ہیں؟ گسیاچی و تے ادنی سے بھروور تجرپر و یقرپر کا وونس بہ لیا جاے اور خق و ضواب کا خواب‬

‫معیرضہ ب ھہرانا جاے وو کیا کسیدگی ختم ہوسکے گی؟ جکمراووں کے جاپب دارابہ روتے اور طرز عمل ہی تے بہ دن دکھاے ہیں‪،‬‬
‫ُ‬
‫ضرورت ہے کہ اس پیج کی سیاجت کی جاے حس تے بہ فصل اگانی ہے‪ ،‬اس روتے کو ختم کیا جاے خو کسیدگ توں کو‬
‫پڑھاوا د پیا ہے‪ ،‬خق نلقی کا سدناب کیا جاے۔ علط نالیسیاں اور عدل و ایصاف کے میاقی اقدام ہر گز امن و ا مان کے قیام‬
‫میں معاون نہیں ہوں گے۔“‬
‫الیکیرانک می ڈنا پر نہت سور کیا جانا ہے کہ علما انک دوسرے کے پیحھے تماز نہیں پڑھئے۔ اپیکر پرشن خوں کہ ضروری د پئی‬

‫معلومات سے نانلد اور تے نہرہ ہوتے ہیں انہیں نہیں معلوم کہ سرعی د پئی ناووں میں کس قدر احبیاط ضروری ہے۔ مید ِان‬
‫کرنال میں وواسہ رسول سیدنا امام حسین رصی اّٰللہ عتہ تے اکگ اذان اور تماز کا اہتمام ک توں کیا؟ رسول اّٰللہ ﷺ تے کعتہ کی‬
‫ی‬
‫سمت کی عطتم بہ کرتے والے مسلمان کی اقیداء سے م یع فرمادنا ب ھا۔ ان اپیکرز کو امامت کی سرایط معلوم ہیں کیا؟‬
‫میاففوں کے نارے میں فرآنی آنات ساند انہوں تے نہیں پڑھیں۔ حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی تے مسیلہ‬
‫امامت کے ع توان سے ووری کیاب یصب یف فرمانی ہے۔ اتماپیات اور اسالمیات میں لب کسانی کرتے ہوے تے احبیاطی‬
‫سیگین علطی ہے۔‬

‫”نی کے“ انک قلم‪ ،‬عامر جان نامی بھارنی اداکار تے پیانی ہے حس کا نہت سہرہ ہے۔ اس قلم کا مرکزی خیال‬
‫٭‬
‫نہی ہے کہ انسان پر کسی دین دھرم کی جھاپ قدرت تے نہیں‪ ،‬خود انسان تے لگانی ہے۔ بہ قلم م یعدد معیرضہ ناووں کا‬
‫محموعہ ہے۔ ان پرپ نٹ پر اس کے خوالے سے نہت کحھ کہا گیا۔ ممیاز اشکالر ڈاکیر عامر لیاقت حسین تے بھی ا س نارے‬

‫میں ا پئے نی وی سو میں اظہ ِار خیال کیا۔ ابیر پ نٹ پر انک صاجب ِ علم ککھئے ہیں‪” :‬کحھ دن نہلے انک ”نی کے“ نامی قلم‬

‫کے نارے میں سبئے کا ایقاق ہوا کہ اس میں معروف نالی وڈ اداکار عامر جان تے انک دوسرے سیارے کی مجلوق کا کردار‬
‫ادا کیا ہے۔ قلم کی کہانی کحھ ووں ہے کہ خیاب عامر جان صاجب کسی دوسرے سیارے سے ہماری زمین پر نسریف التے‬
‫ہیں ان کے گلے میں انک ”الکٹ“ ہونا ہے حس کی وجہ سے بہ ا پئے سیارے والوں کے سابھ را یطے میں ہوتے ہیں‪ ،‬اس‬
‫کی اہمنت کحھ ووں بھی زنادہ ہے کہ یعیر اس کے عامر جان صاجب ا پئے سیارے کے لوگوں کو نال نہیں سکئے جب ُنال نہیں‬
‫سکئے وو وانس بھی نہیں جاسکئے …… ہونا کحھ ووں ہے کہ بہ الکٹ عامر جان سے انک پیدہ جھین لبیا ہے …… بھر عامر‬
‫جان اس کو نالش کرتے کرتے انڈنا کے سہر دلی میں نہیچ جاتے ہیں وہاں جب بہ لوگوں سے ا پئے الکٹ کا ووجھئے ہیں وو‬

‫شب لوگ کہئے ہیں کہ بھگوان ہی جاپیا ہوگا‪ ،‬نا بھگوان ہی تمہاری مدد کرسکیا ہے …… عامر جان کے لئے بہ لفظ پیا ہونا ہے‬
‫کہ وہ بھگوان کی نالش میں یکل پڑنا ہے کہانی آگے جلئی جانی ہے وو خیاب عامر جان صاجب پرنسان یظر آتے ہیں کہ ہیدو‬
‫کا بھگوان اور ہے غیساپ توں کا اور؟ مسلمان کسی اور جدا کو ما پئے ہیں اور ِسکھ کسی اور کو …… ہر انک تے اپیا اپیا طریفہ‬
‫ن‬
‫پیانا ہوا جدا نک ہیحئے کا …… جب عامر جان صاجب ہر مذہب کے طریفہ کو اپیاکر جدا سے الکٹ ما نگئے ہیں اور الکٹ بھر‬
‫بھی نہیں ملیا وو بہ خیاب دل پرداشتہ ہوتے ہیں اور بہ ذہن پیا لبئے ہیں کہ بہ مسلمان ہیدو غیسانی ِسکھ وعیرہ انساووں کے‬
‫پیاے ہوے مذہب ہیں اگر جدا تے بہ مذہب پیاے ہیں وو ہر انک کے تحھوارے (پیحھے) پر انک انک بھیا ہونا کہ بہ‬

‫مسلمان ہے‪ ،‬بہ سکھ ہے‪ ،‬بہ غیسانی ہے…… لہذا جب انسا نہیں ہے وو پیا جال کہ بہ جدا ساجتہ مذاہب نہیں انساووں کے‬
‫خود ساجتہ ہیں اور ان کا یعلق جدا سے ہے ہی نہیں اسے وہ اپئی اصطالح میں رانگ تمیر کہئے ہیں …… اس نات کا پ توت‬
‫قلم کے آخر میں عامر جان کے اس سین سے بھی ملیا ہے کہ جب عامر جان صاجب تیسوی (ہیدو پیڈت) کو خواب د پئے‬
‫ہوے کہئے ہیں حس کا مقہوم کحھ ووں ہے کہ ”کون ہیدو‪ ،‬کون مسلمان‪ ،‬بھیا کدھر ہے دکھاؤ؟ (بہ مذہب) تمہارا بھگوان‬
‫نہیں یم پیانا ہے اور بہ اس گوال (زمین) کا شب سے ڈ پیجر (حظرناک) رانگ تمیر ہے“ بہ بھا اس‬

‫مووی کا جالضہ …… اس مووی کو دنکھئے کے یعد بہ نات واصح ہوجانی ہے کہ قلم پیاتے کا مفصد جدا کا ایکار‬

‫نہیں نلکہ مذاہب کا ایکار ہے بھر جاہے وہ اسالم ہو نا ہیدو ازم نا سکھ ازم؟ کہ ان مذاہب تے انسان کو خوڑتے کی تجاے‬
‫ووڑا ہے اور بہ مذاہب جدا تے نہیں پیاے نلکہ انساووں تے پیاے ہیں …… ہمیں اس سے کونی سروکار نہیں کہ ہیدو‪،‬‬

‫غیسانی‪ ،‬سکھ اس قلم کے نارے میں کیا راے د پئے ہیں ہمیں وو ا پئے مسلمان بھانی نہ توں کا اتمان تجانا ہے کہ کہیں وہ ا‬
‫س قلم کی استوری اور مفصد کو دنکھ کر اسالم دسمن پراپیگیڈا کا شکار بہ ہوجاتیں اور اتمان سے ہابھ دھو تبتھیں“۔‬
‫٭‬

‫”تجربہ ناؤن“ اور رناض ملک کے ناموں تے گزشتہ کحھ پرسوں میں اپئی خو ”دھاک“ پتھانی اور جمانی ہے وہ ستھی‬

‫کے سا مئے ہے۔ ضرف ”قانلز“ ہی کے وہ کارونار ہوے ہیں کہ کیا کہیں! راووں رات امیر تبئے کی دوڑ کگ گئی۔ صجراے‬

‫بھر میں صاف نانی کی فراہمی نہیں ہوسکی‪ ،‬پتمارووں کا سلسلہ بہ روکا گیا۔ پیانا گیا ہے کہ بھر کا صجرا ‪ 85‬قی صد انڈنا کے‬

‫ناس ہے اور سرسیز ہے جب کہ ‪ 15‬قی صد عالفہ ناکسیان کے ناس ہے اور مقلوک الجال ہے۔ ڈاکیر ظاہر رق تق محب وطن‬
‫اور مجلص ناکسیانی ہیں۔ آسان او رنہیرین جل تجوپز کررہے ہیں ل یکن ساند کونی ”جل“ جاہیا ہی نہیں۔ رناض ملک صاجب‬
‫تے مساجد پیاتے کی بھانی‪ ،‬الہور میں پیادی اور کراچی میں سروع کررہے ہیں۔ یعمیر مساجد کونی انسا کام نہیں کہ اس کی‬
‫مجالقت کی جاے نا اسے مبیازعہ پیانا جاے لیکن مساجد پیاتے اور نساتے کے لئے کیاکحھ کرنا ہونا ہے‪ ،‬عیر مبیازع رکھئے کے‬
‫لئے کیا کرنا ہونا ہے؟ ان شب ناووں کو تیش یظر بہ رکھا جاے وو مسانل سر ابھاتے ہیں اور فرفہ وارابہ کسیدگی پڑھئی ہے۔‬

‫انک گروہ کی طرف سے مساجد پر ق یضے کی کبئی ہی شکانات نہلے ہی سے اس معاسرے کو پرنسان کئے ہوے ہیں۔ رناض‬
‫ملک صاجب کی پ نت میں کبیا یفوی اور جلوص ہے؟ مساجد پر لگانی جاتے والی رقم کبئی صاف ستھری ہے؟ ان مساجد کا‬
‫اپ یطام و ایضرام کس کے ہابھ رہے گا؟ اپئی پڑی مساجد آناد رکھئے کا کیا سلسلہ ہوگا؟ کیا ہی اجھا ہو کہ بہ مساجد محض اپئی‬
‫ن‬
‫عمارات اور خوش تمانی کا خوالہ بہ ہوں نلکہ فرآن و سنّت کی یعلتمات کے مطاوق اس مفصد کی کمیل ہو حس کے لئے‬
‫مساجد پیانی جانی ہیں۔‬

‫”دارالعلوم پری وورنا“ خ تونی افریقا کے دارالجکومت پری وورنا کے عالقے لوڈیم میں ‪ 25‬پرس نہلے قایم ہوا بھا‪ ،‬انک‬
‫٭‬
‫کمرے سے سروع ہوتے واال بہ مدرسہ اب م یعدد عمارات پر مستمل ہے اور تین سہروں میں اس کی ساحیں قایم ہوجکی ہیں‬

‫ی‬
‫اور ‪ 17‬مماکک کے ظلیا نہاں علتم و پرپ نت جاصل کررہے ہیں۔ حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی نہلے دن ہی‬

‫سے اس دارالعلوم کی بھروور معاوپت اور سرپرسئی فرمارہے ہیں۔ اسیاذ العلماء والفصالء مجدوم اہ ِل سنّت حضرت موالنا بیر سید‬
‫َ‬
‫ظ‬
‫س‬
‫ح‬
‫سل‬
‫اگرد رسید مقئی اعظم افریقا موالنا محمد اکیر ہزاروی اور موالنا جافظ محمد اسمعیل‬
‫س‬
‫کے‬
‫وری‬
‫و‬
‫ن‬
‫ا‬
‫ط‬
‫می‬
‫ا‬
‫ک‬
‫اہ‬
‫س‬
‫ن‬
‫اکدی‬
‫ن‬
‫ی‬
‫اووالحیر‬
‫ِ‬
‫َ‬
‫ہزاروی کی سیابہ روز ان بھک جدوجہد سے بہ دارالعلوم اس عالقے میں اپئی میال آپ ہے۔ اہ ِل سنّت و جماعت کی اس‬

‫درس گاہ سے ق یض ناقتہ ظلتہ دپیا بھر میں جدمات اتجام دے رہے ہیں۔ تثیرہئ اعلی حضرت موالنا محمد ووصیف رصا پرنلوی‬
‫ی‬
‫کے فرزند بھی اس درس گاہ میں زپر علتم رہے۔ انگرپزی زنان میں فر ِآن کریم کی نہلی یقشیر تیش کرتے کی شعادت بھی‬
‫اسی دارالعلوم کو جاصل ہونی۔ وومیر ‪2014‬ء میں اس دارلعلوم کا تچیس سالہ حسن نسکر ”سلور‬
‫خونلی“ میانا گیا حس میں ناکسیان‪ ،‬انڈنا‪ ،‬پرظاپیا‪ ،‬امریکا سمنت م یعدد مماکک کے علماء و مساتخ تے سرکت کی اور مقئی اعظم‬
‫اج تحسین تیش کیا۔ اس موفع پر نادگاری مجلہ بھی سا یع کیا گیا اور مسلسل ناتچ روزہ یقرپیات کا ایعقاد‬
‫افریقا کی جدمات کو خر ِ‬
‫ہوا ‪ ۰‬اس نادگاری مجلے میں حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی کی انک اہم تجرپر انگرپزی میں یع توان ”اہ ِل سنّت و‬
‫ُ‬
‫جماعت“ سا یع ہونی اس کا اردو پرجمہ ہم اس مجلے میں ا پئے قارتین کے لئے سامل کررہے ہیں‪:‬‬
‫اوو طئی (میجدہ عرب امارات) میں فبیلہ ایصار کے امیر اور میجدہ عرب امارات کی سرکردہ سحصنت فصیلۃ السیخ اجمد‬
‫٭‬
‫لّ‬
‫ل‬
‫ب‬
‫ب‬
‫ح‬
‫ہ‬
‫ی‬
‫م‬
‫ب‬
‫کل‬
‫الجزرچی کو بہ شعادت جاصل ہے کہ ان کے ناس جایم ا ین رجمۃ عا ین رسول اّٰللہ ﷺ کے س کڑوں بیرکات م فوظ یں۔‬
‫گزشتہ کحھ پرس سے م ِاہ رپ یع االول اور رمصان سریف میں ان کی عام زنارت کروانی جانی ہے۔ حطنب ِ ملت حضرت عالمہ‬
‫ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی تے ان بیرکات کی زنارت اور سیخ سے نالمسافہ مالقات کی خواہش ظاہر کی۔ اووطئی میں حضرت‬

‫حطنب ِ ملت کے عقیدت میدوں نالحصوص ہارون صاجب تے اس کا اہتمام کیا۔ حطنب ِ ملت ان بیرکات کی زنارت سے‬
‫مص‬
‫نہلے مدپتہ م تورہ نسریف لے گئے اور وہاں سے اووطئی آے۔ انہوں تے اووطئی کے فرپب فح کے عالقے میں تم ِاز جمعہ کے‬
‫م‬
‫اختماع سے حطاب بھی کیا اور اخیاب سے مالقات کی۔ السیخ الجزرچی سے ان کی یفصیلی مالقات ہونی حس کی کمل ُروداد‬
‫ُ‬
‫َ‬
‫مالقات میں سامل خیاب سیخ غب تق الرجمن تے انگرپزی اور اردو میں تجرپر کی حسے فیس نک پر بھی اپ لوڈ کیا گیا‪ ،‬اس‬
‫نادگاری مجلے میں قارتین کے لئے ہم وہ ُروداد سامل کررہے ہیں۔‬

‫موالنا محمد اووب الرجمن اوکاڑوی تے ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رجمۃ اّٰللہ علتہ کے خوالے سے اپئی‬
‫٭‬
‫نادداشت قلم پید کی ہے۔ اس سمارے میں ان کی وہ تجرپر بھی ہدنہئ قارتین ہے۔ اسیاذ العلماء والفصالء حضرت عالمہ موالنا‬
‫ق یض اجمد اونسی رجمۃ اّٰللہ علتہ تے پرسوں نہلے ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم علتہ الرجمہ کے نارے میں خو تجرپر‬
‫عطا کی بھی وہ ‪ 16‬ویں ساالبہ عرس کے سمارے میں سا یع ہونی بھی۔ ا پئے انگرپزی قارتین کے لئے اس سمارے میں ہم‬
‫اس تجرپر کا انگرپزی پرجمہ تیش کررہے ہیں۔‬

‫ُ‬
‫ہ‬
‫گ‬
‫م‬
‫ت‬
‫جامع مسجد ل ِزار حب نب یں تمازووں کے لئے بئے کے بھیڈے نانی کا خو اپ یطام بھا اس سے ا ِل مجلہ اور مسجد‬
‫٭‬
‫کے اطراف دکان دار زنادہ نانی لے جاتے بھے اور ناکیزگی اور صقانی کا خیال بھی نہیں رکھئے ب ھے۔ حضرت حطنب ِ ملت عالمہ‬

‫ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی نانی کی فراہمی رو کئے پر رصا مید نہیں ب ھے‪ ،‬ادھر جادمین اور اپ یطامتہ کو روزابہ کی شکانات سبئی اور‬
‫بھگبئی پڑتیں۔ حضرت حطنب ِ ملت تے موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) کی طرف سے مسجد کے ناہر مسیقل ”سبیل“ پیاتے‬
‫کا اعالن کردنا ناکہ لوگوں کو مسلسل نانی ملیا رہے اور شکانات کا بھی جاتمہ ہوجاے۔ گزشتہ پرس جھ الکھ روتے کی حطیر رقم‬
‫خرچ کرکے بھیڈے نانی کی سبیل لگانی گئی‪ ،‬تحتہ عمارت نہت عمدہ پیانی گئی اور اس میں نانی بھیڈا کرتے کے لئے‬
‫الیکیرک کولر یصب کیا گیا ہے۔ اّٰللہ یعالی کے فصل و کرم سے ہزاروں افراد اس سبیل سے ق یض ناب ہورہے ہیں۔‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫ی‬
‫گ‬
‫گ‬
‫گ‬
‫م‬
‫ل ِزار حب نب پرشٹ کے زپر اہتمام جا ع مسجد ل ِزار حب نب اور جامعہ اسالمتہ ل ِزار حب نب زپر عمیر ہیں۔ م ِاہ‬
‫٭‬
‫ضیام (‪ 1435‬ہجری) میں تمازووں کی سہولت کے لئے مسجد کے ہال اور خواتین گیلری کو اپرکیڈنسیڈ‬

‫پیاتے کا پروگرام پیا۔ الجاج سیخ محمد سکیل اور خیاب الجاج سیخ ظہیر اجمد تے کحھ یعاون کیا۔ م ِاہ ضیام میں تماز پراوتح اور جمعہ‬
‫َ‬
‫کے اختماعات کے دوران ‪ 42‬ین سے زنادہ کے ناور اپرکیڈنسیڈ لگاے گئے اور انک ماہ کے لئے حین رے پر کراے پر‬
‫جاصل کیا گیا۔ تمازووں تے گرمی کے موسم میں اس سہولت سے نہت آرام نانا اور خوش ہوے۔ اس ارادے کی اپیدا کرتے‬
‫ہوے اخراجات کا کسی قدر تحمنتہ لگانا گیا بھا لیکن تجلی کی واپرنگ اور ضرورت کے مطاوق تجلی کی مقدار کی فراہمی کے‬

‫اخراجات اور اہتمام کا وورا اندازہ نہیں لگانا گیا بھا۔ ماہ ضیام کے یعد خیاب مجدوم قاروقی اور اتچنثیر سید جماد حسین کے یعاون‬
‫سے کے الیکیرک کو مسجد کے لئے ‪ 250‬کلو واٹ کی اکگ نی ایم نی کی پ یصنب کی درخواشت دی گئی۔ اس کے نہت‬
‫ن‬
‫زنادہ اخراجات (تجاس الکھ روتے سے زاند) اور مراجل کی کم یل کے لئے کوشسیں جاری ہیں۔ اّٰللہ یعالی کے فصل و کرم‬
‫سے امید ہے کہ بہ تمام کام آتے والے م ِاہ ضیام سے قیل وورے ہوجاتیں گے‪ ،‬ان ساء اّٰللہ یعالی‬
‫٭‬

‫مسجد کے ہال کی ج ھت پر نارش کا جمع ہوتے واال نانی ج ھت کے کیارے لگاے گئے نالوں سے مسجد کے صحن‬

‫میں گرنا بھا حس سے نہت سی شکانات بھیں‪ ،‬اس نانی کی یکاسی کا معفول اپ یطام کیا گیا۔ عالوہ ازیں مسجد کے مجراب‬
‫کے ناہر تماز خیازہ کی مسجد سے ناہر ادانی کے لئے فرش پر مارنل کگوانا گیا‪ ،‬دنگر م یعدد کام اس کے عالوہ ہوے۔‬

‫گزشتہ پرس عرس سریف میں آتے والے اور اس وقت سے اب نک ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رجمۃ‬
‫٭‬
‫ُ‬
‫ات تحسین ہی سئے گئے۔ حطنب ِ ملت‬
‫اّٰللہ علتہ کے مزار سریف کی زنارت کرتے والے ہر سحص سے یفصلہ یعالی کلم ِ‬
‫ن‬
‫حضرت عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی تے ا پئے واکدین کرتمین کے مزار سریف کی یعمیر و کمیل اور پزتین و آرانش میں اپئی‬
‫محنت و عقیدت کا خوب خوب مطاہرہ کیا ہے۔ مزار سریف کی عمارت کے اطراف لوہے کی خوش تما جالی بھی لگادی گئی‬

‫ہے۔ می ڈنا کی مشہور اور ہر دل عزپز سحصنت ڈاکیر عامر لیاقت حسین اپئی اہلتہ اور تجوں کے سابھ مزار سریف پر نسریف‬
‫الے اور یعمیر و پزتین کو نہت زنادہ سراہا۔ ان کا کہیا بھا کہ وہ اسی جگہ انک پروگرام رکارڈ کریں گے۔ مزار سریف کے یعونذ‬
‫کا کام مارنل مارکنٹ کے خیاب محمد الیاس کی معرقت خیاب ذوالفقار علی کو وومیر ‪2013‬ء میں دنا گیا بھا‪ ،‬انہوں تے از خود‬

‫ن‬
‫ناتچ ماہ میں کم یل کا وعدہ کیا ب ھا لیکن طرح طرح کی مشکالت کا عذر کرکے انہوں تے دو سال کا عرضہ گزار دنا اور اب بھی‬
‫وہ مزند وقت کا یقاصا کررہے ہیں۔ النانی مارنل کے الجاج محمد اقیال سے رایطہ کیا گیا ہے۔ ان ساء ا ہّٰلل یعالی ووفع ہے کہ‬
‫ان کے یعاون سے نہت جلد مزار سریف کا یعونذ بھی پیار ہوجاے گا۔‬

‫٭‬

‫‪ 31‬ویں ساالبہ عرس میارک کی نہلی نشست میں وہ خوش گوار اور نادگار لمحہ بھی آنا جب حضرت حطنب ِ ملت عالمہ‬

‫ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی تے ملیان سے آے ا پئے ہم نام انک ووخوان (محمد کوکب وورانی ملیانی) کا یعارف کروانا۔ بہ ووخوان‬
‫ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم علتہ الرجمہ کی زندہ کرامت ہے۔ اس کے واکد محیرم سے یفصیل مالحطہ فرماتیں‪:‬‬
‫”موالنا محمد کوکب وورانی ملیانی کے واکد ِ محیرم قاری محمد رمصان قادری ککھئے ہیں‪:‬‬

‫ُ‬
‫ع‬
‫محھے ا پئے زمابہ ظالب لمی میں ہی حضرت اوکاڑوی صاجب کی یقارپر اور ان کی سحصنت سے محنت اور‬
‫عسق بھا۔ جہاں بھی قیلہ اوکاڑوی صاجب رجمۃ ا ہّٰلل علتہ کا جلشہ ہونا جہاں نک ممکن اور وشعت ہونی ہیں ضرور جاضری د پیا۔‬
‫ع‬
‫اب ذی سان‬
‫انک مرپتہ سرزمین ملیان قلعہ کہتہ قاسم ناغ پر حضرت حطنب ِا ظم ناکسیان رجمۃ اّٰللہ علتہ کا حط ِ‬
‫بھا۔ نہت سحت گرمی کا موسم بھا‪ ،‬حسک سالی کا عالم بھا جب حضرت حطنب ِاعظم ناکسیان رجمۃ اّٰللہ علتہ تے ملیان کی‬
‫دوران یقرپر آپ رجمۃ ا ہّٰلل علتہ تے فرمانا‪ ،‬ملیان والو! آسمان پر دنکھو کہیں نارش کا امکان‬
‫غوام کو گرمی میں پرنسان دنکھا وو ِ‬
‫ک‬
‫نہیں‪ ،‬کونی نادل کا ساماں نہیں‪ ،‬آپ تے اپئی کھی ہونی پئی چی کی لوری پڑھیا سروع فرمانی۔ ابھی تین شعر مشکل سے‬
‫پڑھے ہوں گے کہ نادل گرخئے کگے اور آسمان سے نارش جھم جھم پرسئے کگی۔‬

‫حضرت اوکاڑوی صاجب قیلہ رجمۃ اّٰللہ علتہ تے مسلسل ا پئے حطانات میں میری خوش و خروش سے جاضری کو‬

‫سراہا‪ ،‬اکیر یقرپر کے یعد مالقات کاوقت مشکل سے د پئے بھے۔ لیکن محھ فقیر پر یظر عیاپت فرمانی اور تے سمار مقامات پر‬
‫یقرپر کے یعد نہت دپر نک محھ فقیر کے سابھ مجو گقیگو رہئے۔‬

‫محھے اّٰللہ یعالی تے آبھ پبب توں (‪ )Daughters‬سے ووازا ہے جب میرے ہاں آبھویں تبئی کی والدت ہونی وو‬
‫کحھ دل پرنسان سا ہوگیا۔ خید دووں یعد ہی حضرت حطنب ِ اعظم ناکسیان رجمۃ ا ہّٰلل علتہ کا حطاب ملیان کی سرزمین پر ہوا۔‬
‫حسب ساوق یقرپر کے یعد حضرت قیلہ حطنب ِ ناکسیان رجمۃ اّٰللہ علتہ سے گقیگو ہونی وو آپ فرماتے کگے موالنا! آپ‬
‫ُ‬
‫آج کحھ پرنسان سے کگ رہے ہیں‪ ،‬جہرے پر کحھ اداسی محسوس ہورہی ہے‪ ،‬حضرت کا بہ جملہ ادا فرمانا بھا کہ میری آنکھوں‬
‫سے آنسوؤں کی لڑی جھڑتے کگی۔ حضرت حطنب ِ ناکسیان رجمۃ اّٰللہ علتہ تے خوصلہ افزانی فرمانی اور جال درناقت کیا وو میں‬
‫تے وورا وافعہ عرض کیا کہ حصور انک مسجد کا ضرف امام ہوں‪ ،‬اّٰللہ یعالی تے نہت پڑی ذمہ داری سوپپ دی ہے اور ابھی‬
‫نک اوالد پرپتہ سے مجروم ہوں۔ حضرت تے یگ ِاہ شفقت سے دنک ھا اور کحھ وط یفہ پڑھئے رہے۔ مسلسل دس منٹ پڑھئے کے‬

‫یعد آپ رجمۃ ا ہّٰلل علتہ تے دعا فرمانی اور فرمانا جاتیں جافظ صاجب اّٰللہ یعالی آپ کو انک تبیا عطا فرماے گا‪ ،‬میں تے اضرار کیا‪،‬‬
‫ُ‬
‫حصور کم از کم دو وو ہوں۔ حضرت صاجب تے فرمانا موالنا انک پر ایقاق کریں بہ انک ہی دو کے پراپر ہوگا۔ اس سال حضرت‬
‫صاجب تے اختماع میں فرما دنا بھا ملیان والو‪ ،‬تمہارے لئے آخری حطاب ہے۔‬

‫محھے دعاتیں د پئے کے یعد حضرت وانس کراچی نہیجے وو ان کا اپ یقال ہوگیا۔ آپ کا اپ یقال ‪1984‬ء میں ہوا۔ آپ‬

‫کے اپ یقال کے انک سال یعد ‪1985‬ء میں‪ ،‬میں انک رات حضرت اوکاڑوی صاجب رجمۃ ا ہّٰلل علتہ کی یقرپر کی کیسنٹ سبئے‬
‫سبئے سوگیا وو حضرت عالمہ اوکاڑی صاجب رجمۃ ا ہّٰلل علتہ کی خواب میں زنارت ہونی وو میں تے خواب میں بھر عرض کی‪ ،‬حصور‬
‫آپ کے جادم کی ابھی نک جھولی جالی ہے۔ آپ تے خواب میں بھی ارساد فرمانا‪ ،‬موالنا‪ ،‬ہم تے خو کہا بھا وہ ان ساء ا ہّٰلل ضرور‬

‫ہوتے واال ہے۔ بھیک انک سال یعد ‪1986‬ء میں ا ہّٰلل یعالی تے حضرت عالمہ اوکاڑوی رجمۃ اّٰللہ علتہ کی دعاؤں سے محھے تبیا‬
‫عطا فرمانا۔ میں حضرت قیلہ اوکاڑوی صاجب رجمۃ ا ہّٰلل علتہ کی ہر ہر ادا کو اپیاتے کی کوشش کرنا بھا‪ ،‬حس طرح وہ لیاس‬
‫نہبئے بھے ونسا لیاس نہبئے کی کوشش کرنا بھا۔ حس طرح میں ہر ادا کو اپیاتے کی کوشش کرنا بھا نالکل اسی‬
‫طرح میں تے حضرت واال کے صاجب زادے کے نام پر ا پئے فرزند کا نام رکھا ہے۔‬

‫الحمد ّٰللہ‪ ،‬ا پئے تبئے کو حطنب پیانا ہے‪ ،‬ایم اے اسالمیات کروانا ہے۔ حس طرح حضرت عالمہ کوکب وورانی‬
‫اوکاڑوی صاجب ‪ PHD‬ہیں اس طرح میرا بہ سوق ہے کہ میرا تبیا محمد کوکب وورانی ملیانی بھی ‪ PHD‬کرے۔ ان ساء‬
‫اّٰللہ حضرت کی دعاؤں سے ضرور کرے گا۔“‬

‫موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) تے فیس نک پر اکادمی کے عالوہ حضرت حطنب ِ اعظم‪ ،‬حطنب ِ ملت اور جامع مسجد‬
‫٭‬
‫ُ‬
‫ف‬
‫ی‬
‫گ‬
‫پ‬
‫ی‬
‫ن‬
‫س‬
‫ح‬
‫ل ِزار حب نب کے آ ی ل فین یج پیاے ہوے ہیں ل کن د کھا گیا ہے کہ حضرت طنب ِ ملت کے نام پر کحھ لوگوں تے‬
‫ازخود فین پیج پیار کھے ہیں اور ان میں وہ اپئی مرصی سے یصاوپر اور معلومات خڑھاتے رہئے ہیں۔ ان کی محنت و عقیدت پر شتہ‬
‫ف‬
‫نہیں لیکن ا نسے دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ خیال رکھیں کہ ان کی کونی نادانی کسی علط ہمی‪ ،‬ندگمانی نا م یقی ناپر کا‬
‫ناعث ہوسکئی ہے اور سحصنت نا کام کو یفصان نہیجا سکئی ہے۔ احبیاط کا نہی یقاصا ہے کہ ا نسے تمام دوشت ا پئے پیاے‬
‫ف‬
‫ہوے فین پیج ختم کردیں ناکہ کسی علط ہمی کی گیجانش ہی بہ رہے۔‬

‫٭‬

‫م ِاہ ضیام میں ناکسیان پیلے وژن سے یع توان ”معجزے میرے پئی ﷺ کے“ حضرت حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب‬
‫وورانی اوکاڑوی کے ‪ 30‬پروگرام روزابہ پیلے کاشٹ ہوے اور تحمد ہللا یعالی نہت نسید کئے گئے۔‬

‫ممیاز اشکالر اور نام َور نی وی م یگا اسیار خیاب ڈاکیر عامل لیاقت حسین تے ‪1435‬ہجری کے م ِاہ ضیام میں انکس‬

‫پرنس نی وی کو اپئی جدمات فراہم کیں۔ انکس پرنس پ توز چے نل سے روزابہ افطار سے قیل دو گھبئے کی نسرنات حضرت‬
‫اعر اہ ِل سنّت موالنا پیار علی اجاگر اس‬
‫حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی کے سابھ نشست تیش کی گبیں۔ س ِ‬
‫پروگرام کے میزنان بھے۔ نکم رمصان المیارک سے ‪ 20‬رمصان نک بہ سلسلہ جاری رہا اور ملک و بیرون ملک ناطرین کی پڑی‬
‫یعداد تے اسے دنکھا اور سراہا۔ ‪ 20‬رمصان سے آخری شب نک افطار و سجر میں حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی‬

‫اوکاڑوی کو ڈاکیر عامر لیاقت حسین تے ا پئے پروگرام میں سامل رکھا۔حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی وورے م ِاہ‬
‫ضیام میں افطار کی دعاے کرواتے اور تماز معرب کی امامت کراتے رہے۔‬

‫م ِاہ رپ یع االول میں جاند رات سے نارہ رپ یع االول نک ناکسیان پیلے وژن سے خیاب ڈاکیر نلید اقیال کی میزنانی میں‬

‫رسول مکرم ﷺ اور صجابہ کرام و اہل پ نت ِ اظہار کے نذکار تیش‬
‫حضرت حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی روزابہ ِ‬
‫کرتے رہے‪ ،‬اس پروگرام کو بھی نہت نسید کیا گیا۔‬

‫اس سال بھی م ِاہ رجب‪ ،‬م ِاہ شعیان‪ ،‬م ِاہ رمصان‪ ،‬م ِاہ مجرم اور م ِاہ رپ یع ال تور اور اس کے عالوہ بھی نی نی وی‪ ،‬ون نی‬

‫وی‪ ،‬آج نی وی‪ ،‬اے آر وانی ڈی چی نل‪ ،‬خ تو نی وی‪ ،‬خ تو پ توز‪ ،‬ڈان نی وی‪ ،‬سماء نی وی‪ ،‬انکس پرنس نی وی‪ ،‬سی این نی‬
‫سی‪ ،‬وقت نی وی‪ ،‬اِ ن ڈس نی وی‪ ،‬منٹ رو َون نی وی‪ ،‬اے نی وی‪ ،‬ک تو نی وی سے حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب‬
‫وورانی اوکاڑوی کے م یعدد پروگرام پیلے کاشٹ ہوے اور نہت نس ید کئے گئے۔‬

‫ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رجمۃ ا ہّٰلل علتہ کی رہانش گاہ کے لئے سارع ق یصل سے آمد و رقت کا راشتہ‬

‫٭‬

‫پید کئے سات پرس ہورہے ہیں‪ ،‬ہمیں نہیں معلوم کہ مبیادل معفول راشتہ دتے یعیر انک پڑی آنادی کا راشتہ‬

‫پید کرد پیا کون سا قاوونی‪ ،‬اجالقی‪ ،‬ایصاف اور کون سا ”پرقیانی کام“ ہے؟ نارش اور وی آنی نی موومنٹ میں اس عالقے کے‬
‫مکب توں کے لئے سارع ق یصل کے آر نار جاتے کی کونی راہ نہیں رہ جانی۔ سیدھی مسلم سوساپئی کا خوراہا پید کرتے والوں تے‬
‫اس عالقے کے لوگوں کے لئے مسلسل آزار کا خو سامان کیا ہے اس کا ”وونس“ لبئے واال کونی نہیں۔ ہزاروں لوگوں کے‬
‫را سئے پید کرکے سگیل فری کورے ڈور پیاتے والے ک توں بھول جاتے ہیں کہ وہ جاتے کبئے لوگوں کی خق نلقی کے مجرم‬
‫بھہرتے ہیں اور ان کے لئے مسلسل اذ پت کا سامان کرتے ہیں۔‬
‫٭‬

‫ُ‬
‫ب‬
‫گ‬
‫م‬
‫ح‬
‫ہر سال عید میالد البئی ﷺ کے موفع پر نارہ رپ یع ال تور کو جامع مسجد ل ِزار ب نب یں افطاری کا اہتمام ھی‬

‫اخیاب کی طرف سے کیا جانا ہے حس میں ہزاروں افراد سرکت کرتے ہیں۔ کراچی کے مجدوش جاالت کے تیش یظر مسجد‬
‫کے اندر اور اطراف سیک تورنی کتمرے بھی لگاے گئے ہیں اور کوشش کی جانی ہے کہ مسجد میں آتے والے تمازووں کو ہر‬
‫طرح سہولت اور آسانی رہے۔ مسجد کے اطراف کی دووار کا انک حصہ یفصلہ یعالی مسجد پ توی سریف کے یقسے کے مطاوق‬

‫م‬
‫م‬
‫پیالیا گیا ہے‪ ،‬ان ساء ا ہّٰلل ناقی حضے کی یعمیر کا کام بھی جلد کمل کیا جاے گا۔ مسجد کے مبیار کی یعمیر بھی ابھی نا کمل‬
‫ن‬
‫ہے۔ آپ سے اسیدعا ہے کہ یعمیر میں یعاون فرماتیں اور دعا بھی فرماتیں کہ جلد بہ کام نانہئ کمیل کو نہیجے۔‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫ب‬
‫ن‬
‫گ‬
‫ج‬
‫گ‬
‫م‬
‫ت‬
‫ت‬
‫م‬
‫م‬
‫لس خوا ین ل ِزار حب نب“ کی کارکردگی ھی قا ِل سیانش ہے۔‬
‫٭‬
‫جا ع مسجد ل ِزار حب نب یں خوا ین کے لئے ” ِ‬
‫ی‬
‫ی‬
‫گ‬
‫ج‬
‫لس خواتین تے گزشتہ پرسوں میں تماناں‬
‫خواتین میں دین سے آ ہی اور زندگی میں پ کی سے وانس گی کا سوق پڑھاتے کے لئے م ِ‬
‫کام کیا ہے۔ ہر ماہ جاند کی ‪ 2‬اور ‪ 21‬نارتخ کو ظہر اور عضر کے درمیان جلقہئ ُدرود سریف کا نسلسل گزشتہ کئی پرس سے‬
‫اس مجلس کے زپر اہتمام جاری ہے۔ دو گھبئے کی اس نشست میں حص ِور اکرم ﷺ کے میارک نام کے عدد کی میاسنت سے‬

‫‪ 92‬منٹ ُدرود سریف کا ِورد ہونا ہے اور ضروری عقاند اور مسانل سے آ گاہ کرتے کے لئے مح یضر درس الزمی رکھا گیا ہے۔‬
‫ُدرود سریف کا ِورد اور اختماعی ُدعا مسانل و مشکالت کے جل میں تحمدہ یعالی اکشیر ناپت ہونی اور سیکڑوں خواتین ق یض ناب‬
‫ُ‬
‫درس فرآن سبئے اور جلقہئ ُدرود سریف میں سرنک ہوتے والی بہ خواتین اور کم شن تحیاں یعت خوانی اور‬
‫ہوتیں۔ سال بھر ِ‬
‫یقرپر کی پرپ نت بھی نہاں جاصل کرنی ہیں اور ہر سال ساالبہ محق ِل میالد سریف بھی م یعقد کرنی ہیں۔ گزشتہ آبھ پرس سے‬

‫حضرت ماں چی قیلہ رجمۃ ا ہّٰلل علتھا کا ساالبہ عرس میارک بھی اِ سی محقل میں میانا جانا ہے۔ اس سال بھی ہقتہ ‪ 24‬خ توری‬
‫‪2015‬ء کو ساالبہ محقل و عرس سریف کا ایعقاد ہوا۔ حضرت حطنب ِ ملت عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی کی پڑی ہمشیرہ‬

‫ج‬
‫حق‬
‫لس خواتین کی نگراں کے کلیدی حطاب کے‬
‫سدند عاللت کے ناوخود راول پیڈی سے نسریف التیں اور سرنک ِ م ل ہوتیں۔ م ِ‬
‫ج‬
‫لس خواتین کی کارکیان اور ان کی سابھ توں تے والہابہ عقیدت و اجیرام کے سابھ یعت و میاقب تیش کئے‪ ،‬بہ‬
‫عالوہ م ِ‬
‫یقرپب ناتچ گھبئے جاری رہی۔ اس محقل میں کونی مہمان حطنتہ نا یعت خوان مدغو نہیں کی جانی نلکہ مجلے ہی کی خواتین اور‬

‫مسیقل نہاں درس و جلفہ میں سامل ہوتے والی خواتین کو تماپیدگی دی جانی ہے اور ان کے د پئی اتمانی جذبہ و سوق پر ان‬
‫کی خوصلہ افزانی کی جانی ہے۔ اّٰللہ یعالی کے فصل سے اس کی پرکات ان شب کی زندگی میں ظاہر ہونی ہیں اور ان شب میں‬
‫پیکی پڑھی ہے۔ نہی خواتین سال بھر میں فر ِآن کریم کی نالوت اور ُدرود سریف کے مسلسل ِورد کا ہدبہ سمار کرکے حضرت‬
‫ع‬
‫ج‬
‫لس خواتین کی نگران اور‬
‫حطنب ِ ا ظم رجمۃ ا ہّٰلل علتہ کے ساالبہ عرس سریف میں ایصال وواب کے لئے تیش کرنی ہیں۔ م ِ‬
‫ان کی تمام سابھی خواتین کی بہ کاوسیں قان ِل تحسین ہیں۔ ا ہّٰلل یعالی انہیں مسلک ِ خق پر اسیقامت اور ان کی پیک توں پر‬
‫انہیں خزاے جیر عطا فرماے۔‬

‫موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) تے دپیا بھر میں موخود اہ ِل محنت و عقیدت کے لئے اِ ن پر پ نٹ پر حضرت حطنب ِ‬
‫٭‬
‫ُ‬
‫اعظم علتہ الرجمہ اور حطنب ِ ملت کی آڈوو‪ ،‬وڈوو یقارپر سبئے اور دنکھئے کے لئے ”نالگ“ (‪ )Blog‬پیادنا ہے۔ لفظ‬
‫َ‬
‫”‪ “www.okarvi‬ناپپ کیحئے اور گھر تبتھے ق یض ناب ہوں۔ عالوہ ازیں فیس نک پر بھی فین پیج پیاے گئے ہیں۔‬

‫تین پرس قیل امریکا میں مقتم خ یاب سید م تور علی ساہ تجاری تے ‪ Sunni speeches‬کے نام سے و پب ساپٹ پیانی‬
‫اور علما ے اہ ِل سنّت کی یقارپر کی رکارڈنگس اس میں جمع کی ہیں۔ اس سال ‪ okarvi speeches‬کے نام سے‬

‫انک اور و پب ساپٹ پیانی گئی ہے۔ اس و پب ساپٹ پر ضرف حضرت حطنب ِ اعظم اور حطنب ِ ملت کی سیکڑوں یقارپر‬
‫محفوظ کی جارہی ہیں۔‬

‫قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم علتہ الرجمہ کے ساالبہ عرس سریف کی یقرپیات میں اور ہر جمعۃ المیارک کو بھی‬
‫٭‬
‫ُ‬
‫ع‬
‫ہ‬
‫گ‬
‫ح‬
‫ح‬
‫ظ‬
‫ح‬
‫م‬
‫جامع مسجد ل ِزار حب نب یں اختماعی قاتحہ خوانی کا تمام ا ِل اتمان نال صوص ضرت طنب ِ ا م رجمۃ اّٰللہ علتہ کے‬
‫عقیدت میدوں اور وانسیگان کو ایص ِال وواب کیا جانا ہے۔‬

‫گزشتہ پرس سے نام دم تجرپر م یعدد سحصیات اور افراد اس جہ ِان قانی سے رجلت کرگئے۔ الجاج ووشف نار کی واکدہ‬
‫٭‬
‫محیرمہ زپ نب اجمد نار (امریکا)‪ ،‬حضرت موالنا نشیر اجمد سیالوی (امریکا)‪ ،‬خیاب جاکد محمود جان (کھال پٹ‪ ،‬ہزارہ)‪ ،‬مقئی اعظم‬
‫خ تونی افریقا محمد اکیر ہزاروی کی بھاتجی (عازی کوٹ‪ ،‬مانشہرہ)‪ ،‬الجاج ظارق مح توب صدیقی کے حجا محیرم (کراچی)‪ ،‬خیاب سیراز‬
‫خیکو کے نہ تونی مجی اکدین حسین داؤد (خ تونی افریقا)‪ ،‬مقئی اعظم ناکسیان مب نب الرجمن کے خواں سال فرزند ضیاء الرجمن‬
‫(کراچی)‪ ،‬الجاج قاری محمد عیدالط یف امجد کے پر ِادر پزرگ جاچی محمد سریف (ق یصل آناد)‪ ،‬الجاج سید اسد علی ساہ تجاری کی‬

‫ماموں زاد نہن (حسن اندال)‪ ،‬اتحمن ظلتہ اسالم کے خیاب محمد سریف سیالوی‪ ،‬الجاج سجاع اکدین سیخ کی اہلتہ محیرمہ‬
‫ّ‬
‫م‬
‫ج‬
‫ی‬
‫ص‬
‫گ‬
‫ی‬
‫ق‬
‫ل‬
‫ج‬
‫ع‬
‫ص‬
‫ح‬
‫(کراچی) مسجد ل ِزار ب نب کے پڑوسی فوب (کراچی)‪ ،‬قا ل ل ئی محمد اسرف آ ف اللی کی واکدہ محیرمہ (الہور)‪،‬‬
‫محیرمہ قاظمہ ہزاروی کی ساس صاجتہ اور موالنا جافظ محمد اسمعیل ہزاروی کی سمدھن (خ تونی افریقا)‪ ،‬حضرت قیلہ الجاج بیر سید‬
‫نافر علی ساہ تجاری (کیلیاں واال)‪ ،‬صاجب زادہ الجاج جامد ّرنانی اوکاڑوی کے شسر خیاب عمر آخوند (کراچی)‪ ،‬موالنا سید عمران‬
‫ضیانی کی اہلتہ کی نانی محیرمہ (خ تونی افریقا)‪ ،‬خیاب محمد ظہیر قادری کے واکد محیرم اور نہ تونی (خیدر آناد‪ ،‬سیدھ)‪ ،‬ممیاز حطاط‬
‫ُ‬
‫ی‬
‫گ‬
‫پ‬
‫خ‬
‫ت‬
‫گ‬
‫خیاب علی اجمد صاپر (الہور)‪ ،‬الجاج محمد ساجد کی خوش دامن ل زار م (کراچی)‪ ،‬خیاب ر م اکدین فرنسی کی خواں سال‬
‫اہلتہ (کراچی)‪ ،‬خیاب سید رتیس اجمد (گل نہار‪ ،‬کراچی)‪ ،‬خیاب پروفیسر اوواز اجمد زنی کی اہلتہ محیرمہ (کراچی)‪ ،‬سجادہ نسین‬
‫آسیابہ قادربہ سید اجمد ظقر گیالنی (یعداد سریف)‪ ،‬سید مکرم سلطان تجاری کی واکدہ محیرمہ (کراچی)‪ ،‬حضرت موالنا سید ضیاء‬

‫الجق ساہ سلطان ووری کی اہلتہ (راول پیڈی)‪ ،‬روزنامہ وواے وقت کے خیاب محید یطامی (الہور)‪ ،‬ممیاز یعت خواں سید اوصاف‬
‫علی ساہ (الہور)‪ ،‬اسیاذ العلماء موالنا عالم محمد وونسوی (پیجاب)‪ ،‬محیرمہ نی نی عانشہ ووچی (خ تونی افریقا)‪ ،‬بیرزادہ نانا مسیاق اسرقی‬
‫(پرہان وور‪ ،‬انڈنا)‪ ،‬سیخ الجدپث موالنا محمد سریف رضوی (بھکر)‪ ،‬حضرت الجاج سید حسن مبئی‬

‫اسرقی (انڈنا)‪ ،‬الجاج ضوقی محمد حسین الکھانی کے واکد طنب الکھانی (کراچی)‪ ،‬خیاب ضوقی عالم قادر کی ہمشیرہ محیرمہ (پیجاب)‪،‬‬

‫خیاب سید محمد حسن ہاسمی کی خوش دامن (کراچی)‪ ،‬حضرت بیر مودود حسئی کی واکدہ محیرمہ (ناک تین سریف)‪ ،‬خیاب وور ا ہّٰلل‬
‫کوکئی (خ تونی افریقا)‪ ،‬الجاج سید مثیر حسین ساہ تجاری (سیال کوٹ)‪ ،‬موالنا محمد صقدر علی (فصور)‪ ،‬خیاب شق یع اجمد قاروقی‬
‫(کراچی)‪ ،‬خیاب ق یصان رق یع کے بھوبھا (کراچی)‪ ،‬خیاب محمد قاروق کی دادی محیرمہ (کراچی) الجاج موالنا اووالقاسم متمن کے‬
‫ُ‬
‫ع‬
‫گ‬
‫واکد محیرم عیداککریم (کراچی)‪ ،‬خیاب حبید رصا کے واکد محیرم ساجد محمود (نہاول وور)‪ ،‬ل ِزار حب نب کے پڑوسی ناضر لی کی‬
‫واکدہ محیرمہ (کراچی)‪ ،‬خیاب سلتم اکدین فرنسی کی اہلتہ محیرمہ (کراچی)‪ ،‬خیاب امیر پیگ معصوم کے پر ِادر محیرم (کراچی)‪ ،‬الجاج‬

‫محمد پروپز اسرف کے واکدین (پ تو نارک)‪ ،‬حضرت موالنا ا ہّٰلل تحش اونسی (کراچی)‪ ،‬ساہد اووب فرنسی کے جالو جاند حسین (کراچی)‪،‬‬
‫محیرمہ تمنتہ قادری کے واکد سید پیاز اجمد (کراچی)‪ ،‬حضرت الجاج بیر فصل رسول خیدر کی ہمشیرہ محیرمہ (ق یصل آناد)‪ ،‬حضرت‬
‫صاجب زادہ سید عصمت علی ساہ تجاری (کیلیاں واال)‪ ،‬حطنب ِ ملت کی جالہ زاد نہن فردوس ظقر کی خواں سال دجیر (راول‬
‫ع‬
‫پیڈی)‪ ،‬حطنب ِ اہ ِل سنّت موالنا سثیر اجمد اظہری (کراچی)‪ ،‬حضرت صدر السریعہ کے فرزند موالنا قاری رصا المصطقی ا ظمی‬
‫(کراچی)‪ ،‬خیاب مریضی تب تو کے نہ تونی (اوکاڑا)‪ ،‬حضرت الجاج نانا محمد رناض رجمانی الساری (اوکاڑا)‪ ،‬موالنا محمد اسرف گورمانی‬

‫کی واکدہ محیرمہ (کراچی)‪ ،‬خیاب سید محمد اجمد ساہ کاظمی (لیدن)‪ KPT ،‬کے خیاب مظہر علی (کراچی)‪ ،‬خیاب عیداّٰللہ جان‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫گ‬
‫س‬
‫م‬
‫(عید گاہ‪ ،‬راول پیڈی)‪ ،‬جامع مسجد ل ِزار حب نب کے یخ محمد رسید عطاری کی واکدہ محیرمہ (کراچی)‪ ،‬جا ع مسجد ل ِزار‬
‫حب نب کے پڑوسی ملک سرور (کراچی)‪ ،‬سید المجدتین حضرت قیلہ سید اووالیرکات ساہ کے فرزند سید مشعود اجمد (الہور)‪ ،‬حضرت‬
‫می‬
‫م‬
‫خواجہ عالم جمید اکدین عظم (سرگودھا)‪ ،‬حضرت ضوقی محمد عیداّٰللہ جان نانی گھمکول مسجد (پر گھم)‪ ،‬آرمی خ یف جیرل راخ یل‬
‫سریف کی واکدہ محیرمہ (پیجاب)‪ ،‬یطیربہ مسجد‪ ،‬کاال نل کے نانی حضرت الجاج جل یفہ ضوقی علی حسن یقش پیدی (کراچی)‪ ،‬مسجد‬
‫ُ‬
‫ع ی‬
‫ع‬
‫گ‬
‫ت‬
‫ل ِزار حب نب کے پڑوسی جمسید (کراچی)‪ ،‬مسجد کے پڑوسی ظقر اجمد (کراچی)‪ ،‬موالنا رجب لی می (کراچی)‪ ،‬الجاج ساجد‬
‫یعفوب کے کزن محمد ق یصان (کراچی)‪ ،‬مشہور یعت خواں خیاب کلتم سرور (کراچی) …… بہ شب فصاے الہی سے وصال‬
‫فرما گئے۔ رپیا اعقر لیا وال خواپیا اکذین سیفونا ناال تمان‪ ،‬آمین‬

‫ہم انک مرپتہ بھر ان تمام اخیارات و خراند اور نی وی چے نلز کا سکربہ ادا کرتے ہیں ختہوں تے ہمارے قیلہئ عالم‬
‫حضرت حطنب ِ اعظم علتہ الرجمہ کے ساالبہ عرس سریف کے موفع پر حصوصی مصامین اور عرس میارک کی یقرپیات کی‬

‫جیریں تماناں سا یع کیں۔ ان تمام حضرات و خواتین کے لئے ہم جیر و پرکت کی دعا کرتے ہیں ختہوں تے مساجد‪ ،‬مدارس‪،‬‬
‫مراکز‪ ،‬اداروں‪ ،‬جایقاہوں اور گھروں میں ایقرادی اور اختماعی طور پر ہمارے قیلہئ عالم حضرت حطنب ِ اعظم رجمۃ ا ہّٰلل علتہ اور‬
‫حضرت ماں چی یلہ رجمۃ ا ہّٰلل ع تہا کو خراج ع یدت و ت تیش کرتے ہوتے انہیں ایصال وواب یا۔ اّٰللہ یعالی ّ‬
‫عزوجل‬
‫محن‬
‫ل‬
‫ق‬
‫ک‬
‫ِ ق‬
‫ِ‬
‫ستھی کا ہدبہ ق تول فرماتے اور ہمارے محسن و مرنی حضرت حطنب ِ اعظم اور حضرت اماں چی علتہما الرجمہ کے درجات نلید‬
‫فرماتے‪ ،‬آمین‬

‫ُ‬
‫گ‬
‫ج‬
‫لس خواتین ل ِزار حب نب کی نگران اور ان کی معاون خواتین کا ہم جاص طور پر سکربہ ادا کرتے ہیں کہ وہ سال‬
‫م ِ‬
‫ٰ‬
‫گ‬
‫صول پرکات کے لئے محقلیں سجانی ہیں نلکہ ک ِالم الہی‪ُ ،‬درود سریف اور‬
‫بھر بہ ضرف د پئی آ ہی اور ح ِ‬
‫وظایف کا کیرت سے ِورد کرکے ساالبہ عرس سریف کے موفع پر ایص ِال وواب میں تماناں حصہ لبئی ہیں۔ ا ہّٰلل یعالی ان شب‬
‫کو تے پیاہ خزاتے جیر عطا فرماتے‪ ،‬آمین‬

‫اس مجلے میں ہم سال بھر میں رو تما ہوتے والے اہم وافعات اور د پئی مسلکی خوالے سے ضروری معامالت پر اظہار‬
‫٭‬
‫خیال کرتے ہیں۔ نلخ و پرش ناتیں بھی اصالح و یعمیر کی عرض سے کرتے ہیں‪ ،‬کسی کی دل آزاری نا یصحیک و تحقیر سے‬
‫ن‬
‫ہمیں تحمدہ یعالی ہر گز کونی عالفہ نہیں۔ ہم نک ہیحئے والی تجرپروں میں سے بھی کحھ اس مجلے میں سامل کی جانی ہیں۔ ہم‬

‫سے اس تجرپر میں کونی حطا نا کسی طرح کونی کوناہی ہونی ہو وو اس کے لئے ہم نہت معذرت خواہ ہیں۔ کونی نات اگر‬
‫ک‬
‫نادرشت کھی گئی ہو وو اس کی معاقی جا ہئے ہیں۔ اپئی کارکردگی نہیر پیاتے کے لئے ہم آپ کی مقید تجاوپز اور کام نانی کے‬
‫لئے آپ سے یعاون اور دعاؤں کے درخوا ت گزار ہیں۔ ا ہّٰلل یعالی ّ‬
‫عزوجل ہم شب پر اپیا فصل و کرم فرماتے‪ ،‬آمین تجاہ البئی‬
‫ش‬
‫االمین صلی اّٰللہ یعالی علتہ وعلی وآلہ واصجابہ ونارک وسلم اجمعین۔‬
‫من جاپب‬
‫ش‬
‫ضوقی محمد حب نب الرجمن ق یعی‬
‫محمد لیاقت جان قادری‬
‫ضوقی عالم قادر قادری‬

‫مرزا محمد ارساد معل‪ ،‬الہور‬
‫ظہر اقیال کامران‪ ،‬سوازی لبیڈ‬
‫جاچی مح توب الرجمن قادری‪ ،‬پرظاپیا‬
‫سیخ محمد عرقان یقش پیدی‪ ،‬پرظاپیا‬
‫ضوقی محمد عرب‪ ،‬وو اے ای‬
‫ساہد اووب فرنسی‬
‫جاچی پئے میاں قادری‬
‫ضوقی اوو محمد قادری‬
‫موالنا محمد آصف رمصان (دپئی)‬
‫سیخ محمد عمر‪ ،‬راول پیڈی‬
‫عیداکلط یف قادری‬
‫محمد اپراہتم اسمال قادری‪ ،‬افریقا‬
‫سید م تور علی ساہ تجاری‪ ،‬امریکا‬
‫زمرد یقلین‬
‫اجمد رسید‪ ،‬خ تونی افریقا‬
‫ضوقی ضوبہ جان قادری‬
‫محمد رضوان عیاسی‪ ،‬افریقا‬

‫محمد ناسر اغوان‬
‫جاچی جاوند معرقانی‬
‫موالنا محمد اکیر یقش پیدی‬
‫مطلوب الرجمن زاہد‬
‫ضوقی اقیال اجمد‪ ،‬پرظاپیا‬
‫سیخ محمد اسرف‪ ،‬بیر مجل‬
‫محمد سلمان فرنسی‬
‫محمد جامد قادری‬
‫سید محمد ساجد وارنی‬
‫موالنا عالم محمد صدیقی‪ ،‬انک‬
‫محمد زبیر جان قادری‪ ،‬بھارت‬
‫خیدر علی قادری‬
‫جمید اّٰللہ قادری‬
‫محمد الیاس‪ ،‬ہانی وواپ نٹ‬
‫جاچی رختم اکدین فرنسی‬
‫جاچی محمد حسین متمن‬
‫سیخ غب تق الرجمن اتچنثیر‪ ،‬وو اے ای‬

‫سیخ محمد رق تق یقش پیدی‪ ،‬اوکاڑا‬
‫سیخ جلیل اجمد‪ ،‬پ توکی‬
‫محمد عتمان صدیقی‪ ،‬امریکا‬
‫سید اسرف اسرقی‪ ،‬امریکا‬
‫جافظ شعید اجمد مکی‪ ،‬پرظاپیا‬
‫موالنا سیراز ایم قادری‪ ،‬افریقا‬
‫موالنا قاری مظہر عیاس‪ ،‬ہری وور‬
‫ضوقی میاں اجمد‪ ،‬الہور‬
‫سیخ پیک محمد‪ ،‬سرق وور سریف‬
‫جافظ محمد اکرم‪ ،‬اوکاڑا‬
‫سیخ پ توپر اجمد‪ ،‬حسبیاں سریف‬
‫خواجہ محمد یعتم‪ ،‬سیال کوٹ‬
‫ہاسم م یصور قادری‪ ،‬خ تونی افریقا‬
‫اجا عیدالحمید‪ ،‬آس پرے لیا‬
‫پ توپر اقیال قادری‪ ،‬امریکا‬
‫سیخ م یظور اجمد قادر ی ‪ ،‬الہور‬
‫سیخ محمد شق تق‪ ،‬الہور‬

‫سید محمد حبید قادری‬
‫سید محمد حبید قادری‬
‫سید وورانی حق یظ قادری‬
‫محمد وواز‪ ،‬امریکا‬
‫ملک محمد رمصان‬
‫سیخ فرند پیار‪ ،‬بھارت‬
‫پ توپر اجمد جان‬
‫جاچی محمد اوور (اوکاڑوی)‬
‫محمد راسد جان قادری‬
‫محمد ناپر‬
‫محمد عارف فرنسی‪ ،‬جاپیا‬
‫جاچی عطتم حسین‬
‫محمد جلیل ملک (الہور)‬
‫سید ناقب علی‬
‫ہارون رسید‪ ،‬اوو طئی‬
‫سید اسجق عادل ساہ‬
‫محمد وقاص درانی‬

‫سیخ سکیل قادری‬
‫سید اسالم ساہ (امریکا)‬
‫رضوان ملک‬
‫وقاص مصطقی قادری‬
‫محمد عتمان قلیدری‬
‫سیخ جاکد رسید یقش پیدی‬
‫سثیر اجمد قادری‪ ،‬مانشہرہ‬
‫عالم محمد مصطقی (دکن‪ ،‬بھارت)‬
‫عالم رسول قادری‬
‫عالم مصطقی رضوی‪ ،‬بھارت‬
‫موالنا محمد عرقان قادری‬
‫موالنا عالء اکدین قادری‬
‫محمد اقیال تبئی‪ ،‬دپئی‬
‫محمد زبیر اکدین‬
‫محمد الطاف فرنسی قادری‬
‫محمد ظقیل نانا‬
‫موالنا محمد ناضر‬

‫جافظ محمد شق تق وورانی‪ ،‬ملیان‬
‫ّ‬
‫محمد سلتم سئی‬

‫محمد پروپز اسرف (امریکا)‬
‫عامر جاں درانی‬
‫محمد اپرار‬
‫محمد قاصل (وو اے ای)‬
‫رق یع اّٰللہ فرنسی‬
‫کاشف اووب فرنسی‬
‫ناپر ملک‬
‫بیر مفصود اجمد شعید ‪ ،‬راتے ونڈ‬
‫ضوقی م یظور اجمد ‪ ،‬وزپر آناد‬
‫محمد جلیل معل‪ ،‬گوخراں واال‬
‫محمد اقیجار حسن قادری‪ ،‬شعودی عرب‬
‫محمد نادر جان قادری‬
‫سیخ عمر علی‪ ،‬الہور‬
‫ندیم پیاز‬
‫محمد عالم عیاسی‬

‫اصعر علی‬
‫جافظ محمد ناضر قادری‬
‫محمد وور جان قادری‬
‫محمد فرقان جان اللی‬
‫جافظ محمد راسد قادری‬
‫حبید رصا‪ ،‬نہاول وور‬
‫عیدالعقار داؤد‬
‫خودھری محمد شق تق مہر (امریکا)‬
‫احسن عیدالرجمن‬
‫محمد نستم عطاری‬
‫محمد ساہد ملک‬
‫احسان ا ہّٰلل فرنسی‬
‫سید ساہ حسین راجا‬
‫محمد اپراہتم سامی (آسیرنلیا)‬
‫جادمین و معاوتین‬
‫موالنا اوکاڑوی ؒ اکادمی (العالمی)‬
‫‪Email: maulanaokarviacademy@yahoo.com‬‬

‫ع‬
‫ظ‬
‫ان شاء اّٰللہ تعالی‪ ،‬خضرت خطیب ِ ا م رحمۃ اّٰللہ علیہ‬
‫کا ‪ 33‬واں شاالنہ مرکزی دو روزہ عرس م تارک حمعرات‪،‬‬
‫حمعہ ‪ 28-29‬اپرپل ‪2016‬ء اور ‪ 33‬واں شاالنہ‬
‫ع‬
‫ظ‬
‫عالمی یومِ خطیب ِ ا م‬
‫حمعہ‪ 29 ،‬اپرپل ‪2016‬ء کو م تاپا جائے گا۔‬

‫ایو ظہبی میں محفوظ آپار الن بونہ (ﷺ) کے حوالے سے اپک اہم مالقات‬
‫تحرپر‪ :‬شیخ عن بق الرحمن‪ ،‬ایو ظہ بی‬
‫زپر یظر تجرپر عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑوی کی میجدہ عرب امارات کے پرنس ڈاکیر السیخ اجمد ین االمام محمد الہالل‬
‫الجزرچی کے سابھ مالقات کا اخوال ہے۔ بہ مالقات مورجہ ‪ 31‬اگست ‪2014‬ء میں ان کے مجل وافع ال یطین اووظہئی میں‬
‫وقوع نذپر ہونی۔‬
‫ڈاکیر السیخ اجمد الجزرچی کا یعلق میجدہ عرب امارات کے انک معزز پرین جاندان سے ہے۔ ان کا سمار صدووں سے‬

‫انک قانل اجیرام فبیلہ خزرچی سے کیا جانا ہے خو اپئی سراقت‪ ،‬ذہاپت اور لیاقت میں انک مسبید اور جاص نہجان کا جامل‬
‫ہے۔ ان کے آناؤ اجداد ایص ِار مدپتہ کے فبیلہ خزرج سے یعلق رکھئے ہیں خو وہاں سے ہجرت کرکے میجدہ عرب امارات کی‬
‫رناشت اووظہئی میں سکوپت احبیار کرگئے ب ھے۔ اس جاندان کے آناؤ اجداد ‪1958‬ء سے عدلتہ سے وانستہ رہے ہیں اور السیخ‬

‫اجمد ین االمام کے واکد ِ محیرم السیخ محمد الجزرچی دپئی کے نہلے حج نامزد ہوے بھے۔ یعد میں ان کے واکد ِ محیرم مجکمہ اوقاف اور‬
‫اسالمی امور کے وزپر مقرر ہوے۔ اس کے سابھ سابھ انہوں تے وزپر قاوون اور یقاقئی وربہ کی کمبئی کے سرپراہ کے طور پر‬
‫بھی فرایض اتجام د پئے۔ ان کی میالی کارکردگی اور تے پیاہ جدمات کے ِصلہ میں جکومت میجدہ عرب امارات ان کے اعزاز‬
‫میں ڈاک نکٹ بھی سا یع کئے۔‬
‫السیخ اجمد الجزرچی‪ ،‬اس وقت جکومت ِ میجدہ عرب امارات کی جاپب سے دپیا بھر کے ایصار فبیلہ سے یعلق رکھئے‬

‫والے لوگوں کے نگران خ یف کے عہدہ جلیلہ پر قاپز ہیں۔ اس سلسلے میں وہ فبیلہ ایصار کے لوگوں کی قالح و نہ تود کے لئے‬
‫مسلسل جدوجہد میں مضروف رہئے ہیں۔‬
‫میدرجہ نا ال جاندانی یعارف کے سابھ سابھ السیخ اجمد الجزرچی انک م یقرد اور اکگ نہجان رکھئے ہیں اور بہ نہجان ان کو‬

‫رسول ناک ﷺ کے ”آنار و بیرکات“ کے مجافظ و نگران کی ناپرکت شعادت کی وجہ سے یصنب ہونی ہے۔ اس وقت انک کثیر‬
‫ِ‬
‫’محموعہ آنار الب توبہ‪ ،‬پئی کریم ﷺ کی ذات سے وانستہ آنار‘ ان کے ناس موخود ہیں بہ آنار کب اور کس طرح ان نک نہیجے؟‬

‫ان کی اصلنت اور سجانی کو کیسے َپ کرھا جاسکیا ہے؟ کیا ان تمام آنار کی اسیاد ان کے ناس موخود ہیں؟ کس طرح بہ جاندان‬

‫ان آنار کی حقاظت کرنا ہے؟ اسی طرح کے نہت سے سواالت عالمہ ڈاکیر کوکب وورانی اوکاڑی کی مالقات میں موضوع گقیگو‬
‫رہے۔ آ پئے ان کی یفصیل جا پئے ہیں۔‬
‫ڈاکیر عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی‪ ،‬انک تین رکئی وقد کے ہمراہ السیخ الجزرچی کے ہاں ان کے مجل وافع ال یطین اووظہئی‬

‫نہیجے۔ قیل ازیں انہوں تے وقد کے ہمراہ ’آنار الب توبہ سریف‘ کی زنارت کی شعادت جاصل کی۔ زنارت کے دوران عالمہ‬
‫کوکب وورانی آنار سریفہ کو اپئی آنکھوں سے لگاے روتے رہے اور اپئی تے پیاہ محنت و عقیدت کی سرساری کے عالم میں‬
‫رہے۔ عالمہ اوکاڑوی صاجب ا پئے اور ا پئے وقد کی جاپب سے ا پئے میزنان ڈاکیر السیخ اجمد الجزرچی کے مم تون و میسکر ہوے‬
‫اور ان کے اور ان کے جاندان کے لئے اّٰللہ کے حصور ُدعا فرمانی۔ یعد ازاں گقیگو کا ناقاعدہ آعاز ہوا۔‬

‫ڈاکیر عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی تے قیلہ السیخ اجمد الجزرچی کی جدمت ِ عالتہ میں اپئی اور ا پئے واکد ِ محیرم مجدد‬
‫مسلک ِ اہ ِل سنّت حطنب ِ اعظم حضرت موالنا محمد شق یع اوکاڑوی رجمۃ ا ہّٰلل یعالی علتہ کی ط یع سدہ کحھ ک نب و خراند کے‬
‫انگرپزی پراجم تیش کئے‪ ،‬جن میں ’اذان اور ُدرود سریف‘ اسالم کی نہلی عید‪ ،‬عید میالد البئی ﷺ‪ ،‬وواب العیادات الی ارواح‬
‫االموات وعیرہ قان ِل ذکر ہیں۔‬

‫قیلہ السیخ اجمد الجزرچی تے ان کنب کو تے جد نسید کیا اور خواہش ظاہر کی کہ وہ کس طرح ان ک نب کو زنادہ‬
‫ی‬
‫یعداد میں جاصل کرسکئے ہیں ناکہ وہ ان کو ا پئے م یعلقین و مرندین میں قستم کرسکیں۔‬
‫ً‬
‫عالمہ اوکاڑوی تے قیلہ السیخ اجمد الجزرچی کو پیانا کہ کم و تیش ‪ 28‬کنب کے وہ مصیف ہیں اور فرپیا اپئی ہی یعداد‬

‫میں ان کے واکد ِ محیرم کی کنب اب نک الکھوں کی یعداد میں سا یع ہوجکی ہیں اور نہت زنادہ سراہی جانی ہیں۔ راقم عرض‬
‫ُ‬
‫کرنا ہے کہ ان کی تجرپر‪ ،‬سلیس اور سادہ مگر ا پئے اندر انک پر معئی عیارت رکھئی ہے اور پڑھئے واال اس سے اپر لئے یعیر نہیں‬
‫رہیا۔ عالوہ ازیں تمام کنب میں‪ ،‬مسبید خوالہ جات سے تحث کی گئی ہے اور صحیح اسالمی عقاند‪ ،‬اضول اور فرایض کے خوالے‬
‫سے نہت زنادہ رہ تمانی نانی جانی ہے۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی کے واکد ِ محیرم حضرت موالنا محمد شق یع اوکاڑوی کا انک اعزاز ان کا محصوص میالی اند ِاز حطاپت بھا۔‬
‫ن‬
‫ان کے حطیات کی مجاقل میں سامعین روزابہ میلوں کی مساقت طے کرکے ہیحئے بھے اور ا پئے اتمان کو نازہ کرتے‪ ،‬عس ِق‬
‫رسالت مآب ﷺ کی خوش وو سے اپئی روح کو معظر کرتے۔ ان کا امبیاز ہے کہ انہوں تے ‪ 38‬سالہ عہد حطاپت میں ابھارہ‬
‫ات جمعہ اور‬
‫ہزار سے زاند (‪ )Documented‬پڑے اختماعات سے حطاب کیا خوکہ انک عہد ساز رکارڈ ہے۔ اختماع ِ‬
‫محیلف یقرپیات کے ہزاروں حط یات اس کے عالوہ ہیں۔‬

‫قیلہ السیخ اجمد الجزرچی تے اوکاڑوی مسن کی جدمات کو نہت سراہا اور دعاے جیر کی۔ انہوں تے عالمہ اوکاڑوی کو‬
‫رون مماکک دورہ جات میں انک م یضر اور رہ تما کی خبب نت سے سرکت کرسکیں وو بہ ان‬
‫تیش کش کی کہ وہ ان کے سابھ بی ِ‬
‫رسول کریم ﷺ کے‬
‫کے لئے اعزاز ہوگا۔ عالمہ اوکاڑوی تے ان کی اس تیش کش کو ق تول کیا اور کہا کہ دین و ملت اور ِ‬
‫بیرکات کی جدمت کے لئے وہ ہمہ وقت جاضر ہیں۔‬

‫عال مہ اوکاڑوی تے قیلہ السیخ اجمد الجزرچی کو پیانا کہ ان سے مالقات کا مفصد بہ ضرف ’آنار الب توبہ‘ کی زنارت سے‬
‫مسرف ہونا بھا نلکہ ان م یعدد سوا الت کا خواب بھی جاصل کرنا بھا خو ان آنار الب توبہ سے میاسنت رکھئے ہیں‪ ،‬عالمہ اوکاڑوی‬

‫تے فر ِآن کریم کا خوالہ د پئے ہوے فرمانا کہ حضرت اپراہتم علتہ السالم تے رب العالمین سے کہا بھا کہ ”واذ قال اپراہتم‬
‫لی‬
‫رب ارنی ک یف تحئی المونی قال اولم وومن قال نلی وککن ظمین قلئی“ اور ناد کرو جب(حضرت) اپراہتم علتہ السالم تے ا پئے‬

‫رب سے کہا‪” :‬اے میرے رب محھے دکھادتحئے کہ آپ کس طرح ُمردوں کو زندگی تحسئے ہیں‪ ،‬فرمانا‪ ،‬کیا تمیں یقین نہیں ہے؟‬
‫اپراہتم علتہ السالم تے خواب دنا کہ ہاں ہے مگر ا پئے دل کی مط توطی ‪ /‬نسلی کے لئے انسا جاہیا ہوں“‬
‫اسی پیاطر میں‪ ،‬میں آپ سے کحھ سواالت ووجھیا جاہیا ہوں ناکہ محھ سمنت ہر وہ عاس ِق رسول خو ان آنار‬
‫الب توبہ کی زنارت سے ق یض ناب ہونا ہے‪ ،‬اس کا قلب و ذہن کسی سک و شتہ میں مبیال بہ رہے اور وہ ووری اتمانی محنت و‬
‫عقیدت کے سابھ ان نادر آنار کی زنارت کریں اور ان کے ق توض و پرکات ا پئے دامن میں سمنٹ سکیں۔‬

‫عرنی قول ہے کہ‪ :‬اکذی اکرام ما نسب بہ۔ یعئی ہر وہ جیز حس کی نسنت رسول ا ہّٰلل ﷺ کے سابھ نالواشطہ نا‬
‫ً‬
‫ن‬
‫نالواشطہ ہے‪ ،‬اس کی عزت ہم کرتے ہیں اس لجاظ سے ان ’آنار الب توبہ‘ کو ہم عزت و اکرام سے ہی د کھیں گے اور یقبیا‬
‫اس کے ق توض و پرکات سے نہرہ مید ہوں گے۔‬

‫رسول ناک کا نال میارک نا‬
‫امام این سیرین علتہ الرجمہ کا انک قول ہمارے لئے رہ تمانی فرمانا ہے۔ حس کے ناس ِ‬
‫بیرک ہو وہ دپیا و ماقت ھا (دپیا اور خو کحھ اس میں ہے) سے نہیر ہے۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی تے قیلہ السیخ اجمد الجزرچی کو پیانا کہ اووظہئی آتے سے قیل میں تے مدپتہ م تورہ میں رسول اّٰللہ ﷺ‬
‫ً‬
‫کے روضہ اظہر پر نالحصوص بہ دعا کی کہ میں ”آنار الب توبہ“ کی زنارت کے لئے اووظہئی جاتے کا ارادہ رکھیا ہوں‪ ،‬اگر بہ آنار اصال‬
‫آپ ﷺ کی ذات ِ اقدس سے وانستہ ہیں وو بہ شقِر زنارت میرے لئے میارک اور آسان ہو۔‬

‫ً‬
‫عالمہ اوکاڑوی اور قیلہ السیخ اجمد الجزرچی کے درمیان گقیگو (خو یقرپیا ڈھانی تین گھبئے نک جاری رہی) کا جالضہ ذنل‬
‫میں تیش کیا جارہا ہے۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪’ :‬آنار الب توبہ‘ کی اہمنت و جاصنت کے تیش یظر کیا آپ تے اس کی یفصیل و حقاوق کو کسی‬
‫کیاب کی شکل میں محفوظ کیا ہے؟‬

‫ً‬
‫م‬
‫السیخ الجزرچی‪ :‬چی ہاں‪ ،‬ہم یقبیا اس کی جاص اہمنت سے ووری طرح آ گاہ ہیں‪ ،‬اور اس سلسلے میں انک کمل اور‬

‫جامع کیاب ”اآلنار الب توبہ قی الجزابۃ الجزرجتہ“ کی ندوین جاری ہے۔ اس کیاب میں رسول ا ہّٰلل ﷺ کی ذات سے وانستہ ہر‬
‫ن‬
‫م‬
‫انک آنار پر ُجدا ُجدا کمل تحث کی گئی ہے اور پیان کیا گیا ہے کہ کس طرح یصدیقی اسیاد کے سابھ بہ ہم نک ہیجی ہیں۔‬
‫کیاب میں اس نہلو پر بھی روسئی ڈالی گئی کہ ہم کیسے ان ”آنار“ کو محفوظ کرتے ہیں اور کس طر یقے سے ہم ان کو ان کی‬
‫اصلی ہب نت میں رکھئے کی پرکنب کرتے ہیں۔‬

‫ازراہ کرم‪ ،‬ہماری سہولت کے لئے یفصیل سے ہمیں پیا پئے کہ کس طرح بہ ’آنار سریفہ‘ آپ نک‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ِ :‬‬
‫ً‬
‫ن‬
‫ہیحئے؟ میال کیا موتے میارک حضرت انس رصی اّٰللہ عتہ سے آپ نک نہیجے؟‬

‫السیخ الجزرچی ‪ :‬چی نہیں‪ ،‬بہ ’آنار سریفہ‘ حضرت انس رصی اّٰللہ عتہ سے ہم نک نہیں نہیجے‪ ،‬اصل میں بہ آنار‪ ،‬ایص ِار‬
‫مدپتہ اور اہ ِل پ نت کے محیلف جانداووں میں علیجدہ علیجدہ موخود بھے۔ ‪2007‬ء اور ‪2008‬ء میں انک قانل ذکر یعداد میں‬
‫ہ‬
‫ہ‬
‫رسول ناک ﷺ کی خواب میں زنارت کی اور ان سے نالواشطہ بہ ہداپت جاصل کی کہ‬
‫ا ِل ایصار اور ا ِل پ نت کے افراد تے ِ‬

‫ان کے ناس خو بھی ’آنار سریفہ‘ موخود ہیں وہ شب کے شب اجمد الجزرچی (یعئی محھے) مب یقل کرد پئے جاتیں اور ووں الحمد ّٰللہ‬
‫م‬
‫ان دو سالوں میں یعئی ‪2007‬ء اور ‪2008‬ء میں ‪ 40‬سے زنادہ ’آنار سریفہ‘ ہم نک کمل اسیاد کے سابھ نہیجے۔ بھر‬
‫‪2009‬ء میں اس میں کونی اصافہ نہیں ہوا لیکن ‪2010‬ء میں انک کثیر یعداد میں خو ‪2007‬ء اور ‪2008‬ء کی محموعی‬
‫یعداد سے بھی زنادہ ہے مزند ’آنار سریفہ‘ ہم نک نہیجے اور بہ سلسلہ اب نک جاری ہے۔‬

‫‪2010‬ء میں مملکت ِ شعودی عرب سے یعلق رکھئے والے انک امیر اور اہم جاندان کی انک ممیاز سحصنت تے انک‬
‫وقد ہمارے ناس بھیجا۔ اصل میں وہ سحصنت بہ جاپیا جاہئی بھی کہ ہم ان ’آنار الب توبہ‘ کو کس یظم اور پرپ نب سے رکھئے‬

‫ہیں؟ اور اس نات کی نسلی و نشقی جا ہئے بھے کہ آنا ہم ان کی حقاظت کا فریصہ تجونی احسن انداز سے کرتے کی اہلنت رکھئے‬
‫ہیں کہ نہیں؟ ان تمام غوامل کی ساقی نسلی و اظمبیان جاصل کرتے کے یعد اس ممیاز سحصنت تے ہمیں پیانا کہ اس‬

‫کے ناس کگ بھگ ‪ 300‬کی یعداد میں محیلف نادر ”آنار الب توبہ“ جالقت ِ عتماپتہ کی سید کے سابھ سرتمہر موخود ہیں اور وہ بہ‬
‫شب ہمیں مب یقل کرنا جا ہئے ہیں‪ ،‬ان ’آنار الب توبہ‘ کو انہوں تے اب نک ’زپر زمین‘ انک نہت محفوظ انداز میں جھیانا ہوا بھا‬
‫ٰ‬
‫(ناکہ جکومت ِ شعودی عرب ان پر قایض بہ ہوجاے) خئی کہ اس سحصنت کے جھوتے بھانی کو بھی اس کا ادراک نہیں‬
‫بھا۔ خیاں جہ انہوں تے بہ ’آنار الب توبہ‘ ہمیں انک محیاط طر یقے سے مب یقل کرتے سروع کرد پئے اور ناجال بہ سلسلہ جاری‬
‫ُ‬
‫ہے۔ ان کے عالوہ ‪2010‬ء میں اور نہت سے جانداووں کے افراد تے ہم سے رایطہ کیا اور نہت سے ’آنار الب توبہ‘ ہمارے‬
‫مب یق‬
‫رسول ناک ﷺ سے جاملیا ہے۔‬
‫ناس ل کئے‪ ،‬ان ’آنار الب توبہ‘ کا سجرہ جار نا ناتچ واشظوں سے ِ‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬کیا میں ووجھ سکیا ہوں کہ جن افراد کو خواب میں رسول اّٰللہ ﷺ سے بہ ہدانات ملی ہیں انہوں تے‬
‫م‬
‫بہ ’آنار الب توبہ‘ کمل اسیاد کے سابھ آپ کے ناس رکھواے نا آپ کو تحفہ دتے؟؟ میرا مفصد بہ ہے کیا بہ آنار ان کے ناس‬
‫م‬
‫کمل پ توت کے سابھ محفوظ بھے؟‬

‫م‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬چی ہاں‪ ،‬بہ تمام آنار کمل صحت اور پ توت کے سابھ ہم نک نہیجے ہیں۔ کحھ آنار کا پرنک رکارڈ (نارتجی‬
‫سلسلہ)نالواشطہ حضرت سیدنا غوث االعظم عیدالقادر خیالنی رصی اّٰللہ عتہ نک نہیحیا ہے‪ ،‬اگرجہ تمام ’آنار الب توبہ‘ کا پیا ہمیں‬
‫م‬
‫رسول ناک ﷺ نک وورے وووق سے نہیں ملیا۔ ناہم نایعین اور یعض صجابہ رصی اّٰللہ عتہم نک ہم کمل صحت‬
‫‪ 100‬قی صد ِ‬
‫ً‬
‫اور یقین سے ان کے اصل ہوتے کی یصدوق کرسکئے ہیں۔ عالوہ ازیں ہمارے ناس یعض ”آنار“ میال ’ذقیرہ سریف‘ ا نسے‬
‫ب‬
‫رسول ناک ﷺ تے ححۃ‬
‫ھی موخود ہیں جن کی صحت کا پ توت پئی کریم ﷺ کی ذات نک جاملیا ہے کہ بہ موتے میارک‪ِ ،‬‬
‫الوداع کے موفع پر حضرت ظلحہ رصی اّٰللہ عتہ کو عطا فرماتے بھے۔ خو انہوں تے ہدب ًۃ حضرت ام سلتم رصی ا ہّٰلل عتہما کو دے‬
‫د پئے بھے۔ بہ موتے میارک ان کے جاندان سے سیدنا عیدالقادر خیالنی رجمۃ ا ہّٰلل علتہ نک نہیجے اور ان کی اوالد سے ہم نک‬
‫نہیجے۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬کیا اس کا مطلب ہے کہ بہ ذقیرہ سریف (موتے میارک) آپ کے جاندان کے ناس جال ہی میں‬
‫نہیجے ہیں؟‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬چی ہاں‪ ،‬بہ ہم نک فبیلہ ایص ِار مدپتہ‪ ،‬خوکہ ہمارے پرادری سے آے ہیں‪ ،‬اس کے یعد السیخ الجزرچی‬

‫تے اپئی زپ ِر ط یع کیاب ”آنار الب توبہ قی خزابۃ الجزرجتہ“ کے پروف میگواے‪ ،‬بہ کیاب اپیدأ عرنی زنان میں مدون کی گئی ہے‬
‫ً‬
‫ناہم یعد میں اس کے دنگر زناووں میال انگرپزی اور فرانسیسی میں بھی کیا جاے گا۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬اگرجہ اس موضوع پر ہمیں دنگر کنب بھی علماے دین سے ملئی ہیں مگر میری دانست میں اہم‬
‫م‬
‫نات ’آنار الب توبہ‘ کے یعارف کے یعد ان کی کمل صحت اور خوالہ جات کا نذکرہ نہاپت ضروری ہے ناکہ کسی کے دل میں‬
‫ان کے جالف کونی ساپتہ نک بہ آے۔ آپ تجونی جاتے ہیں کہ ہم عساق ِان رسول ا ہّٰلل ﷺ‪ ،‬پئی سے‬

‫میسلک اوروانستہ کسی بھی جیز کے م یعلق کونی ’ہلکا لفظ‘ بھی پرداشت نہیں کرسکئے۔ ہمارا خون کھو لئے کگیا ہے۔ لہذا اس‬
‫م‬
‫نات کا اہتمام ضروری ہے کہ ’آنار الب توبہ‘ کا نذکرہ تمام پر خوالہ جات اور کمل صحت اور پ توت کے سابھ کیا جاے۔‬
‫م‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬میں آپ کی اس نات سے کمل ایقاق کرنا ہوں اور ہم تے اس نہلو کو تجاطور پر اس کیاب میں‬

‫م‬
‫کمل پ توت کے سابھ اجاگر کیا ہے۔ اس کیاب کا نام ”اآلنار الب توبہ قی الجزابۃ الجزرجتہ“ ہے‪ ،‬انک پڑے ساپز کے ورق‬

‫(‪ )A3‬پر مرووط انداز میں ّ‬
‫مدون کی جارہی ہے۔ اس کے د پیاجہ میں م یعدد سہرہ آقاق اور ہمہ گیر سحصیات کے مقدمات سامل‬
‫ہیں۔ جن میں کحھ قان ِل ذکر نام بہ ہے۔‬

‫ل‬
‫مقئی موالنا ا قیح اککیانی الحسئی الہاسمی‪ ،‬مقئی الماککتہ سام‪ ،‬این موالنا مکی اککیانی سرپراہ و اتجارج مسلم لیگ‪،‬وواسہ امام‬
‫صدر مملکت میجدہ عرب امارات ‪ ،‬سماجۃ السیخ علی الحمعہ‪،‬‬
‫المجدث‪ ،‬حعقر اککیانی‪ ،‬السید علی ین عیدالرجمن الھاسمی‪ ،‬مشیر جاص ِ‬
‫مقئی اعظم ِمضر‪ ،‬سماجۃ السیخ اجمد الجلیلی‪ ،‬مقئی سلطن ِت عمان اور دنگر نہت سی نام َور سحصیات سامل ہیں۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬میری تجوپز ہے کہ اس کیاب میں عالم اسالم کے ان مشہور علماء کا نام بھی سامل کیا جاے‬
‫ختہوں تے اب نک ان ”آنار الب توبہ“ کی زنارت فرمانی۔‬

‫السیخ الجزرچی ‪ :‬چی ہاں‪ ،‬اگرجہ ان ناموں کی فہرشت نہت طونل ہے مگر خید اہم نام ضرور سامل کئے جاسکئے ہیں۔‬

‫رسول ناک ﷺ کی جالیس (‪ )40‬اجاد پث کا نذکرہ ہے۔ تیسرے ناب میں ’عادلہ‘ کے نارے‬
‫کیاب کے دوسرے ناب میں ِ‬
‫م‬
‫میں تحث کی گئی ہے اور اس میں ’آنار الب توبہ‘ کے خواص کے نارے میں نذکرہ کیا گیا ہے اور کمل صحت کے سابھ فرآن‪،‬‬
‫لس‬
‫جدپث‪ ،‬صجابہ کرام اور اجماع ا م لمین کی روانات کو پیان کیا گیا ہے۔ کیاب کا خوبھا ناب رسول ا ہّٰلل ﷺ سے وانستہ ’آنار‬
‫ی‬
‫سریفہ‘ سے م یعلق ہے‪ ،‬اس ناب کو دو ذنلی حصوں میں قستم کیا گیا ہے۔ نہلے حضے میں ’آنار سریف‘ کو ان کی‬
‫حصوصنت اور امبیاز کی پیا پر ناتچ حصوں میں درجہ پیدی کی گئی ہے۔‬

‫ً‬
‫زمرہ ‪1‬۔ وہ آنار جن کا یعلق پئی کریم ﷺ کے نالواشطہ ح ِشم اقدس سے ہے۔ میال موتے میارک‪ ،‬دند ِان میارک‪،‬‬
‫ناجن میارک‪ ،‬عرق‪ ،‬عروق وعیرہ‬

‫زمرہ ‪2‬۔ وہ آنار جن کا یعلق پئی کریم ﷺ نالواشطہ ح ِشم اقدس سے ہے یعئی وہ ح ِشم اظہر کا حصہ وو نہیں بھے لیکن‬
‫ً‬
‫ُ‬
‫اس سے خڑے ہوے بھے میال عمامہ سریف‪ ،‬پردہ‪ ،‬قم یص‪ ،‬جایم انگوبھی‪ ،‬اِ زار وعیرہ‬
‫ً‬
‫ً ً‬
‫زمرہ ‪3‬۔ وہ آنار سریف خو پئی کریم ﷺ کے اسیعمال میں وقیا قوقیا آتے بھے۔ میال عصا‪ ،‬ستوف‪Mekhsare ،‬‬
‫ً‬
‫زمرہ ‪4‬۔ وہ آنار سریف خو پئی کریم ﷺ کے سابھ حشمانی یعلق میں رہئے مگر جداگابہ خبب نت رکھئے بھے۔ میال مثیر‬
‫سریف اور وہ حظوط خو آپ تے محیلف سرپراہ ِان مملکت کو اس وقت کک ھے بھے۔‬

‫زمرہ ‪5‬۔ وہ آنار سریف عمارات‪ ،‬مقامات جہاں پئی کریم ﷺ تے قیام فرمانا نا ان کا َدورہ فرمانا اور کحھ دپر بھہرے‬
‫ً‬
‫میال صجابہ کرام کے مکانات۔‬
‫کیاب کے ناب ‪ 4‬کے دوسرے حضے میں ’حصص اآلنار‘ پر تحث کی گئی ہے۔ بہ انک اہم حصہ ہے حس میں‬

‫اس نات کو صحت کے سابھ پیان کیا گیا ہے کہ ہم کس طرح اس نات کی یصدوق کرسکئے ہیں کہ پئی کریم ﷺ کے سابھ‬
‫وانستہ کونی آنار اصلی ہیں نا نہیں؟‬
‫میال کے طور پر پئی کریم ﷺ کے موتے میارک کا بہ انک م یقرد اور معجزانی امبیاز ہے کہ ان کے نال وقت کے‬

‫سابھ پڑھئے رہئے ہیں‪ ،‬بہ ضرف بہ نلکہ ان کے سیاہ نال سیاہ اور شقید نال شقید رنگ ہی میں پڑھئے ہیں اور سیاہ نالوں کی‬
‫پڑھئے کی رقیار شقید نالوں سے زنادہ بیز ہے۔ بہ بھی انک جاص امبیاز ہے کہ ضرف اور ضرف رسول ا ہّٰلل ﷺ کے موتے میارک‬
‫وقت کے سابھ پڑھئے ہیں اس کے عالوہ اور کسی سحصنت‪ ،‬جلقاء راسدین نا دنگر صجابہ کرام میں سے کسی کے بھی نال‬
‫ن‬
‫رسول ناک ﷺ کی ذات سے میسلک موتے میارک کی صحت و صداقت کا یعین‬
‫وقت کے سابھ ہیں پڑھئے۔ اس پیا پر ہم ِ‬
‫ً‬
‫کرسکئے ہیں۔ اس کے سابھ سابھ دنگر اہم اور م یقرد حصوضیات بھی موتے میارک کا جاص امبیاز ہیں میال رسول ا ہّٰلل ﷺ کے‬
‫موتے میارک کا سابہ نہیں ہونا اور بہ کہ موتے میارک آگ میں نہیں جلئے۔ ناہم ان کی یصدوق کے لئے جاص تجربہ اور فہم‬
‫رسول ناک ﷺ سے میسلک کونی بھی جیز کتھی صا یع نہیں ہوگی اس لئے کہ اّٰللہ‬
‫ضروری ہے۔ ہاں انک نات مصدفہ ہے کہ ِ‬
‫یعالی اس کی حقاظت فرمانا ہے۔‬

‫ً‬
‫نہاں میں آپ کو انک وافعہ پیانا ہوں‪ ،‬اہ ِل پ نت سے انک پزرگ سیخ‪ ،‬خو اب مدپتہ م تورہ میں سکوپت نذپر ہیں‪ ،‬یقرپیا‬
‫َ‬
‫‪ 8‬ماہ قیل نہاں نسریف الے۔ میں تے ان کے اِ کرام میں عظر خو عرق سریفہ سے مس ہوا بھا انہیں دنا‪ ،‬حس کو انہوں تے‬
‫ً‬
‫ا پئے ناس رکھ لیا۔ یقرپیا ‪ 10‬ووم کے یعد انک سامی عالم بھی زنارت کے لئے نسریف الے۔ اس پزرگ سیخ تے اس کا نذکرہ‬
‫ُ‬
‫م‬
‫اس سامی عالم سے کیا لیکن وہ عرق سریف کے م یعلق دلی طور پر ظمین نہیں ب ھے۔ اسی رات ان سامی عالم تے خواب‬
‫میں رسول اّٰللہ ﷺ کی زنات کی اور خواب میں انہوں تے رسول اّٰللہ ﷺ سے اس عرق سریفہ کی ناپت ووجھا وو رسول ا ہّٰلل ﷺ‬
‫ب‬
‫امر‬
‫تے خواب میں فرمانا کہ ہاں‪ ،‬بہ میرا عرق ہے اور ضرف میرا عرق سریف ہی وقت کے سابھ ناقی رہ سکیا ہے۔ بہ ھی ِ‬

‫حق یقت ہے کہ رسول اّٰللہ ﷺ کے موتے میارک بہ ضرف وقت کے سابھ پڑھئے رہئے ہیں نلکہ ان کے سابھ خڑی خوش وو ‪/‬‬
‫عرق ‪ 14‬سو سال سے زنادہ عرضہ گزر جاتے کے ناوخود قایم و دایم ہے۔‬

‫انک اور دل حسپ حق یقت ہمارے مساہدہ میں آنی کہ وقت کے سابھ انہوں تے پئے نالوں کا اصافہ دنک ھا وو اس‬

‫کی صداقت کے لئے انہوں تے ان پئے نالوں کو ”آگ“ پر تجربہ کیا وو بہ پئے نال اس تجربہ پر وورے اپرے۔ گونا اس نات‬
‫کی یصدوق ہوگئی کہ بہ پئے نال رسول اّٰللہ ﷺ کے اصل نالوں سے ہی اجذ ہوے ہیں۔‬

‫انک معجزہ موتے میارک سے مساہدہ میں آنا کہ کحھ موتے میارک جب کسی مجلس اکذکر میں ر کھے گئے وو خرکت‬
‫کرتے یظر آے اور یعض موتے میارک اندھیرے میں جمکئے ہوے دکھانی د پئے ہیں گونا ان سے وور اجاگر ہورہا ہو۔‬
‫حصایص اآلنار کے ضمن میں انک اور ذانی وافعہ ووں تیش آنا کہ ‪15‬اپرنل ‪2009‬ء کو میں تے جھوتے ساپز کا‬
‫انک پیا موتے میارک‪ ،‬تجرین کے انک سیخ کو تحفہ میں دنا‪ 11 ،‬خون ‪2009‬ء کو یعئی دو ماہ سے بھی کم عرضہ میں معجزابہ‬
‫طور پر اس کا ساپز دوگیا ہوگیا۔ میں تے ان سیخ سے اسیدعا کی کہ وہ تجرین کے علما سے اس کی سہادت اکتھی کریں خو‬
‫انہوں تے محھے عطا کی۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪’ :‬آنار الب توبہ‘ کیاب کون ککھ رہا ہے اور کیا اس میں انسی دنگر کنب کا کونی خوالہ ہے خو اس‬
‫ک‬
‫موضوع پر پر عطتم ناک و ہید (انڈنا اور ناکسیان) میں کھی گئی ہیں؟‬

‫السیخ الجزرچی ‪ :‬آنار الب توبہ میری یصب یف ہے اور اس میں ساہ ولی اّٰللہ کے واکد ِ گرامی ساہ عیدالرختم مجدث دہلوی‬
‫کے کحھ خوالہ جات اس ضمن میں موخود ہیں ناہم محھے انسی دنگر کنب کا علم نہیں ہے۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬اس موضوع پر میری اپئی یصب یف ”مزارات و بیرکات اور ان کے ق توصات“ میں م یعدد خوالہ جات‬
‫موخود ہیں‪ ،‬میں آپ کو اس کی یفصیل فراہم کردوں گا۔ ان ساء اّٰللہ‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬میں آپ کا مم تون ہوں گا۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬نہت سے لوگوں کے ناس ”فرع“ یعئی موتے م یارک سے یکلی ہونی ساحیں موخود ہیں‪ ،‬آپ اس کو‬
‫کیسے دنکھئے ہیں؟‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬چی ہاں بہ درشت ہے اور ہم تے اس کا اپئی آنکھوں سے مساہدہ کیا ہے اور انسا نارہا مرپتہ ہوا ہے۔‬
‫(کحھ شظور قیل اس کا ذکر ہوحکا ہے کہ نالوں میں اصافہ دنکھا گیا ہے)‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬جن لوگوں تے آپ کو پیانا کہ انہوں تے رسول اّٰللہ ﷺ کو خواب میں دنکھا ہے اور آپ کو ’آنار‬
‫الب توبہ‘ ہدبہ کرتے کو کہا ہے کیا آپ تے اس سلسلے میں کونی سہادت اکتھی کی‪ ،‬اس کی یصدوق کے لئے؟‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬نہلی نات بہ کہ ’آنار الب توبہ‘ ہمیں انک نہیں نلکہ م یعدد افراد سے ملے ہیں خو انک دوسرے سے‬
‫وافف بھی نہیں بھے اور محیلف مقامات سے یعلق رکھئے بھے اور دوسری نات بہ ہے کہ انہوں تے بہ تمام آنار ہمیں یعیر‬
‫کسی دپیاوی ندلے میں ہدب ًۃ تحف ًۃ عطا کئے ہیں۔ حق یقت میں بہ لوگ نہت عرضہ سے ہماری نالش میں بھے۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬وو کیا آپ کو اس سلسلے میں کونی اسارہ نہیں مال بھا کہ وہ کون لوگ ہوں گے؟‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬نہیں‪ ،‬اصل میں ہمیں بہ وو اسارہ مال بھا کہ ہم بہ آنار وضول کریں گے مگر کہاں سے اور کن سے؟‬
‫اس کا علم نہیں بھا۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬تحھلے ‪ 6 ،5‬سال کے عرضہ میں ہزاروں کی یعداد میں ان آنار الب توبہ کی زنارت سے لوگ مسرف‬
‫ہورہے ہیں کیا کونی انسا وافعہ تیش آنا کہ کسی تے اس کی یصدوق کرتے کی کونی کوشش کی؟‬

‫السیخ الجزرچی ‪ :‬ہاں انسا نارہا ہوا‪ ،‬جب میں سوڈان کے َدورہ پر ’آنار الب توبہ‘ کے ہمراہ گیا اس وقت سدند گرم موسم‬

‫بھا اور درجہ خرارت ‪ 48‬ڈگری سببئی گرنڈ بھا لیکن جب نک ’آنار الب توبہ‘ وہاں رہے اس کے دارالجالفہ کے اوپر تین دن نک‬
‫نادل جھاے رہے۔‬
‫اسی طرح کا انک اور وافعہ سیسان (خیچبیا) کے سہر میں بھی تیش آنا جب خیچبیا کے صدر تے پرکت کے لئے ذقیرہ‬

‫سریف کو عسل کے لئے اسیدعا کی۔ اس وقت ان کے مجل پر خو جاروں طرح سیشہ گری سے ِگھرا ہوا بھا‪ ،‬سورج ووری طرح‬

‫آب و ناب سے جمک رہا بھا اور ووں محسوس ہونا بھا کہ حیسے آپ مجل کے اندر نہیں نلکہ ناہر دھوپ میں ہیں۔ لیکن حیسے ہی‬
‫ً‬
‫م‬
‫ہم تے عسل سریف کے لئے نکس سے ذقیرہ سریف یکاال اور اس کے لئے تمام اپ یطامات کمل کئے ہمیں یقرپیاڈپڑھ گھبیا‬
‫اس عمل کو کگ گیا‪ ،‬ہم جب کہ وورے انہماک سے عسل سریف کے عمل میں مضروف بھے اس دوران مجل کے ناہر‬
‫گارڈ تے اپئی آنکھوں سے بہ مساہدہ کیا کہ انک مونی نہہ کا نادل کا نکڑا کہیں سے آنا اور اس تے وورے مجل کو ا پئے سابہ‬
‫ُ‬
‫سے ڈھاپپ دنا۔ اس تے اس کو وڈوو میں مب یقل کیا اور بہ وڈوو‪ ،‬ووپ توب ‪ Youtube‬سوسیل می ڈنا پر موخود ہے۔‬
‫روس کے َدورہ میں بھی ‪ 4‬اور ‪ 5‬ستمیر ‪2013‬ء کو انک انسی سہادت ملی‪ ،‬جب ان کے وزپر داجلہ تے سرکاری‬

‫نی وی بہ بہ سہادت دی کہ عام جاالت میں ہم روزابہ قیل اور م یعدد خرایم کے مقدمات سے بیرد آزما ہوتے ہیں لیکن جب‬
‫سے السیخ اجمد الجزرچی ا پئے بیرکات ’آنار الب توبہ‘ کے سابھ ہمارے مہمان ہوے ہیں ملک بھر میں انسا کونی وافعہ روورٹ‬
‫نہیں ہوا۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬یعض سرنسید ع یاضر ِ ’آنار الب توبہ‘ کی ساالبہ زنارت کے موفع پر ندتبئی سے بھی آتے ہیں نا آسکئے‬
‫ً ُ‬
‫ہیں۔ کیا کتھی انسا علم ‪ /‬مساہدہ میں ہوا کہ ان کی ندتبئی کی وجہ سے ان سے یقبیا کحھ پرا ہوا ہوگا؟‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬ہم لوگوں کی پ نت نہیں جان سکئے لیکن انسی کونی نات ہمارے علم میں نہیں آنی ہے کہ ’آنار‬

‫الب توبہ‘ کی وجہ سے کسی کو کونی یفصان نہیجا ہو ک توں کہ رسول اّٰللہ ﷺ نہت مہرنانی فرماتے والے ہیں۔ ہاں انسا سحص ’آنار‬
‫ً‬
‫الب توبہ‘ کے ق توصات و پرکات سے یقبیا ا پئے آپ کو مجروم رکھیا ہے۔ خو عیر مسلم‪ ،‬ساالبہ زنارت میں نہاں آتے ہیں محھے ان‬
‫سے کونی پرنسانی نہیں ہونی۔ میں اپیا زنادہ وقت آنار الب توبہ کی جدمت اور اصل جالت میں تجالی پرضرف کرنا ہوں اور بہ کہ‬
‫میں دوسروں کو قانل کرتے کے لئے اپیا قتمئی وقت صا یع نہیں کرنا۔‬
‫ہم جا پئے ہیں کہ پتمار ذہن اور ندپ نت لوگ ہمیشہ ہمارے آس ناس ہوتے ہیں۔ آج اگر حضرت اوونکر صدوق رصی‬
‫اّٰللہ عتہ بھی ان کو ان ’آنار الب توبہ‘ کی سہادت دیں وو بھی بہ پتمار ذہن کے لوگ یقین نہیں التیں گے۔ اب نک ہم تے‬
‫عیر مسلموں کو ’آنار الب توبہ‘ کی عام زنارت کی اجازت نہیں دی ہے لیکن محھے یقین ہے کہ اگر کتھی انسا ہوا وو بہ اگر‬
‫یعصب کی غبیک کے یعیر ان کی زنارت کریں وو غین ممکن ہے کہ اسالم ق تول کرلیں گے۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬آپ نالکل صحیح فرمارہے ہیں۔‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬رسول ا ہّٰلل ﷺ کے موتے میارک کے م یعلق کحھ اور مساہدات و معجزات آپ کے سا مئے تیش کرنا‬

‫ہوں۔ آپ ﷺ کے سیاہ نال س یاہ ہی پڑھئے ہیں اور شقید نال شقیدی میں پڑھئے ہیں اور خیا میں ر نگے نال ِخیا ہی میں پڑھئے‬
‫ہیں۔ سیا ہ نال شقید نالوں سے زنادہ بیزی سے پڑھئے ہیں‪ ،‬سیاہ نال عمومی طور پر ‪ 20‬سے ‪ 30‬سالوں میں دوگیا ہوجاتے‬

‫ہیں جب کہ شقید نالوں کو ‪ 70‬سے ‪ 80‬سال کگ جاتے ہیں۔ سیاہ نالوں کو ’جمال‘ کہا جانا ہے جب کہ شقید نال میارک‬
‫کو ’جالل‘ کہا جانا ہے۔‬

‫کیاب کے اگلے ناب میں ’ذکر‘ کا پیان ہے۔ رسول ا ہّٰلل ﷺ کے موتے میارک خرکت کرتے ہیں اور ان سے وور‬
‫بھوپیا ہے جب ان کے سا مئے ’ال الہ اال اّٰللہ‘ پڑھا جانا ہے۔ ملک لبیان سے یعلق رکھئے والے انک سحص کے ناس اس کا‬
‫یصوپری رکارڈ موخود ہے۔‬

‫کیاب کے اگلے ناب میں ان خید معجزانی وافعات کا نذکرہ ہے خو ان موتے میارک رسول اّٰللہ ﷺ سے میسلک ہیں۔‬
‫اس سلسلے میں نہال وافعہ اووظہئی کے خ یف اور مشہور عالم کے م یعلق ہے۔ وہ انک ہسبیال میں زپر عالج ب ھے اور کسی وجہ‬
‫سے ان کے ندن سے خون نہیں ُرک رہا بھا۔ ڈاکیروں کی تمام کوشسیں تے سود رہی بھیں‪ ،‬جکومت میجدہ عرب امارات تے‬
‫ان کو وورپ مب یقل کرتے کے لئے ہوانی جہاز کا پیدونست کردنا بھا‪ ،‬جب میں ان کے کمرے میں داجل ہوا وو سیخ صاجب‬
‫ا پئے تجوں کو وصنت فرمارہے بھے۔ میں بہ دنکھ کر نہت عم گین ہوگیا ک توں‬

‫ً‬
‫کہ وہ میرے واکد ِ گرامی کے دوشت ب ھے اور میرے لئے بہ نہت مشکل بھا کہ میں ان کو کھودوں‪ ،‬میں قورا گھر آنا اور‬

‫موتے میارک سابھ لے کر ان کے ناس دونارہ نہیجا۔ حیسے ہی انہوں تے محھے دنکھا وو فرمانا‪ ،‬میرے تبئے‪ ،‬اجھا ہوا یم آ گئے‪،‬‬

‫میرے لئے دعا کرو۔ میں تے خواب دنا کہ میں آپ کے لئے شقا النا ہوں اور بہ کہئے ہوتے میں تے موتے میارک ان کے‬

‫خوالے کردنا۔ اگلے ہی لمجے میں تے دنکھا کہ سیخ صاجب موتے میارک سے اس طرح ناتیں کرنا سروع ہو گئے گونا وہ پئی کریم‬
‫ً‬
‫ﷺ کے دوشت ہوں۔ وہ فرپیا ‪ 20‬منٹ نک ان موتے میارک سے مسلسل ناتیں کرتے رہے نہاں نک کہ ان کے ندن‬
‫سے خون نہیا پید ہوگیا۔‬

‫محھے اس نات کا قلق ہے کہ اس وقت میرے ناس کونی پ نپ رکارڈر نہیں بھا کہ میں ان کی گقیگو کو‪ ،‬خو انہوں‬
‫تے موتے میارک (ﷺ) سے کی بھی‪ ،‬محفوظ کرلبیا۔ میڈیکل اسیاف ‪ /‬معالج حضرات جیران بھے کہ خون نہئے کی کیا وجہ بھی‬
‫ً‬
‫اور کیسے بہ ختم ہوگئی۔ وہ خ یف اس کے یعد یقرپیا انک مہبیا مزند زندہ رہے اور محیلف مقامات پر آتے جاتے رہے۔‬

‫انک اور معجزانی وافعہ مل ِک لبیان کے انک سحص کے سا مئے تیش آنا۔ وہ سحص میرے سابھ اس کیاب ’آنار‬
‫الب توبہ‘ کی ندوین کے سلسلے میں کام کررہا بھا اور ’آنار الب توبہ‘ کے یصوپری یقش کو کیاب میں مب یقل کرنا بھا کہ انک دن‬

‫اسے گھر سے قون کال آنی کہ اس کی ماں سدند پتماری میں ’کوما‘ میں جلی گئی ہے اور اس کی جالت حظرے میں ہے۔‬

‫اس سحص تے محھ سے اپئی واکدہ کے لئے ’مثیرک نانی‘ خو موتے میارک کے عسل میں اسیعمال ہوا ا پئے سابھ لیا اور ا پئے‬
‫ملک اپئی واکدہ کے ناس لے گیا۔ وہ اسے اپئی واکدہ کو نالنا جاہیا بھا لیکن معالج حضرات اس ڈر سے اجازت بہ د پئے کہ‬
‫کہیں نانی ان کے ب ھے بھڑوں میں بہ جال جاے۔ ناہم اس سحص تے حسک کیڑے کو اِ س نانی میں ڈووکر اپئی ماں کے‬

‫جہرے اور جھانی پر لگانا حیسے ہی نانی سے پر کیڑا ان کے دل پر لگانا گیا وو میڈیکل ہارٹ ماتثیر خو اس کی مال کی دل کی‬

‫دھڑکن ووٹ کرتے کے لئے لگانا گیا بھا اس پر دل کی اوپر پیجے کی دھڑکن کی تجاے لفظ اّٰللہ ا ہّٰلل کی شکل میں لفظ یظر آتے‬
‫ً‬
‫کگے۔ بہ انک جیران کن نات بھی اور بہ نات یقبیا ہسبیال کے عملہ کے لئے (خو کہ غیسانی بھا) اور بھی جیران کن بھی۔‬
‫خیاں جہ ہسبیال کا تمام عملہ ہارٹ ماتثیر کے گرد جمع ہوگیا اور انہوں تے ہارٹ ماتثیر کا یعور معاپتہ سروع کردنا۔ انہوں تے‬

‫اسے م یعدد نار سوتچ آف اور سوتچ آن بھی کیا ناکہ اگر کونی پروگرام میں کونی خرانی ہے وو بھیک ہوجاے لیکن خوں ہی ماتثیر کو‬

‫آن کیا جانا بھا اس پر لفظ ا ہّٰلل ا ہّٰلل کی ضورت میں دل کی دھڑکن کا ڈ پیا یظر آتے کگیا۔ اس ضورت جال میں انہوں تے ہارٹ‬
‫ماتثیر کو خیک کرتے کے لئے کسی کمبئی کے الیکیریکل پیکبیسن کو ُنالنا‪ ،‬حس تے اگلے دن آتے کے لئے وقت طے کرلیا۔‬
‫اگلے دن پیکبیسن تے ہارٹ ماتثیر کو ہر ہر یقے سے خیک کیا مگر تے سود۔ اس تے بھر پیا ہارٹ ماتثیر لگانا لیکن پیا‬

‫ماتثیر بھی اسی طرح لفظ ا ہّٰلل ا ہّٰلل دکھاتے لگا‪ ،‬تین دن نک اس م یظر کو سیکڑوں لوگوں تے اس ہسبیال میں موخود اور ناہر کے‬
‫ٰ‬
‫لوگوں تے اپئی آنکھوں سے دنکھا۔ خئی کہ اس سحص کی واکدہ اس ِدار قانی سے کوچ کرگبیں۔ ہمارے ناس اس ماتثیر کی‬
‫یصاوپر محفوظ ہیں۔ اس وافعہ سے میجرسح ہے کہ عیر مسلم لوگ حیسے کہ اس مسیجی ہسبیال کے لوگ ب ھے‪ ،‬ا نسے معجزات پر‬

‫یقین کرلبئے ہیں لیکن پتمار ذہن کے لوگوں کے دلوں پر مہر کگ جکی ہونی ہے اور وہ یقین کرتے میں نس و تیش سے کام‬
‫لبئے ہیں۔‬

‫االمام الجو پئی خوکہ جامعہ االزہر‪ ،‬مضر کے نلید نابہ اسانذہ ہیں سمار ہوتے ہیں۔ انہوں اپئی کیاب الق ٰیاوی (خوکہ جار‬
‫لس‬
‫جلدوں پر مستمل ہے) میں ا نسے لوگوں کا سمار ”اعداء ا ہّٰلل ورسولہ وا م لمین“ یعئی وہ ا ہّٰلل اور اس کے رسول ﷺ اور مسلماووں‬
‫کے دسمن کے طور پر کیا ہے ک توں کہ ا نسے پتمار ذہن کے لوگ اّٰللہ اور اس کے رسول ﷺ کی صقات و کماالت کو مجدود یظر‬
‫سے دنکھئے ہیں۔ ”آنار الب توبہ“ کیاب کے اگلے ناب میں میدرجہ ذنل نہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔‬
‫ہم آنار الب توبہ کو کیسے‪ ،‬کہاں اور کس انداز سے رکھئے ہیں؟‬
‫آنار الب توبہ کو رکھئے کے آداب کیا ہیں؟‬
‫آنار الب توبہ کی صقانی‪ ،‬حقاظت اور صحت کے لئے کون سے آالت اسیعمال میں الے جاتے ہیں؟‬
‫موتے میارک کو کس انداز سے لگانا جانا ہے ناکہ اس کے پڑھئے کا عمل جاری رہے؟‬
‫موتے میارک کے سیدھا اور الیا کگے ہوتے کا فرق کیسے جاتجا جانا ہے؟‬
‫موتے میارک کے لئے ’ونکس‘ (موم) کیسے پیانی جانی ہے؟‬
‫اس ناب میں ہر انک نہلو کو نہت یفصیل اور محیاط انداز سے پیان کیا گیا ہے ناکہ قاری اس تمام عمل سے آ گاہی‬
‫جاصل کرسکے‪ ،‬جہاں ضروری ہوا وہاں یصاوپر کا خوالہ بھی دنا گیا ہے۔‬
‫میال کے طور پر جب ہم سیاہ رنگ کے موتے میارک کو محفوظ کررہے ہوتے ہیں نا اس کی صقانی کررہے ہوتے‬

‫ہیں وو ہم شقید رنگ کا کیڑا اسیعمال کرتے ہیں جب کہ شقید رنگ کے موتے میارک کے لئے سیاہ رنگ کے کیڑے کا‬
‫اسیعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح موتے میارک کی سمت کا یعین نہت ضروری ہے ک توں کہ موتے میارک ضرف اسی‬

‫ضورت پڑھئے ہیں اگر ان کو ان کی صحیح سمت میں لگانا جاے۔ موتے میارک کی سمت کو جاتحئے کے لئے ہم موتے میارک‬

‫کو ایگلی کے ووروں پر ز پ تون کا پ یل لگاکر اس کی مالتمت کا اندازہ کرتے ہیں اگر بہ مالتمت پیجے سے اوپر کی جاپب ہو وو بہ‬
‫صحیح سمت ہے اور اسی ضورت میں نال پڑھئے کا عمل جاری رہے گا۔‬
‫دوسری اہم جیز موتے میارک کے پڑھئے کے لئے حصوصی طور پر پیار کی جاتے والی ’ونکس‘ (موم) ہے۔ جہاں اس‬
‫موتے میارک کو اس کی صحیح سمت میں لگانا جانا ہے۔‬

‫میدرجہ ناال یفصیل پیان کرتے کا مفصد بہ ہے کہ وہ تمام خوش تحت افراد جن کے ناس ’آنار الب توبہ‘ کسی طور پر‬
‫ی‬
‫محفوظ ہیں ان کی علتم و آ گاہی ہوسکے۔ رواپت میں آنا ہے کہ رسول اّٰللہ ﷺ تے ’صلح جدتنتہ اور ححۃ الوداع کے موفع پر کم و‬
‫تیش ‪ 28,000‬صجابہ کرام کو محیلف ’آنار‘ مرجمت فرماے ب ھے‪ ،‬ان میں تیش پر یعداد ان صجابہ کرام کی بھی جن کے ناس‬
‫’موتے میارک‘ بھے۔ لہذا ا نسے ک توں کر ہوسکیا ہے کہ رسول اّٰللہ ﷺ کے نال میارک ناپید ہوجاتیں جب کہ بہ وقت کے‬
‫سابھ پڑھئے بھی ہوں اور ان کو آگ بھی بہ جالسکئی ہو۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬صحیح روانات میں ہے کہ خید اصجاب تے پرکت کے لئے موتے میارک اپئی قیر میں ا پئے سابھ ر ک ھے‬

‫ب ھے۔ میں جاپیا جاہیا ہوں کہ ناکسیان میں جن لوگوں کے ناس موتے میارک ہیں وہ ان کو عثیر کے سابھ نا ضیدل کے پرادہ‬
‫میں رکھئے ہیں‪ ،‬آپ کے خیال میں کیا بہ صحیح ہے؟ میرا انک اور سوال ہے کہ اسبب تول‬

‫کے ناپ کانی م توزیم میں خو موتے میارک زنارت کے لئے ر کھے گئے ہیں وہ وقت کے سابھ ک توں نہیں پڑھئے؟‬

‫ً‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬جن لوگوں تے بہ آنار سریف ا پئے سابھ قیر میں ر کھے ہیں انہوں تے یقبیا ا پئے سابھ خ نت کی‬
‫ضماپت رکھ لی ہے حیسا کہ یعض صجابہ کرام اور نایعین کے ذکر میں آنا ہے لیکن اس سے نہت سے آتے والی نسلوں کے‬

‫لوگ ان کی زنارت سے مجروم ہو گئے۔ آپ کے دوسرے سوال کے خواب میں عرض ہے کہ میری تحق تق کے مطاوق بہ نال‬
‫میارک مصتوعی ونکس (‪ )Synthetic wax‬میں ر کھے ہوے ہیں اور ان سے تیش پر کی سمت صحیح نہیں لگانی گئی‬
‫ہے جالتہ دووں میں ناپ کانی ادارہ کے لوگوں تے محھ سے اس سلسلے میں رایطہ کیا ہے اور میں ع یقرپب وہاں جاتے کا‬
‫ارادہ رکھیا ہوں اور اس سلسلے میں ان کو تمام ضروری معلومات بھی فراہم کروں گا۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬کیا آپ بہ پرپ نت ا پئے تجوں کو بھی دے رہے ہیں؟‬

‫َ‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬چی ہاں میں ا پئے تجوں کو ناقاعدہ سکھارہا ہوں اور بہ نہت ضروری امر ہے۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬آپ رہ تمانی فرماتیں کہ ہم کس طرح سے جاتچیں گے کہ کونی ’موتے میارک‘ اصلی ہے نا نہیں؟‬

‫کحھ لوگ اس کو نانی میں رکھ کر جاتحئے ہیں اور اس پر نارچ کی روسئی سے معلوم کرتے ہیں کہ ’سابہ‘ ہے نا نہیں اگر سابہ‬
‫بہ ہو وو بہ اصلی ہوگا؟ آپ اس سلسلے میں کیا کہئے ہیں؟‬

‫السیخ الجزرچی ‪ :‬میری راے میں بہ طریفہ موزوں نہیں ہے‪ ،‬اس طر یقے سے جاتحئے میں بہ ساپتہ ہوسکیا ہے کہ‬
‫موتے میارک وو اصلی ہو‪ ،‬لیکن ’سابہ‘ کی وجہ ’نانی کا سابہ‘ نا تجور (خوش وو)‪ ،‬عظر کا سابہ ین رہا ہو خو اس موتے میارک کو‬
‫کگی ہو‪ ،‬نا صقانی ا جھے طر یقے سے بہ ہو؟ نا بہ کہ میرے ہابھ ا ج ھے طر یقے سے صاف بہ ہوں اور ان کی وجہ سے ’موتے‬
‫ف‬
‫میارک‘ پر کحھ لگا ہو۔ گونا جب نک موتے میارک نہت ا جھے انداز سے صاف بہ ہو‪ ،‬اس تجربہ سے علط ہمی ہوسکئی ہے۔‬
‫میری تحق تق کے مطاوق ’موتے میارک‘ کو جاتحئے کے لئے اسے تین مراجل سے گزارنا جا ہبئے۔‬
‫مرجلہ تمیر ‪:1‬۔ ” سابہ بہ ہونا“ اس تیسٹ کے لئے موتے میارک کو نہلے ’زم زم‘ کے نانی کے سابھ پیجے سے‬
‫ً‬
‫اوپر کی طرف صاف کرنا جا ہبئے‪ ،‬بھر اسے عام صاف نانی سے دھونا جا ہبئے ک تو ں کہ زم زم نانی میں نہت سے تمکیات میال‬

‫سوڈیم‪ ،‬ووناستم وعیرہ ہوتے ہیں خوکہ موتے میارک پر رہ جاتے ہیں اگر اسے عام صاف نانی سے بہ دھونا جاے ‪ -‬اس کے‬

‫یعد موتے میارک کو پرم و مالیم کیڑے سے صاف کرنا جا ہبئے اگر کونی موتے میارک ”سابہ بہ ہونا“ کا تیسٹ واصح بہ کرسکے‬
‫وو اسے دوسرے مرجلے پر گزارنا جا ہئے ک توں کہ ہوسکیا ہے کہ ’سابہ‘ ہوتے کی وجہ ہمارے ہابھوں کا نہت زنادہ صاف بہ‬
‫ہونا ہو۔‬
‫مرجلہ تمیر ‪:2‬۔ ”موتے میارک کا ذکر کے سابھ خرکت کرنا“ موتے میارک کے سا مئے ذکر کیا جاے۔ اگر بہ اصل‬

‫موتے میارک ہوگا وو ان ساء ا ہّٰلل بہ ذکر کے سابھ خرکت کرے گا‪ ،‬لیکن اگر انسا بہ ہو وو اسے تیسرے مرجلے سے گزارا‬
‫جاے۔‬

‫مرجلہ تمیر ‪:3‬۔ ”موتے میارک کو آگ نہیں جالنی“ اگر نہلے دوووں مرجلوں میں موتے میارک‪ ،‬کے اصل ہوتے‬
‫کی یصدوق بہ ہورہی ہو وو اسے آگ میں جالتے کا تیسٹ کیا جاے۔ بہ تیسٹ اس کے اصل نا یقل میں صاف فرق پیادے‬
‫گا۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬آپ کس طرح بہ ہمت کرسکیں گے کہ موتے میارک کو مرجلہ تمیر ‪ 3‬تیسٹ سے گزارا جاے۔‬

‫میرا مطلب کہ ہمارا دل اور روح خوف سے کاپپ ا بھے گی اگر اسے اس تیسٹ سے گزارے جاتے کا خیال آے؟‬

‫ً‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬آپ یقبیا درشت فرمارہے ہیں لیکن میں آپ کو پ یانا ہوں کہ پرکتہ جالقت عتماپتہ زرکلی تے موتے‬
‫میارک کو نگھلئے ہوے کرس یل میں محفوظ کیا‪ ،‬بہ انک حصوصی ڈپزاین کا جامل کرس یل ہے حس میں موتے میارک کو ہمیشہ‬
‫کے لئے محفوظ و مامون پیاتے اور اسی کا حصہ پیاتے کے لئے نگھالنا گیا ہے۔ اسے ‪ 800‬ڈگری سببئی گرنڈ نک نگھالنا گیا‬

‫لیکن اس قدر جدت والے یم پرے خر (درجہ خرارت) میں بھی موتے میارک اپئی اصل جالت میں محفوظ رہا اور آج نک ہے۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬ماساء اّٰللہ‪ ،‬آپ اس موضوع پر انک انساپ یکلو نی ڈنا ہیں۔ نا سیخ! جب سے آپ کے ناس بہ ’آنار‬
‫الب توبہ‘ موخود ہیں کیا آپ کو رسول ا ہّٰلل ﷺ کی خواب میں زنارت یصنب ہونی ہے؟‬

‫السیخ الجزرچی ‪ :‬چی ہاں‪ ،‬الحمد ّٰللہ محھے رسول اّٰللہ ﷺ کی خواب میں ناتچ سے زنادہ مرپتہ زنارت ہونی ہے۔‬
‫انک مرپتہ رسول ا ہّٰلل ﷺ اس کمرے کے سا مئے قیام فرما بھے جہاں پر ہم تے بہ آنار الب توبہ ر کھے ہوے ہیں۔ آپ‬
‫ﷺ قیلہ سریف کی طرف دنکھ رہے بھے اور ان کے پیحھے انک نہت پڑا میز بھا حس کے اوپر شقید رنگ کا کیڑا پڑا ہوا بھا۔ بہ‬
‫ً‬
‫میز یقرپیا ‪ 3‬گز خوڑانی میں بھا اور ناجد ِ یظر لمیانی میں بھیال ہوا بھا نہاں نک کہ میز کا دوسرا کیارا دکھانی بہ د پیا بھا۔ اس میز‬
‫کے سروع میں وہ تمام آنار الب توبہ موخود بھے خو ہمارے ناس محفوظ ہیں۔ بہ ’آنار‘ یعیر کسی عالف کے موخود بھے گونا صاف‬

‫یظر آرہے بھے۔ ان آنار کے سابھ ہزاروں اور الکھوں کی یعداد میں کنب موخود بھیں۔ پئی کریم ﷺ تے ا پئے ہابھ میارک نلید‬
‫کرکے ارساد فرمانا‪ :‬ھذہ آناری۔ یعئی بہ میرے آنار ہیں۔ اور انسا کرتے ہوے انہوں تے جب آنار کی طرف اسارہ کیا وو روسئی‬
‫کا انک وور ان آنار سے بھو پئے لگا گونا ووں کگ رہا بھا حیسے ہر انک آنار سریف انک جگ مگانا ہوا سیارا ہو۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬آپ اپئی زندگی میں کیا پیدنلی محسوس کرتے ہیں؟ جب سے آپ ان ’آنار الب توبہ‘ کے اماپت دار و‬
‫نگہ نان ہوے ہیں؟‬

‫السیخ الجزرچی ‪ :‬نہت سی! نہلی پیدنلی بہ ہونی کہ میجدہ عرب امارات اہ ِل ایصار فبیلہ تے محھے ’پرنس آف ایصار‘‬
‫مبیحب کرلیا ہے۔ اس م یصب کے لئے دپیا بھر سے ’‪ ‘8‬موزوں امیدوار ب ھے‪ ،‬وہ تمام محھ سے زنادہ پڑھے کک ھے بھے اور تیش پر‬
‫محھ سے زنادہ نااپر اور امیر بھے۔ ہم ایصار فبیلہ کی جدمت ا پئے واکد کے زماتے سے کررہے ہیں۔ اس کے عالوہ محھے ایصار‬
‫پرادری کا سردار مبیحب کیا ہوا ہے۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬آپ ا پئے اندر کیا پیدنلی محسوس کررہے ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ روجانی طور پر آپ کے محسوسات‬
‫کیا ہیں؟ آپ تے کون کون سی عادات میں واصح پیدنلی نانی ہے؟ خوں کہ میرا یقین ہے کہ بہ ’عطا‘ عام نہیں نلکہ جاص‬
‫الجاص ہے۔ میرے پزدنک آپ اس دپیا کے شب سے امیر اور ممیاز سحص ہیں؟‬

‫السیخ الجزرچی ‪ :‬الحمد ّٰللہ‪ ،‬روجانی طور پر میں تے نہت سی پیدنلیاں محسوس کی ہیں‪ ،‬میں اسے ظاہر نہیں کرنا جاہیا۔‬

‫آنار الب توبہ کے سلسلے میں آپ کو پیانا جلوں کہ خوں کہ ہمارے ناس انک کثیر یعداد میں آنار سریف موخود‬

‫ہیں۔ ان میں دو عدد ذقیرہ سریف ہیں۔ لہذا ہم ان کی جاص طور پر حقاظت و پزتین میں کسی فشم کی کونی کسر نہیں ابھا‬
‫ُ‬
‫رکھئے۔ ہم ان آنار کو کتھی یعیر عالف کے نا یعیر سیسے کے نہیں رکھئے ناکہ کونی ان کو جھو بہ سکے اور کسی طرح ان کو کونی‬
‫یفصان بہ نہیجے۔ میں آپ کو انک وافعہ پیانا ہوں کہ حب توا میں میرے انک دوشت کے ناس انک موتے میارک بھا۔ لیلۃ‬
‫القدر میں اس کے دوشت و اخیاب تے اضرار کیا کہ وہ پر کت کے لئے اس موتے میارک کی ان کو زنارت کرواے۔‬

‫میرے وہ دوشت گھر سے موتے میارک لے آے اور زنارت کے لئے رکھ دنا۔ بہ موتے میارک یعیر کسی پید سیسے میں موخود‬
‫َ‬
‫ً ً‬
‫بھا ناکہ لوگ بہ ضرف اس کی زنارت کرسکیں نلکہ اس میں نسی ہونی خوش وو کی مہک لے سکیں۔ بہ زنارت فردا فردا نکے یعد‬
‫دوسرے جاری رہی نہاں نک کہ آخری فرد زنارت کے لئے آے اور انہوں تے اسے دنکھئے ہی ابھاکر ا پئے اندر یگل لیا۔‬
‫ُ‬
‫ی‬
‫ن‬
‫ک‬
‫س‬
‫ھ‬
‫ک‬
‫اس وافعہ سے ہمیں ستق مال‪ ،‬اب ہم کسی بھی آنار کو اس طرح ال ہیں ر ھئے۔ ہمارے ناس دو طرح کے کر ل‬
‫کے جار ہیں۔ کحھ موتے میارک مجدب عدسہ (میگ نی قاین گالس) کی مدد سے زنارت کے لئے ر کھے گئے ہیں‪ ،‬دوسرے‬

‫انک جاص ڈپزاین سدہ جار میں ر کھے گئے ہیں اور اس میں انک سوراخ رکھا گیا ہے ناکہ موتے میارک سے مہک میارک ناہر‬
‫ً‬
‫نک آسکے۔ بہ جار یقرپیا ‪ 2‬کلو گرام ’جاندی‘ کی دھات سے پیار کیا گیا ہے اور اسے انک جگہ سے دوسری جگہ نآسانی مب یقل‬
‫کیا جاسکیا ہے اگر جداتجواشتہ علطی سے پیجے بھی گر جاے وو موتے میارک کو کسی فشم کی گزند بہ نہیچ سکے۔‬

‫کیاب کے اگلے ناب میں اس ونکس (موم) کو پیار کرتے کا طریفہ پیانا گیاہے خو موتے میارک کے پڑھئے کے‬
‫عمل میں سازگار ہونا ہے۔ بہ ونکس مصتوعی اور انسا عام نہیں ہے خو ہم ُسیر مارکنٹ سے خرندتے ہیں۔ بہ ونکس قدرنی طور‬
‫پر سہد کے جھئے سے جاصل کی جانی ہے خو قدرنی صجراؤں میں نانی جانی ہے۔ اس ونکس کو نہاپت محیاط انداز سے سہد کے‬

‫جھئے سے اکگ کیا جانا ہے اور بھر اسے گرم نانی میں رکھا جانا ہے اور بھر پیلے عثیر (‪ )Blue Amber‬میں ڈاال جانا‬
‫ہے۔ پیال عثیر انک ناناب سے ہے خو جالص سوتے سے بھی مہ یگا ہے۔ اس میں ’کستوری‘ (‪ )Deer musk‬ڈالی جانی‬
‫ہے اور بھر اسے آہستہ آہستہ مرکب میں پیدنل کیا جانا ہے۔ اس مرکب میں انک نہت ہی ناناب گالنی رنگ کا کاقور‬

‫(‪)Pink Camphor‬نا پ یلے رنگ کا کاقور (‪ )Yellow Camphor‬ڈاال جانا ہے لیکن شقید رنگ کا ہر گز‬

‫نہیں۔ اس کے یعد اس مرکب کو نکڑوں میں کاٹ کر اس کے اندر کاقور ناؤڈر‪ ،‬پتھر کے یعیر ڈال کر مالنا جا نا ہے اور بھر‬

‫دونارہ عثیر ڈاال جانا ہے۔ بہ جاص ونکس قدرنی طور پر کگئے والی اسیاء کی مدد سے پیار ہونی ہے اور بہ ونکس ‪ 11‬سے ‪14‬سال‬
‫نک ناپیدار رہئی ہے۔‬

‫نہاں میں انک جاص نات کہیا جاہیا ہوں کہ موتے میارک پر کونی بھی خوش وو نہیں لگانی جانی۔ بہ رسول اّٰللہ ﷺ‬
‫کے معجزوں میں سے انک معجزہ ہے کہ موتے میارک میں سے قدرنی طور پر انک ناناب اور مسجور کن خوش وو ‪ 1,400‬سال‬
‫سے زاند عرضہ گزرتے کے ناوخود آج نک آرہی ہے۔ حیسا کہ ہم جا پئے ہیں کہ مالنکہ موتے میارک کی زنارت کے لئے موخود‬
‫رہئے ہیں وو خو خوش وو ہم پیاتے ہیں وہ موتے میارک کے ارد گرد کے ماخول یعئی نکس اور عالف نا ونکس جہاں بہ موتے‬
‫میارک لگاے جاتے ہیں‪ ،‬وہاں پر لگاتے کے لئے ہے۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬ماساء اّٰللہ نہت عمدہ اور اجھا خیال ہے۔ ناسیخ! کیا آپ کا جاندان سروع سے نہاں قیام نذپر ہے نا‬
‫آپ کسی اور عالقے نا ملک سے نہاں ہجرت کرکے آے بھے؟‬

‫دور جالقت میں مدپتہ م تورہ سے ہجرت کرکے میجدہ‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬ہمارا جاندان سیدنا اوونکر صدوق رصی اّٰللہ عتہ کے ِ‬

‫عرب امارات کی رناشت فحیرہ میں سکوپت احبیار کرگیا بھا۔ بہ خروب ال ِردا (‪ )Haroob Al Rida‬کے وقت کی نات‬
‫ہے۔ فحیرہ کے عالقے دناال پ یعہ (‪ )Dibba Al Bay'ah‬اس وقت جالت ِ خیگ میں بھے۔ حضرت اوونکر صدوق رصی‬

‫دور جالقت میں حضرت عکرمہ ین اووشقیان رصی ا ہّٰلل عتہ کی شتہ ساالری میں کقار سے خیگ کے لئے نہاں‬
‫اّٰللہ عتہ تے ا پئے ِ‬
‫لس ِکر اسالم کے د سئے بھیجے۔ ہمارے جاندان کے ‪ 14‬افراد اس لسکر ِ اسالم میں سامل بھے (خ یگ ِ ال ردا کے نام سے بہ‬
‫لسکر اسالم کقار سے لڑا)۔ ان ‪ 14‬افراد میں سے انک میرے ج ِد امجد العین کے عالقے میں اس وقت نک بھہرے رہے‬
‫ناکہ اس نات کا یقین اور اظمبیان جاصل ہوجاے کہ خیگ ال ردا کا مسن کام ناب رہا اور عالفہ کا ہر سحص مسلمان ہوحکا‬
‫دور جالقت میں ان کی درخواشت پر ہمارا‬
‫ہے۔ اس کے یعد ہمارا جاندان دونارہ مدپتہ م تورہ جال گیا۔ بھر جل یفہ ہارون الرسید کے ِ‬
‫جاندان عراق ہجرت کرگیا۔ جل یفہ مامون الرسید کے عہد ِ جالقت نک وہیں قیام نذپر رہا۔ اس کے یعد ہم دونارہ میجدہ عرب‬
‫امارات میں وانس ہجرت کرکے آ گئے۔‬

‫ً‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬کیا آپ کے جاندان کا یعلق کسی روجانی سلسلے سے ہے میال قادری‪ ،‬ساذلی‪ ،‬رقاعی نا کونی اور‬
‫ضوقی سلسلہ؟‬

‫السیخ الجزرچی ‪ :‬چی ہاں ہم قادری‪ ،‬ساذلی ضوقی سلسلے سے ہیں عالوہ اس کے ہمارا انک اپیا بھی روجانی سلسلہ ہے۔‬
‫َ‬
‫میں آپ کو انک وافعہ پیانا ہوں۔ انک روز تم ِاز فجر کے یعد دپئی کی مسجد میں‪ ،‬میں اوراد پڑھئے میں مشعول بھا خوکہ نہت درکار‬
‫ً‬
‫وقت میں پڑھے جاتے ہیں‪ ،‬اس دوران مسجد میں موخود فرپیا دو سو کے فرپب لوگ آہستہ آہستہ مسجد سے جلے گئے نہاں نک‬
‫کہ انک آدمی خو مسجد میں ناقی رہ گیا وہ میرے پیحھے کھڑا ہوگیا‪ ،‬اور جب میں اوراد پڑھ کر قارغ ہوا وو اس تے ووجھا کہ کیا آپ‬
‫السیخ اجمد الجزرچی (خوکہ میرے جد امجد ب ھے) کے رشتہ دار ہیں؟ اس تے کہا کہ میں تے آپ کو اس طرح نہجانا کہ آپ بھی‬
‫انہی اوراد کا ذکر کررہے بھے خو انہوں تے اپیا وط یفہ پیا رکھا ب ھا۔‬
‫نہرجال کیاب کے اگلے ناب میں ان تمام ”آنار الب توبہ“ کی یفص یل درج کی گئی ہے خو ہمارے ناس محفوظ ہیں۔‬
‫انک قانل ذکر نات بہ ہے کہ ہمارے ضرف وہ ’آنار الب توبہ‘ ہیں جن کے موخودہ نگہ نان و نگران ہم ہیں۔ یعئی ہم دوسروں‬
‫کے آنار اماپت کے طور پر ا پئے ناس نہیں رکھئے‪ ،‬ان آنار الب توبہ میں سے خید انک کی یفصیل بہ ہے‪:‬۔‬

‫‪ 1‬ذقیرہ سریف‪ 2 :‬عدد‪ ،‬ان میں انک خو صلح جدتنتہ کے موفع پر عطا ہوا۔ اس کی موخودہ لمیانی (پڑھئے کے یعد) ‪103‬‬‫سببئی مثیر ہے جب کہ دوسرا خو کہ ححۃ الوداع کے موفعہ پر مرجمت ہوا اس کی لمیانی اس وقت ‪ 15‬سببئی مثیر ہے۔‬
‫‪2‬‬‫‪3-‬‬

‫حسلہ سریف‪ 2 :‬عدد‬

‫المجامہ (نال میارک خو رسول ا ہّٰلل ﷺ کے ح ِشم اقدس کے محیلف حصوں سے ہیں۔ المجامہ ان نال میارک کو کہئے‬
‫سر اقدس سے نہیں لئے گئے یعئی داڑھی میارک کے نال (ہم ا پئے تجرتے کی پیا پر دو محیلف‬
‫ہیں خو ِ‬
‫نالوں کو نآسانی علیجدہ کرسکئے ہیں خو سر میارک نا داڑھی میارک سے ہوں)‬

‫‪4-‬‬

‫ووشتہ‪ :‬وہ نال میارک خو حضرت جاکد ین ولید رصی اّٰللہ عتہ اپئی وونی میں نا نگڑی ‪ /‬عمامہ کے پیجے ا پئے سر پر رکھئے‬
‫ب ھے۔‬

‫‪ 5‬گوکڈن رنگ کے نال میارک‪ 2 :‬عدد‪ ،‬بہ نہاپت نادر نال میارک ہیں گرجہ رواپت میں اس رنگ کے نالوں کا کونی‬‫نذکرہ نہیں ملیا لیکن بہ ہماری دانست کے مطاوق اس طرح سمحھا جاسکیا ہے کہ سیاہ نال میارک جب شقیدی میں پیدرتج‬
‫پیدنل ہونا ہے وو بہ جھ مراجل سے گزرنا ہے۔‬
‫سیاہ‪ ،‬گہرا بھورا‪ ،‬ہلکا بھورا‪ ،‬گوکڈن‪ ،‬گہرا‪ ،‬ہلکا‪ ،‬شقید‬
‫اختمال ہے کہ بہ گوکڈن رنگ کے نال میارک کحھ انسی پیدنلی کے مراجل کے دوران لئے گئے ہوں گے۔ معجزانی‬
‫طور پر بہ گوکڈن ہی رہئے اور اسی رنگ میں اس کی لمیانی میں اصافہ ہورہا ہے۔ سیجان اّٰللہ‬

‫‪6-‬‬

‫مسیج ‪ (Mastaj): 5‬عدد (اسیاد کے سابھ) انک نال میارک رسول اّٰللہ ﷺ کے داتیں ہابھ میارک سے ہے جب‬
‫کہ ناقی جار عدد داڑھی میارک سے ہیں۔‬
‫‪7-‬‬

‫ُجتہ سریف (‪)Jubbah‬‬

‫ُ‬
‫‪ 8‬پردہ سریف ‪ (Burdah): 2‬عدد‪ ،‬دوووں محیلف اسیاد کے سابھ محفوظ ہیں۔ کحھ نسل المیارکین ‪Nasal-‬‬‫ُ‬
‫‪ Mubarakeen‬تے رسول ا ہّٰلل ﷺ سے ووجھا‪ ،‬کیا وہ پردہ آپ تے ز پب ین فرمانا بھا۔ آپ ﷺ تے فرمانا ”یعم“ یعئی انسا‬
‫ُ‬
‫ہی ہے اور بہ پردہ سیاہ رنگ کا ہے۔‬
‫‪9-‬‬

‫ٰ‬
‫اککیری سریف‬

‫‪ :Soak 10‬قم یض میارک کا انک نکڑا خو کاین کا پیا ہوا ہے ندفشمئی سے اسے ا ج ھے انداز سے محفوظ نہیں کیا گیا بھا۔‬‫‪ 11‬نال میارک سیدنا حضرت اوونکر صدوق رصی اّٰللہ عتہ‬‫‪ 12‬نال میارک سیدنا عمر قاروق رصی اّٰللہ عتہ‬‫‪ 13‬نال میارک سیدنا عتمان ذوال تورین رصی ا ہّٰلل عتہ‬‫‪ 14‬نال میارک سیدنا علی ای ِن انی ظالب رصی اّٰللہ عتہ‬‫(عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی تے جب ان سے درناقت کیا کہ میں تے کہیں نہیں پڑھا کہ جاروں جلقاے راسدین‬
‫ی‬
‫تے ا پئے نال لوگوں کو قستم کئے بھے‪ ،‬السیخ الجزرچی تے خواب دنا کہ نہت سے اصجاب کے ناس جلقاے راسدین کے نال‬
‫ی‬
‫موخود ب ھے‪ ،‬بہ غین ممکن ہے کہ جلقاے راسدین تے ا پئے نال قستم نہیں کئے ہوں لیکن بہ بھی غین ممکن ہے کہ حس‬
‫سحص ‪ /‬اسجاص تے آپ جلقاے راسدین کے نال مونڈھے ہوں اس تے انہیں ا پئے ناس رکھ لیا ہو اور محفوظ کرلیا ہو)‬
‫‪ 15‬نال میارک سیدنا حضرت امام الحسن این علی رصی اّٰللہ عتہ‪ 131 :‬عدد‬‫‪ 16‬نال میارک سیدنا حضرت امام الحسین این علی رصی اّٰللہ عتہ‪ 64 :‬عدد‬‫‪ 17‬نال میارک سیدنا حضرت امام الحسین رصی اّٰللہ عتہ‪ 1 :‬عدد‪ ،‬محیلف سید کے سابھ‬‫‪ 18‬نال میارک سیدنا حضرت امام زین العاندین رصی ا ہّٰلل عتہ‬‫‪ 19-‬انگوبھی ‪ /‬مہر‪ :‬حضرت عتمان عئی رصی ا ہّٰلل عتہ‬

‫امر وافعہ ہے کہ م ِہر پ توت رسول ا ہّٰلل ﷺ‪ ،‬حضرت اوونکر صدوق رصی ا ہّٰلل عتہ اور حضرت عمر قاروق رصی ا ہّٰلل عتہ کے‬
‫ِ‬
‫دور جالقت میں ان کے زپر اسیعمال رہی لیکن خوں کہ سیدنا حضرت عتمان رصی ا ہّٰلل عتہ کی ایگلی پیلی بھی اسی لئے سروع‬
‫ِ‬
‫میں سیدنا حضرت عتمان رصی اّٰللہ عتہ تے م ِہر پ توت اپئی ایگلی میں رکھی لیکن جار ماہ یعد انہوں تے اپئی ایگلی کے ساپز کے‬
‫ُ‬
‫مطاوق پئی مہر پ توالی۔‬

‫نہاں میں انک اور نات واصح کردوں کہ وہ خید ’آنار الب توبہ‘ جن کی سہادت ہمیں سید کے سابھ نہیں ملئی ہم ان‬
‫ُ‬
‫کا نالواشطہ تجزبہ کرواتے ہیں خوں کہ بہ مہر رسول اّٰللہ ﷺ سے میسلک نہیں پیانی جارہی بھی اسی لئے ہم تے اس کے تجزبہ‬
‫ُ‬
‫ب‬
‫کے لئے اسے لیدن کی انک نہت پرانی اور پڑی لبیارپری میں ھجوانا جہاں محیلف دھاووں کا تجزبہ ہونا ہے‪ ،‬ناکہ اس م ِہر سیدنا‬
‫ُ‬
‫عتمان رصی ا ہّٰلل عتہ کا تجزبہ ہوسکے کہ بہ دھات کبئی پرانی ہے۔ لبیارپری والوں تے اس مہر کا تجزبہ کرکے پیانا کہ اس‬
‫ً‬
‫فشم کی دھات یقرپیا ‪ 900‬سال نہلے مففود ہوجکی ہے‪ ،‬خوں کہ سیدنا حضرت عتمان رصی ا ہّٰلل عتہ تے بہ مہر سال ‪ 7‬ہجری‬
‫میں پیانی بھی وو لبیارپری کا تجزبہ اس کے اصلی ہوتے کا واصح پ توت ہے۔‬
‫م‬
‫‪ 20‬کجل (‪)Makhal‬۔ (‪ )Kohl container‬کوک (‪ )Kook‬ککڑی کے کور میں‪ ،‬بہ سرمہ دانی سیدنا‬‫قاظمہ الزہرا رصی ا ہّٰلل عتہا سے میسوب ہے۔‬

‫‪ 21‬یع ِال سیدپیا حضرت قاظمہ رصی اّٰللہ عتہا‪ ،‬خو کہ اہ ِل پ نت جاندان سے جاصل ہوا‪ ،‬اس یعال پر ابھی بھی کحھ جمڑا‬‫(‪ )Leather‬موخود ہے۔‬

‫‪ 22‬نال میارک سیدنا حضرت علی این ظالب رصی ا ہّٰلل عتہ‪ ،‬دوسری سید کے سابھ‬‫‪ ،Soak 23‬سیدنا حضرت علی این انی ظالب رصی ا ہّٰلل عتہ (محیلف اسیاد کے سابھ)‬‫‪ ،War hat 24‬سیدنا حضرت علی این انی ظالب رصی ا ہّٰلل عتہ آپ اسے ا پئے سر پر رکھ کر بھر عمامہ نہبئے ب ھے۔‬‫ُ‬
‫‪ 25‬پردہ‪ ،‬حضرت سیدنا حعقر الصادق رصی اّٰللہ عتہ‬‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬آپ ذقیرہ سریف نا دنگر موتے میارک کو کیسے عسل د پئے ہیں؟‬

‫السیخ الجزرچی ‪ :‬فصیلۃ السیخ تے کیاب کے انک ناب کی طرف اسارہ کرتے ہوے خواب دنا کہ اس میں عسل‬
‫سریف کی نہلی یقرپب کی یفص یل درج ہے۔ عسل کا مفصد نال میارک سے نانی کے ذریعہ پرکت جاصل کرنا ہے۔ ہم اسے‬
‫ہر سال ‪ 23‬رمصان کو عسل د پئے ہیں۔ ہم نال میارک کو نالواشطہ عسل د پئے ہیں یعئی نال میارک انک کیڑے میں لبئے‬
‫ہوتے ہیں ہم اس کیڑے پر انک جاص انداز و پرپ نب سے زم زم کا نانی نہاتے ہیں بہ نانی کیڑے سے ذقیرہ سریف کو کگئے‬
‫ہوے گزرنا ہے۔ بہ سارا نانی ہم دونارہ اکتھا کرلبئے ہیں۔ زم زم کے یعد ہم اسے عام نانی سے عسل د پئے ہیں کیڑے کے‬
‫ناہر سے اور اگر ان میں کونی تجور (‪ )Bakhoor‬کا سابہ یظر آے وو ہم اسے ز پ تون کے صاین سے عسل د پئے ہیں۔‬
‫اس کے یعد ہر نال کو نہاپت احبیاط سے ناری ناری نکڑ کر مشعل کی ضورت کردنا جانا ہے۔‬

‫(اس موفع پر عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی تے سراہا اور کہا کہ خوں کہ السیخ الجزرچی کو اّٰللہ یعالی تے اہم فریصہ اور‬
‫ذمہ داری سوپئی ہے‪ ،‬اس لئے اّٰللہ تے ان کو فہم اور سمحھ بھی عطا کر رکھی ہے کہ وہ آنار الب توبہ کی حقاظت و‬
‫نگہ نانی احسن انداز سے کرسکیں)‬
‫السیخ الجزرچی تے اپئی گقت گو کو آگے پڑھاتے ہوے کہا کہ کیاب کے اگلے ناب میں موتے میارک کے جار میں‬

‫کگئے والی ونکس (‪ )Wax‬کو پیدنل کیسے کیا جانا ہے اور اسے العالتہ (‪ )Al-Ghaaliyah‬میں کیسے ِمکس (‪)Mix‬‬

‫کیا جانا ہے‪ ،‬کا نذکرہ ہے۔ العالتہ (‪ ،)Al-Ghaaliyah‬جار خوش ووؤں کا مرکب ہے‪ ،‬خو رسول ا ہّٰلل ﷺ اسیعمال فرماتے‬
‫ً‬
‫ب ھے۔ ضمیا انک نات بہ کہ جھوتے ساپز کے ذقیرہ سریف کی یقرپب ِ عسل اکگ ہونی ہے۔ اس کے لئے نارتخ ‪ 27‬رجب‬
‫ہے۔ بہ یقرپب ضرف ‪100‬سے ‪ 200‬جاص لوگوں کے درمیان ہونی ہے لیکن پڑے ذقیرہ سریف کی یقرپب ‪ 23‬رمصان‬
‫المیارک کو ہونی ہے۔‬

‫ب‬
‫العالتہ خوش وو کو جب میں تے پیار کرکے مدپتہ کے کحھ لوگوں کو انک قلیل مقدار میں ً تحف ًۃ ھیجی وو انہوں تے‬

‫اس کی یصدوق ووں کی کہ انسی ہی خوش وو وو رسول اّٰللہ ﷺ کے حجرہ میارک سے آنی ہے۔ انہوں تے ووجھا کہ کیا محھے خواب‬
‫ل‬
‫س‬
‫کے ذریعہ اسے پیاتے کا طریفہ پیانا گیا ہے۔ میرا خواب یقی میں بھا ک توں کہ میں محھیا ہوں کہ اگرجہ بہ وقق امر ا عطتم من‬
‫جاپب ا ہّٰلل ہے لیکن بہ نالواشطہ خواب نہیں ہے۔‬

‫انک مشہور ناخر عیدالصمد فرنسی کی خو میجدہ عرب امارات میں خوش وونات کا کارونار کرتے ہیں۔ انک دفعہ میں ان‬

‫کے سابھ شقر کررہا بھا دپئی سے جدہ کی طرف۔ جہاز میں‪ ،‬میں تے ان کے ہابھ پر بھوڑی سی ”العالتہ“ خوش وو لگادی‪ ،‬وہ‬

‫اس خوش وو سے اس قدر مسجور ہوے کہ محھ سے تے در تے سوال کرتے سروع کرد پئے کہ میں تے اسے کب سے اور‬

‫کہاں سے جاصل کیا؟ جب میں تے انہیں پیانا کہ بہ خوش وو میں تے خود پیار کی ہے وو انہوں تے کہا ک توں بہ ہم اسے‬
‫ن‬
‫ناہمی تجارت کے طور پر پیار کریں؟ ک توں کہ انسی خوش وو میں تے کتھی نہیں سو گھی لیکن میں تے ان کی تیش کش مشیرد‬
‫کردی۔ اگرجہ محھے رسول ا ہّٰلل ﷺ سے جاص اجازت ہے کہ میں اس خوش وو اور عسل (موتے میارک) کے نانی کو بھی پیچ سکیا‬
‫ی‬
‫ہوں لیکن ہم ان کو صدفۃلرسول اّٰللہ ﷺ فری قستم کرتے ہیں اور اگر ہم اس خوش وو کو پیحیا ہو وو ہمیں پیانا گیا ہے کہ اس‬
‫سے جاصل سدہ آمدن کہاں اسیعمال کرنی ہے۔ رسول ا ہّٰلل ﷺ تے ہمیں اس آمدن کو اسیعمال کرتے کے تین محیلف‬
‫ی‬
‫پرخیجات پیانی ہیں لیکن ابھی نک ہم اسے فری قستم کرتے ہیں۔‬

‫’العالتہ‘ خوش وو میں اسیعمال ہوتے والے تمام اخزاے پرکبئی کو کیاب میں یفصیل سے درج کردنا گیا ہے بہ‬
‫ً‬
‫اخزاء نہاپت قتمئی ہیں۔ انک کلو گرام ’العالتہ‘ کو پیار کرتے پر فرپیا ‪ 2‬الکھ درہم (‪ 55‬الکھ ناکسیان روتے) مالنت کی رقم‬
‫ً‬
‫تبئی ہے اس میں اسیعمال ہوتے والے اخزاء میال غود اور َورد نہت قتمئی ہیں۔ ساالبہ زنارت کے موفع پر جاص سرکاء اپیا‬
‫پرق توم (خوش وو) لے آتے ہیں اور ہم اس میں پر ًکۃ عرق سریف سامل کرد پئے ہیں۔‬

‫م‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬آپ کب نک اس کیاب کی ندوین کمل کرلیں گے اور کب اسے سا یع کرتے کا ارادہ رکھئے ہیں؟‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬ان ساء ا ہّٰلل نہت جلد‪ ،‬اصل میں تحھلے ہی ہقتہ ہمیں دو مزند ’آنار‘ وضول ہوے ہیں اور ہمارا خیال‬
‫ہے کہ کحھ مزند آنار ان ساء ا ہّٰلل ع یقرپب ہمیں ملیں گے لہذا ہم ان کو اسی کیاب میں درج کرتے کا ارادہ رکھئے ہیں۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬آپ اس کیاب کو کبئی زناووں میں سا یع کرتے کا ارادہ رکھئے ہیں؟ میری راے میں آپ اسے عرنی‬
‫ُ‬
‫کے عالوہ ایگلش اور اردو میں بھی سا یع کرواتیں؟‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬ان ساء اّٰللہ ہم اس کیاب کو محیلف زناووں میں پرجمہ کرواکر سا یع کرواتیں گے جن میں ایگلش‪،‬‬
‫فرانسیسی‪ ،‬روسی اور ہسیاووی زناتیں سامل ہیں۔‬

‫ً‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬میری راے ہے کہ آپ اس کیاب کو پرخیجا ان زناووں میں سا یع کریں خو دپیا بھر کے مسلماووں‬
‫میں اکیرپئی زنان کے طور پر اسیعمال ہونی ہیں؟‬

‫السیخ الجزرچی ‪ :‬ان ساء اّٰللہ ہم انسا ہی کریں گے۔ اب میں آپ کو پیانا ہوں کہ ”اککیری السریفہ“ کا آنار ہم نک‬

‫کیسے نہیجا؟ میں کالی کٹ (کیراال۔ انڈنا) میں ساالبہ کایقرنس میں سرکت کے لئے سیخ اوونکر کے ہمراہ گیا۔ کایقرنس کے یعد‬
‫ہمیں جدپث کے موضوع پر انک اور کایقرنس میں سرکت کرنا بھی خو پیارس (ورانسی۔ انڈنا) میں کحھ دووں یعد م یعقد ہونا‬

‫بھی۔ اس دوران میں ا پئے انک سیخ محمد حق یظ سے ملئے خیدرآناد جال گیا۔ میرے ہمراہ جامعہ االزہر کے کحھ اسانذہ بھی ب ھے۔‬
‫ً‬
‫انک زاپر خو وہاں پر ب ھہرا ہوا بھا اس تے ہمیں پیانا کہ سیخ صاجب سوے ہوے ہیں۔ فرپیا ‪ 7‬تجے ضیح وہ میرے کمرے میں‬
‫آے اور محھے پیانا کہ انہوں تے ابھی ابھی خواب میں دنکھا ہے کہ پئی کریم ﷺ تے ارسار فرمانا کہ ’اککیری سریف‘ اجمد‬
‫الجزرچی کو دے دو۔‬
‫میں بہ شن کر نہت خوش ہوا اور سابھ ہی بہ سوخئے لگا کہ ’اککیری سریف‘ کیا ہے؟ خوں کہ انڈنا اور میجدہ عرب‬

‫امارات کے نایم میں ‪ 30 :1‬گ ھبئے کا فرق ہے۔ میں تے تے حبئی سے اپ یطار کیا ناکہ میجدہ عرب امارات میں ضیح کے ‪7‬‬
‫َ‬
‫تجے میں وہاں کے علما سے رایطہ کرسکوں اور بہ جان سکوں کہ اککیری سریف کیا ہے؟ میں تے ِمضر کے علما سے بھی‬

‫رایطہ کیا ناکہ اس کے م یعلق معلومات جاصل ہوسکیں؟ مضر کے علما تے محھے پیانا کہ اگرجہ ان کی معلومات میں انسا کونی‬

‫خوالہ نہیں ہے ناہم محھے قکر کرتے کی ضرورت نہیں ہے ک توں کہ رسول ا ہّٰلل ﷺ تے خود ارساد فرمانا ہے کہ ”امرۃ االجمد نا‬
‫ً‬
‫ککیری“ اس لئے بہ یقبیا آپ کی طرف آے گا۔ میں ا پئے ہونل میں وانس آگیا۔ میرے سیکربیری تے محھے پیانا کہ کحھ دووں‬

‫کے یعد محھے ا پئے انک دوشت سے ملئے انک دوسرے ملک میں جانا ہے۔ اسی رات محھے ووں لگا کہ حیسے میرے دورہئ انڈنا‬
‫میں کونی کمی رہ گئی ہے کیا بہ اس لئے ہے کہ میں اس دفعہ ممبئی نہیں گیا؟ ک توں کہ انسا کم ہی ہونا ہے کہ دورہئ انڈنا‬
‫میں ممبئی جاتے یعیر وانس آؤں؟ خیاں جہ میں تے ا پئے سیکربیری کو پیانا کہ میرا پرانا سیڈول پیدنل کرکے میرے لئے ممبئی‬
‫جاتے کے نکٹ کا پیدونست کرو۔ میرے سیکربیری تے پڑی دسواری سے انسا کیا ک توں کہ اسے ممبئی کے لئے پراہ راشت‬
‫قالپٹ نہیں مل رہی بھی ناہم ہم سام ناتچ تجے نک ممبئی کے ہونل میں داجل ہو جکے بھے۔ ہم تے وہاں محیلف دوستوں‬
‫سے قون پر رایطہ کیا ناکہ سام کا کھانا اکتھے کھاسکیں۔ اسی دوران محھے انک سیخ صاجب ناد آے اور اسی وقت میں تے ان‬

‫سے ملئے کا ارادہ کیا۔ انک دفعہ انک دوشت تے محھے ”واشطے“ کے طور پر ان سیخ سے مالتے کے لئے لے گئے بھے۔ میرا‬
‫دوشت ان سیخ صاجب سے کحھ جاصل کرنا جاہیا بھا اور سیخ صاجب تے کم ِال مہرنانی سے میرے اجیرام میں انہیں وہ عطا‬
‫کردنا بھا جاالں کہ اس سے نہلے وہ سیخ صاجب اس سحص کو نہت مرپتہ ایکار کرجکے بھے۔‬

‫ہمیں ان سیخ صاجب کا پیا لگاتے میں کحھ دپر ہوگئی ک توں کہ وہ ہسبیال میں گئے ہوے بھے۔ ہم تے رات‬
‫کے کھاتے کا پروگرام مل توی کیا اور ان سیخ صاجب کو ملئے ان کے گھر جلے گئے۔ حیسے ہی میں ان کے گھر ان کے کمرے‬
‫ع‬
‫میں داجل ہوا وہ خوسی سے جہک ا بھے۔ خزرچی‪ ،‬خزرچی۔ السالم لیکم ک یف جاکک۔ کیسا ہے؟ سیخ؟ بھیک ہے؟ بھر وہ ابھ‬

‫کھڑے ہوے‪ ،‬میں تے کہا کہ سیخ صاجب پراہ مہرنانی اپئی جگہ تبتھے رہبئے اور خود کو یکل یف مت دیں لیکن انہوں تے فرمانا کہ‬
‫ً‬
‫نہیں آپ میرے سابھ آ تیں وہ محھے انک جھوتے سے کمرے میں لے آے بہ کمرہ فرپیا ‪ 2‬مثیر خوڑا اور ڈپڑھ مثیر لمیا بھا۔‬
‫اس میں ضرف دو کرسیاں رکھی ہونی بھیں۔ انک پڑی اور انک نالسیک کی جھونی کرسی بھی۔ سیخ صاجب تے محھے پڑی اور‬
‫آرام دہ کرسی پر یصد اجیرام پتھانا اور خود نالسیک کی جھونی کرسی پر تبتھ گئے۔ ہم دو منٹ نک وہاں تبتھے رہے اور بھر وہ‬
‫دونارہ کھڑے ہو گئے اور انک پڑے نکس نک نہیجے خو وہاں رکھا ہوا بھا۔ انہوں تے اس کا ناال کھوال وو اس میں سے انک اور‬

‫نکس یکال۔ انہوں تے اس کا ناال کھوال وو اس میں سے انک اور نکس یکال۔ اس طرح وہ نکے یعد دنگرے نکس اور نالے کھو لئے‬

‫رہے اور آخرکار انک نکس سے رسول ا ہّٰلل ﷺ کی ’زلف سریف‘ یکال کر محھے عطا کردی بھر انہوں تے محھے پیانا کہ وہ محھے جار‬
‫ماہ سے نالش کررہے ب ھے ناکہ بہ اماپت محھ نک نہیجا سکیں۔‬
‫سیخ صاجب تے محھے پیانا کہ بہ زلف سریف ان کے ناس ‪ 8‬سو پرس سے محفوظ ہے۔ سیدنا غوث االعظم حضرت‬

‫عیدالقادر خیالنی رصی ا ہّٰلل عتہ کے عہد سے اور ان کی عطا کی ہونی سید کے سابھ ان کے جاندان کے ناس ہے۔ انہوں تے‬

‫پیانا کہ رسول اّٰللہ ﷺ تے خواب میں محھے ہداپت کی کہ میں ’زلف سریف‘ کو السیخ الجزرچی کے خوالے کردوں۔ اسی وجہ سے‬
‫م‬
‫میں آپ کی نالش میں سرگرداں بھا۔ اس آنار کے محھے خوالے کرتے کے یعد وہ نہت ظمین ہو گئے۔ اس کے یعد انہو ں‬
‫تے محھے کہا کہ سیخ الجزرچی؟ کیا آپ کو ’اککیری سریف‘ جا ہبئے؟ ج ّتہ سریف خو رسول ا ہّٰلل ﷺ تے ”االسراء و المعراج“ کے‬
‫موفع پر ز پب ین فرمانا بھا؟ بہ اککیری سریف پرکی سے جاصل کیا گیا بھا۔ بہ سلطان خیدر علی تب تو کے ناس محفوظ بھا خوکہ‬

‫میسور کے جکمران ب ھے۔ ان کے یعد بہ سلطان قیح علی تب تو کے ناس مب یقل ہوگیا۔ سلطان قیح علی تب تو انگرپز قوج سے نہت‬
‫نہادری سے لڑتے ہوے سہید ہو گئے خو میسور پر ق یصہ کرنا جا ہئے بھے۔‬

‫‪1799‬ء میں انگرپز قوج تے میسور پر ناآلخر ق یصہ کرلیا۔ اککیری سریف کو تب تو سلطان کے انک فرپئی رشتہ دار تے‬

‫مسجد سے جاصل کرکے ا پئے ناس محفوظ کرلیا ناکہ بہ نادر آنار انگرپزوں کے ہابھ بہ کگ سکے۔ بہ آنار ان کے جاندان کے ناس‬
‫ً‬
‫فرپیا ‪ 150‬سال سے بھا وہ ہر سال رپ یع االول کے موفع پر اس کی زنارت کا اہتمام کرتے بھے۔ اس دوران انڈنا کی آنادی‬
‫روز پروز پڑھئے ہوے نہت زنادہ ہوگئی اور ووں اس آنار ”اککیری سریف‘ کی زنارت کا اہتمام و اپ یطام مشکل ہونا جالگیا۔ لہذا‬
‫تحھلے ‪ 80‬پرسوں سے کسی تے بھی اککیری سریف کو ہابھ نک نہیں لگانا اور بہ ہی غوام کو زنارت کرواتے کے لئے کھوال‬

‫گیا۔ ضرف دو ہقئے قیل اس جاندان تے ق یصلہ کیا کہ وہ اس آنار اککیری سریف کو اس کے خوالے کردیں گے خو اس کے‬
‫ندلے انک نہت پڑا اسالمک کم یلیکس یعمیر کرے گا‪ ،‬حس میں انک مسجد‪ ،‬انک فرآن اسکول سامل ہو‪ ،‬ناد رہے بہ ق یصلہ‬
‫اسی دن ہوا جب ہم کیراال میں دو ہقئے قیل نہیجے ب ھے اور ہمیں اککیری سریف کے نارے میں جیر ملی بھی۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬ماساء اّٰللہ یعئی انک خود کار اپ یطام کے تحت بہ آنار سریف آپ نک نہیچ گیا؟‬

‫ن‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬ان ساء اّٰللہ ع یقرپب ہمیں امید ہے کہ کحھ مزند آنار ہم نک ہیچیں گے جن کا نذکرہ ہم اس کیاب‬
‫میں کریں گے۔‬

‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬آپ ان آنار کو محفوظ پیاتے کے لئے مسیقیل میں کیا ارادہ رکھئے ہیں؟‬
‫السیخ الجزرچی ‪ :‬اس سلسلے میں ہم نہت زنادہ کام کرجکے ہیں اور اس کا ڈپزاین نہلے ہی ین حکا ہے۔ اصل میں‬
‫ہمارا ارادہ ”مرکزی تبیک“ کی طرز پر انک نہت پڑی عمارت یعمیر کرتے کا ہے۔ اس عمارت کی مصتوطی کے لئے نہت‬

‫زنادہ لوہے اور تجری کی دوواریں پیانی جاتیں گی ناکہ آنار الب توبہ کسی فشم کی خوری سے محفوظ جگہ پر رکھی جاسکیں۔ بہ ہال تما‬
‫ش‬
‫کمرہ جاص طور پر مرکزی تبیک کے الکر روم کی طرز پر پیانا جاے گا خوکہ زپر زمین تیسری طح پر ہوگا۔ آنار سریف دھات کے‬
‫پئے ہوے ‪ x80x305‬مثیر پڑے نکس میں ر کھے جاتیں گے اور ان کے اندر قکس کرد پئے جاتیں گے ناکہ کسی بھی فشم‬

‫کی خوری سے محفوظ کیا جاسکے۔ اس قدر مصتوط عمارت کو زپر زمین ہی پیانا جاسکیا ہے لہذا بہ ق یصلہ کیا گیا ہے کہ اسے اوپر‬
‫کی میزل کی تجاے زپر زمین یعمیر کیا جاے۔‬
‫عالمہ اوکاڑوی ‪ :‬عالمہ اوکاڑوی تے السیخ الجزرچی کو کحھ مقید آراء اور مسورے د پئے ناکہ ”آنار الب توبہ“ کو محفوظ‬

‫پیاتے ہوے ان کی نکریم میں کونی کمی بہ رہ سکے۔ السیخ الجزرچی تے عالمہ اوکاڑوی کے مسوروں کو سراہا اور نسید کیا۔ اس‬

‫کے یعد عالمہ اوکاڑوی تے السیخ الجزرچی کا نہہ دل سے سکربہ ادا کیا کہ انہوں تے پڑی ووجہ اور محنت سے ان کے سوالوں‬

‫کے خوانات د پئے اور ان نک معلومات کی رسانی کی۔ عالمہ اوکاڑوی تے کہا کہ خوں کہ بہ تمام اہم معلومات انک کیاب کی‬
‫ضورت میں اکھئی کی جارہی ہیں خوکہ انک نہت پڑی کاوش ہے۔ بہ کیاب ’آنار الب توبہ‘ سے میسلک تمام سواالت کا خواب‬
‫جاصل کرتے میں ممدو معاون ناپت ہوگی۔ عالمہ اوکاڑوی تے مزند فرمانا کہ خوں کہ آپ (السیخ الجزرچی) سے نہلی مالقات‬
‫ہے لہذا میں تے ضرف تبیادی سواالت ہی زپر تحث الے ہیں اور آپ کو زنادہ ُسیا ہے اور میں اس تحث میں محظوظ ہوا‬

‫ہوں۔ الحمد ہّٰلل محھے رسول ا ہّٰلل ﷺ اور ان کی ذات سے میسلک ہر جیز سے محنت ہے۔ میری یظر میں ”آنار الب توبہ“ کی نہت‬
‫قدر ہے اور بہ میری خواہش ہے کہ آپ کے ناس خو بھی آنار الب توبہ محفوظ ہیں وہ کسی بھی فشم کے سک و شتہ سے ناالپر‬
‫ہوں۔ اس سلسلے میں مزند کحھ ضروری سواالت ہیں خو اگلی نشست میں کروں گا۔ محھے امید ہے کہ آپ اسی خیدہ تیسانی‬
‫سے ان کا خواب دے کر رہ تمانی فرماتیں گے؟‬

‫السیخ الجزرچی ‪ :‬ان ساء اّٰللہ خو معلومات درکار ہوں میں ان کا خواب د پئے کا ذمہ دار ہوں اور اس سلسلے میں کونی‬
‫کوناہی نہیں کروں گا۔‬

‫ابیرووو کے یعد السیخ الجزرچی تے عالمہ اوکاڑوی اور ان کے رفقاء کے سابھ رات کا کھانا کھانا اور خوب مہمان ووازی‬

‫کی۔ السیخ الجزرچی نالشتہ انک بھروور سحصنت کے ماکک ہیں جن میں عاخزی اور انکساری ندرجہ ایم موخود ہے۔ انہوں تے ”آنار‬
‫م‬
‫الب توبہ“ کے نارے میں کمل معلومات نہیجاتے میں تمام سواالت کا خیدہ تیسانی سے خواب دنا۔ انہوں تے عالمہ اوکاڑوی کو‬
‫موتے میارک میں لبئے ہوے کیڑے اور عسل سدہ نانی کے قتمئی تجایف بھی تیش کئے۔ انہوں تے عالمہ اوکاڑوی کو اپئی‬

‫مط توعہ کنب بھی تجایف میں تیش کیں۔ عالمہ اوکاڑوی تے السیخ الجزرچی کی کیاب دوسئی اور علم سے محنت اور مسلک ِ خق‬
‫کے لئے جدمات کو نہت سراہا۔‬

‫السیخ الجزرچی کے ہاں ناقاعدگی سے ذکر ا ہّٰلل و یعت البئی کی مجاقل کا اہتمام کیا جانا ہے اور ان میں خید علماے‬
‫کرام کے لیکجرز بھی ہوتے ہیں۔ السیخ الجزرچی تے عالمہ اوکاڑوی کو مدغو کیا کہ وہ خید روز یعد ہوتے والی مجلس میں لیکجر‬

‫ن‬
‫دیں لیکن ڈاکیر اوکاڑوی کو ا پئے وعدوں کی کم یل کے لئے وانس ناکسیان آنا ب ھا اس لئے انہوں تے اگلی نار کا وعدہ کیا کہ‬
‫ان ساء اّٰللہ وہ ضرور ان کی مجلس میں سرکت کریں گے۔‬

‫آخر میں السیخ الجزرچی تے عالمہ اوکاڑوی اور ان کے رفقاء کو پڑے پیاک سے رحصت کیا۔ و ہ خود جل کر مہماووں‬

‫کے سابھ گھر کے صدر دروازے نک آے اور اس وقت نک کھڑے رہے جب نک عالمہ اوکاڑوی کی گاڑی اس عالقے سے‬
‫ناہر نہیں یکل گئی۔‬
‫٭٭٭‬

‫آخر اخیالف ک توں؟‬
‫حطنب ِملت عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی کے یعاون سے موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) تے انک وڈوو کیسنٹ اور سی ڈی پیار‬

‫کی ہے حسے امریکا‪ ،‬خ تونی افریکا‪ ،‬پرظاپیا اور دنگر م یعدد مماکک میں تے پیاہ نسید کیا گیا ہے اور اس سے ہزاروں افراد کے عقاند‬
‫ُّ‬
‫کی اصالح ہونی ہے ‪ -‬اس کیسنٹ اور سی ڈی کی اہمنت اور خونی کا اندازہ آپ اسے دنکھ کر ہی کرسکیں گے‪ ،‬اس میں سئی‬
‫ُ‬
‫پرنلوی اور دووپیدی وہانی اخیالف کے وہ حقاوق تیش کئے گئے ہیں خو آپ تے کسی جد نک ساند ضرف پڑھے سئے ہوں‬
‫گے‪ -‬اس اخیالف کے حقاوق کو ناقان ِل پردند دسیاوپزی پ توت کے سابھ دنکھئے کے لئے بہ کیسنٹ اور سی ڈی ضرور جاصل‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫کریں اور مسلک ِ خق پر ناپت و قایم رہئے کے لئے اس کیسنٹ اور سی ڈی کو بھیالتیں‪ ،‬بہ کیسنٹ اور سی ڈی مکنتہ ل ِزار‬
‫حب نب میں دشت ناب ہے ‪ -‬عالوہ ازیں عالمہ اوکاڑوی کے اس مشہور نی وی پروگرام کی کیسنٹ بھی دشت ناب ہے حس‬
‫ارات اولیاء کے نارے میں دووپیدی علماء کی کنب سے خوالے تیش کرتے ہوتے خیاب اجیرام الجق‬
‫میں ا نہوں تے مز ِ‬
‫بھاووی کی ہرزہ سرانی کا خواب دنا ہے ‪-‬‬
‫ِمن جاپب ‪ :‬مکنتہ گل ِزار حب نب (جامع مسجد گل ِزار حب نب)‬

‫گلسیان اوکاڑوی (سولجر نازار) کراچی‬

‫خضرت م تلغ اشالم خطیب ِ اعظم پاکس تان خضرت عالمہ موالپا الحاج محمد شف یع اوکاڑوی رحمۃ‬
‫اّٰللہ علیہ‬
‫کی کحھ پاتیں اور پادیں‬
‫تجرپر‪ :‬موالنا محمد اووب الرجمن اوکاڑوی‬
‫‪1958‬ء کی نات ہے‪ ،‬صلع اوکاڑا کے مشہور سہر خونلی ککھا میں انک د پئی مدرسہ حفظ القرآن کے نام سے وافع‬
‫ُ‬
‫ہے۔ میں تے ا س مدرسہ میں داجلہ لیا۔ ایقاق سے اسی دن اس مدرسہ حفظ القرآن کا ساالبہ جلشہ بھا وو جلسے کے اپ یطامات‬
‫ہورہے بھے۔ خو بھی لوگ اس جلشہ گاہ آنا بھا وہ دنہانی بھا نا سہری بھا۔ آتے واال ہر آدمی نہی سوال کرنا بھا کہ جلسے میں‬
‫موالنا جافظ محمد شق یع صاجب آ تیں گے نا نہیں۔ میں انک ظالب علم بھا اور ان کا نام سبئے سبئے جیران ہونا بھا کہ بہ موالنا‬
‫جافظ محمد شق یع اوکاڑوی کبیا پڑا آدمی ہوگا کہ لوگ انہی کا ووجھئے ہیں‪ ،‬اس دن سے میں حضرت موالنا جافظ محمد شق یع اوکاڑوی‬
‫کا سیدانی ہوگیا اور ان کی انک ج ھلک دنکھئے کے لئے تے حین ہونا رہا۔‬

‫‪1965‬ء میں خونلی ککھا میں سیخ جاچی معراج دین کی پ توی کا اپ یقال ہوگیا اور اس کی قاتحہ خوانی کے لئے حضرت‬
‫ُ‬
‫وہاں نسریف الے وو میری نہلی یظر حضرت صاجب پر پڑی۔ شقید لیاس اور گلے میں کالی ککیر واال رومال پڑا بھا۔ آپ پرکشش‬
‫وجتہ سحص بھے لوگو ں تے پیانا کہ بہ ہیں حضرت موالنا جافظ محمد شق یع صاجب اوکاڑوی۔ عساء کی تماز کے یعد ہمارے اسیاد‬
‫م‬
‫محیرم قیلہ حضرت قاری معز اکدین اجمد خو مدرسہ حفظ القرآن کے نانی اور ہتمم بھے اور پڑے پزرگ ب ھے اور قاری صاجب‬

‫ع ع‬
‫درس یطامی کے اسیاد‬
‫حضرت امیر ملت مجدث جماعت لی بیر لی ووری سریف کے مدرسہ کے مدرس رہ جکے بھے۔ اس وقت ِ‬
‫عالمہ عیدالرسید جھیگوی بھے اور ظالب علموں میں ہونہار موالنا اووداؤد محمد صادق صاجب ب ھے۔ ان اسیادوں تے اعالن کیا کہ‬
‫آج رات کو سیجوں والی مسجد میں موالنا جافظ محمد شق یع اوکاڑوی حطاب فرماتیں گے۔ اب وو وہ حطنب ِ اعظم ناکسیان ہیں۔‬
‫اس کے یعد بھر آپ الہور سہر ناغ نان وورا میں نسریف الے میں اس وقت الہور میں حطنب بھا۔ عالقے میں مشہور ہوگیا کہ‬

‫ً‬
‫حطنب ِ ناکسیان موالنا جافظ محمد شق یع اوکاڑوی ناغ نان وورا الہور میں نسریف ال جکے ہیں وو میں بھی قورا اس کمرے میں نہیجا‬

‫جہاں آپ نسریف فرما بھے‪ ،‬دو تین اہ ِل محنت علما نہت عقیدت سے آپ کے ناؤں دنارہے بھے اور وہ علما محیلف اہ ِل سنّت‬
‫علما کا نذکرہ کررہے بھے‪ ،‬کونی موالنا ووری صاجب کو وو کونی حضرت ق یض الحسن ساہ صاجب کو قوق نت دے رہا بھا۔ حضرت‬
‫ُ‬
‫موالنا صاجب مسکراتے ہوے جاموسی سے شن رہے بھے۔ حضرت صاجب کا ہر ملئے واال تجونی جاپیا بھا کہ ان کو حسد اور‬
‫ی‬
‫میافقت سے کونی واشطہ نہیں بھا ‪ -‬ا پئے اکاپر کی عطتم اور ا پئے اصاعر پر شفقت و مہرنانی ان کی جاصنت بھی۔ جب آپ‬

‫جلشہ گاہ میں نسریف الے‪ ،‬انک عح نب سہانا م یظر بھا۔ کالے رنگ کا ج ّتہ سریف نہئے ہوے ب ھے۔ پڑا خوب ضورت ستہرے‬
‫رنگ کا رومال آپ تے سر پر ناندھا ہوا بھا۔ اسبیج نہت ہی جھونا بھا اور کرسی بھی نالکل جھونی اور ناروں سے پئی ہونی بھی۔‬
‫مگر موالنا صاجب تے اسبیج اور کرسی کے نارے میں کحھ بہ فرمانا۔ دوران حطاب تح ِت سلتمانی کا ذکر فرماتے ہوے فرمانا کہ‬
‫وہ تحت پڑا بھا لیکن بہ اسبیج اور کرسی نہت جھونی ہے اگر موالنا ووری صاجب ہوتے وو اس کرسی پر کتھی بہ تبتھئے اور اسے‬

‫ہیا د پئے لیکن موالنا صاجب تے درگزر سے کام لیا اسی پر تبتھ کر حطاب فرمانا۔ موالنا تے عید میالدالبئی کے موضوع پر‬
‫حطاب فرمانا‪ ،‬انسا مدکل حطاب اس سے نہلے میں تے نہیں ُسیا بھا۔ ان سے قیل میاطراسالم حضرت موالنا محمد عمر اجھروی‬
‫ُ‬
‫کو بھی میں شن حکا بھا۔ سہی ِاز حطاپت صاجب زادہ ق یض الحسن اور صاجب زادہ اقیجار الحسن سلطان الواعطین محمد نشیر اور‬
‫ُ‬
‫حطنب ِاہ ِل سنّت موالنا محمد سریف ووری فصوری کو بھی شن حکا بھا مگر جب عالمہ اوکاڑوی کا حطاب سیا وو میں انسا دووابہ‬
‫ہوا کہ انہی کے گنت گاتے لگا۔ حطاب سروع کرتے سے نہلے حضرت تے نانی جلشہ کا یعارف کراتے ہوے فرمانا کہ ان‬
‫کا نام محمد حب یف ہے‪ ،‬بہ رہئے الہور میں ہیں اور کارونار کراچی میں کرتے ہیں اور فرمانا کہ بہ عرضہ دراز سے محھے مح تور‬

‫کررہے ب ھے کہ میں تے آپ کو الہور لے جانا ہے اور آپ سے حطاب کرانا ہے۔ میں ان کو کہیا بھا کہ الہور میں پڑے‬

‫پڑے علما موخود ہیں لیکن بہ محھ کو الہور التے میں کام ناب ہو گئے۔ موسم گرم بھا لیکن حطاب کے دوران نادل ج ھا گئے‬
‫موسم بھیڈا ہوگیا اور گرج جمک سروع ہوگئی انسا کگیا بھا کہ ابھی نارش ہوتے والی ہے۔ لوگ قکر مید ہوے کہ نارش سروع‬
‫بہ ہوجاے۔ آپ تے لوگوں کی تے حبئی بھاپپ کر فرمانا کہ تبتھے رہو‪ ،‬پرسے گا نہیں‪ ،‬تمہیں دنکھیا ہے کہ نکے ہو نا کجے؟‬
‫ّ‬
‫اور سابھ ہی بہ بھی فرمانا بھا کہ نکے رہیا کجے بہ ہونا۔ الہورووں کو پیجانی میں یقرتجا فرمانا‪ ،‬سوہب تو! روز نکے گھڑے پر سوہئی آنی‬
‫بھی وو نار کگئی بھی‪ ،‬انک دن کجے کے سابھ آنی وو کیا ہوا؟ ہجوم سے سور ابھا شب تے کہا ”ڈوب گئی“۔ بھر جب پیان‬

‫ع‬
‫ختم کیا وو فرمانا کہ جہاز کا نایم ہوگیا ہے میں تے کراچی جانا ہے ہابھ بہ مالنا دپر ہوجاے گی اور السالم ل یکم کہئے ہوے اسبیج‬
‫سے پیجے اپر آے لیکن مداخوں تے آپ کو گ ھیر کر ہابھ مالنا سروع کردنا۔‬

‫حضرت کا بیر جابہ سرق وور سریف بھا۔ وہاں عرس سریف کے اختماع میں پڑے پڑے علما یقارپر کرتے ب ھے۔‬

‫آپ کھنت میں پیلے پر لبئے ہوے بھے‪ ،‬وہاں انک عالم تے آپ کے ناؤں دناتے جاہے۔ آپ تے اس کو م یع کیا کہ بہ‬
‫سرق وور سریف ہے میرا بیرجابہ ہے۔ نہاں میں ناؤں نہیں دووانا۔ آنکی حطاپت کے عالمہ ووری فصوری بھی مداح بھے۔ میں‬

‫جلقتہ کہیا ہوں کہ انہوں تے محھے انک دفعہ فرمانا کہ موالنا جافظ محمد شق یع اوکاڑوی تے کراچی کی غوام پر جادو کیا ہوا ہے‬
‫میں کراچی گیا بیر کالونی ک ھیری مسجد میں میری یقرپر بھی۔ وہاں حضرت موالنا جافظ محمد شق یع اوکاڑوی نسریف الے وو تمام‬
‫غوام انک دم کھڑے ہو گئے اور ان سے ملئے کے لئے پڑھئے کگے اور میری یقرپر درمیان میں ہی رہ گئی اور بھر کسی تے نہیں‬
‫ُ‬
‫سئی۔‬
‫انک دفعہ آپ (حطنب ِاعظم ناکسیان) تے فرمانا کہ ‪53-1952‬ء میں‪ ،‬میں تے تجرن ِک تحفظ خ ِتم پ توت کے‬
‫دوران کرق تو کی جالف ورزی کی اور یقرپر کرتے ہوے میدان میں آگیا اور میرے پیحھے وولیس کگ گئی اور میں وولیس سے تحئے‬
‫کے لئے اوکاڑا میں ا پئے انک رشتہ دار کے گھر گیا اور اس سے کہا کہ کحھ دپر کے لئے محھے بھہرتے دے‪ ،‬میں تے ابھی‬
‫گرقیاری نہیں د پئی۔ وہ امیر آدمی بھا مگر اس تے محھے بھہراتے سے ایکار کردنا اور اس کے یعد بھر وہ ک یگال ہوگیا۔ بھو ڑی‬
‫دور گیا وو انک پزرگ آدمی مال‪ ،‬عرپب بھا‪ ،‬اس کو میں تے کہا کہ میرے پیحھے خ ِتم پ توت کی تجرنک دناتے کے سلسلے میں‬
‫وولیس کگی ہونی ہے میں گرقیار ہوگیا وو نہاں تجرنک دم ووڑ جاے گی۔ یم کحھ دپر محھے جھیالو اور کسی کو بہ پیانا۔ اس تے کہا‬
‫کہ جھوبیڑی میں جلے جاؤ اور اپئی گردن کی طرف اسارہ کرکے کہا کہ بھلے گردن کٹ جاے مگر پ یالؤں گا نہیں وو موالنا آب‬
‫دندہ ہو گئے اس پزرگ کی خرأت پر اور بھر مسکراے اس رشتہ دار کی پزدلی پر حس تے پیاہ نہیں دی بھی‪ ،‬اس کے لئے بھی‬
‫ی‬
‫دعا فرمانی۔ انک دفعہ ارساد فرمانا کہ میں حضرت جکتم االمت مقئی اجمد نار جان عتمی کے سابھ حصور ﷺ کے روضہ میارک‬
‫جاضر بھا اور ہم ہابھ ناندھ کر حصور ﷺ کو صلوۃ و سالم تیش کررہے بھے اور انک دووپیدی عالم ہابھ جھوڑ کر سالم پڑھ رہا‬
‫بھا۔ وو میں تے مقئی صاجب کو اسارہ کیا کہ کیا آپ انہیں جا پئے ہیں کہ بہ کون ہے؟ مقئی صاجب تے فرمانا کہ میں‬

‫م‬
‫نہیں جاپیا وو میں تے انہیں پیانا کہ بہ دارالعلوم دووپید کا ہتمم قاری طنب ہے۔ حضرت صاجب تے ا پئے شقر نامے ” ِراہ‬
‫عقیدت“ میں خود بہ وافعہ ککھا ہے‪ ،‬مالحطہ ہو‪:‬‬
‫”گزشتہ سال ‪1383‬ھ میں حضرت موالنا مقئی اجمد نار جاں صاجب نداوونی یم گجرانی اور میں تے دارالعلوم دووپید‬

‫م‬
‫کے ہتمم قاری طنب صاجب کو دنکھا کہ وہ جال توں کے آگے جہرہ اوور کے سا مئے ہابھ جھوڑ کر کھڑے سالم پڑھ رہے ب ھے۔‬
‫م‬
‫جب وہ قارغ ہوکر انک طرف ہوے وو میں اور مقئی صاجب دوووں ان کے ناس گئے۔ میں تے ہتمم صاجب سے سوال کیا‬

‫کہ روضہئ اوور پر جاضر ہوکر سالم عرض کرتے کے وقت ہابھ ناندھ کر کھڑا ہونا جا ہئے نا ہابھ جھوڑ کر؟ کہئے کگے اصل مسیلہ وو‬
‫َ ُ َ‬
‫نہی ہیں کہ ہابھ جھوڑ کر نہاپت ادب سے کھڑا ہو۔ میں تے کہا بھر فقہاے خ یقتہ کاکنب ففہ میں یضرتح فرمانا کہ َوی ِفف ک َما‬
‫َّ ٰ‬
‫َ ُ‬
‫ی ِفف ِقی الصل ِوۃ (اسی طرح کھڑا ہو حس طرح کہ تماز میں کھڑا ہونا ہے) اصل مسیلہ کے جالف ہوگا؟ کہئے کگے یعض فقہاء‬
‫ُ ُ‬
‫تے اس کے جالف بھی ککھا ہے اور فرآن میں صاف طور پر موخود ہے َوقو موا ہِّٰلل َقاپِ ِبی َن! میں تے کہا اس آپت میں ہابھ‬
‫ناندھئے کا کہاں ذکر ہے اس میں وو قیام ہّٰلل کا جکم ہے اور آپ قیام کلرسول ﷺ کرجکے ہیں اور فرما بھی جکے ہیں کہ نہاپت‬
‫ادب سے کھڑا ہو۔ کہئے کگے اصل میں بہ اخوال پر موقوف ہے لہذا اپئی جالت د نک ھے اگر عسق کا علتہ ہو وو ہابھ ناندھ لے۔‬

‫میں تے کہا فقہاء کرام کا ارساد معلوب العسق لوگوں کے لئے ہے نا اہ ِل اسالم کے لئے؟ کہئے کگے آپ تے اگر میاطرہ کرنا‬
‫ہے وو میری قیام گاہ پر آ پئے میں قالں جگہ بھہرا ہوا ہوں بہ کہہ کر جلے گئے۔ حضرت مقئی صاجب خو نالکل جاموش کھڑے‬
‫ب ھے میری اس گقیگو سے نہت خوش ہوے اور دعاتیں دیں اور فرمانا بہ لوگ نام کے خ یقی ہیں۔“‬

‫انک دفعہ دارالعلوم جامدبہ رضوبہ دورۃ القرآن کے سلسلے میں پروگرام بھا وو کلیدی حطاب حضرت حطنب ِ ناکسیان کا‬
‫بھا‪ ،‬آپ تے انک جدپث سریف پڑھی اور راوی کا نام پیانا وو وہاں انک عالمہ سیخ الجدپث‬

‫نسریف فرما ب ھے‪ ،‬انہوں تے کہا کہ آپ تے راوی کا نام علط پیالنا‪ ،‬وہیں حضرت موالنا عطا محمد پ یدنالوی بھی موخود ب ھے مگر وہ‬

‫جاموش بھے۔ حضرت تے ان سیخ الجدپث کی نات کا خواب نہیں دنا اور اپیا پیان جاری رکھا۔ جب آپ کا حطاب ختم ہوگیا وو‬
‫آپ تے موالنا محمد ظقیل صاجب کو نالنا اور کہا کہ آپ کے کنب جاتے میں قالں کیاب ہے وو وہ النا‪ ،‬انہوں تے کہا کہ‬
‫ہاں کیاب موخود ہے‪ ،‬فرمانا کہ کیاب لے کر آؤ۔ اس کیاب سے راوی کا نام یکاال اور کہا کہ لو بہ کیاب ا پئے اسیاد صاجب‬
‫کو دکھا دو‪ ،‬سیخ الجدپث صاجب تے کہا کہ بھانی اوکاڑوی صاجب محھ سے علطی ہوگئی ہے آپ تے بھیک پیانا بھا۔ آپ تے‬

‫دوران یقرپر اس نات کا خواب د پیا وو ا پئے محمع میں کیا ناپر جانا؟ حضرت موالنا اوکاڑوی عصب کے‬
‫کہا کہ عالمہ صاجب! اگر ِ‬
‫جاضر خواب بھے۔‬

‫‪53-1952‬ء میں تجرنک تحفظ خ ِتم پ توت کے سلسلے میں مبیگمری (ساہی وال) میں آپ تے ‪ 10‬ماہ خیل کانی۔‬
‫ساہی وال سے اوکاڑا نالکل فرپب بھا وو کتھی کتھی میری واکدہ محیرمہ گیارہویں سریف کی قاتحہ کا نہیرین جلوہ میرے لئے بھیج‬
‫د پبیں۔ اسی خ یل میں میرے سابھ ہزارے کے وہانی دووپیدی ب ھے وہ محھے کہئے کہ ہمیں بھی کھالدیں۔ میں کہیا کہ اس پر‬

‫ختم سریف پڑھا ہوا ہے وہ کہئے کہ آتے دو اگر اس پر غوث ناک نام لیا ہوا ہے وو بھی آتے دو اور ہمیں کھاتے دو اور وہ سارا‬
‫جلوہ کھاجاتے ب ھے۔‬

‫میں آسیابہ عالتہ کرماں واال سریف میں جاضری کے لئے گیا جاضر ہوا وو حضرت نانا چی بیر سید محمد علی ساہ صاجب‬
‫ُ‬
‫ک‬
‫م‬
‫ت‬
‫ن‬
‫تجاری سجادہ نسین کرماں واال سریف کی زنارت یصنب ہونی وو آپ تے فرمانا مولوی صاجب سی ھوں آے ہو؟ یں تے‬

‫عرض کی میں کراچی سے جاضر ہوا ہوں۔ آپ تے فرمانا کراچی ِوچ شب سے پڑا میرا مولوی ہے۔ وو میں تے ووجھا آپ کے‬
‫مولوی صاجب کا کیا نام ہے؟ آپ تے فرمانا میرا مولوی ہے موالنا جافظ محمد شق یع اوکاڑوی‪ ،‬میں تے عرض کی حصور وہ وو علما‬
‫کے سرناج ہیں۔ حضرت صاجب تے فرمانا انہیں حضرت صاجب کرماں والو ں ہی تے کراچی میں بھیجا بھا۔ ان پر حضرت‬
‫صاجب گ ِیج کرم کا جاص ق یصان ہے۔ ان کے یعد بھر سید عصیقر علی ساہ صاجب سے نات ہونی۔ آپ تے بھی ووجھا‬

‫مولوی چی کتھوں آے ہو وو میں تے عرض کیا میں کراچی سے جاضر ہوا ہوں وو بیرچی سرکار تے فرمانا موالنا محمد شق یع اوکاڑوی‬
‫حیسے مولوی پ تو۔ دارالعلوم جامدبہ رضوبہ میں و ِوم رصا بھا وہاں نہت سے علماے کرام ب ھے ان میں عالمہ عیدالمصطقی االزہری‬
‫سیخ الجدپث دارالعلوم امجدبہ اور حضرت حطنب ِ اعظم ناکسیان موالنا محمد شق یع اوکاڑوی صاجب بھی موخود ب ھے۔ حضرت عالمہ‬
‫ازہری صاجب تے ا پئے حطاب میں فرمانا بہ موالنا عالم پئی صاجب و ِوم رصا میاتے ہیں وو ان کو کونی جاول کی ووری د پیا کونی‬
‫گھی کا کیشیر دے د پیا وو ازہری صاجب تے بہ کہا کہ ہم مولوووں کو جا ہئے کہ یقرپر فری کرجانا کریں۔ اس کے یعد جب‬
‫موالنا محمد شق یع اوکاڑوی کا تمیر آنا وو عالمہ ازہری کے سوال کا خواب د پئے ہوے فرمانا انک موالنا مسیاق اجمد وواب جہاں‬
‫کہیں حطاب فرماتے بھے وو ووجھئے بھے کہ نہاں کونی گسیاخ ہے کہ میں اس کا آپ رے شن کردوں؟ لوگ کہئے نہاں‬

‫کونی گسیاخ نہیں ہے نہاں شب عاس ِق رسول ہیں آپ ہمیں ہمارے آقا کا ذکر سیاتیں وو موالنا مسیاق اجمد فرماتے کہ میں‬

‫ذرا سی خیکی ضرور لوں گا ک توں کہ میں مح تور ہوں وو عالمہ اوکاڑوی تے فرمانا عالمہ ازہری بھی مح تور ہیں بہ محھے خیکی لبئے ہیں‬
‫اور فرمانا جاالں کہ میں امجدبہ کے ہر جلسے میں سرکت کرنا ہوں یقرپر بھی کرنا ہوں اور خود گاڑی کرکے جانا ہوں کتھی کرابہ‬
‫بھی نہیں مایگا اور مقئی ظقر علی یعمانی تے شب علماء کو قالین د پئے میں تے خود مایگا بھی وو نہیں دنا۔‬

‫کحھ عرضہ یعد سمس العلوم میں و ِوم رصا میانا گیا اس جلشہ میں بھی عالمہ عیدالمصطقی ازہری صاجب اور عالمہ محمد‬
‫شق یع اوکاڑوی صاجب بھی موخود ب ھے۔ عالمہ اوکاڑوی کا پیان سروع ہوا وو پراپر میں عالمہ ازہری صاجب کرسی پر نسریف فرما‬

‫ب ھے وو موالنا محمد ظقیل صاجب تے اوکاڑوی صاجب کے کان میں پڑی آہستہ سے کہا‪ ،‬اوکاڑوی صاجب یقرپر مح یضر کرنی ہے‬
‫ُ‬
‫ک توں کہ عالمہ عیدالمصطقی ازہری صاجب کو کہیں جانا ہے لیکن وہ آپ کو سبیا بھی جا ہئے ہیں وو اوکاڑوی صاجب تے نہت‬
‫محنت سے فرمانا کہ عالمہ صاجب کو جلدی جانا ہے وو وہ نہلے حطاب فرمالیں اور نسریف لے جاتیں اگر نسریف ر کھے رہیں وو‬
‫نہت اجھی نات ہے وو عالمہ عیدالمصطقی ازہری آخری وقت نک تبتھے رہے۔ جلسے کے احبیام پر انک ہی بھال میں کھانا کھانا‬
‫اور اجھی اجھی گقیگو بھی ہونی رہی۔‬

‫انک مرپتہ آپ کی جاضری مدپتہ م تورہ ہونی آپ تے فرمانا کہ مدپتہ م تورہ کی جاضری میں محھے سحت تجار ہوگیا وو میں‬

‫جہاں بھہرا ہوا بھا وو گھر والوں تے کہا کہ ہم ڈاکیر کو نلوا لبئے ہیں وو آپ تے فرمانا نہیں نہاں انک ک تواں ہے خو اس سے‬
‫ٰ‬
‫عسل کرے گا تمام تجار ُدور ہوجاے گا ک توں کہ بہ ہمارے آقا و مولی کی جدپث ہے وو ک تویں سے نانی میگوانا عسل کیا تجار‬
‫نہیں گیا نلکہ اور مزند بیز ہوگیا بھر گھر والے مسلسل ڈاکیر کا وو لئے رہے لیکن میں تے کہا میرے پئی کی جدپث ہے اس‬

‫نانی کے عسل سے پتمارناں ختم ہوجانی ہیں میں بھی مسلسل اس ک تویں کے نانی سے عسل کرنا رہا ک توں کہ میرا تحتہ عقیدہ‬
‫ُ‬
‫ٰ‬
‫بھا کہ اس ہی نانی سے تجار ختم ہوگا۔ ہمارے آقا و مولی بھی ساند دنکھیا جا ہئے بھے بہ میرا امئی یکا سیدانی ہے نا نہیں لیکن‬
‫اّٰللہ کے حصور میں اس ہی نانی کے عسل سے ہی صحیح ہوگیا۔ آپ صاجب ِ کشف و یصیرت بھی بھے کہ کسی ندمذہب کو‬
‫ُ‬
‫ً‬
‫دنکھئے وو قورا نہجان جاتے ب ھے۔ ند عقیدہ و دووپیدی‪ ،‬وہانی تجدووں تے ہمارے کئی علما کو فرپب دے کر ا پئے آپ کو سئی‬
‫ُّ‬
‫ظاہر کرکے سئی مساجد میں امامبیں جاصل کیں لیکن حضرت اوکاڑوی کے سا مئے خو بھی ندعقیدہ آنا وہ قوری نہجان جاتے‬
‫ُّ‬
‫ب ھے۔ مسل ِک خق کے خوالے سے غوام بھی اسی کو سئی ما پئے حسے حضرت اوکاڑوی صاجب کی ناپید و یصدوق جاصل ہونی۔‬
‫ُّ‬
‫حضرت صاجب ہی کا نام لے کر لوگ کہا کرتے کہ ہم موالنا اوکاڑوی صاجب والے سئی ہیں۔‬

‫نلدبہ ناؤن میں جلشہ بھا‪ ،‬آپ کے آتے سے نہلے موالنا سید ساہ پراب الجق قادری حطاب فرمارہے بھے کہ اجانک‬
‫حطنب ِ اعظم ناکسیان کی گا ڑی آگئی اور لوگوں تے یعرے لگانا سروع کئے وو ساہ پراب الجق صاجب تے یقرپر ختم کرتے‬
‫ہوے فرمانا ہماری میال پتمم حیسی‪ ،‬نانی مل گیا پتمم ختم‪ ،‬اب حطنب ِ ناکسیان نسریف ال جکے ہیں اب آپ ان کا حصوصی‬
‫حطاب سبیں گے۔‬

‫سواد اعظم اہ ِل سنّت نامی پ یطتم پ توانی اور اہ ِل‬
‫راول پیڈی والے عالم جان دووپ یدی تے کراچی آکر ِ‬
‫سنّت کے جالف سازسیں سروع کیں وو ان کو رو کئے کے لئے دارالعلوم امجدبہ میں اجالس ہوا حس میں لوگوں تے اپئی اپئی‬

‫تجاوپز تیش کیں۔ موالنا ساہ پراب الجق صاجب تے اجالس میں کہا مجالفوں کو خواب د پئے کے لئے ہمارے ناس کونی‬
‫مولوی نہیں ہے اگر کونی خواب دے سکیا ہے وو وہ ضرف موالنا محمد شق یع اوکاڑوی صاجب ہیں خو ہر ندعقیدہ کا موبھہ ووڑ‬
‫خواب دیں گے۔ انک دفعہ اورنگی ناؤن کے کحھ لوگ دارالعلوم امجدبہ نسریف الے حس میں موالنا عیدالسیار قادری بھی ب ھے‬
‫ُ‬
‫ی‬
‫انہوں تے آکر حضرت موالنا مقئی وقار اکدین رجمۃ ا ہّٰلل علتہ سے کہا ہمارے عالقے اورنگی ناؤن اردو خوک پر دووپیدی وہانی پ ل یعی‬
‫ُّ‬
‫لوگ‪ ،‬سئی حضرات کو نہکارہے ہیں۔ لوگوں تے کہا آپ ہمارے عالقے میں جلیں اور حطاب کریں وو مقئی وقار اکدین‬
‫صاجب تے فرمانا بہ کام موالنا محمد شق یع اوکاڑوی صاجب کا ہے لوگوں تے کہا کہ ان کے ناس دو تین ماہ نک وقت نہیں‬
‫ملیا‪ ،‬روز ہی ان کے کئی پروگرام ہوتے ہیں‪ ،‬ہمیں قوری طور پر جلشہ کرنا ہے‪ ،‬انہوں تے نہت مح تور کیا حضرت ہمارے‬
‫سابھ آپ جلیں وو مقئی وقار اکدین صاجب پیار ہوے اور اورنگی ناؤن گئے اور آپ تے َرد پر یقرپر کی اور لوگوں تے آپ کو‬
‫نہت نسید فرمانا۔‬

‫لی‬
‫حضرت فقتہ اعظم موالنا اوو الحیر محمد وور اّٰللہ صاجب ا عتمی القادری‪ ،‬نانی دارالعلوم خ یقتہ فرندبہ یصیر وور‪ ،‬رجمۃ اّٰللہ علتہ‬
‫حضرت حطنب ِ اعظم سے نہت محنت فرماتے ب ھے۔ شن ‪1970‬ء میں حضرت فقتہ اعظم کراچی میں ناوو رسید کے ہاں‬

‫نسریف فرما بھے میں (محمد اووب الرجمن اوکاڑوی) ان کو ملئے کے لئے گیا وو حضرت وور اّٰللہ صاجب تے محھے فرمانا میں تے جافظ‬
‫صاجب کے گھر میں قون کیا بھا وو تجوں تے ا بھانا۔ جافظ صاجب سے نات نہیں ہوسکی وو حضرت فقتہ اعظم تے محھے جکم‬
‫دنا کہ یم جافظ صاجب کے گھر جاکر میرا سالم کہو۔ نس بہ نات ہورہی بھی کہ انک جھونا سا تحہ دوڑنا ہوا آنا۔ اس تجے تے آکر‬
‫کہا وہ دنکھو! موالنا شق یع اوکاڑوی صاجب آرہے ہیں وو میں تے ب ھاگ کر پیجے دنکھا وو اوکاڑوی صاجب سیڑھ توں پر خڑھ رہے ب ھے‬

‫وو میں تے جلدی سے حضرت فقتہ اعظم کو اظالع دی کہ حضرت اوکاڑوی صاجب آپ کو ملئے آرہے ہیں۔ حضرت فقتہ اعظم‬
‫سیدھے ہابھ ناندھ کر کھڑے ہو گئے۔ حضرت حطنب ِ ناکسیان تے ہابھ مالتے کے یعد کہا کہ حضرت آپ میرے لئے ک توں‬
‫ع‬
‫م‬
‫ول نارگاہ ہیں اورمیں ناں نہا ڈا‬
‫کھڑے ہو گئے؟ وو حضرت فقتہ ا ظم تے سادہ سی آواز میں کہا ”جافظ چی آپ وو مح توب و ق ت ِ‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫ع‬
‫ظ‬
‫ح‬
‫ی‬
‫ب‬
‫ف‬
‫ن‬
‫اودوں دا ادب کرنا آں جدوں سی عت سریف پڑھدے سی“ ھر ضرت اوکاڑوی صاجب تے قتہ ا م کے انک ساگردکی‬
‫ُ‬
‫نات کی کہ میں اس کی عزت پیانا ہوں مگر بہ اپئی عزت خراب کرنا ہے۔ موالنا وورانی کی پراپیاں کرنا ہے وو فقتہ اعظم تے‬
‫ُ‬
‫فرمانا آپ نسلی رکھیں میں اسے سمحھادوں گا۔ بھر فقتہ اعظم تے فرمانا کہ میں مدپتہ م تورہ جارہا بھا وو محھے نکٹ نہیں مل رہا بھا‬
‫وو وورانی صاجب تے محھے نکٹ دلوانا ہے وو حضرت حطنب ِ ناکسیان تے عرض کی کہ آپ دعا فرمادیں کہ میں الیکسن میں‬
‫کام ناب ہوجاؤں وو آپ کی جدمت میں کوناہی نہیں ہوگی۔‬

‫س‬
‫انسی کبئی ہی ناتیں خو میری حشم دند ہیں‪ ،‬بہ اس کی نہلی فشط محھیں۔ ان ساء ا ہّٰلل اپئی نادداسبیں قلم پید کرنا‬
‫رہوں گا۔‬

‫۔ والصلوۃ والسالم علی رسولہ اککریم‬

‫اہ ِل سنّت و جماعت کون ہیں؟‬

‫ح‬
‫”ہمارے مع ت ِود ق یقی ا ہّٰلل کریم جل سابہ کا ہم اہ ِل اسالم و اتمان پر تے ناناں ایعام و احسان ہے کہ اس تے‬
‫ا پئے نسیدندہ دین ”اسالم“ کی الزوال یعمت و دولت سے ووازا اور ہمیں اسالم و اتمان کا جامل و امین پیاکر جیراالمم ہوتے کا‬
‫سرف تحسا۔‬
‫ُ‬
‫ج‬
‫رسول کریم ﷺ پر جن کے صدقے و ظقیل ہمیں‬
‫کروڑوں درود و سالم ہوں ا ہّٰلل کریم ل سابہ کے آخری اور پیارے ِ‬
‫اسالم و اتمان اور ہر یعمت ملی‪ ،‬ا ہّٰلل کریم جل سابہ کی نہجان بھی انہی کے وسیلے سے ملی۔ ہمارے دین اسالم اور اتمان کے‬
‫اولین مصادر و مراحع فرآن و اجاد پث ہیں‪ ،‬ہمیں مومن و مسلم نام انہی سے مال۔ اصجاب پ توی اور اہ ِل پ نت ِ پ توت‪ ،‬نایعین‪،‬‬
‫پ یع نایعین انہی ناموں سے موسوم ہوے۔‬

‫ّ‬
‫سواد اعظم کی تے َروی و اپیاع‬
‫رسول کریم ﷺ تے ہمیں سنت و جماعت کو الزم نکڑے رہئے اور ِ‬
‫ہمارے پیارے ِ‬
‫کا جکم دنا اور واصح ارسادات سے اندی حق یقت تماناں کرکے ہماری راہ تجات م یعین فرمادی۔ تجات کا مدار صحیح عقاند ہیں اور‬
‫سواد اعظم اہ ِل سنّت و جماعت کی اپیاع و تے َروی الزم ہے۔‬
‫عقاند فطعتہ اجماعتہ میں ِ‬
‫ہ ّ‬
‫رسول کریم ﷺ اور ان کے صجابہ کرام رصی اّٰللہ عتہم اجمعین‬
‫ا ِل سنت و جماعت ان تمام افراد کو کہا جانا ہے خو ِ‬

‫کے طر یقے پر کارپید ہیں۔ وجہ نشمتہ نام سے ظاہر ہے‪ ،‬سنّت پر جلئے والے اور جماعت کہئے کی وجہ بہ کہ وہ لوگ خق پر جمع‬
‫مص‬
‫ہوے اور یقرقات میں نہیں پڑے۔ لچین امت تے ہر َدور میں ملت اسالمتہ کو اقیراق سے تجاتے کی کوشش کی ہے‪،‬‬
‫اسی کوشش کو مسلک ِ خق اہ ِل سنّت و جماعت کہا گیا‪ ،‬عملی طور پر اصجاب ِ پ توی‪ ،‬اہ ِل پ ن ِت پ توت‪ ،‬نایعین‪ ،‬پ یع نایعین‪،‬‬
‫مجدتین‪ ،‬اتمہ محتہدین‪ ،‬اولیاے کاملین شب اسی پر کار پید رہے۔‬

‫ً‬
‫خو مسلمان اع یقادا ماپرندی نا اشعری اور فقہی طور پر خ یقی‪ ،‬سافعی‪ ،‬ماککی‪ ،‬حبیلی‪ ،‬مقلد ہے اور کسی صحیح سلسلہ طریقت‬
‫ُّ‬
‫قادری‪ ،‬حسئی‪ ،‬یقش پیدی‪ ،‬سہروردی‪ ،‬ساذلی‪ ،‬رقاعی (وعیرہ) سے وانستہ ہے‪ ،‬وہ اہ ِل سنّت و جماعت (انک لفظ میں ”سئی“)‬
‫ہے‪( ،‬وہ صحیح عقیدے والے ُسئّی خو مقلد نہیں نا س سلہ طریقت سے وا ستہ نہیں‪ ،‬وہ ب‬
‫سواد اعظم میں سامل ہیں۔) اپیدا‬
‫ھی‬
‫ن‬
‫ِ‬
‫ل‬
‫ہ ّ‬
‫سواد اعظم پڑی یعداد میں رہے ہیں مگر پتمابہ کیرت و قلت نہیں نلکہ اپیاع خق‬
‫ہی سے ہر عہد میں ا ِل سنت و جماعت ِ‬
‫ہے۔‬

‫اہ ِل سنّت و جماعت کا لقب نا اصطالح فرون نالبہ کے یعد کا من گھڑت نہیں ہے‪ ،‬نلکہ بہ جملہ ف ِرق مبیدعہ سے‬

‫ی‬
‫رسول کریم ﷺ اور صجابہ کرام رصی ا ہّٰلل عتہ کے ظاہری عہد میارک سے صحیح العقیدہ اہ ِل خق مسلماووں کے لئے اسیعمال‬
‫قل ِ‬
‫ہونا آرہا ہے۔ خیاں جہ حضرت سیدنا امام زین العاندین علی ین حسین رصی ا ہّٰلل‬
‫رسول کریم ﷺ پر کیرت سے ُدرود سریف بھیحیا اہ ِل سنّت ہوتے کی عالمت ہے۔ (الیرع نب‪:‬‬
‫عتہما کی رواپت موخود ہے کہ ِ‬
‫‪ ،963‬الفول الید یع ‪ ،52‬فصانل اعمال ‪)688‬۔‬
‫‪۱۴۶۲‬۔ جدپیا محمود ین عیالن قال‪ :‬جدپیا اوو داؤد الحقری‪ ،‬غن شقیان ال توری‪ ،‬غن عیدالرجمن ین زناد االفریقی‪ ،‬غن‬
‫عیداّٰللہ ین پزند‪ ،‬غن عیداّٰللہ ین عمرو‪ ،‬قال‪ :‬قال رسول اّٰللہ ﷺ‪” :‬ل یاتین علی امئی ما انی علی پئی اسراپیل جذوال یعل نال یعل‪ ،‬خئی‬
‫ان کان متہم من انی امہ عالپتۃ لکان قی امئی من یصیع ذکک‪ ،‬وان پئی اسراپیل یقرقت علی تببین وسیعین ملۃ‪ ،‬ویقیرق امئی‬
‫علی نالث وسیعین ملۃ‪ ،‬کلہم قی الیار اال ملۃ واجدۃ“ قالوا‪ :‬ومن ہی نا رسول اّٰللہ؟ قال‪” :‬ما انا علتہ واصجانی“‪ :‬عیداّٰللہ ین عمرو‬
‫رسول کریم ﷺ تے فرمانا‪ ،‬تحق تق پئی اسراپیل ‪ 72‬فرقوں میں پٹ گئے اور میری امت ‪73‬‬
‫سے مروی ہے‪ ،‬کہئے ہیں کہ ِ‬
‫فرقوں میں پٹ جاے گی‪ ،‬ملت واجدہ کے سوا شب دوزخ میں جاتیں گے۔ صجابہ کرام رصی ا ہّٰلل عتہم تے عرض کی‪ ،‬نارسول‬
‫س‬
‫ص‬
‫رسول کریم ﷺ تے فرمانا کہ حس طر یقے پر میں ہوں اور میرے‬
‫اّٰللہ لی ا ہّٰلل علیک و لم‪ ،‬وہ ملت واجدہ کون ہوں گے؟ وو ِ‬
‫اصجاب۔ (پرمذی‪ ،2461 :‬این ماجہ‪ ،3992 :‬اوو داؤد‪ ،4597 :‬مسکوۃ‪)171 :‬‬

‫امام مال علی قاری فرماتے ہیں‪ :‬ما انا علتہ واصجانی کے مصداق نال سک اہ ِل سنّت و جماعت ہی ہیں اور کہا گیا ہے‬
‫ً ً ً‬
‫کہ یقدپر عیارت ووں ہے کہ اہ ِل خ نت وہ ہیں خو پئی کریم ﷺ اور آپ کے اصجاب کے طر یقے پر ہیں اع یقادا‪ ،‬قوال‪ ،‬فعال۔ اس‬
‫لئے کہ بہ نات ناالجماع معروف ہے کہ علماے اسالم تے حس نات پر اجماع کرلیا وہ خق ہے اور اس کا ما سوا ناظل ہے۔‬

‫وغن انی عمر قال‪ :‬قال رسول اّٰللہ ﷺ‪” :‬ان ا ہّٰلل التحمع امئی او قال‪ :‬امۃ محمد علی صاللۃ وند ا ہّٰلل علی الحماعۃ ومن سذ‬
‫سذ قی الیار“۔ رواہ الیرمذی وعتہ قال‪ :‬قال رسول اّٰللہ ﷺ‪( :‬اپ یعوا السواد االعظم قابہ من سذ سذقی الیار)۔ رواہ این ماجہ من‬

‫جدپث انس اور این عمر رصی ا ہّٰلل عتہما سے روانات ہیں کہ انہوں تے فرمانا کہ رسول کریم ﷺ تے فرمانا کہ تے سک اّٰللہ‬
‫ن‬
‫سواد اعظم کی تے َروی کرو اور خو‬
‫یعالی امت ِ محمدی کو گم راہی پر جمع ہیں فرماے گا اور ا ہّٰلل کا ہابھ جماعت پر ہے اور ِ‬
‫ً ً‬
‫سحص (جماعت سے اع یقادا نا قوال نا فعال ً) اکگ ہوا وہ آگ میں اکگ ہوا۔ اس کا معئی اور مقہوم بہ ہے کہ خو سحص ا پئے اہ ِل‬
‫خ نت اصجاب سے اکگ ہوا وہ آگ میں ڈاال جاے گا۔ (پرمذی‪ ،2167 :‬کیزالعمال‪ ،1029,1030 :‬مسکوۃ‪173,17 :‬‬

‫رسول کریم ﷺ تے فرمانا‪ :‬من قارق الحماعۃ سیرا قمات‪ ،‬االمات منتۃ‬
‫این عیاس رصی اّٰللہ عتہما سے رواپت ہے کہ ِ‬
‫جاہلتۃ (تجاری‪ )7054 :‬خو جماعت (اہ ِل سنّت) سے نالسث بھر بھی اکگ ہوا‪ ،‬بھر اسی جال میں َمرا وو وہ جاہلنت کی موت‬
‫مرا۔ مجالقین اہ ِل سنّت کے عالمہ این پتمتہ تے ”ووم تب یض وخوہ و نسود وخوہ“ (القرآن) کی یقشیر میں ککھا ہے‪ :‬قال این‬
‫عیاس وعیرہ تب یض وخوہ اہل الستۃ والحماعۃ ونسود وخوہ اہل الیدعۃ والقرفۃ۔ (محموع القیاوی‪ )3/278 ،‬اور بھر ککھا ہے کہ‬

‫امت کے تمام فرقوں میں اہ ِل سنّت اس طرح وشط اور درمیاتے ہیں حیسے تمام ام توں میں امت مسلمہ۔ کما قی قولہ یعالی‬
‫وکذکک حعلیاکم امۃ وشطا (ال یقرۃ‪)143 :‬۔ (محموع القیاوی‪ )3/370 ،‬اور ککھا قان القرفۃ الیاجتۃ اہل الستۃ والحماعۃ۔‬
‫(‪)3/141‬۔‬
‫(یقشیر این خرپر میں آپت فرآنی ”واع یصموا تحیل اّٰللہ جم یعا“ کے تحت حضرت عیدا ہّٰلل این مشعود رصی اّٰللہ عتہ کی‬

‫رواپت سے ککھا ”قال الحماعۃ“ اور دوسری سید سے این مشعود رصی اّٰللہ عتہ ہی سے اسی آپت کے تحت ککھا ”قال خیل اّٰللہ‬
‫ع‬
‫الحماعۃ“ این خرپر ککھئے ہیں (وال یقرقوا غن دین اّٰللہ) لیکم نالطاعۃ والحماعۃ اہل الستۃ والحماعۃ۔) اور یقشیر این کثیر میں ہے‬
‫(ووم تب یض وخوہ و نسود وخوہ) یعئی ووم القیامۃ حین تب یض وخوہ اہل الستۃ والحماعۃ ونسود وخوہ اہل الیدعۃ والقرفۃ (‪)1/390‬‬
‫واخرج این انی جایم واوو یضر قی االنابۃ والحطنب قی نارتحہ وکاللکانی قی الستۃ غن این عیاس قی ہذہ االبۃ قال‬
‫ن‬
‫(تب یض وخوہ ونسود وخوہ) قال تب یض وخوہ اہل الستۃ والحماعۃ ونسود وخوہ اہل الیدع والصاللۃ واخرج الحطنب قی رواۃ ماکک واکد لمی‬
‫غن این عمر غن البئی ﷺ قی قولہ یعالی ’ووم تب یض وخوہ ونسود وخوہ) قال‪ :‬تب یض وخوہ اہل الستۃ ونسود وخوہ اہل الیدع۔ واخرج‬

‫اوو یضر السجزی قی االنابۃ غن انی شعید الجدری ان رسول اّٰللہ ﷺ فرا (ووم تب یض وخوہ ونسود وخوہ) قال‪ :‬تب یض وخوہ اہل الحماعات‬

‫ن‬
‫والستۃ ونسود وخوہ اہل الیدع واالہواء۔ (د لمی مسید القردوس‪ ،8986 :‬کیزالعمال‪ ،2637 :‬نارتخ یعداد‪ ،3908 :‬یقشیر مظہری‬
‫‪ ،1/116‬الستۃ‪)74 :‬‬
‫اور این انی جایم اور اوویضر تے انابہ میں اور حطنب تے اپئی نارتخ میں اور اکالل کانی تے الستۃ میں این عیاس‬

‫رصی اّٰللہ عتہما سے رواپت فرمانی اس آپت ”ووم تب یض وخوہ ونسود وخوہ“ (آل عمران‪ )106 :‬کے نارے میں‪ ،‬فرمانا کحھ جہرے‬
‫شقید ہوں گے اور کحھ جہرے سیاہ‪ ،‬این عیاس تے فرمانا اہ ِل سنّت و جماعت کے جہرے شقید اور اہل ناظل کے جہرے‬
‫ن‬
‫سیاہ ہوں گے اور د لمی تے این عمر سے پئی کریم ﷺ سے اس آپت کی ووں ہی یقشیر فرمانی اور اوو یضر سجزی تے انابہ میں‬
‫رسول کریم ﷺ تے بہ آپت پڑھی اور فرمانا اہ ِل سنّت کے جہرے روشن ہوں گے اور اہل‬
‫اوو شعید جدری سے رواپت کی کہ ِ‬
‫ناظل کے جہرے سیاہ ہو نگے۔ (اکدر المب تور‪)2/63 :‬‬
‫وث اعظم رصی ا ہّٰلل عتہ فرماتے ہیں کہ فرفہ ناجتہ اہ ِل سنّت و جماعت ہی‬
‫مح توب سیجانی سیخ عیدالقادر خیالنی سیدنا غ ِ‬

‫ہیں۔ مومن کے لئے الزم ہے سنّت اور جماعت کی اپیاع کرے نس سنّت وہ ہے حسے رسول ا ہّٰلل ﷺ تے جاری فرمانا ہو اور‬
‫جماعت وہ ہے حس پر اتمہ اریعہ جلقاے راسدین مہدتین رصی ا ہّٰلل عتہم اجمعین کے َدور جالقت میں اصجاب پ توی تے ایقاق‬
‫کیا۔ (غنتۃ الطالبین ‪)192‬‬
‫مجی اکدین‪ ،‬معین اکدین‪ ،‬سہاب اکدین‪ ،‬نہاؤاکدین‪ ،‬فطب اکدین‪ ،‬فرند اکدین‪ ،‬یطام اکدین‪ ،‬عالؤ اکدین‪ ،‬یصیر اکدین‪،‬‬
‫م‬
‫جمید اکدین‪ ،‬جالل اکدین‪ ،‬صلح اکدین‪ ،‬حسام اکدین‪ ،‬صالح اکدین‪ ،‬وور اکدین‪ ،‬مثیر ا کدین‪ ،‬سریف اکدین‪ ،‬سدند اکدین‪ ،‬سرق‬
‫اکدین‪ ،‬ناج اکدین‪ ،‬اوجد اکدین‪ ،‬امین اکدین‪ ،‬کریم اکدین‪ ،‬سیف اکدین‪ ،‬سمس اکدین‪ ،‬شب ہی اہ ِل سنّت و جماعت ہوے‪،‬‬
‫َ‬
‫وال پت نال شتہ ا ہّٰلل یعالی کا ایعام ہے اور ایعام دوستوں پیاروں کو دنا جانا ہے۔ اہل سنّت و جماعت کے اہل خق ہوتے کی بہ‬
‫واصح دلیل ہے۔‬
‫گزشتہ صدی میں وہ لوگ خو صحیح العقیدہ اہ ِل سنّت و جماعت نہیں بھے مگر انہوں تے خود کو اہ ِل سنّت و جماعت‬
‫ُّ‬
‫کہالنا جاہا وو اہ ِل خق اہ ِل سنّت و جماعت کی نہجان واصح کرتے کے لئے سئی کے سابھ پرنلوی کا لقب یکارا جاتے لگا‪،‬‬
‫خودھویں صدی میں مجدد اعظم امام اہ ِل سنّت اعلی حضرت موالنا ساہ اجمد رصا جان پرنلوی رجمۃ اّٰللہ علتہ تے عیروں کی‬

‫سازسوں کو پ نپ تے نہیں دنا اور کمال خرات و اسیقامت سے مسلک ِ خق اہ ِل سنّت و جماعت کی پرجمانی کا خق ادا کیا‬

ُّ
‫اس لئے ان کی نسنت سے پرنلوی کا لقب آج اہ ِل سنّت و جماعت کی نہجان ہے اور ہر سجے سئی کی صداقت کا ع توان‬
“‫ہے۔‬

GOOD NEWS
Some members of the Maulana Okarvi Academy have launched the
:blog
www.Okarvi.com
www.allamahkaukabnooraniokarvi.com
:Also launched fan pages on Facebook
www.facebook.com/Hazrat.Maulana.Muhammad.Shafee.Okarvi
www.facebook.com/Allaamah.Kaukab.Noorani.Okarvi.FanPage
www.facebook.com/Masjid.Gulzar.e.Habeeb
Three years ago, Saiyyid Munawwar Ali Shah Bukhari started the
following website for audio and video lectures of the true Sunni
:scholars
www.sunnispeeches.com
www.okarvispeeches.com

Hazrat Shaiekh-ul Hadees and Tafseer Allaamah Maulana Faiez Ahmad
Saahib uwaiesee Rizvee is at the top of those notable scholars who have
written thousands of books. He wrote this article in Urdu for the 16th
Annual Urs Shareef magazine. We have translated this article in English
for our readers worldwide

Maulana Haafiz Muhammad Shafee Okarvi and I
Bismil Laahir Rahmaan Nir Raheem
Nahmaduhu Wa Nusalli Wa Nusallimu 'Alaa Rasoolihil Kareem
I this Faqeer
(Faiez Ahmad uwaiesee Ghufira Lahu) came to know Hazrat Allaamah
Maulana Haafiz Muhammad Shafee Saahib Okarvi (Allaah have mercy
on him) when he was being presented the Turban of honor (Dastaarbandee) at the annual convocation of Madrassah Anwaar-ul-Uloom,
Multan Shareef. In that same year two students of mine Maulana Haafiz
Muhammad Abdul Majeed uwaiesee currently Shaiekh-ul Hadees in
Madrassah Anwaar-ul Mustafaa, Sukkur (Sind) and Maulana Ghulaam

Fareed uwaiesee (Allaah have mercy on him), Tabba Chauhaan, District
Rahim yar khan had also received the turban of honor. In the last
session of the Annual Function of Madrassah Daarul-ul Uloom Multan
a most beautiful, handsome and inspiring young man appeared
prominent. It seemed this dignified personality was also invited on that
day's gathering amongst notable orators for giving a lecture. But later it
was acknowledged that this young man with illuminated face was one
amongst the accomplished scholars.
By appearance he was most beautiful and dignified and was seated in
the row of the scholars. Therefore, on questioning about him I was only
told this young man was not amongst the graduated scholars, rather he
was seated with the respected guests' scholars. I did not consider these
introductory sentences of the person informing me adequate and
decided that I would find out more at the end to the gathering.
Meanwhile during this time (Ghazaali-e-Zamaan) The Ghazaali of the
Era, Hazrat Allaamah Ahmad Saiyyid Sa'eed Shaah Kaazimee (Allaah
have mercy on him) announced himself just now, "I have received some
questions regarding the objections of the opponents (of our beliefs)
concerning Waseelah (mediation). Their answers will be given by the
young scholar Maulana Haafiz Muhammad Shafee

Saahib Okarvi." The crowd welcomed him with zealous slogans. As
Maulana Okarvi Saahib explained adequate answers to all these
questions with the verses of the Qur'aan and the sacred Ahaadees, a
wave of happiness and ecstasy sifted all over the crowd and continuous
slogans were chanted throughout the speech of Maulana Okarvi
Saahib. Moreover, Maulana Okarvi Saahib's precise speech containing
the answers overpowered all the speeches of the orators present in this
session.
This was the same young man with illuminated face and grace about
whom I had the desire to inquire further. Maybe other guest scholars
might also have the desire to know more about this young man. It
should be called the miracle of Allaamah Kaazimee this way we all came
to know about his this qualified student. Initially we were already
impressed by the beauty and dignity of Maulana Okarvi Saahib but now
his style and attractive voice had also made room in the heart. Maybe
now more manifestations were to be unfolded. At the end of this
session the chairman of the congregation Shaiekh-ul Islaam Hazrat
Khawaajah Muhammad Qamar-ud-deen Siyaalvee's (Allaah have mercy
on him) scholarly intellectual speech was presented. He said one
sentence in his speech that, "Haazir wa Naazir Honaa Tou Sifat Hee
Rasoolul Laah (Sallal Laahu 'Alaiehi Wa Sallam) Kee Hai, Allaah Ta'aa

laa Kay Liyay Yeh Sifat Bayaan Karnaa Tou Kufr Tak Ponhchaa Daytaa
Hai." "To be Haazir and Naazir is the attribute of the Holy Prophet
(Sallal Laahu 'Alaiehi Wa Sallam), to express this attribute for Almighty
Allaah outreaches to infidelity."
Not everyone in the crowd were learned people and they could not
understand such a condensed lecture without explanation by
themselves. Besides, a school of criticism could be opened by the
opponents due to such a condensed lecture and the scenario was that
another speech was not to be made after this executive speech. Much
of the night had already passed and the audience were also feeling tired.
But the congregation was of Anwaar-ul-Uloom and the host was
Huzoor Ghazaali-e-Zamaan (Ghazaali of the Era Allaamah Kaazimee)
(Allaah have mercy on him). He also felt the importance of this matter
and stood up himself and in very good style praised the speech of
Hazrat Khawaajah Qamar-ud-deen Saahib and said, "The sentence
which is stated by Hazrat Khawaajah Saahib regarding (Haazir and
Naazir) of Almighty Allaah a brief explanation of that summary will be
presented in
front of you by Maulana Haafiz Muhammad Shafee Saahib Okarvi."
This was a clear proof of the confidence of Ghazaali-e-Zamaan on
Maulana Okarvi. Perhaps the crowd was yet again desperate to hear

Maulana Okarvi Saahib as the echoing of slogans were such that they
would not stop. Hazrat Maulana Haafiz Muhammad Shafee Saahib
Okarvi (Allaah have mercy on him) began the answer. Even though
much portion of night had passed, it felt as if life had waved throughout
the crowd. The whole crowd had become energetic and the emotion of
everyone could be felt that Maulana Okarvi Saahib may keep explaining
till morning. But Maulana Okarvi Saahib explained concisely and
comprehensively whose summary was this, "Haazir wa Naazir Kay Lafz
Lughvee Lihaaz Say Makaan o Jihat Kay Mutaaqaazi Hayn Aur Allaah
Taa'aa laa Makaan Aur Jihat Say Munazzah Aur Muqaddas Hai, Hazrat
Khawaajah Saahib Kay Farmaanay Ka Maqsad Yahee Hai Kay Makaan
wa Jihat Kee Sifaat Tou Huzoor-e-Akram (Sallal Laahu 'Alaiehi Wa
Sallam) Kay Liyay Ho Sakti Hayn Aur Hayn Magar Allaah Ta 'aa laa Kay
Liyay Makaan wa Jihat Ka Tasawwur, Kufr Tak Naubat Ponhchaataa
Hai."
"According to the dictionary the meaning of Haazir and Naazir is
defined from station and form and Almighty Allaah is sacred and free
from station and form. The only reason of this saying of Hazrat
Khawaajah Saahib is the attribute of station and form can be for the
Holy Prophet (Sallal Laahu 'Alaiehi Wa Sallam) and they are, but to
consider the thought of station and form for Almighty Allaah can lead

to the level of infidelity." (*)Maulana Okarvi Saahib also explained the
crowd intellectually. (**)
In the excellence of graduation and distribution of certifications this
year the most prominent had to be Hazrat Haafiz Muhammad Shafee
Okarvi (Allaah have mercy on him) and so he remained prominent.
Later I found out Maulana Okarvi Saahib was actually the student of
Hazrat Shaiekh-ul Qur'aan Maulana Ghulaam 'Alee Saahib Okarvi and
had completed his complete syllabus till Ahaadees Shareef from him
and
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------(*)(Clearly understand that we Sunni Barelvi believe that the Holy
Prophet (Sallal Laahu 'Alaiehi Wa Sallam) is spiritually Present (Haazir)
and Over looking (Naazir) and not physically).

(**)The

readers of this writing should read the research of the issue of Haazir
and Naazir in the writing Taskeen-ul Khawaatir of Ghazaali-e-Zamaan
Allaamah Saiyyid Ahmad Sa'eed Shaah Saahib Raaziavi (Allaah have
mercy on him) or my book Tansheetul Khawaatir known as
'' Dilon ka Chayn "

then Maulana Okarvi Saahib had met Huzoor Ghazaali-e-Dauraan. The
scene that was observed after the presentation of the turban of honor
(Dastaar bandee) was worth viewing. Hazrat Maulana Haafiz
Muhammad Shafee Saahib Okarvi (Allaah be pleased with him) went
home in a large crowd of people. At that time his sacred diary was in
the hands of the people even though Hazrat Maulana Okarvi Saahib
(Allaah be pleased with him) kept excusing and pardoning himself from
giving a date to attend further gatherings of the people and the
scholars, not even a date of that year remained empty and a great
number of people kept the desire in their heart by waiting for the dairy
of the next year. How could I give the details of state of Maulana
Okarvi's gatherings?
Whereas the associates knew it very well that the opponents also
accepted the charms of the captivating oratory of Hazrat Maulana
Haafiz Muhammad Shafee Saahib Okarvi (Allaah have mercy on him)'s
speeches. I will only explain details of one gathering. Adjacent to the
native village Haamidabad, District Rahim Yar khan of mine, a devotee
of Holy Prophet (Sallal Laahu 'Alaiehi Wa Sallam) and beloved of the
scholars Hazrat Haaji Yaar Muhammad Saahib of Wagwan District
Rahim Yar khan existed.

He had to arrange many gatherings during the year and later for the
annual function he would make the selection of the top most
outstanding scholar and orator. Personalities like (Bulbul-e-Baagh-eBaabaa Fareed), Nightingale of the Garden of Baabaa Fareed, Hazrat
Maulana Muhammad Yaar Saahib of Gharee Ikhtiyaar Khaan (Allaah be
pleased with him) would be the adornment of his gatherings.
This year as soon as he heard the intellectually proficient speeches of
Hazrat Maulana Okarvi Saahib (Allaah be pleased with him) in the
congregation of Anwaar-ul-Uloom Shareef he admired him whole
heartedly. Therefore without any delay that year for his annual
congregation he made the selection of Hazrat Maulana Okarvi Saahib
and made such great arrangement that when I entered with his
students in the gathering there was not even a spot for a speck and tents
were placed till faraway. Besides, what calculation could be done of
this roaring ocean of people? Then if I may explain the scene of lecture,
than how should I do it? Indeed every speech and every congregation
of Maulana Okarvi Saahib was considered an example. In a very short
while, Hazrat Maulana Okarvi Saahib (Allaah be pleased with him) was
considered the most popular and famous orator of Punjab. At that
moment there was not a single notable main congregation in which
Hazrat Haafiz Muhammad Shafee Saahib Okarvi (Allaah be pleased

with him) was not present because only his name was the guarantee of
the success of the congregation. Shortly, since then we heard he has
resided in Karachi (Baabul Madinah, as during those days everyone
who went to Madinah had to go from here). Then the people of Karachi
know very well what happened ever since Hazrat Maulana Okarvi
Saahib came to Karachi. We have heard several times from the
opponents that, "A young Punjabi man has destroyed our hard work
and has ruined our sleep." All the intellectual claims and series of
irreligiousness of the opponents were destroyed by Hazrat Khateeb-eA'zam Maulana Muhammad Shafee Saahib Okarvi (Allaah be pleased
with him). And the talks of truth and honesty was raised to such extent
that there was illumination everywhere. The ill-fated opponents could
not think of anything so they became the enemy of his life. And
eventually also organized murderous attacks and those ill-fated tyrants
inflicted severe wounds. It can be said, they did not leave any
deficiency from their side in their attempts of assassination. But as
quoted, "The one who is guarded by Allaah who can harm him."
Almighty Allaah protected his life and his popularity increased several
times more than in the past and not only in Pakistan but also in foreign
countries he inquired authority.

By the Grace of Almighty Allaah he had the skillfulness to make an
intellectual and researched speech on every topic. He would make a
heart-warming and easily understandable speech with proofs from the
Qur'aan and the sacred Ahaadees and would clarify the true path.
During the speech when he would read the verses with great exquisite
melody the audience would encompass in such feeling of ecstasy as if
they had forgotten the world and whatever is in it. Especially in
Karachi he revived Maslak-e-Haqq, the true path of Ahle Sunnat Wa
Jamaa'at. And it was his specialty in every speech to remove false
thinking by giving intellectual and derived (from the books of the
opponents) answers to the objections of the opponents. One year I had
taught the course of Tafseer-e-Qur'aan (Explanation of Qur'aan), in
Khaierpur
Naathan Shah, District Dadu (Sind). Nearly two hundred proficient
scholars and graduates from Sind gathered. During those days Hazrat
Maulana Haafiz Muhammad Shafee Saahib Okarvi (Allaah be pleased
with him) was invited there for a congregation. When Hazrat heard
that I was teaching a course for the explanation of Qur'aan so instead of
resting in the lodging, for complimenting this Faqeer he came in the
sitting area to meet and blessed with great honor and reverence. Also,
ever since we were mutually introduced he would always remember

only with love and kindness. That night as the proceeding of the
congregation started, those people had made me the chairman of the
gathering as well, but Hazrat Maulana Okarvi (Allaah have mercy on
him) likewise remembered me with much esteem and announced that
this speech of mine would be under the chairmanship of uwaiesee
Saahib. He was told in reference to the topic of lecture about clarifying
the Rawaafiz. So Al Hamdu Lil laah for more than two hours he piled
up large number of evidences to expose all the false beliefs of the
Rawaafiz (Shiites) from the Qur'aan and Ahaadees and also with the
books of the Rawaafiz (Shiites). This was his quality that he would ask
for the topic from the invitee at the vicinity of the gathering. With the
Grace of Almighty he had absolute proficiency on every topic, when he
would explain he would fulfill the truthfulness of that topic.
Anyway it is a famous idiom of Persian,
"Mushk Aanast Keh Khud Bubuuyad Nah Keh Attaar Buguuyad"
(A fragrance is that which would describe itself the seller of perfume
may perhaps not have to say this is fragrance)
His personality had laudable qualities and complete excellences.
Anything Almighty Allaah had bestowed him for religious services it
was not hidden from anyone? Not only in Pakistan but also in foreign
countries his intellectual and spiritual beneficence is flowing and

prevailing. Now during this year, it is a matter of 1420 Hijri, after
performing Umrah I went to a Qaadiree friend in Jeddah. There I saw a
whole closet full of cassettes. On inquiring I was told all these cassettes
are of the speeches of Hazrat Maulana Haafiz Muhammad Shafee
Okarvi (Allaah be pleased with him). Thousands of cassettes are
preserved on religious knowledge on different topics and that Qaadiree
friend while sitting there makes copies of them and
give them as a gift to people who come from all over the world. The
same way, I do not know how many other friends are spreading the
beneficence of Hazrat in how many places by doing this service. And I
was told by this friend that a satisfactory answer to every objection of
the opponents is found by them in these speeches. Similarly his best
literatures (books) are also famous and appreciated amongst the
scholars and the common people. Also the progeny of the scholars
(Ulamaa) and the Spiritual Leaders (Mashaa'ikh) very rarely follow this
path but the gratified thing is that it is the blessed auspiciousness of
Hazrat Maulana Haafiz Muhammad Shafee Saahib Okarvi (Allaah be
pleased with him) that he has been blessed with such a fortunate son
who has enlightened his personality even more and is enlightening. By
this I mean the accomplished young man Allaamah Alhaaj Muhammad
Kaukab Noorani Okarvi (May Allaah increase his grace and excellence)

He has fulfilled the honored of being placed on the seat of his respected
father (Allaah be pleased with him). Rather I learnt while visiting
Karachi (Baabul Madinah) this fell ow by his intellectual talents and
academic qualities has not only made the people of Karachi his
admirers but similarly like his respected father in foreign countries too
his popularity is being increased and he is benefitting and blessing the
people of Islaam with his excellence of knowledge and talents. I pray to
Almighty Allaah that he may bestow Hazrat Maulana Muhammad
Shafee Okarvi (Allaah be pleased with him) great rank in Jannat-ul
Firdaus and would bestow his most esteemed son "Every moment with
more progression," Aameen. By the grace of Holy Prophet
(Sallal Laahu 'Alaiehi Wa Sallam)
A beggar of Madinah, Al Faaqir Al Qaadiree
Abus SaalihMuhammad
Faiez Ahmad Uwaiesee Rizvee (Ghufira Lahu)
Bahawalpur, Pakistan
2nd Jumaadal Ukhraa, 1420 Hijri

‫الصلوۃ والسالم علیک نارسول ا ہّٰلل‬
‫ع‬
‫السالم لیکم ورجمۃ ا ہّٰلل وپرکابہ‬
‫س‬
‫ان تمام دوستوں کو خو فیس نک اسیعمال کرتے ہیں بہ آ گاہ کرنا ضروری محھئے ہیں کہ فیس نک پر موالنا‬
‫اوکاڑوی اکادمی (العالمی) کے ارکان تے‬

‫اکیڈمی کے نام کا انک فین پیج اور انک حضرت حطنب ِ ملت عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی کے نام کا فین پیج ‪،‬‬
‫انک فین پیج حضرت حطنب ِ اعظم حضرت عالمہ موالنا محمد شق یع اوکاڑوی کے نام سے‬
‫اور انک فین پیج جامع مسجد گل ِزار حب نب کے نام سے پیانا ہوا ہے ۔ ان جار کے سوا کونی بھی پیج آفیسیل اور‬
‫صحیح نہیں ہے ۔‬
‫ُ‬
‫جن لوگوں تے حطنب ِ ملت حضرت عالمہ کوکب وورانی اوکاڑوی کے نام سے پیج پیاے ہوے ہیں ہم ان سے‬
‫عرض گزار ہیں کہ وہ ا نسے تمام پیج پید کردیں‬
‫ناکہ کسی علط اسیعمال کی گیجانش بہ رہے ۔ اخیاب سے عرض ہے کہ درج ذنل ع توانات کے سوا کسی اور پیج‬
‫کو صحیح گمان بہ کریں‬

‫اور ان کے سِ وا کسی کو ہمارے پیج جان کر کونی رایطہ بہ کریں ۔‬
‫سکربہ‬

The web pages listed below are made and managed by the members of
the Maulana Okarvi Academy (Al-Aalami). We DO NOT have any
other page and therefore are not responsible for the content on
unofficial sites.
www.facebook.com/Allaamah.Kaukab.Noorani.Okarvi.FanPage
www.facebook.com/Hazrat.Maulana.Muhammad.Shafee.Okarvi
www.facebook.com/Maulana.Okarvi.Academy
www.facebook.com/Masjid.Gulzar.e.Habeeb
www.allaamahkaukabnooraniokarvi.com
www.okarvi.com
www.okarvispeeches.com
www.twitter.com/AcademyOkarvi
https://plus.google.com/+AllamahKaukabNooraniOkarvi
https://plus.google.com/+OkarviAcademy

‫ُ‬
‫ہم خرما و ہم وواب‬

‫جدد سلک ِ اہل سنّت‪ ،‬محسن ملک و ملت‪ ،‬عاسق رسول (ﷺ)‪ُ ،‬مح ّ‬
‫ح‬
‫م‬
‫پ‬
‫وب اولیاء‪ ،‬حطنب ِاعظم ناکسیان‬
‫ت‬
‫ول‪،‬‬
‫ت‬
‫آل‬
‫و‬
‫ہ‬
‫اب‬
‫ج‬
‫ِ‬
‫ب‬
‫مِم‬
‫ِ‬
‫ص‬
‫ِ‬
‫ِ‬
‫ِ‬
‫ِ‬
‫ٰ‬
‫حضرت الجاج عالمہ قیلہ موالنا محمد شق یع اوکاڑوی قدس سرہ الیاری و رجمۃاّٰللہ یعالی علتہ تے حصوصی اجازت سے بہ اعالن فرمانا‬
‫ٰ‬
‫بھا کہ حس سحص کو کونی جاجت ہو وو وہ دو رکعت یقل (تم ِاز جاجت) پڑھ کر ا ہّٰلل یعالی سے دعا کرے کہ ‪( 313‬تین سو‬
‫َ‬
‫ظ‬
‫ٰ ت جم‬
‫اب ندر کی‬
‫اب ندر رصی اّٰللہ یعالی ع ہم ا عین کے قیل میری جاپز جاجت ووری فرمادے وو میں ‪ 313‬روتے اصج ِ‬
‫بیرہ) اصج ِ‬
‫ُ‬
‫طرف سے جامع مسجد گل ِزار حب نب (ﷺ) گلسی ِان اوکاڑوی (ساوق سولجر نازار) کراچی کی یعمیر میں دوں گا ‪ -‬ان ساء ا ہّٰلل اس‬
‫– کی جاجت ووری ہوجاتے گی‬

‫الحمد ّٰللہ! حضرت حطنب ِ اعظم ناکسیان رجمۃ اّٰللہ علتہ کی اس نسارت سے اب نک ہزاروں افراد ق یض ناب ہو جکے ہیں‪ ،‬لوگوں‬
‫ٰ‬
‫کا جاپز کام ہوجانا ہے اور مسجد بھی یعمیری مراجل طے کررہی ہے اور صدفہ جارنہئ کا وواب بھی تح ٖمدہ یعالی ملیا ہے ‪ -‬حضرت‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫موالنا اوکاڑوی رجمۃ ا ہّٰلل علتہ کی اس زندہ کرامت سے آپ بھی اپئی مشکل ُدور کرسکئے ہیں ‪ -‬مسجد ل ِزار حب نب (ﷺ) کراچی‬
‫ٰ‬
‫سہر کی قدیم اور پڑی مساجد میں اپئی میال آپ ہے ‪ -‬اس کی یعمیر میں یعاون فرماتیں ‪ -‬ا ہّٰلل یعالی آپ کو خزاتے جیر عطا‬
‫‪ -‬فرماتے‬

‫ُ‬
‫گ‬
‫ل ِزار حب نب پرشٹ‬
‫ڈولی کھانا‪ ،‬گلسی ِان اوکاڑوی (سولجر نازار) کراچی‬
‫قون تمیر‪:‬‬
‫]‪[021]3225 6532 [Phone No‬‬

‫اظالع‬
‫ملک بھر سے خو لوگ جامع مسجد گل ِزار حب نب‪ ،‬جامعہ اسالمتہ گل ِزار حب نب اور مزار سریف موالنا اوکاڑوی کی یعمیر و پرقی‬
‫کے لئے عطیات بھیحیا جاتیں‪ ،‬ان کے لئے ”آن الین تبیکیگ“ کی وجہ سے بہ سہولت ہوگئی ہے کہ وہ ا پئے ہی عالقے میں‬

‫موخود ووناتبیڈ تبیک لمبیڈ کی پراتچ ہی میں ہمارا اکاؤپٹ تمیر اور پراتچ کوڈ تمیر درج کرکے رقم جمع کرواسکئے ہیں‪ ،‬اس طرح انہیں‬
‫مئی آرڈر نا تبیک ڈراقٹ پ تواتے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ان اخیاب سے گزارش ہے کہ جب کتھی عطیات جمع کرواتیں ہمیں‬
‫ب‬
‫تبیک ڈ پیازٹ سلپ کی قووو اسب نٹ کانی ضرور ھجوادیں ناکہ حساب میں دسواری بہ ہو۔‬
‫‪ 1‬جامع مسجد گل ِزار حب نب‬‫اکاؤپٹ تمیر‬

‫‪:‬‬

‫پراتچ کوڈ تمیر‬

‫‪A/c # 010-2024-7‬‬
‫‪:‬‬

‫‪(UBL) 0699‬‬

‫‪ 2‬جامعہ اسالمتہ گل ِزار حب نب‬‫اکاؤپٹ تمیر‬

‫‪:‬‬

‫پراتچ کوڈ تمیر‬

‫‪A/c # 010-2619-5‬‬
‫‪:‬‬

‫‪(UBL) 0699‬‬

‫‪ 3‬مزار سریف موالنا اوکاڑوی‬‫اکاؤپٹ تمیر‬
‫پراتچ کوڈ تمیر‬

‫‪A/c # 010-1344-9‬‬

‫‪:‬‬
‫‪:‬‬

‫‪(UBL) 0699‬‬

‫(بہ تب توں اکاؤپٹ ووناتبیڈ تبیک لمبیڈ‪ ،‬کراچی کی کیانی سہیدروڈ پراتچ میں ہیں۔)‬

‫ُ‬
‫ن‬
‫س‬
‫گ‬
‫ی‬
‫م‬
‫ب‬
‫ب‬
‫پ‬
‫ک‬
‫ل ِزار حب نب پرشٹ کو د پئے جاتے والے عطیات ا م کس سے ئی ہیں۔‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫ل ِزار حب نب پرشٹ‬
‫ڈولی کھانا‪ ،‬گلسی ِان اوکاڑوی (سولجر نازار) کراچی‬
‫‪ [021] 3225 6532 -‬قون‬

‫خوش جیری‬
‫ؒ‬
‫موالنا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) تے مج ِدد مسلک ِ اہ ِل سنّت‪ ،‬حطنب ِ اعظم ناکسیان حضرت موالنا محمد شق یع اوکاڑوی علتہ الرجمۃ‬
‫ع‬
‫والرضوان کے لمی پیجر‪ ،‬عس ِق رسول (ﷺ) اور محفقابہ یصیرت کی آ تنتہ دار یقارپر کو محفوظ کرتے اور بھیالتے کے لئے انک‬
‫ً‬
‫ُ‬
‫شعتہ قایم کیا ہوا ہے‪ ،‬اب نک یقرپیا ناتچ سو اہم موضوعات پر م یعدد یقارپر محفوظ کرلی گئی ہیں ‪ -‬ارادہ ہے کہ ان شب یقارپر‬
‫ٰ‬
‫کو کیاووں میں محفوظ کیا جاتے (ان ساء اّٰللہ یعالی)‬
‫آپ ان یقارپر کی سماعت سے اندازہ کرسکیں گے کہ احقاق خق اور ایط ِال ناظل کے لئے آج بھی بہ یقرپریں تیش نہا سرمابہ‬
‫ہیں ‪-‬‬

‫عالوہ ازیں دس موضوعات پر وڈوو کیسبیں بھی دشت ناب ہیں ‪ -‬یقارپر کی بہ کیسبیں خود بھی جاصل کیحئے اور ا پئے اخیاب کو‬
‫بھی تیش کیحئے‪ ،‬نالشتہ بہ گراں قدر تحفہ ہیں ‪-‬‬
‫موالنا اوکاڑوی اکادمی العالمی (ریکارڈنگ و پیلسیگ ڈوژن)‬
‫‪ -53‬نی‪ ،‬سیدھی مسلم سوساپئی‪ ،‬کراچی ‪ -‬قون‪3452 1323 :‬‬

‫اپیل‬
‫‪1973‬ء میں مج ِدد مسلک ِ اہ ِل سنّت‪ ،‬حطنب ِ اعظم ناکسیان‪ ،‬حضرت موالنا محمد شق یع اوکاڑوی علتہ الرجمۃ والرضوان تے ڈولی‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫کھانا‪ ،‬گلسی ِان اوکاڑوی (سولجر نازار) کراچی میں ‪1900‬ء سے مسجد کے لئے وفف فطعہ اراصی پر ل ِزار حب نب (ﷺ) پرشٹ‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫ی‬
‫گ‬
‫گ‬
‫م‬
‫سر وو عمیر کا آعاز کیا بھا ‪۰۸۹۱ -‬ء میں ل ِزار حب نب (ﷺ) پرشٹ ہی‬
‫قایم کرکے جا ع مسجد ل ِزار حب نب (ﷺ) کی از ِ‬
‫ُ‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫کے تحت جامعہ اسالمتہ ل ِزار حب نب (ﷺ) کا آعاز ہوا ‪-‬‬
‫ن‬
‫ٰ‬
‫تح ٖمدہ یعالی مجوزہ یقسے کے مطاوق یعمیری کام مسلسل جاری ہے ‪ -‬ان اداروں کی کم یل کے لئے آپ خود یعاون فرماتیں اور‬
‫ُ‬
‫ٰ‬
‫گ‬
‫ا پئے جلقہئ اپر میں اخیاب کو پرع نب دیں ‪ -‬اّٰللہ یعالی آپ کو خزاتے جیر عطا فرماتے ‪ -‬مسجد ل ِزار حب نب (ﷺ) ہی کے‬
‫اجاطے میں حضرت حطنب ِاعظم کا مزار میارک بھی یعمیر ہورہا ہے ‪-‬‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫ل ِزار حب نب (ﷺ) پرشٹ‬
‫گلسی ِان اوکاڑوی (سولجر نازار) کراچی ‪ -‬قون ‪[021] 3225 6532 :‬‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫(اکاؤپٹ تمیر جامع مسجد ل ِزار حب نب ‪[010-2024-7‬‬
‫ُ‬
‫گ‬
‫(جامعہ اسالمتہ‪ ،‬ل ِزار حب نب ‪ [ 010-2619-5‬ووناتبیڈ تبیک لمبیڈ‪ ،‬کیانی سہید روڈ پراتچ کراچی‬

ACCOMPLISH DESIRE WITH
REWARD
Mujad-did-e-Maslak-e-Ahle Sunnat 'Aashiq-e Rasool, Khateeb-eA'zam Pakistan Hazrat Allaamah Maulana Muhammad Shafie Okarvi
,(Rahmatul-Laahi 'Alaieh) had announced with special permission that
if a person has any true need then he should read two rak'aat namaaz "
Nafl and pray to Allaah Ta'aalaa that by the mean of the 313 As-haab-eBadr (Radiyal-Laahu 'Anhum ajma'een) fullfil my true need. If my desire
is achieved then from the As-haab-e-Badr I will give 313 rupees for the
construction of Jaame Masjid Gulzar-e-Habeeb, Gulistan-e-Okarvi
".(Soldier Bazaar) Karachi. In shaa Allaah his desire will be fullfilled
Al Hamdu Lil Laah ! By the revelation of Hazrat Khateeb - e - A'zam
(Rahmatul-Laahi 'Alaieh) till now millions of people has
been gratified and graced.
Peoples true need is fulfilled, Masjid is also being gradually built. And
they rewards of Sadaqah-e-Jaariyah with the grace of Allaah Ta'aalaa is
been recieved. Masjid Gulzaar-e-Habeeb as a big Masjid of Karachi,it is
one of its own kind.

Try to co-operate in its building. May Allaah Ta'aalaa give you excellent
rewards.
Jaame Masjid Gulzaar-e-Habib
)Gulzar-e-Habib Trust(
Doli Khaata, Gulistaan-e-Okarvi
(Soldier Bazaar), Karachi
Tel : [021] 3225 6532

Appeal
In 1973, Khateeb-e-A'zam Pakistan, Hazrat Maulana Muhammad
Shafee Okarvi (Allaah have mercy on him) Established the Gulzaar-eHabib Trust and stated the construction of Jaame Masjid Gulzaar-eHabib (Sallal Laahu 'Alaiehi Wa Sallam) in Doli-Khaata Gulistan-eOkarvi (Soldier Bazaar) Karachi, Pakistan on land dedicated for this
purpose since 1903 .
In 1980, under the management Gulzaar-e-Habib
(Sallal Laahu 'Alaiehi Wa Sallam)
Trust, Jaami'ah Islaamiyah Gulzar-e-Habib
(Sallal Laahu 'Alaiehi Wa Sallam) was established

Al hamdu Lil laah according to the plan the construction work is still
in progress. For the completion of these holy institutes (Masjid and
Madrassah), please help yourself and also your associates for assistance
.(friends and family). May Allaah Ta' aalaa give you abundance blessings
The holy shrine of Khateeb-e-A'zam, Hazrat Maulana Muhammad
Shafee Okarvi (Allaah have mercy on him) is also being constructed
within the boundaries of the Masjid Gulzaar-e-Habib
(Sallal Laahu 'Alaiehi Wa Sallam)

Gulzaar-e-Habib Trust
Gulistan-e-Okarvi, (Soldier Bazaar), Karachi, Tel # (021) 3225 6532
Jaame Masjid Gulzaar-e-Habib
Acc # 010-2024-7
Branch Code # - 0699
United Bank Limited (Kayani Shaheed Road Branch) Karachi
Jaami'ah Islaamiyah Gulzaar-e-Habib
Acc # 010-2619-5
Branch code # 0699

United Bank Limited (Kayani Shaheed Road Branch) Karachi
Mazaar Shareef Maulana Okarvi
Acc # 010-1344-9
Branch code # 0699 ,
United Bank Limited (Kayani Shaheed Road Branch) Karachi
The donations given to Gulzaar-e-Habib trust are exempted from
Income tax.

Sign up to vote on this title
UsefulNot useful